On Not Speaking of Palestine

Feb 2013

Pages 1 2 |  English

میرا اشارہ فلسطین کے ساتھ یکجہتی کی مخالفت اور صیہونی پراپیگنڈے کے لئے ہمدردی کا رویہ ہے، جو کبھی ڈھکاچھپا تو کبھی کھلم کھلم نظر آتا تھا۔ انگریزی میڈیا میں شائع ہونے والے کچھ مضامین میں تو صاف صاف اسرائیل کی تعریف کی جاتی ہے ، بلکہ’’ اسلامی شرپسندوں ‘‘ کے خلاف جنگ کا مسئلہ اسرائیلی ریاست اور صیہونی تحریک کے مسائل کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ اور یہ مشورہ بھی دیا جاتا ہے کہ پاکستان اسرائیل کی پیروی کرے کیونکہ اسرائیل تہذیب یافتہ قوم اور مذہبی ریاست کا بہترین ماڈل ہے۔ اسی طرح میڈیا کے لبرل حلقوں میں اور سیکولر بائیں بازو کارکنان میں بھی یہ رویہ پایا جاتا ہے کہ پاکستان کو فلسطین کے مسئلے میں نہیں الجھنا چاہئے بلکہ سوات سے لے کر سندھ اور بلوچستان تک کے اندرونی مسائل پر توجہ دینی چاہیئے ۔ کئی دفعہ نسل پرستی سے بھرے ہوئے ایسے تبصرے بھی سننے کو ملتے ہیں کہ پاکستان کے تمام مسائل کے ذمہ دار ’’عرب‘‘ہیں۔

شاید سعودی پیسے سے ملک میں فروغ پانے والاوہبی اسلام اور خلیجی ممالک میں کام کرنے والے پاکستانیوں کے ساتھ بدسلوکی کے خلاف غصّہ اس نظریہ کو فروغ دیتا ہے۔ لیکن سعودی عرب اور خلیجی ممالک کو فلسطین کے ساتھ غلط ملط کرنا یا یہ سمجھنا کہ ہم یا تو اسرائیلی نوآبادیاتی نظام کی مخالفت کر سکتے ہیں یا پاکستان میں ریاستی اورغیر ریاستی عناصر کے جبر کی ،میرے لئے تویہ بہت حیران کن اور پریشان کرنے والا رویہ ہے۔

’’فلسطین کے لئے پاکستانی‘‘ کی اس نئی تحریک کے ارکان نے اس سوچ کو بدلنے کی کوشش کی۔ ہم ہے اس طرف اشارہ کیا کہ پاکستان اور فلسطین دونوں میں تشدد اور عدم استحکام کے پیچھے امریکی پیسہ اور امدادہے۔ اور وقت کی ضرورت ہے کہ بڑے پیمانے پر سامراج مخالف سیاست کو فروغ دیا جائے۔ وہبی اسلام کے خلاف غصہ اکثر اس بات کو نظر انداز کرنے کا سبب بن جاتا ہے کہ اس سارے خطے میں امریکہ نے استحصالی اور ظالمانہ حکمرانوں کی پشت پناہی کی ہے۔ اس میں پاکستان بھی شامل ہے جس میں ریاست نے اسلامی گروپوں کو اسلحہ فراہم کیا اور تربیت دی تاکہ لبرل بائیں بازو قوتوں کو کچلا جا سکے۔

پھر بھی کٹر اور تنگ نظر مخالفت کی وجہ سے فلسطین کی حمائتی پاکستانی ’’سیکولر‘‘ ا ور’’ اسلام پرست ‘‘ کے دوگائنگی متضاد گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ مجھے تو ایسالگا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی پرست گروہوں نے اپنے مقاصد کے واسطے فلسطین کے مسئلے پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین کی جدوجہد کو اس جھوٹے مذہبی سانچے سے نکالنے کے لئے ہم نے ترقی پسند اور سیکولر بنیادوں پر ’’فلسطین کے لئے پاکستانی‘‘ کی تحریک چلائی اور اس جدوجہد کا حقیقی رنگ واضع کیا کہ یہ تو نوآبادیاتی نظام کے خلاف بائیں بازو کی ایک تحریک ہے۔ ہماری یہ تحریک اس وسیع ایجنڈہ سے بھی جڑی ہے کہ بائیں بازو کی روشن خیال قوتیں پاکستان میں عسکریت پسندی، نیو لبرلازم اور سامراجی نظام کی مخالفت کریں اور اس طرح موجودہ بحرانوں میں پھنسے ہوئے مایوس، پسے ہوئے عام آدمی کی جدوجہد کا بھی حصہ بنیں۔

مجھے اس حقیقت کا احساس ہوا کہ فلسطین کا مسئلہ پاکستان کی بائیں بازو کی سیاست اور عالمی سطح پر سامراج مخالف سیاست میں بھی ایک اہم حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان میں دیگر عرب اور اسلامی ممالک کی طرح فلسطین کے مسئلے پر ایسی سیاست چمکائی جاتی ہے کہ ایسے مذہبی اور سیکولر لوگوں کو بھی اس مسئلہ پر متحد ہو جاتے ہیں جو عام حالات میں اتنے منتفر اور بیگانہ ہوتے ہیں کہ نہ تو سوات ،سندھ یا بلوچستان کے لوگوں کے حقوق کے بارے میں سوچتے ہیں اوار نہ ہی سامراجی استحصالی نظام کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں ۔ اس سوسائٹی میں انقلابی بائیں بازو کی سامراج مخالف تنقید نہ ہونے کہ برابر ہے جس سے فلسطین کے مسئلے پر بات کرنا اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

کیونکہ اس سوسائٹی میں تنقید ی سوچ پسماندگی کا شکار ہے۔ نام نہاد بائیں بازو کے کارکنان امریکی سامراجیت کے پٹھو بن کر اس کی خونی ’’سمارٹ‘‘ جنگوں کے حمایتی بن بیٹھے ہیں۔ ’’اسلامی دہشت گرد‘‘ کا نسل پرست بھوت غزہ سے لے کر راولپنڈی تک ہمارا پیچھا کرتا ہے۔ اور اس بھوت سے بچنے کے خواہشمند دوڑ لگا کراتنا دور نکل جاتے ہیں کہ استشراق کی کھائی میں گر پڑتے ہیں اور دقیانوسی تصورات کی بنیادوں پر اپنی ثقافت کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہاں کے لوگ تو پیدائشی بربریت پسند ہیں اور انہیں سدھارنے کے لئے مغربی ’’انسان دوست‘‘ جنگوں کی ضرورت ہے۔

اب تو یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ مسئلہ فلسطین محض فلسطین تک محدود نہیں۔ یکجہتیِ فلسطین تووہ آئینہ ہے جس میں پاکستانیوں اور جنوب ایشاء کے لوگوں کو اپنا’’ضدِ مخالف‘‘نظر آتاہے۔ اور اس آئینہ میں ہمیں جھلک نظر آتی ہے اپنے ہی سیاسی اور سماجی مسائل کی ۔ مذہب، سیکولرازم، سامراجیت، جنس اور جنگ سے جڑے خدشات کی۔ اس سے ہمیں احساس ہوتا ہے اپنے سماج میں سامراج مخالف تنقید کی عدم موجودگی کا۔ یاسر عرفات اور فیض احمد فیض سے جڑی یادوں اور ماضی کی وابستگی کا۔ اور اس خواہش کا کہ ہم اپنے بھائیوں اور بہنوں سے ایک مختلف اور مضبوط تعلق قائم کر سکیں۔

یہی سب کچھ میں نے اپنے کامریڈوں سے سیکھا، پہلے لاہور میں اور اب رملہ میں جہاں میں آجکل رہائش پزیر ہوں۔ مسئلہِ فلسطین صرف فلسطیں کی سرزمین تک محدود نہیں، بلکہ اس سے تو کئی اور سوال بھی جڑے ہیں۔ ہمیں خود سے یہ ضرور پوچھنا چاہئے کہ آخر ہم کس مسئلہ پر بات کر رہے ہیں اور کس انجام کے لئے لڑرہے ہیں؟

سنینا مائرہ کیلیفورنیا یونیورسٹی (ڈیوس) میں عرب امریکی مطاعلات کی پروفیسر ہیں۔ ان کی تصانیف میں شامل ہیں ’’دیسیز ان دا ہاؤس: انڈیئن امیریکن یوتھ کلچراِن نیو یارک سٹی‘‘ (گھر میں دیسی: نیویارک میں مقیم ہندوستانی نژاد امریکی نوجوانوں کی ثقافت) اور ’’مسنگ: یوتھ، سٹیزن شپ، اینڈ ایمپائر آفٹر نائن الیون‘‘ ( گمشدہ: نائن الیون کے بعد نوجوان، شہریت، اور سامراج)۔ رجنی سری کانت کے ساتھ ان کی مرتب کردہ کتاب، ’’کانٹورز آف دا ہارٹ: ساؤتھ ایژین میپ نارتھ امیریکہ‘‘ (دل کے خدوخال: شمالی امریکہ کا نقشہ جو جنوبی ایشیائیوں نے کھینچا) کو امیریکی بک اوارڈ بھی ملا ہے۔

دیگر مضامین>>

Help Tanqeed continue to bring you strong analysis and great journalism. Donate, so we can carry on the conversation.

Pages: 1 2 3 4

Tags: , , , , , , ,

7 Responses to On Not Speaking of Palestine

  1. […] our conversation series, we discuss the relevance of Palestine to the Pakistani left. Sunaina Maira discusses the Pakistan liberal antipathy to Palestine. Magid Shihade draws comparisons between his home, […]

  2. Sarah Schulman on Feb 2013 at 9:16 AM

    Thank you for this informative piece.

  3. […] […] I have come to realize that the issue of Palestine has a much broader significance for left politics in Pakistan, and more generally, for anti-imperial politics, globally. Palestine often becomes a convenient rhetorical tool in Pakistan, as elsewhere in Muslim societies and the Arab world, to unify disaffected masses by those voices—religious as well as secular–who do not always themselves engage in real struggle for the rights of people in Swat, Sindh, or Balochistan, or in anti-imperial politics more generally. The absence of a radical, left anti-imperial critique in the current moment makes it even more difficult to speak of Palestine in a society in which this critique has been marginalized and stamped out so that distinguished left Pakistani activists can openly support U.S. imperialism’s bloody yet “smart” wars. The racialized specter of the “Muslim terrorist” haunts us in every corner, from Gaza to Rawalpindi, and those who wish to distance themselves from it run so far in the opposite direction they fall off the cliff of Orientalism, succumbing to stereotypes of their own culture as inherently barbaric and in need of the West’s “humanitarian” wars. (Sunaina Maira) More here. […]

  4. karachikhatmal on Mar 2013 at 7:11 AM

    I’m sorry but this was quite an insulting piece, primarily because the main thrust of your argument – articles and comments by intellectuals – have not been provided anywhere as evidence of your rather preposterous claim.

    I’m going to leave aside arguing for the legitimacy of the debate over whether the Palestine issue is relevant or not. What I would say is that for the past six months, every time I go to work to teach at a government university there is a flag of Israel painted on the road there which I drive over. Such flags are present in many university campuses in Pakistan, meant to be walked over. While not condoning this act, its a pretty good barometer of how anti-Israeli sentiment is widespread, if not very well articulated or intellectually expressed.

    Moreover, for the past five/six years most of the political class as well as a sizeable part of the population have refused to acknowledge what has been a civil war in our country being carried out by many of our own citizens because they claim its all being carried out by Zionists/Mossad etc. Just one example of how an Israeli obsession has allowed many important issues to be sidelined.

    Really don’t understand what your experience has been like, but am staggered to hear of it.

  5. amna on Jul 2014 at 2:02 PM

    Hostility towards the Palestinian movement is a recent phenomenon in the Pakistani landscape.
    Two reasons :
    One apathy of our people, so some don’t want to open their eyes! They are simply not interested to investigate, so when they find others speaking out for a just cause and find themselves under moral obligation to take a stand they are quick to admonish the victims themself! for eg i have heard things as strange as “the palestinians called it upon themselves”…like they are not good people…… I countered them my reminding them what if their neighbors had committed such war crimes would we be bad people too then!

    The second reason of a recent change in dogma, is the Pakistan Army apologists. They need to justify the deaths being caused by offensives carries out with the consent of pakistan army and on american dictates within the region. I once had a talk with a then serving high ranking army official with whom my extended family was having dinner, with the intention ofcourse to creating awareness about the Palestinian issue in my extended family, his line astonishingly was that Israel is only defending itself…. I didn’t know much back then but now I know how else could they have justified all the dead civilians in drone strikes, f16 strikes and ground offensives within Pakistan. Pakistan army needs a change in leadership one that wouldn’t take dollars to kill.

    • amna on Jul 2014 at 2:26 PM

      Although I would like to add that many people now are acquiring awareness….. Now many people apart from Pakistan Army apologists have a genuine feel of the Palestinian pain…. Better than the pro Israeli high ranking Pakistan Army official I previously mentioned…
      BTW that army official has a son who when I was advocating for the Palestinian cause quite dumbly interrupted and said you talk like you care about the Palestinians a lot, what have you done ever for them, he sneered and sarcastically added I once added a vigil, and instructed me to shut up! He also added that why don’t you do anything about our people here, back then there was not much known about drones and state military oppression. Strangely when issues relating to Pakistan came in full vision that army officials son was still as apathetic about his fellow citizens.

      The lesson to learn here is that after attending a protest or a vigil remember the important thing yet remains, which is to create awareness, raise your voice, if u are unable to do that please kindly quit acting like a hypocrite in the vigil.

  6. […] solidarity with the Palestinians. These protests are especially welcome given the dismaying hesitation among some quarters of the Pakistani urban classes to support the Palestinian […]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *