وہ شخص جو کرسکتا تھا

 ۶ شمارہ

 ترجمہ: محمد اکرام

11 دسمبر 2013 کی رات چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو ریٹائر ہونا تھا۔ اس رات میں دارلخلافہ میں لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کےدھرنہ دیکھنے گیا۔ مبینہ طور پر پاکستانی ریاست کے خفیہ اداروں کی تحویل میں سینکڑوں لاپتہ افراد کے گھر والے جناح ایونیو کے اختتام پر سردی سے بچنے کیلئے ایک دوسرے میں گھس کر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے اور پارلیمنٹ کے بیچ صرف چند سو گزکا فاصلہ اور شپنگ کنٹینرز پرمشتمل دو دیواریں حائل تھیں۔ لیکن لگتا تھا پارلیمنٹ کے اندر موجود قانون سازوں اور ان لوگوں کے درمیان ایک ابدی فاصلہ ہے۔

 روشنی کے کھمبوں کے ساتھ لٹکے ایک بڑے سے بینر میں چار سال پہلے کا منظر تھا جس میں نواز شریف اسی طرح کے ایک کیمپ میں مظاہرین سے مل رہے تھے۔  وہ بڑا پرجوش وقت تھا جب سیاستدانوں، وکلاء، اور انسانی حقوق کے کارکنان حقوق نے مشرف کا تختہ الٹنے کیلئے اکٹھے جدوجہد کی۔ جب پاکستانی سوشلسٹ شاعر فیض احمد فیض کی نظمیں پھر سے مقبول عام ہو گئی تھیں۔ یہ تحریک 2007 میں شروع ہوئی تھی جب آمر جنرل پرویز مشرف نے غیر آئینی طور پر کئی ججوں بشمول افتخار چوہدری کو برطرف کردیا تھا۔ کالے کوٹوں والے وکلاء کی قیادت میں یہ تحریک، جسے بعد میں وکلاء تحریک کا نام دیا گیا، مشرف کی بے دخلی اور عدلیہ کی بحالی پر منتج ہوئی اور اس طرح 2009 میں افتخار چوہدری عدالت عظمی کے چیف جسٹس بن گئے۔

 اس وقت یوں لگتا تھا کہ چوہدری وہ آزاد اور ولولہ انگیز قائد ہے جس کی پاکستان کو ضرورت تھی۔  تحریک کے نتیجے میں بننے والی ان کی افسانوی شخصیت نے عدالت عظمی کو بہت سے پاکستانیوں کی نظروں میں نئی بلندیوں تک پہنچا دیا تھا۔ چوہدری نے وہ کردکھایا جو سیاستدان کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے کرپشن کے خلاف آواز اٹھائی۔ فوج اور خفیہ اداروں کے حکام بشمول جنرل اشفاق پرویز کیانی اور لیفٹیننٹ جنرل شجاع پاشا کو عدالت میں پیش ہونے پر مجبور کردیا۔ وہ اپنی نشست سے گرجتے تھے تو سب ممکن نظر آتا تھا۔ چوہدری وہ شخص تھا جو کرسکتا تھا۔

 اب ان کی ریٹائرمنٹ سے ایک ہفتے پہلے میڈیاء کی درجنوں سیٹلائٹ وینیں کھچا کھچ بھری عدالت کے باہر کھری ہو کربنیادی انسانی حقوق کو یقینی نا بنا پانے والی دو متواتر جمہوری حکومتوں کی ناکامی کی خبر نشر کررہے ہیں۔  ایک ہفتے اور چند دنوں سے وزیر دفاع چوہدری صاحب کے سامنے پیش ہوتے رہے اور ان 35 افراد کو پیش کرنے میں ناکامی کی تاویلییں دیتے رہے جو فوج نے 2011 میں لکی مروت جیل سے اٹھائے تھے۔ چوہدری صاحب بلوچستان سے لاپتہ ہونے والے افراد کے مقدمے کو لگاتار سماعتوں کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کررہے تھے جن کے بارے تفتیش کرنےپریہ پتہ لگا تھا کہ اس کی ذمہ دار فرنٹئیر کور تھی۔ لیکن اس نیم فوجی دستے کا سربراہ عدالت آنے سے انکار کرتا رہا حتی کہ اس پر توہین عدالت کا الزام بھی لگا۔ پاکستان میں پہلی دفعہ کسی اعلی سطح کے فوجی افسر پر ایسا الزام لگا ہے۔

 ایک بار تو چوہدری صاحب نے تنگ آکر وزیر دفاع سے پوچھا ” کیا یہ عدالت ہے یا ایک مذاق!”۔ ہر دن  سینکڑوں لوگ عدالت کے کمرہ نمبر 1 میں جمع ہو کر ایک تماشہ دیکھتے تھے۔ ہر پیشی میں چوہدری صاحب آئینی طور پر فوج کے بظاہرانچارج یعنی وزیر دفاع  کو عدالت کے سامنے لاپتہ افراد کا پتہ لگانے کے لیے ایک کے بعد دوسری حتمی تاریخ دیے جاتے مگر کچھ حاصل نہ ہوتا۔

 وزیر دفاع کے بالکل ساتھ محبت شاہ کھڑا تھا جو کہ 35 لاپتہ ہونے والے افراد میں سے ایک فرد یاسین شاہ کا والد ہے۔  دن پر دن گزرتے گئے اور شاہ خاموشی سے ہاتھ پیچھے باندھے اپنے بیٹے کو عدالت میں پیش نہ کئے جانے کی تاویلیں  بڑے صبر سے سنتارہا۔ ایک دن شاہ نے مجھے بتایا، “میں چیف جسٹس صاحب کی کوششوں سے خوش ہوں۔” لیکن میں اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کرسمجھ گیا تھا کہ اس کے خیال میں یہ سب وقت کا ضیاع تھا۔

 شاہ کے وکیل خانزادہ خان نے ایک دن مجھے بتایا، “عدالت تو صرف حکم دے سکتی ہے۔ اس کے پاس کسی سے کوئی بات منوانے کیلئے ڈنڈا یا بندوق نہیں ہے۔” خان کا یہ تبصرہ چیف جسٹس کے ان آخری دنوں کے موڈ کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔ یہ وکلاء تحریک کے پرامید دنوں کے مقابلے مایوسی کی طرف واپس پلٹ تھی۔

———————————————————————————————————————————

یہ رسالہ قارئین کے چندے سے چلتاہے۔ اس کارِ خیر میں آپ بھی حصہ ڈالیں۔

———————————————————————————————————————————

چیف جسٹس نے اپنے حمایتیوں کو وہ بے بہا عوامی قوت سمجھا تھا جو صرف انہیں کو میسر تھی اور جس کہ بل بوتے پر وہ فوج اور خفیہ اداروں کو جبری گمشدگیوں کے حوالے سے جوابدہ کرنے پر مجبور کر سکتے تھے ۔ بعض اوقات انہیں کرپشن اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف تفتیش کی باریک بینیوں کو بھی  خود دیکھنا پڑتا تھا۔ چوہدری صاحب کے حمایتوں کے نزدیک چوہدری صاحب نے نالائق اور بے شرمی کی حد تک کرپٹ سرکاری حکام، آمر اور منتخب حکام دونوں ہی، کو جس طرح سرعام بے عزت کیا وہ ایک پرانا قرض تھا جو عدلیہ نے چکا دیا گیا، چاہے  پاکستان کے سہ جہتی نظام حکومت تشکیل دینے والی اشرافیہ کے ذہن میں یہ تصور نہ تھا۔

 لیکن جیسے جیسے  ریٹائرمنٹ کو وقت قریب آتا گیا، چیف جسٹس پر یہ تنقید بڑھتی گئی کہ عدالت خطرنا ک بن گئی ہے اور ملک کی کمزور جمہوریت کو نقصان پہنچارہی۔ حتی کہ ایک وقت ایسا آیا کہ لگتا تھا کہ ان کا کوئی بھی حمایتی باقی نہیں بچا۔  تنقید کی یہ بوچھاڑ عام طور پر اس بات کے اعتراف سے شروع ہوتی کہ چوہدری صاحب فوجی راج پر ایک کاری ضرب لگائی لیکن پھر اس بات کی نشاندہی کروائی جاتی ہے کہ چوہدری صاحب نے اپنے ناقدین کی زبان بندی کی اور جس جمہوریت کو انہوں نے پروان چڑھایا تھا اسی کیلئے خطرہ بن گئے۔  چیف جسٹس جنہیں ایک وقت پاکستانیوں کی بڑی تعداد سراہتی تھی ان کا اس قسم کا اختتام تکلیف دہ ہے۔ ان کےمخلوط ورثہ  نے کئی مثالیں قائم کی ہیں جو سب اچھی تو نہیں ہیں لیکن آنے والے وقتوں کے لیے ایک بنیادی سہارا ہیں۔

 *                              *                               *

 یہ سب شروع ہوا لاپتہ افراد سے، جنہیں اگر جبری گمشدگیاں کہا جائے تو زیادہ مناسب ہے۔ لکی مروت مقدمات تو اس وقت کے وہ تازہ ترین واقعات تھے جو ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بن گئے۔ اس وقت تو عدالتوں میں ہزاروں گمشدہ افراد کے پرانے مقدمات التواء میں پڑے تھے۔ ان میں سے بہت سوں کی پیروی ڈیفنس فار ہیومن رائٹس (دفاع حقوق انسانی) کررہا تھا۔ یہ ایک وکالتی گروپ ہے جس کی بنیاد آمنہ جنجوعہ نے رکھی تھی جس کا اپنا شوہر جولائی 2005 سے خفیہ اداروں کی حراست میں ہے۔ اس گروپ نے جناح ایوینو پر ایک دھرنا دیا  تاکہ چوہدری صاحب کی ریٹائرمنٹ کو ملنے والی توجہ سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔

 آمنہ جنجوعہ کے پاس کوئی قانونی تربیت نہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ انہیں پاکستان میں ہزاروں لاپتہ افراد کے مقدمات کی قیادت کیلئے اس لئے سامنے آنا پڑا کیونکہ انسانی حقوق کے بڑے وکیلوں کو ان مقدمات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ جب اس کا شوہر لاپتہ ہوا تو اس نے پارلیمان، عدالت عظمی اور راولپنڈی میں فوجی ہیڈکوارٹر کے سامنے مظاہرے شروع کئے جہاں مشرف کی پولیس نے صحافیوں کے سامنے اس کے حمایتوں پر شدید لاٹھی چارج کیا۔ جلد ہی چیف جسٹس نے ان مقدمات کی سماعت شروع کردی۔ جنجوعہ کا کہنا ہے، “سڑکوں پر دباؤ نے عدلیہ کو نوٹس لینے پر مجبور کردیا۔”

 لاپتہ افراد، جو حققیت میں لاپتہ نہیں بلکہ پاکستانی خفیہ اداروں نے بغیر مقدمہ درج کئے کہیں رکھے ہوئے ہیں، چوہدری صاحب کا بنیادی مقصد بن گئے تھے۔ جنجوعہ کی طرح کے سینکڑوں مقدمات تھے جنہوں نے مشرف کو 2007 میں چوہدری صاحب اور باقی اعلی عدلیہ کے ججوں کو برطرف کرنے پر اکسایا۔ مشرف نے اس وقت اپنے اقدام کا دفاع ان الفاظ میں کیا کہ یہ جج سرکاری حکام کے ساتھ “تذلیلی رویہ” رکھے ہوئے تھے اور انہوں نے “سول بیوروکریسی اور اعلی سرکاری حکام  میں بد دلی پھیلائی” جس سے وہ اپنا کام ٹھیک طرح سے نہیں کرپارہے تھے۔ اس سب نے ایک عظیم وکلاء تحریک کو جنم دیا جس نے عدلیہ کو بحال کردیا۔ جنجوعہ یاد کرتی ہیں، “[برطرفی کے بعد] ہم نے اپنے مظاہرے جاری رکھے اور وکلاء ہمارے ساتھ شامل ہوگئے۔ ان کیلئے اپنی روزی کو واپس لینا کا مسئلہ تھا۔ ہمارے لئے تو یہ اس سے بڑھ کے جدوجہد تھی کیونکہ وہ عدلیہ جس سے ہمیں امیدیں تھی وہ جا چکی تھی۔”

 پاکستان پیپلز پارٹی 2008 میں اقتدار میں آئی لیکن اس نے عدلیہ کو فورا بحال نہ کیا ،اس خوف سے کہ عدلیہ ان کی اعلی قیادت کے خلاف کرپشن کے  8000 ملتوی پڑے مقدمات کھول دے گی۔ 2009 میں ہزاروں مظاہرین کو دروازے پر کھڑے دیکھ کر صدر زرداری چوہدری کو بحال کرنے پر رضامند ہوگئے۔ لاپتہ افراد کے خاندانوں کے ساتھ کھڑا ہونے کی بجائے ملک کے نامور وکلاء چوہدری کی بحالی کے بعد واپس اپنے سیاسی کیمپوں میں لوٹ گئے۔ ان کے نزدیک تو یہ عدلیہ کے تقدس کیلئے تھا نہ کہ لاپتہ افراد کے مقدمات کیلئے، اصل میں جس کی وجہ سے چوہدری کو برطرف کیا گیاتھا۔ جنجوعہ نے بتایا، “2009 کے بعد وکلاء نے ہماری مدد کرنا بند کردی۔ ہم عدلیہ کی بحالی سے پہلے اعتزاز احسن، علی احمد کرد اور سردار عصمت اللہ سے ملے اور انہوں نے ہم سے کہا کہ وہ ہماری مدد کریں گے لیکن بعد میں انہوں نے ہماری مدد نہ کی۔” قانونی تحریک کے اہم ترین ناموں کو اب جنجوعہ جیسے مقدمات میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

 1450 سے زائد لاپتہ مقدمات جن کیلئے جنجوعہ نے وکالت کی ان میں سے 650 کے حل ہونے کا سہرا جنجوعہ چوہدری صاحب کے سر باندھتی ہیں۔ وہ 40 سے زائد ایسے مقدمات کی فہرست کے بارے بتاتی ہیں جن میں افواج کے اہلکار عدالت کی جانب سے گمشدگیوں میں ملوث قراد دیے گئے۔ ان کے شوہر کے مقدمے میں چوہدری کی عدالت نے تین جرنیلوں کو عدالت میں طلب کیا، ایک بریگیڈئیر، اور دو کرنلوں کو شہادت اور جرح کیلئے بلایا گیا۔ ابھی تک وہ حاضر نہیں ہوئے۔

 چوہدری صاحب جو کہ خود بھی بلوچستان سے ہیں نے وہاں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے دو علیحدہ علیحدہ تحقیقی سماعتوں کا آغاز کیا۔ “عدالت کو یقین ہے کہ ان گمشدگیوں کے پیچھے خفیہ اداروں اور فرنٹئیر کور کا ہاتھ ہے” دی بلوچ حال کے مدیر ملک سراج اکبر نے مجھے بتایا۔ غیر معاون سیاسی سیٹ اپ سے تنگ آکر چیف جسٹس نے اکتوبر 2012 میں صوبائی حکومت کو یہ کہتے ہوئے تحلیل کردیا کہ یہ حکومت شہریوں کی زندگی کی حفاظت کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ اکبر کہتے ہیں کہ یہ قدم عدالت کے دائرہ کار سے باہر تھا لیکن اس نے حکومت کے بے حس رویے کو عیاں کردیا جس سے بلوچ عوام پہلے ہی آگاہ تھی۔ اس نے مجھے بتایا، ” لاپتہ افراد کو بازیاب کرنے میں ناکامی کے باوجود لوگوں کا ماننا ہے کہ عدالت نے ایک مخلصانہ اور مسلسل کوشش ضرور کی۔”

 “[چوہدری] نے کھلے عام دنیا کو دکھا دیا کہ خفیہ ادارے بدمعاشوں کا ایک ٹولہ ہیں۔” بلوچستان کے ایک سابقہ سینیٹر، ڈاکٹر اسماعیل بلیدی، نے مجھے بتایا۔ “انہوں نے بہت کوشش کی لیکن نظام ہی ان کے مخالف تھا۔” اگر چوہدری صاحب آخرکار پاکستان کے خفیہ اداروں پر عدلیہ کا اختیار قائم کرنے میں ناکام رہے تو اس کا کچھ الزام ملک کی شہری حکومت پر بھی آتا ہے جسے اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں تھی کہ فوج سرکشوں سے کیسے نپٹ رہی ہے۔

 *                              *                               *

 عدلیہ کی بحالی کے بعد عدالت سیاست کی آماجگاہ بن گئی۔ وکلاء تحریک، جس نے ایک آمر اور اس کے بعد پی پی پی کی قیادت میں آنے والی حکومت کے خلاف عدلیہ کا دفاع کیا، کی حالیہ کامیابی کے بعد عدالت کے اہمیت میں اضافہ ہوا۔ عدالت نے حکومت کے مختلف حصوں میں کرپشن کی لمبی فہرست سے ہوتے ہوئے ایک نئے ولولے کے ساتھ مختلف مسائل کو نپٹانا شروع کردیا۔

 پاکستان کے عدالتی نظام کا سب سے بے اثر حصہ روایتی طور پر پولیس رہی ہے جو کہ اکثر تفتیش شروع کرنے سے ہی انکار کردیتی ہے۔ دوسری طرف چھوٹی عدالتیں ہیں جو وبائی کرپشن کا شکار ہیں۔  ہمسایہ ملک بھارت کی طرح پاکستان کا آئین بھی چیف جسٹس کو درخواست دائر ہونے کا انتظار کئے بغیر ازخودنوٹس لینے کی اجازت دیتا ہے۔ اس کا مقصد ایسے مقدمات کو براہ راست عدالت عظمی میں سماعت کرنا ہے جو یا تو بہت زیادہ متنازعہ ہوں یا جن میں چھوٹی عدالتوں میں بہت زیادہ وقت کا ضیاع ہوتا ہے۔  اگر عدالت عظمی ضروری سمجھے تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس مقدمے کی تفتیش کا حکم دے سکتی ہے۔

———————————————————————————————————————————

یہ رسالہ قارئین کے چندے سے چلتاہے۔ اس کارِ خیر میں آپ بھی حصہ ڈالیں۔

———————————————————————————————————————————

 چوہدری صاحب کے تحت عدالت عظمی میں ایک انسانی حقوق سیل روزانہ ازخودنوٹس کیلئے آنے والی 250 خطوط کی داد رسی کرتا تھا۔ مارچ 2009 اور مارچ 2013 کے درمیان ان خطوط نے عدالت کیلئے 161،000 درخواستیں جاری کیں جن میں سینکڑوں مبنیہ “غیرت کے نام پر قتل”، تیزاب کے حملے، اغواء اور قتل شامل تھے اور زیادہ تر یہ وارداتیں طاقتور جاگیرداروں اور سیاستدانوں کی جانب سے تھیں جو ہمیشہ مامونیت کے مزے لیتے ہیں۔ چوہدری صاحب کی بحالی کے پورے 1 سال بعد 2010 میں اس سیل کو 2009 کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ خطوط موصول ہوئے جو کہ چیف جسٹس سے عوام کی توقعات کا ثبوت ہیں۔ مقدمات کا بوجھ یہ ظاہر کرتا ہے کہ چوہدری صاحب سپریم کور ٹ میں موجود درخواستوں کی تعداد کو کم نہ کر سکے اسی لئے 2013 کے آخر تک التوائی درخواستوں کی تعداد بیس ہزار کے قریب پہنچ گئ تھی جو کہ پچھلے سالوں کے برابر تھی۔ اس سب کے باوجود عدالت اہم اصلاحات لانے میں کامیاب رہی۔

 2009 میں چوہدری کی عدالت نے بین الجنسی افراد کے خلاف امتیاز ختم کرنے کے احکامات کا ایک سلسلہ جاری کیا جس میں اداروں کو حکم دیا گيا کہ ان کے حق وراثت اور حق روزگار کو مانا جائے اور قومی شناختی کارڈ پر معمول کے “مرد” اور “خاتون” کے زمروں کے ساتھ “مرد بین الجنس”، “خاتون بین الجنس” اور خنسائے مشکل” کا اندراج کیا جائے۔

 اسی سال عدالت عظمی نے نائلہ فرحت پر تیزاب پھینکنے والے آدمی کو 12 سال قید کی سزا سنائی اور پارلیمان کو تیزاب پھینکنے والوں کیلئے کم از کم 14 سال قید کی سزا اور تیزاب کی فروخت کیلئے بہتر ضابطوں کو پاس کرنے کی ترغیب دی۔

 2012 میں جب ذرائع ابلاغ نے پاکستان کے قید خانوں میں شرم ناک حالت کو عیاں کیا تو چوہدری صاحب نے ازخود نوٹس لیا اور ججوں کو حکم دیا کہ ہر دوسرے ہفتے جیلوں کا دورہ کریں اور وہاں عدالت لگائیں۔ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کے مطابق پاکستان میں ہر جیل میں اس کی گنجائش سے دوگنا زیادہ لوگ رکھے جاتے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر لوگ فرد جرم عائد کئے بغیر رکھے جاتے ہیں۔ ہزاروں اس لئے وہاں پڑے رہتے ہیں کیونکہ وہ عدالت کا جرمانہ ادا کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔

 جب 2012 میں ایک جرگہ نےماورائے عدالت  13سالہ بچی سے زیادتی کا فیصلہ دیا تو چوہدری صاحب نے مقدمے کو دوبارہ کھولنےاور ان پولیس والوں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا جنہوں نے اس جرگے کی اجازت دی تھی۔ اس حکم کے ذریعے انہوں نے ڈی این اے ثبوت کو تسلیم کرنے کی تصدیق بھی کی اور حکومت سے کہا کہ زیادتی کے ہر مقدمے میں ثبوت اکٹھا کرنے کو لازم کیا جائے۔ پنجاب پولیس اب زیادتی کے ہر مقدمے میں ڈی این اے اکٹھا کرتی ہےاور پچھلے سال جون میں سندھ اسمبلی نے بھی اس کے بارے قانون سازی کردی۔

 مرحوم ماحولیاتی کارکن آردشیر کاؤسجی نے جب سنا کہ ازخود نوٹس کی وجہ سے لاہور میں کینال روڈ کے کنارے کھڑے ہزاروں درخت کٹنے سے بچ گئے تو انہوں نے چوہدری صاحب کو لکھا، “آپ نے درختوں کی فریاد سنی۔ آپ نے لوگوں کی فریاد سنی۔” چوہدری صاحب کی قیادت میں پاکستانی عدالتوں نے عوامی زمین پر ترقیاتی کاموں کو روک کر  اور ماحولیاتی ضابطوں کو للکار کر “زندگی” کے آئینی حق میں صاف ماحول کی فراہمی کے حق کی تشریح جاری رکھی۔ 2012 میں چوہدری صاحب نے ماحولیاتی زیادتیوں کے مقدمات کی سماعت کیلئے اعلی عدالتوں میں “سبز” بنچوں کو قائم کیا۔

 قومی کمیشن برائے انصاف اور امن کے ڈائریکٹر پیٹر جیکب کے بقول ان سب کے باوجود، چوہدری صاحب کا کچھ معاملات خاص طور پر مذہبی اقلیتوں کے حوالے سے  ریکارڈ اتنا حوصلہ افزاء نہیں تھا۔ بعض اوقات انہوں نے مخلوط عقیدہ شادیوں میں جبرا مذہب کی تبدیلی کے بارے کافی زور دیا لیکن بعض اوقت ہندو خواتین کے گھرانوں کو مصیبت میں چھوڑ دیا۔ جیکب اس بات کو سراہتے ہیں کہ چوہدری صاحب نے اقلیتوں کے خلاف ہونے والے واقعات میں پولیس کو سختی سے نپٹنے کیلئے کہا۔۔۔ واقعات جیسا کہ لاہور میں مسلم ہجوم نے عیسائیوں کے گھروں پر حملہ کردیا تھا جس پر ازخودنوٹس لیا گیا۔۔۔۔ لیکن ساتھ ہی اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ عدالت توہین اسلام قانون جیسے بڑے مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی جن کی وجہ سے آج بھی اقلیتوں کے خلاف تشدد کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔

 کنول ادریس نے احمدیوں کے بھی عام ورٹر فہرستوں میں اندراج کیلئے تین سال جنگ کی۔ اسے بنچ کی طرف سے تھوڑی ہمدردی تو ملی لیکن عمل کہیں نظر نہیں آیا۔ کنول نے مجھے بتایا، ” مجھے یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا ہے کہ جج بھی لوگوں کے ردعمل کے بارے میں اتنے ہی محتاط ہیں جتنے باقی سب۔” آخرکار اس نے اپنے مقدمہ کی پیروی ترک کردی ہے۔

 اگر چوہدری صاحب نے 2011 میں گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی موت پر ازخودنوٹس لیا ہوتا تو اس سے شاید توہین مذہب کے قانون میں ترمیم کے بارے زیادہ بڑی بحث شروع کرنے میں مدد ملتی۔ لیکن پھر وہی کہ تاثیر کے قاتل کو تو حیران کن حمایت ملی حتی کہ وکلاء کی طرف سے بھی، جنہوں نے سینکڑوں کی تعداد میں سماعت کے وقت عدالت میں اس پر پھول نچھاور کئے۔ ایک خاص عقیدے کی بالادستی بارے اتنے پختہ اور گہرے یقین میں اصلاح کی بجائے تیزاب کے حملوں اور جنسی زیادتی کے خلاف سخت سزاؤں جیسے اقدامات زیادہ مشہور ہوئے اور یہ زیادہ حقیقت پسند بھی تھے۔

 زیریں عدالتوں کو بائی پاس کرتے ہوئے چوہدری صاحب بہت سے ایسے مسائل کو حل کرنے میں کامیاب رہے جن کے بارے پاکستان کی عوام نئے نئے پرجوش ذرائع ابلاغ سے سنتے تھے۔ ایجنسیوں کی جانب سے زیادتیاں جیسا کہ کراچی میں نیم فوجی کارندوں کی جانب سے ایک نہتے شخص پر گولی کا چلانا جو ویڈیو کے ذریعے منظر عام پر آگیا، اب پاکستان میں آسانی سے دبائی نہیں جا سکتیں۔

 لیکن ان کے نقاد کہتے ہیں کہ جب بھی چوہدری صاحب نے زیریں عدالتوں کو بائی پاس کیا تو اس سے یہ پیغام پھیلا کہ پاکستان میں زیریں عدالتیں اور پولیس قابل اعتبار نہیں ہیں۔ لاہور عدالت عالیہ کے ایک وکیل سعد رسول نے مجھے بتایا،”سوؤ موٹو سے اس ملک میں بے پناہ بہتری آئی ہے اور اس ملک میں اور اس کے ذریعے بہتری کرنے کیلئے ابھی اور بھی بہت کچھ کیا جا سکتا ہے، لیکن مسائل کا حل انتخاب اور جمہوریت کے ذریعے کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر نظام میں نقص ہو تو آپ اسے شارٹ سرکٹ کے ذریعے ٹھیک نہیں کرسکتے۔”

 لاہور کے ایک اور وکیل ،سروپ اعجاز، جنہوں نے وکلاء تحریک میں حصہ لیا تھا لیکن بعد میں چیف جسٹس کے بارے میں مشکوک ہوگئے، بتاتے ہیں، “قانونی نظام کو لاٹری کی طرح نہیں چلایا جاسکتا۔” چوہدری صاحب کے دور میں حکومتی حکام کی جانب سے کرپشن اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سینکڑوں ازخود نوٹس ہوئے، حتی کہ آخر میں ایسا لگتا تھا جیسا کہ پاکستان میں ہر چیز عدالت عظمی میں زیر بحث ہو۔

 دوسروں کے نزدیک اگرچہ نظام کی خرابیوں کو جمہوری طریقے سے ٹھیک کرنا بہت طویل عمل تھا۔ پاکستان کو تیزرفتار اصلاح کی ضرورت تھی جو صرف چوہدری صاحب کی عدالت ہی یہ کام کرسکتی تھی۔ کرپشن اور حکام کی بدعنوانیوں کے خلاف تفتیش عوامی غم وغصے کو عیاں کرنے کیلئے استعمال کی گئیں۔

 حقیقت میں کبھی کبھار تو ایسا لگتا تھا کہ صرف عدالت عظمی ہی وہ جگہ ہے جہاں مسائل کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ چوہدری صاحب کےدور میں پاکستان میں مہنگائی بے تحاشا بڑھی اور عموما صرف عدالت عظمی ہی ہوتی تھی جو حکومتی ادروں سے یہ سوال کرتی تھی کہ گیس یا چینی وغیرہ کی قیمتیں اتنی کیوں بڑھی ہیں۔ چوہدری صاحب کی معیشت میں دلچسپی اور نج کاری اور معدنی ذرائع غیر ملکی کمپینیوں کو بیچنے پر نظر رکھنے کی وجہ سے پاکستان میں آزاد منڈی کی معیشت کے داعی ان کے خلاف ہوگئے۔

 چوہدری صاحب کی سب سے پہلی مڈبھیڑ 2006 میں ہوئی جب انہوں نے  مشرف حکومت کی جانب سے سٹیل مل کی نج کاری کو غیرقانونی اور 362 ملین ڈالر کے سودے کو ناجائز قرار دے دیا۔ یہ فیصلہ مشرف اور ان کے وزیراعظم کیلئے آخری دھچکہ تھا کیونکہ وہ نج کاری کی ایک پرجوش مہم پر نکلےتھے۔ مزدور گروپوں اور مل کے مزدوروں  کی جانب سے کی گئی ایک پیٹیشن پر حرکت میں آتے ہوئے چوہدری صاحب کو معلوم ہوا کہ یہ وینچر روسی، سعودی اور پاکستانی کمپنیوں کے ایک اشتراک کو کوڑیوں کے مول دے دیا گیا جبکہ اس کی اصل قیمت 5 بلیں ڈالرتھی۔ مشرف حکومت نے کسی مشاورتی باڈی سے صلاح کئے بغیرمل کو ایسے سرمایہ کاروں کے حوالے کردیا تھا جن میں سے کچھ پہلے ہی زیرتفتیش تھے۔ دی نیوز کے ایک تفتیشی صحافی احمد نورانی بتاتے ہیں کہ”کسی نے بھی اس حوالے سے نہ سوچا۔”

 سٹیل مل کے مقدمے سے پہلے عدلیہ شاذونادر ہی یہ دیکھتی تھی کہ حکومتی مشینری کیا کررہی ہے۔ چوہدری صاحب کے دور میں، خاص طور پر 2009 کی بحالی کے بعد عدالت عظمی اور عالی عدالتوں نے اندھا دھند نورانی جیسے صحافیوں کے جانب سے افشاء کئے گئے کرپشن کے معاملات میں تحقیق شروع کردی۔  اسی قسم کی ایک اور کم دامی کی رپورٹ کے بعد چوہدری صاحب کی عدالت نے بلوچستان میں آسٹریلیا، چلی اور کینیڈا کی کمپینوں کو ریکوڈک کان کی فروخت بھی رکوادی۔۔۔یہ دنیا میں سونے اور تانبے کے سب سے بڑے ذخائر ہیں۔

 ایک دن رات گئے اس کے دفتر میں ہم بھیٹے تھے تو اس نے مجھے بتایا،”ازخودنوٹس سے لوگوں کو ایسے معاملات میں مدد ملی ہے جو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ عدالت عظمی میں ان پر بحث ہوگی۔” مثال کے طور پر عدالت عظمی کے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر تحقیق نورانی جیسے صحافیوں کے کام کی بدولت شروع ہوئی تھی۔

 2009 میں دو ارکان پارلیمان نے عدالت عظمی کو کہا کہ ان نو پاور پلانٹس کے بارے میں تحقیق کی جائے جن پر 220 ملین ڈالر خرچ ہوۓ تھے لیکن جتنی بجلی ان کو پیدا کرنی چاہئیے تھی وہ اس کا بہت ہی کم حصہ پیدا کررہے تھے۔ یہ پلانٹس 2006 میں مشرف کے دور میں ایک منصوبے کے تحت لگائے گئے تھے؛ ان پاور پلانٹس کو بنانے اور چلانے کیلئے بین الاقوامی کمپنیوں کو رقم دی گئی تھی لیکن بعد میں پتہ چلا کہ ان کی تجاویز پر بہت کم عمل درآمد کیا گیا تھا اور سرکاری حکام پر رشوت لینے کا شبہ بھی تھا۔ 2012 میں عدالت عظمی نے پلانٹس کو بند کردیا، بیرونی سرمایہ کاروں کو فیس واپس کرنے کا حکم دیا اور تفتیش کاروں سے کہا کہ ملک کے اعلی قائدین بشمول اس وقت کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف کرپشن کی تحقیق کرے۔

 کرپشن مخالف کارکنوں کیلئے چوہدری صاحب کی عدالت کارپوریشنوں اور سیاستدانوں کی کرپشن اور کالے دھندوں کے خلاف روشنی کی کرن ثابت ہو رہی تھی لیکن جب عدالت نے ولولے کے ساتھ اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھایا تو اس سے نئی منتخب جمہوری حکومت غیر مستحکم ہونا شروع ہوگئی جس سے یہ سوال کھڑا ہوا کہ کیا یہ پاکستان کے مفاد میں کام کررہی تھی یا ملک کی طاقتور سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کیلئے؟

 *                              *                               *

 محمد اظہر صدیقی کا فون ہمشہ بجتا رہتا ہے اور مال روڈ، لاہور کی اہم ترین سڑک، پر ان کا چھوٹا سا دفتر ملاقاتیوں سے بھرا رہتا ہے اس لئے ان سی تھوڑی سی گفتگو بھی مشکل ہوجاتی ہے۔ ایک سرکاری ملازم شکایت لے کر آیا کہ اس کی ترقی ناجائز طور پر روکی گئی ہے۔ ایک عورت شکایت لے کر آئی کہ نجی میڈیکل کالج بہت زیادہ فیس لے رہے ہیں۔

 ان کے دفتر میں کتابوں کی الماریاں بھارتی فقہ قانون سے بھری پڑی ہیں۔ انہوں نے  آلہ آباد عدالت عالیہ کے سابق جج کی لکھی ہوئی کتاب قانون میں اخلاقیات کھولی اور ایک باب،”ان نازک اوقات میں بھارت کو نئے اصولوں کی ضرورت ہے۔” کی طرف اشارہ کیا۔ چوہدری صاحب کی طرح صدیقی بھی بھارت کی عدلیہ سے بہت متاثر ہیں جس نے تاریخی طور پر بنیادی حقوق کے اطلاق کی تشریح کی ہے اور ایسی آئینی ترامیم جو آئین کی دفعات کی خلاف ورزی کرتی ہیں کو رد کیا ہے۔

 پاور پلانٹس جیسے مقدمات نے صدیقی جیسے وکلاء کی قانون سازی میں دلچسپی بڑھا دی ہے۔ وہ حکومت کے ڈینگی اور خسرہ کی روک تھام سے لے کر چینی اور پٹرول کی قیمتوں جسے ڈھیروں مسائل لے کر عدلیہ کے پاس گیا ہے۔ جب دشمن ایک تھا تو چوہدری صاحب کی عدلیہ بحالی تحریک کے ترجمان کے طور پر کام کرتے ہوئے صدیقی اعتزاز احسن جیسے وکلاء کا قریبی دوست رہا ہے۔ اس دوستی میں اس وقت دڑاریں پڑنا شروع ہوگئیں جب عدلیہ نے احسن کی جماعت کے اعلی قائدین کے خلاف کرپشن کے مقدمات کی پیروی شروع کردی۔

 دسمبر 2009 میں چوہدری کی عدالت نے قومی احتساب بیورو کو ان 8000 سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے خلاف مقدمات کھولنے کا کہا جن کو مشرف کے دور میں معافی ملی تھی۔ بہت سے موجودہ وزرا اس کی زد میں آئے لیکن عدالت نے صرف صدر آصف علی زرداری کے مقدمے پر زور دیا جن پر نوے کی دہائی میں 60 ملین ڈالر سوس بینکوں میں منتقل کرنے کا الزام تھا جب ان کی بیگم وزیراعظم تھیں۔

 عاصمہ جہانگیر جو کہ ملک کی سب سے باعزت حقوق انسانی کارکن ہیں نے اس بارے میں لکھا،” انصاف کی غیر جانب دار فراہمی کی بجائے الزام تراشی عوام کو محظوظ رکھے گی۔” کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ عدلیہ غیر ضروری کاموں میں وقت ضائع کررہی ہے اور یہ زرداری کے ساتھ ساتھ پوری جمہوری حکومت کیلئے خطرہ ہے۔ ایک لمبی آمریت جو دس سال تک رہی ،کے بعد ایک جمہوری حکومت کے خلاف اس قسم کے مقدمات کے بارے میں زیادہ تر لوگ خوش نہیں تھے۔

 مشرف دور کی معافی کو رد کرنے  کےفیصلے کی دستاویز جو 291 صفحات پر پھیلی ہوئی ہے میں فیصلے کی تائید میں قانونی نکات سے ہٹ کر مغل دور اور اسلام کے ابتدائی دور کی تاریخ سے اخلاقی دلائل بھی دیے گئے ہیں۔ لاہور کے ایک وکیل اعجاز اس بارے میں کہتے ہیں،”ایک عدالت جو اپنے آپ کو اخلاقیات کی ٹھیکے دار سمجھتی ہو اس سے یہی توقع تھی۔”

 جہانگیر، اعتزاز اور عدلیہ بحالی تحریک کے دوسری شخصیات کے جانب سے چوہدری صاحب کے خلاف لیا جانے والا موقف بہت پھیل گیا اور وکلاء کو یہ اندیشہ لاحق ہوگیا کہ عدالت قانون کی تشریح کیلئے ایک غیر جانب دار ادارے کی بجائے عوامی طاقت کی بنا پر اخلاقیات کی ٹھیکے دار بن بیٹھی ہے۔

  2011 کے آخر میں یہ واقعات ایک فیصلہ کن مرحلے پر آگئے جب ایک میمو، مبینہ طور پر صدر آصف علی زرداری کے کہنے پر امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی کا اوباما کی انتظامیہ کو لکھا گیا کہ وہ ایک ممکنہ فوجی بغاوت کو روکنے میں مدد کریں، منظر عام پر آگیا۔ “میموگیٹ” کے نام سےمشہور ہونے والے اس واقعے کی وجہ سے سفیر کو بھی استعفی دینا پڑا اور عدالت نے اس کی تحقیقات کا حکم بھی دے دیا۔ عاصمہ جہانگیر جو کہ عدلیہ بحالی تحریک کی روح رواں تھیں  نے کہا کہ چوہدری صاحب ” (سیکورٹی) اسٹیبلشمنٹ کے زیراثر” عمل کررہے ہیں۔ عاصمہ جہانگیر جسے ناقدین کے نزدیک عدالت اپنی حد پار کررہی تھی اور کھلے عام فوج۔۔۔جس کے بارے میں شک تھا کہ منتخب حکومت کے خلاف ایک اور فوجی بغاوت کی تیاری کررہی تھی۔۔۔۔۔ کا ساتھ دے رہی تھی۔

 لیکن صدیقی اور ان جیسے دوسروں لوگوں کے نزدیک پی پی پی کے خلاف جو الزامات تھے، اگر وہ صحیح تھے تو ان پر سیدھا بغاوت کا مقدمہ بنتا تھا۔ صدیقی نے مجھے بتایا، “حقانی والا مقدمہ بہت ہی اہم تھا۔ میں بطور ایک محب وطن پاکستانی سمجھتا ہوں کہ اس کو چلنا چاہئیے تھا۔ اس نے امریکی کنٹریکٹر ،ریمنڈ ڈیوس، جس نے لاہور میں دو پاکستانیوں کو موت کے گھاٹ اتاردیاتھا، کے مقدمے کے حوالے سے کہا،”[حقانی] سی آئی اے کو یہاں آنے کی اجازت دے رہا تھا۔” ایک بغاوت شاید بری بات ہو لیکن امریکہ کے ساتھ مل کر سی آئی اے ایجنٹس کو یہاں لانا تو شرمناک حد تک برا ہے۔

 حقانی کے استعفی کے بعد یہ تنازعہ تھوڑا ٹھنڈا پڑگیا لیکن چوہدری کی عدلیہ کو ابھی حکومت سے کچھ اور حساب بھی برابر کرنا تھا۔ جنوری 2012 میں عدلیہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے یہ مطالبہ کررہی تھی کہ وہ سوس عدالتوں کو صدر زرداری کے خلاف مقدمہ کھولنے کیلئے خط لکھیں۔ جب وزیراعظم نے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ صدر کو آئین تحت استشنی حاصل ہے تو عدالت نے ان پر توہین عدالت کا الزام لگاتے ہوئے انہیں نااہل کرکے گھر بھیج دیا۔

 یہ صدیقی ہی تھا جس نے گیلانی کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکے۔ جب پی پی پی اکثریت والی پارلیمان نے نااہلیت کو نظر انداز کردیا تو صدیقی نے چوہدری کی عدالت میں ایک پیٹیشن دائر کی اور عدالت کے ایک حکم کے بعد وزیراعظم کو دفتر سے ہٹا دیا گيا۔ صدیقی اسے ایک فتح کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس نے بڑے فخر کے ساتھ مجھے بتایا۔ “میرا نام تاریخ کی کتابوں میں درج ہوگیا ہے۔ انہوں [پی پی پی] نے اپنے صدر کو بچانے کیلئے وزیراعظم کو برطرف کروالیا۔”

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ چوہدری صاحب نے زردرای کے خلاف مقدمہ ذاتی عناد یا پاکستانی فوج کے ایماء پر کیا جبکہ صدیقی کا کہنا ہے کہ یہ تو صرف قانونی کی حکمرانی کا معاملہ تھا۔ اگر پی پی پی واقعی جمہوریت کے بارے میں سنجیدہ تھی، ایک نیا پاکستان جہاں قانون ہر ایک کیلئے برابر ہو تو انہوں نے اپنی قیادت کو بھی کٹہرے کیلئے پیش کردیا ہوتا۔ صدیقی کے خیال میں پی پی پی نے اپنے  منتخب وزیراعظم کو قربان کردیا ،زرداری جیسے  شخص کیلئےجو مسٹر دس فیصد کے نام سے مشہور ہوا اور اندر اور باہر ہر جگہ جسے ناپسند کیا جاتا تھا۔

 گیلانی کے جانشین، راجہ پرویز اشرف کو اسی مقدر سے بچانے کیلئے قانون سازوں نے ایک بل پاس کیا جس میں سرکاری حکام کو توہین عدالت سے مستشنی قرار دیا گیا لیکن اسے بھی عدالت عظمی نے چند ہفتوں میں رد کردیا۔  اگرچہ اس قانون سازی کا مقصد تو پی پی پی حکومت کا مسئلہ حل کرنا تھا لیکن اس سے عدالت عظمی کے اختیارات میں وہ اصلاحات بھی آسکتی تھیں جو بہت دیر سے بیش معیاد تھیں۔ چوہدری کے دور میں عدالت نے تین وزرائے اعظم پر توہین عدالت عائد کی۔ اس کے علاوہ دو وفاقی وزیر اور اس کے ساتھ ساتھ کئی سیاسی جماعتوں۔۔۔پی پی پی، پی ایم ایل-کیو، ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کی اعلی قیادت اور صحافیوں کو بھی توہین عدالت کا سامنا کرنا پڑا۔

لاہور عدالت عالیہ کے ایک وکیل رسول کہتے ہیں، “پاکستان کے توہین عدالت قانون کو نظرثانی کی ضرورت ہے۔ اسے بطور ڈھال استعمال ہونا چاہئیے نہ کہ تلوار۔”رسول کہتے ہیں کہ وزیراعظم گیلانی کو ہٹانے میں عدالت حق بجانب تھی کیونکہ وہ انصاف کی راہ میں رکاوٹ بن رہے تھے لیکن صحافیوں اور سیاستدانوں جس نے بھی عدالت پر تنقید کی ان پر توہین عدالت لگانا ایک غلط روایت کو جنم دینا تھا۔

عدلیہ کی آزادی اور کرپشن مخالف مہم چلاتے چلاتے عدالت بذات خود آمریت کی حدود میں داخل ہوگئی تھی۔

 *                              *                               *

عدالت کی اہمیت اور اس کے آمرانہ رجحان کی وجہ شاید یہ بھی تھی کہ جب حکومت کے باقی حصے کام نہ کررہے ہوں تو اس کو بیچ میں آنا پڑتا تھا۔ پارلیمان عوام میں اپنا اعتبار قائم کرنے میں ناکام رہی تھی۔ بلال محبوب جو پاکستان انسٹیٹیوٹ برائے قانون سازی ترقی اور شفافیت کے سربراہ ہیں نے مجھے بتایا کہ ،”انہوں نے کرپشن کے معاملے کو بالکل بھی حل نہیں کیا۔” پارلیمان کی درجنوں خصوصی کمیٹیوں کے پاس کسی کو بھی طلب کرنے، حکومتی ایجنسیوں سے معلومات طلب کرنے، اور عوامی پیٹیشنز پر پالیسی تبدیلی کیلئے تجاریز دینے کے اختیارات ہیں لیکن انہوں نے کھبی بھی یہ کرنے کی زحمت گواررا نہیں کی۔ انہوں نے کہا،”لوگ اس سے بات کرنا چاہتے ہیں جو حقیقت میں ان کے مسائل حل کرسکے اسی لئے وہ عدالت عظمی کے پاس جاتے ہیں۔ جب کوئی عدالت عظمی کی طرف سے طلبی خط وصول کرتا ہے تو تب وہ نوٹس لیتے اور اسے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ دوسری صورت میں ان کو عوامی بدنامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔”

———————————————————————————————————————————

یہ رسالہ قارئین کے چندے سے چلتاہے۔ اس کارِ خیر میں آپ بھی حصہ ڈالیں۔

———————————————————————————————————————————

عرصہ دراز سے متفقہ تفتیشی پروٹوکول وضع کرنے کی بجائے پی پی پی کی حکومت زیادہ تر تفتیش میں رکاوٹ بنی رہی۔مثال کے طور پر مشرف دور میں وجود میں آنےوالا پاکستان کا طاقتور کرپشن مخالف ادارہ قومی احتساب بیورو پی پی پی اور پی ایم ایل-ن دونوں کی جانب سے تنقید کا شکار رہا۔ اس ادارے کے سربراہ کے پاس مکمل اختیار ہے کہ وہ فیصلہ کرے کونسےمقدمات ہونگے اور ان کی جانچ کیسے ہوگی اسی لئے حکومتیں کوشش کرتی ہیں کہ ایسا بندہ تعینات کیا جائے جو ان کی حمایت میں کام کرے۔ مرحوم بینظیراورر نوازشریف دونوں نے وعدہ کیا کہ حکومت میں آنے کے بعد اس ادارے کی مکمل نظر ثانی کریں گے۔ لیکن پی پی نے حکومت ختم ہونے سے کچھ عرصہ پہلے تک کچھ نہیں کیا۔ آخری دنوں میں ایک قانون متعارف کروایا گیا جو کہ مسئلے کے حل کی بجائے خود ایک مسئلہ تھا؛ کرپشن کے مقدمات میں دس سال کی حد کا اضافہ اور کمیشن کے ڈائریکٹر کی تقرری کا ایک کمیٹی کے حوالے کرنا جو کہ حکومتی جماعت کے اراکین پر مشتمل ہوگی۔ چار سالوں میں نیب کے تین سربراہ تبدیل ہوئے جیساکہ چوہدری کی عدالت نے صحیح پیشین گوئی کی تھی کہ یہ “مشاورت” نہیں بلکہ رضامندی ہوگی۔کچھ مقدمات میں حکومت نے تفتیش کاروں کو بار بار تعینات کیا حتی کہ وقت گزر گیا اور تفتیشی ریٹائر ہوگيا۔

ناقدین نے چوہدری صاحب پر عدالت کے دائرہ کار سے باہر تجاوز کرنے اور دوسروں کے کام میں ٹانگ اڑانے کا الزام لگایا لیکن محبوب جیسے ستائیشین کہتے ہیں کہ عدالت کے یہ اقدامات خوش آئند تھے۔ انہوں نے اہم مقدمات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ کس طرح قانون سازوں کے خلاف اہم مقدمات میں تفتیش کاروں کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے ان کو معطل یا بار بار تبدیل کیا گیا۔ انہوں نے کہا۔” عام حالات میں عدالت کو مداخلت نہیں کرنی چاہئیے لیکن جب سیاسی جماعتیں جانچ کی راہ میں روڑے اٹکا رہی ہوں تو عدالت کی مداخلت جائز ہے۔”

صدیقی نے مجھے بتایا،” آدھے سے زیادہ [پارلیمانی اراکین] ٹیکس چور، قرض چور ہیں۔ یہ کیسے ٹیکس جمع بندی اور ریونیو جمع بندی کے عمل کی اصلاح کریں گے؟” پی پی پی کی حکومت کی کرپشن کے حوالےسے اپنے بندوں کے بارے دوغلی پالیسی نے ان کے غلاف بہت غصہ پھیلایا اور آخرکار پچھلے سال انتخابات میں ان کی ہار کی وجہ بھی بنا۔

پاکستانی قائدین اپنے طور پر کچھ بھی نہیں کرسکے۔۔۔چاہے وہ کرپشن کا خاتمہ ہو، طاقتور مجرموں کو کٹہرے میں لانا ہو یا مشتبہ شدت پسندوں پر مقدمہ چلانا ہو۔۔۔۔وہ ہر جگہ ناکام رہے۔ایک گھوڑا گاڑی کی طرح چوہدری صاحب پاکستان میں نظام انصاف میں بہتری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ان کو کئی سالوں پرانے مقدمات کی تفتیش میں گھسیٹتے رہے ایک ایسی تبدیلی کی طرف جس کا اثرپورے نظام انصاف حتی کہ اندرون سندھ میں بھیٹے ایک چھوٹے سے پولیس افسر تک ہوگا۔ اس قسم کی اصلاح کو عشروں لگتے ہیں۔ اسی وقت میں  جب زیریں عدالتیں اور پولیس ابھی چلنا سیکھ رہی ہے تو ازخودنوٹس بہت سے لوگوں کیلئے امید کی کرن ہے۔

“مجھے زیریں عدالتوں سے کوئی امید نہیں ہے اس لئے ہم چیف جسٹس کے پاس جانے کی کوشش کررہے ہیں کہ ازخود نوٹس لے۔” مینگورہ میں پچھلے سال حقوق نسواں کارکن تبسم عدنان نے مجھے بتایا۔

تبسم ایک مقامی 16 سالہ لڑکی،طاہرہ کے قتل میں انصاف کی تلاش میں ہے جسے اس کے خاوند نے قتل کیا تھا۔ اس نے تیزاب پھنیک کر پہلے اسکا سارا جسم جھلسا دیا اور پھر اسے 20 دن تک کمرے میں قید رکھا۔ آخرکار طاہرہ کا بھائی اسے ہسپتال لے کر گیا اور اس کے مرنے سے پہلے اس کا بیان ریکارڈ کرلیا۔ اس نے مقامی پولیس کے بارے میں بھی اس کا بیان ریکارڈ کیا جو مقدمہ درج نہیں کررہے تھی۔ صرف پولیس کو مقدمے کے اندراج کیلئے قائل کرنے پرکئی سال لگ گئے لیکن جب مقدمہ عدالت میں پہنچا تو عدالت نے اس کے شوہر کے خلاف ویڈیو ریکارڈ کے ثبوت کو ماننے سے انکار کردیا  اور اسے بے قصور قرار دیا گیا۔  یہی وہ مایوسی ہے جو لوگوں کو ازخود نوٹس کے ساتھ امیدیں وابستہ کرنے پر آمادی کرتی ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ زیریں عدالتی نظام کتنی بری طرح ناکام ہے۔

جب میں نے اسے چیف جسٹس پر ہونے والی تنقید کے بارے میں سوال کیا تو اس نے کہا،”ہاں بالکل صحیح کہ چوہدری صاحب نے اپنا کام نہیں کیا، اگر ہمیں یہاں انصاف مل جاتا تو ہمیں ازخوڈ نوٹس کی ضرورت ہی نہیں تھی۔”

چوہدری صاحب کے اگلے دو جانشین زیادہ دیر عہدے پر نہیں رہیں گے۔ نئے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی جولائی 2014 میں اپنی ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ جائیں گے۔ اگلے سینئیر ترین جج ناصرالملک اگست 2015 میں اپنی ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ جائیں گے۔ وہ عدالت عظمی کے آخری چیف جسٹس ہونگے جنہوں نے وکلاءتحریک میں حصہ لیا تھا۔ حتی کہ چوہدری صاحب نے خود بھی عدلیہ کے زیریں عدالتوں میں اصلاحات کی ناکامی کو تسلیم کیا۔ یہ عدالتیں وہ پہلا دروازہ ہیں جو پاکستانیوں کی اکثریت سب سے پہلے کھٹکھٹاتی ہے لیکن افسوس کہ یہ بھی کرپشن سے بھرا پڑا ہے۔ اسی وجہ سے ازخودنوٹس جیسے عمل مستقبل میں بھی جاری رہیں گے۔ جیلانی صاحب نے چیف جسٹس بننے کے بعد سے اب بلوچستان میں اجتماعی قبروں اور مظفرگڑھ میں ایک خاتون کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی سمیت حقوق انسانی کے کئی واقعات پر ازخودنوٹس لے چکے ہیں۔

لیکن چوہدری صاحب کے برعکس توقع کی جارہی ہے کہ وہ حکومت کی دوسری شاخوں کے خلاف مقدمات نہیں چلائیں گے۔امریکہ میں پاکستان کے موجودہ سفیر اور سابقہ برطرف وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے رشتہ دار نئے چیف جسٹس پہلے ہی چوہدری صاحب کے ساتھ سخت تناؤ میں تھے۔ جیلانی صاحب جو کہ پچھلے سال  الیکشن کمیشن کے قائم مقام چیف تھے، کا چوہدری صاحب سے پیش معیاد بلدیاتی انتخابات پر بھی جھگڑا رہا جو کہ چوہدری صاحب نے سازوسامان اور حفاظتی خطرات کے باوجود کروانے کی کوشش کی تھی۔ حکومت کی کرپشن کے معاملے پر جیلانی کی عدالت نے پہلے ہی کئی مقدمات کی سماعت نے انکار کردیا ہے۔ مثال کے طور پر حزب اختلاف کی جانب سے نیب کے چئیرمین، قمر زمان چوہدری کے خلاف تمام اعتراضات کو کوئی توجہ نہیں دی گئ۔

اور یہ بھی واضح نہیں کہ پارلیمان نے لاپتہ افراد کے مقدمے سے کچھ سیکھا بھی ہے یا نہیں۔ لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے اصلاحات کی بجائے نوازشریف کی حکومت پچھلے اکتوبر تحفظ پاکستان آرڈینس کو پاس کرکے الٹی سمت گئی ہے۔ یہ ملزم کو بغیر مقدمہ درج ہوئے 90 دن تک قید میں رکھنے کی اجازت دیتا ہے، ایسے جرائم بشمول سیاسی احتجاج کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے جو انسداد دہشت گردی کی عدالت کے دائرہ کار میں آتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ فرد جرم عائد کرنے کیلئے درکار شواہد کی تعداد بھی کم ہوگئی ہے۔

چوہدری صاحب کو حاصل عوامی حمایت کے بغیر یہ بہت مشکل ہے کہ عدالت اتنی فعال رہے۔ چوہدری صاحب کے تحت عدالت نے روایت کو توڑا اور ملک کے خفیہ اداروں سے سوالات کئے، 600 سے زائد مقدمات کو حل کرتے ہوئے لاپتہ افراد کے معاملے میں بے مثال تفتیش کی۔ یہ ایک چھوٹی سی تعداد لگتی ہے کیونکہ ماورائے عدالت قید افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے لیکن اس کی علاطتی اہمیت ہے کیونکہ ایک وقت چاہے وہ تھوڑے عرصے کیلئے ہی صحیح اس ملک میں حاکمیت طاقتور اسٹیبلشمنٹ کی نہیں بلکہ عدلیہ کی تھی۔ لیکن یہ سب کچھ صرف ایک آدمی سے جڑا ہوا تھا۔ محبوب نے کہا،”[مشرف] کے خلاف بغاوت کے عمل نے چوہدری صاحب کے بے انتہا مقبولیت عطا کی تھی جو کہ باقی کے ججوں کے پاس نہیں ہے۔”

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ شاید ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک اکیلے وجاہت انگیز قائد کی بجائے ڈھانچہ جاتی اصلاحات لائی جائیں جو ایک شخص کی حکومت کی بجائے جمہوری نظام لائیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایسے شخص کے بغیر اصلاحات آسکتی ہیں۔۔۔۔اس سوال کا جواب آنا ابھی باقی ہے۔

عمر فاروق اسلام آباد سے تعلق رکھنےوالے ایک آزاد صحافی ہیں اور وال سٹریٹ جنرل، دی کرسچئین سائنس مانیٹر، دی اٹلانٹک، الجزیرہ اور دوسرے اخبارات کیلئے لکھتے ہیں۔ ان کا ٹوٹر اکاؤنٹ ہے @UmarFarooq_

 محمد اکرام پیشہ ور فری لانس مترجم ہیں۔ یہ پاکستانی کمیشن برائے انسانی حقوق( ایچ آر سی پی) کے ماہوار میگزین جہدوحق کے علاوہ کئی بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے ترجمے کا کام کرچکے ہیں۔

4 Responses to

وہ شخص جو کرسکتا تھا

  1. […] فاروق اپنے مضمون میں سابق چیف جسٹس افتخارچودھری کے مخلوط ورثہ پر نظر […]

  2. aina on Jul 2014 at 11:29 PM

    چوہدری افتیخار کا کردار مایوس کن اور بعض معملات میں افسوسناک بلکہ شرمناک رہا ! تاریخ اس بااختیار مگر حاسد اور متعصب جج کو کبھی معاف نہیںکرے گی

  3. kiva loan service on Jul 2014 at 4:42 AM

    دن اچھا ہو،
       کیوا ہم 3 فیصد کی کم شرح سود پر اس طرح کے قرض سمیکن قرضوں، کاروباری قرضوں، نجی قرضوں، ہوم ری فنانسنگ قرضوں، کمپنی قرض، دفتر قرض، تجارتی قرض اور اتنا زیادہ کے طور پر قرض کے تمام قسم کے پیش کرتے ہیں کہ آپ کو مطلع کرنا چاہتے ہیں اگر دلچسپی ای میل کے ذریعے آج ہم سے رابطہ کریں: kivaloanservice@yahoo.com

    قرض کی درخواست فارم
    نام: …….
    شہر: ……..
    ریاست: …….
    ملک: ………
    ملازمت: ………
    عمر: …….
    ازدواجی حیثیت: …..
    جنس: ……………
    رقم کی ضرورت ہے: …….
    دورانیہ: ……..
    ٹیلی فون نمبر: ……..
    تم سے پہلے لاگو ہے …..

    ہمیں ای میل: kivaloanservice@yahoo.com
    نیک تمنائیں
    Kiva.org

  4. […] وہ شخص جو کر سکتا تھا | عمر فاروق […]

Leave a Reply to kiva loan service Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *