Abdul Khaliq Junejo

Audio | English | اردو

 تنقید کی مقمل کوشش رہی ہیں کے دی گئی تحریر عبدل خالق جونیجو کے استعمال قرده الفاظ سے متاقبت رکھے۔  آپ یہ انٹرویو حرف بہ حرف آڈیو فائل یہاں سن سکتے ہیں۔

عبدل خالق جونیجو: میرا نام عبدل خالق جونیجو ہے۔ میں بنیادی طور پر سول انجنیئر ہوں لیکن ساتھ  میں وکیل بھی ہوں۔ ابھی وکالت کرتا ہوں اور جے-ایس-ایم (جئے سندھ محاز) سے میرا واسطہ ہے۔ جے-ایس-ایم  جب بنی تھی میں شاگرد تھا۔ ٤٠ سال پہلے طالب علم تھا۔ اسی سے واسطہ ہے۔ اس وقت میں اس کا  چیئرمین ہوں۔

 تنقید: اگر آپ شروع کر سکتے ہیں۔ جے-ایس-ایم کی تحریک کے بارے میں بتانے۔ کہاں سے  شروع ہوئی تھی جو آپ کی تنظیم تھی۔

عبدل خالق جونیجو: یہ بنگلہ دیش کا جو جنم ہوا۔ ہم جانتے ہیں سب کہ پاکستان میں پہلے اور اب تک کے آخری صحیح الیکشن ١٩٧٠ میں ہوئے۔ اس میں عوامی لیگ جو بنگالیوں کی نمائندگی کرتی تھی وه اکثریت میں جیت کرآئی۔ نہ صرف بنگال میں بلکہ مجموعی طور پر پاکستان میں وه اکثریت میں جیت کے آگئی۔ تو اس وقت مارشل لا تھا۔ نیا آئین بننا تھا۔ تو وه اسمبلی کو بلایا ہی نہیں گیا- نہ انکو آئین بنانے کا موقع دیا گیا۔ نہ حکومت میں آنے کا موقع  دیا گیا۔ الٹا ان پر فوجی کارروائی کر کے ان لوگوں کو قتل کر کے اور ان کو الگ کر دیا گیا۔

تو پھر سندھ میں یہ سوال آیا خاص کر کہ یہ جو سندھ نیشنلسٹ موومنٹ کے رہنما تھے سائیں جی ایم سید (غلام مرتضیٰ سید)۔ وه اس نتیجے پر پہنچے کہ اب یہ حکمران سدھرنے والے نہیں ہیں۔ یہ ریاست جب اتنا واضح مینڈیٹ آیا۔ واضح اکثریت وه لے کر۔ تو اس کے بعد وه اس نتیجے پر پہنچے کے اس وفاق (فیڈریشن) کے اندر، یا اس فریم ورک کے اندر قوموں کو حقوق نہیں ملیں گے۔ تو پھر انہوں نے سندھ کی آزاد خودمختارریاست کے لئےجدوجہد کی۔  اس کا اعلان کیا اور پھر اس کے لئے انہوں نے یہ جماعت بنائی ١٨ جون ١٩٧٢ کو۔

اور اس کا مقصد تھا سندھ کی، جو اس میں لکھا گیا، سندھ کی سیاسی، ثقافتی اور اقتصادی آزادی۔ یہ اس کا اہم مقصد تھا جماعت کا اور اسی مقصد کے لئے وه آج تک جدوجہد کر رہی ہے۔

تنقید: جی ایم سید ١٩٧٠ سے پہلے بھی سندھ کی علیحدگی کی سیاست کر رہا تھا؟

عبدل خالق جونیجو:  آزادی کی، جس کو لوگ علیحدگی کہتے ہیں ہم اس کو آزادی کہتے ہیں، وه انہوں نے بنگلہ دیش کے وجود کے آنے کے بعد، ١٩٧٢ میں کی۔ باقی سندھ کی حقوق کے لئے، سندھ کی  خود مختاری (اوٹونومی) کے لئے ان کے زندگی کا مقصد ہی یہی تھا۔ انہوں نے سیاست شروع کی جب وه ١٥ سال کی ان کی عمرتھی۔ تو اسی وقت سے وه کرتے تھے ۔ سندھ نے جب بمبئ سے آزادی کی جو جہدوجہد تھی ۔ سندھ  کو بمبئ کا حصہ بنا دیا تھا انگریزوں نے ۔ صوبائی  اسمبلی ختم کر دی تھی ۔ تو اس سے لے کر وه جہدوجہد کر رہے ہیں سندھ کے حقوق کے لئے ۔  اس میں بڑا ان کا کردار تھا ۔ پھر جو ١٩٤٠ کی جو قرارداد لاہور میں جس کو قرارداد پکستان  کہتے ہیں  اس میں ان کا ہاتھ تھا ۔ پھر اس کے بعد سندھ اسمبلی نے قرارداد منظور کی پاکستان میں شامل ہونے کی اس میں جی ایم سید کا کردار تھا ۔ پھر پاکستان جیسے بننا اور حکمرانوں کی پالیسیاں تبدیل ہو گئیں ایک بدترین قسم کی مرکزی حکومت (سنٹرالایزڈ گورنمنٹ) انہوں نے شروع کی  جناح صاحب نے اور اپنی آمریت (ڈکٹیٹرشپ) قائم کی ۔ تو جی ایم سید کا ان سے پہلے دن سے ٹکراؤ ہوا ۔ کراچی کو سندھ سے کاٹ کر الگ کیا گیا تھا آپ کو شائد معلوم ہو گا جناح صاحب نے کیا تھا ۔ اس کے خلاف ردعمل ہوا تھا۔ جی ایم سید سب سے آگے  تھے ۔ پھر سندھ کا وجود ختم کر کے  ایک یونٹ بننا دیا گیا مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بننا دیا گیا ۔ اس کے خلاف  جو جدوجہد تھی جی ایم سید نے اس کی قیادت کی ۔ سندھی زبان کے لئے، سندھی ثقافت پر انہوں نے نہ صرف سیاسی میدان  میں لیکن علمی، ادبی میدان پر  انھوں  نے کتابیں لکھیں ۔  تقریباً ٦٠  کےقریب ان کی کتابیں ہیں جو تاریخ  پر ہیں ادب پر ہیں ثقافت پر ہیں اور سیاست پر تو ہیں ہی ہیں ۔

اور انہوں نے بلکل سندھ کی نیشینلسم  کو اور سندھ کی تاریخ  کو اور سندھ کی ادب کو ایک بلکل نیا موڑ دیا ۔ سندھ میں ایک کتاب آ ئی،پیغام لطیف ان کی۔ اس سے بلکل تبدیل ہوا ۔ اس سے پہلے لوگ شاه لطیف کو صرف  بزرگ  سمجھتے تھے ۔ لیکن جی ایم سید کی اس کتاب نے شاه لطیف کو ایک انقلابی شاعر کے طور پر  آگے لائی  ۔ اسی طرح انہوں نے تاریغ  کےحوالے سے لکھا۔ پہلی مرتبہ انہوں نے یہ ریکارڈ پہ بات لائی کہ محمّد بن قاسم غاصب تھا راجہ داہر ہیرو تھا جو اپنے وطن کا دفاع کر رہا تھا ۔ اور محمّد بن قاسم کا اسلام کے تبلیغ سے کوئی واسطہ نہیں تھا وہ صرف عرب سامراج کا ایک نمائندہ تھا۔ تو یہ بالکل میں مختصر  بتا رہا ہوں کہ ان کے جو کام تھے بالکل ایک ٹرینڈسٹر یا راستہ تبدیل کرنے  والے۔ تو یہ پورا سلسلہ سندھ کے حقوق ، سیاسی، اقتصادی ثقافتی چلتے آ رہیں تھیں ۔ لیکن انہوں نے جو سندھ کی آزادی کی بات  کی تھی وہ ١٩٧٢ میں کی تھی اور اس کے پیچھے جو اہم عنصر (مین  فیکٹر) تھا  وہ بنگلہ دیش کا وجود  تھا ۔

تنقید: اس وقت انہوں نے جے-ایس-ایم بنایا۔ اب جے-اس-ایم لگتا ہے تقسیم ہو گیا ہے مختلف تنظیموں میں ۔ آپ اس تحریک کے بارے میں تھوڑا سا بتا دے ۔

عبدل خالق جونیجو: جی، یہ بالکل صحیح ہے ۔ تنظیم انہوں نےجو بنائ وہ جئے سندھ محاز تھی جس کے ہم ابھی بھی ساتھ ہیں۔ لیکن بعد میں اس کے دھڑوں (فیکشن)  ہو ئے ہیں، گروپ  ہو ئے ہیں ۔ کچھ گروپ تو جی ایم سید صاحب کے زندگی میں ہی ہو گئے تھے ۔ اور کچھ گروپ ان کے انتقال کے بعد بھی مزید  ہو ئے ہیں۔ یہ  ایک افسوس ناک صورتحال  ہے لیکن سیاست میں ایسے ہوتا ہیں ۔اختلافات ہوتے ہیں ۔ دنیا کی کوئی ایسے  سیاسی تحریک نہیں ملے گی  جس میں جس طرح سے لوگوں نے سفر شروع کیا ہیں اسی طرح آخر تک گئے ہوں۔ کوئی اس میں اختلاف  نا  ہوئیں ہوں کوئیش اس میں دھڑا بندی    نا ہوئی ہوں ۔ یہ ایک بس قدرتی ( نیچرل ) بات ہیں  گو کہ یہ افسوسناک ہے۔ گروپ اس میں ہیں لیکن ہم اسی جی-ایس-ایم  کو ہی چلا رہیں ہیں۔ اور جو گروپ ہوئے ہیں ان کا وجوہات کیا ہیں، یہ آپ کا شائد اگلا سوال ہیں میں اس کا پہلے ہی جواب دے دوں ۔

ایک تو جی ایم سید صاحب سیاسی جہدوجہد میں مہاتما گاندھی  سے متاثر تھے تو ان  کا سیاست کا طریقہ عدم تشدد کا تھا ۔

تو یہ جو جئے سندھ محاز بھی عدم تشدد پی چلتی ہیں ۔ تو کچھ دوسرے  دوست ہیں وہ دوسرے طریقوں سے بھی سیاست کرنا چاہتے ہیں۔وہ سمجہتے ہیں کے دوسرے طریقوں  سے بھی سیاست کرنا چاہتے ہیں ۔ تو وہ بھی ایک اہم وجہ  ہیں اس کا ۔

یہ ایم کیو ایم (متحدہ قومی موومنٹ) کی سیاست جب سندھ  میں آئی ہے تو اس کے جو رجحانات ہیں جس کو آپ انگریزی میں ہائی ہینڈیڈنس (منمانی) کہ سکتے ہیں ۔ تو اس طرح کے  رجحانات  بھی سندھ کے قومی تحریک میں آے ۔ تو ان سب چیزوں پرجئے سندھ محاز  کی ایک بالکل واضح پالیسی ہے کہ عدم تشدد ہو گا ۔ اور کوئی غیر صحت مند سرگرمی نہیں  ہو گی ۔ لوگوں کی ہمدردیاں لینی ہیں تو وہ مرضی  کے بنیاد پر (فری ول سے) ملنی چاہئیں ۔ کوئی زبردستی یا کوار‌ژن نہیں چلنی چاہئے۔ اور بلکل سیکولر ہونی چاہیےقومی تحریک اس میں مذهب کا کوئی دخل نہیں ہونا چاہیے۔ اور یہ نسلی بنیادوں پر نہی ہونی چاہیے اور سیاسی اور اقتصادی بنیادوں پر ہونی چاہئیے. تو ان چیزوں میں ہمارا دوسرے  لوگوں سے اختلافات ہوا تو ان لوگوں نے اپنی اپنی جماعتیں بنا لی ہیں۔ بلکہ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو علحدہ’ ہونے کے بات یہ آزادی کن پروگرام چھوڑ دیا ۔انہوں نے اپنا پروگرام ہی تبدیل کر لیا ۔

تنقید: آپ سے یہ پھر پوچھنا تھا کہ کتنی تنظیمیں اب  بن گئیں ہیں؟ ان کے نام کیا ہیں اور ان کی مختلف سیاست کیا ہیں؟ اور جئے سندھ محاز کی اپنی کیا مشن کیا ہیں؟ وہ آزادی چاہتیں ہیں، علحدگی یا آزادی؟ اور وہ الکشن  میں حصہ لینے کے لئے تیار ہیں؟

عبدل خالق جونیجو: اس وقت میں چار پانچ  گروپ ہیں جو مین الگ ہوے ہیں ۔ ان کی سیاست کے بنیادی اصول جو ہیں وہ میں نے آپ کو مختصر تو بتایے ۔ اور ابھی ہم کیا چاہتے ہیں تو بلکل ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ریاست ، اگر آپ کل ہوتی (کتاب کے لانچ پر) تو میں نے وہاں  مختصر تاریخ  بتائی تھی کہ اس ریاست نے کیا کیا ہے۔ تو ہم یہ سب اس کے روشنی مے سمجھتے ہیں ۔ مثلا میں مختصر بتاؤں٤٠  کی قرارداد ہیں جس کے ذریعے  ہم پاکستان سے شامل ہوے۔ سندھ  کو فتح  کیا گیا جیسے فوج کشی کر کے فتح  کیا جاتا ہیں ۔ اور ١٩٤٧ سے پہلے پاکستان نہیں تھا، سندھ تھا ۔ اب وہ پاکستان کا  حصہ ہیں تو ہر ہوشمند  آدمی پوچھے گا یہ کیسے بننی ۔ تو وہ ١٩٤٠ کا ہی قرارداد ہے اور کوئی ذریعہ نہیں ہے ۔ جو ١٩٤٠ کا قرارداد ہیں اس میں ہے کے “کا نسٹچونٹ یونٹس شال بی ساورن اینڈ آٹانامس” (اتحادی یونٹس آزاد اور خود مختار ہوں گے) ۔

اب “ساورن” کا مطلب ہے کے وہ ہر طرح سے  آزاد ہیں جو بھی وہ فیصلہ کرنہ چاہیے۔ اگر وہ سمجھ رہے ہیں کے اس ملک میں ان کو حقوق نہیں مل رہے تو پھر ان کو حق ہیں کے وہ اس سے باہر آ  جائے۔ اور پچھلے٦٥ سال میں اس معاہدہ کی  خلاف  ورزی  سے شروع  ہو کرفورٹی (١٩٤٠ کی قرارداد) کو انہوں نے ختم کر دیا پاکستان بننے سے پہلے ہی ۔ وہ خود کہتے ہیں حکمران کہ  ہم نے اس کو ختم کر دیا ۔اس کے بعد سے جتنے معاہدے انہوں نے کیے ہیں وہ یکطرفہ انہوں نے کے ہیں یکطرفہ توڑیں ہیں ۔ اور وہ سلسلہ آج تک چلتا آرہا  اور نتیجہ یہ ہے کہ کبھی ہم اپنے بقا (سروایول) کے لیا لڑ رہے ہیں ۔ کبھی ہم اپنے قدرتی وسائل (نیچرل ریسورسز) کو پچانے کے لئے لڑ رہے ہیں۔کبھی ہم باہر کے لوگوں کی آمد (انفلکس) ہے جو سندھیوں کو اقلیت میں تبدیل کر رہیں ہیں ہم اس کے خلاف لڑرہے ہوتے ہیں، کبھی ہم  این ایف سی (نیشنل فنانس کمشن)  ایوارڈ پر لڑرہے ہوتے ہیں ۔ کبھی ہمارا پانی بند کیا جا تا ہے اس پر ہم لڑ رہے ہیں. اور اب  یہاں تک  بات پہنچی ہیں کہ سندھ کو تقسیم کرنے کی باتیں ہو رہیں ہیں ۔ اور وہ کہتے ہیں نہ کے ریاست کی “ناک کے نیچے” (انڈر دا نوز آف) یا ریاست (اسٹیٹ) کے سائے میں وہ سب کچھ ہو رہا ہیں ۔ تو ہم یہ کہتے ہیں اور یہ  سمجھتے  ہیں کے ہم نے انگریز سے آزادی حاصل کر کےاور  پاکستان سندھ سے شمولیت کا فیصلہ اسلئے تو نہیں کیا تھا ۔ کے ہم پھر غلاموں کی زندگی  گزاریں  ۔ تو ہم سمجھتے ہیں کہ  موجودہ  سسٹم موجودہ ریاست میں قوموں کو حقوق ملنے کا کوئی امکان نہیں ہے  لہذا ہماری جہدوجہد یہ ہے اسی بنیاد پر جس پر ہم شامل ہوے تھے جس  معاہدہ  کے تحت کہ “کا نسٹی ٹیونٹس شآل بی         ساورن” (اتحادی دھڑے خود مختار ہوں گے ) . تو اب اس کی خودمختار (ساورن)حیثیت تسلیم کی جاۓ سندھی نیشن  کی اور ساورن حیثیت میں سندھی قوم نئےسرے سے فیصلہ لیا جایں ۔ کہ یہ جو ٦٥ سال ہے جس  طرح ریاست چلی ہے اسی ریاست کے ساتھ وہ رہنا چاہتے ہیں یا اپنی آزاد ریاست بنانا چاہتے ہیں ۔ اور جس کو بین الاقوامی قانون (انٹرنیشنل لاء)  بھی تسلیم (ریکوگنایز) کرتا ہیں اور  بین الاقوامی قانون (انٹرنیشنل لاء) میں اس کو حق خود ارادیت (رایٹ آف سلف ڈِٹرمنشن ) کہا جاتا ہیں وہ اقوام متحدہ (یو این او) نے بھی اس کو تسلیم کیا ہے۔ مسلم لیگ  کی بھی ایک  قرارداد ہے ریزولشن  ہے جس کا ١٩٤٦ میں انہوں نے بات کی تھی کے جو بھی اکائی یا وحدت یونٹ ١٠ سال کے بات اگر محسوس کرے کے اس کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے اس وفاق میں اس ملک میں تو وہ آپٹ آؤٹ کر  سکتا ہیں ایک عوامی ریفرنڈم کے ذریعے ۔ تو ہم اب اسی کے لئے جئے سندھ محاز اب اسی کے لئے جہدوجہد کر رہاہے  اب یہی پروگرام ہیں اب لوگوں سے نئے سرے سے اس ریاست کے بارے میں رائےلی جاۓ ۔

تنقید: جئے سندھ محاز  اور سندھی قوم پرستی (نشنلسم)  کی کتنی حمایت ہے سندھ کے اندر؟ کیونکہ سندھ  کے بارے میں ہم جب سنتے ہیں تو ہم یہ سنتے ہیں کے سندھ کے اندر ایک تو ووٹنگ کافی زیادہ ہوتی ہیں اور وہ پی پی پی کو جاتی ہیں ۔تو آپ کی حمایت کتنی کو جاتی ہیں؟

عبدل خالق جونیجو: پہلے تو میں اس  مفروضہ کو بلکل درست کہنا چاہتا ہوں ۔ کل وہاں سیمینار میں بھی میں نے یہ بولا تھا  کہ  ایسے سسٹم میں اور ایسے معاشرےمیں  جاگیردارانہ اور یہ جو فوجی آمریت کا بالکل ایک کالونیل ریاست ہے تو اس میں آپ اسمبلی کے ووٹ کو فیصلہ کن قوت  نہیں سمجھنا چاہیے۔ دنیا  میں کبھی ایسا نہیں ہوا ۔ وہ تو  ایک آزاد خودمختار ملک ہو جس میں لوگوں کے رائے کا احترام کیاجاتا ہو وہاں پر اسمبلی کو معیار (کرایٹریا) بنایا جاتا ہیں ۔ جب کسی ایک ملک قبضے میں ہو تو اسمبلی معیار (کرایٹریا) کسی طرح  نہیں بنایا جاتا ہیں ۔کیونکہ  اسسمبلیاں جو سسٹم موجود ہوتا ہےنا اس کے وفادار ہوتی ہیں اور اس کے  مفاد میں کام کرتی ہیں اس کو بچانے کے لئے کرتی ہیں موجود نظام (سٹیٹس کوو) کو بچانے کےادارے ہوتے ہیں وہ تبدیلی کے ادارے نہیں ہوتے ہیں۔ اسمبلیاں اور عدالتیں بھی بنیادی تبدیلی کے لئے نہیں ہوتی ہیں بلکہ  وہ بنیادی تبدیلی کو روکنے کے لئے ہوتی ہیں اسمبلیاں ہوں  چاہے عدالتیں ہوں۔ آپ دیکھیں  یہ کس طرح  ایک دوسرے کی مدد کرتی ہیں۔ جب زرعی اصلاحات کا بل  اسمبلی میں گیا توشریعت کورٹ نے فیصلہ دے دیا کے نہیں نہیں یہ تو نہیں ہو سکتا۔ یہ تو اسلام کے خلاف ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ  پارلیمنٹ میں سب جاگدار بیٹھے ہوے ہیں کوئی یہ نہیں چاہتا زرعی اصلاحات۔  اس طرح  یہ اس سسٹم کو مضبوط کرتے رہتے ہیں یہ اسمبلیاں بھی اسی  سسٹم کو کرتی رہتی ہیں۔ ایک بات یہ۔ دوسری یہ کہ  نظریاتی طور پر (آیڈیالوجی) یا ایک سوچ کے تحت میں بلکل وثوق  سے کہتا ہوں کے سندھ کی بہت  بڑی آبادی نشنل ازم کے ساتھ ہے  اور اسی کا سبب ہے کہ  ابھی بشمول پیپلز پارٹی تمام مرکزی جماعتیں وہ سندھ میں قومی سوال اٹھاے بغیر  سیاست نہیں کر سکتی ۔

وہ جماعتیں  مثلا  پیپلز پارٹی ہے اس کا جو بانی تھا ذوالفقار علی بھٹو اس کا  یہ کہنا تھا کے یہاں کوئی دوسری قوم نہیں ہیں صرف پاکستانی قوم ہیں اور جو سندھی بلوچ کہلاتا ہیں اس کے لئے اس نے قانون مے سزاء مقرر کی۔  اور یہ کہاں کے جو اپنے آپ کو سندھی بلوچ کہلاۓ کا اس کو میں مار مار کے پاکستانی بناوں گا کوئی الگ نہی ہے ۔ وہ جماعت سندھ میں سیاست صرف سندھ کے مسائل (ایشوز) پر  کرتی ہے ۔یہ  الگ بات ہیں کے وہ اس کے ساتھ دھوکہ کرتی ہیں ۔ پر جنرل مشرّف کے ٨ سال پپلز پارٹی نے میں ریکارڈ پہ لانا چاہتا ہوں اپنے پارٹی کے پلیٹ فارم سے ایک دن سیاست نہیں کی ۔ انہوں نے سیاست کی ایک کمیٹی بنائی تھی اینٹی کالاباغ ڈیم اور  گریٹر تھل کنال کمیٹی جس میں قوم پرست (نشنلسٹ) پارٹیاں بھی کچھ ان کے ساتھ شامل تھیں۔ ساری سیاست انہوں نے اس پر کی۔ جماعت اسلامی ہے ان کے بانی مولانا مودودی نے کہا تھا کے زمین کے حوالے سے قومیت کی بات کرنا کفرہے اسلام کے خلاف ہیں اسلام میں قوم صرف نظریات سے بنتی ہیں مذھب سے بنتی  ہیں ۔جماعت اسلامی سندھ میں داخل ہوتی ہیں تو وہ سندھ کے مسائل ہیں ان کو اٹھاتی ہے  سندھ کے قدرتی  وسائل کا  مسلہ اٹھاتی ہے  سندھ میں تعلیم کا سوال اٹھاتی ہے  سندھ کی زمینوں کا سوال اٹھاتی ہے ۔ سارے جو قوم پرستی ( نشنل ازم) کے جو مسائل  (ایشوز) ہیں اس کو اٹھانے پر مجبور ہوتی ہیں ۔ تو نظریاتی (ادولوگے) طور پر قومپرستی پر بلکل زورہے  زبردست ہے ۔باقی  یہ سسٹم ایسا ہیں کے الیکشن کو جیسا میں نے کہا کہ  کالونیل سسٹم میں الیکشن کو نہیں بنایا جا سکتا ہیں۔ پھر عملی طور پر بھی انہوں نے ایسا بنایا ہیں ٣-٤-٥ کروڑ روپے جن کے پاس ہوں وہی الِکشن لڑ سکتے ہیں۔ تو وہ تو صرف جاگیردار (فیدل) ہی لڑ سکتے ہیں ۔ یا جو ریٹائرڈ بیوروکریٹ ہوتے ہیں جو ٤٠ سال تک لوگوں کو لوٹتے ہیں پھر آکے الیکشن لڑ تے ہیں ۔ تو جو الیکشن ہیں جو سندھ اور بلوچستان بھی میں ان کے لئے بات نہیں کروں کا وہ خود کریں گے پر وہ اس سطح پہ ہیں کے اب فیصلہ خودمختاری (ساورنٹی) پرہے اور خودمختاری (ساورنٹی) پر آپ دیکھیں میں مثال دوں آپ کو الیکشن اور قومی حقوق  کا بہترین مثال کشمیر کاہے  جسکو پاکستان کے سب لوگ مانتے ہیں ۔پنجاب والے لوگ زیادہ اس کی حمایت کرتے ہیں پاکستان کی ریاست بھی حمایت کرتی ہے  ۔ وہاپر  پچھلے ٦٥ سال میں سے صرف ١٠ سال الیکشن نہیں ہوے۔ ٩٠کی  جو دہائی تھی  باقی ،  کشمیر جوہندوستان کے ساتھ ہے۔ باقی  باقاعدہ  الیکشن  ریگولر ہوتے ہیں اور پاکستان سے کہیں اعلیٰ  معیار ہوتے ہیں جسکو دنیا تسلیم کرتی ہیں ۔ٹھیک ہیں؟ اور وہاپر ہمیشہ الیکشن میں وہ جماعتیں  جیت کر آتی ہیں جو ہندوستان کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں ۔ تو اس کا یہ سمجھنا چاہیے کے کشمیر کا کوئی مسلہ (ایشو ) نہیں  ہے ؟

نہیں! وہ اتنا زبردست مسلہ (ایشو)ہے کہ  ہندوستان کی حکومت باوجود اس کے کہ  اسمبلی کے الیکشن میں اس کی حامی جماعتیں منتخب ہو کر آتی ہیں اس کے باوجود  بھارت کی گورنمنٹ  وہاں  ٦٥  سال سے وہاں  پر  ریفرنڈم نہیں کرارہی  ہے۔ باوجود اس کےکہ ان کے جو بانی تھے جواہرلال نہرو وہ اقوام متحدہ (یو این او) میں وعدہ  کر کےآے تھے کہ  ہم ریفرنڈم کریں گے جو وہ نہیں کرا رہیں ہیں کیوں  کہ  ان کو پتا ہے کہ اسمبلی کا ووٹ اور آزادی کا ووٹ میں زمین آسمان کا فرق ہیں ۔ اور پاکستان بھی مطالبہ کر رہا ہے نا ورنہ پاکستان کو بھی نہیں مطالبہ کرنا چاہیے اسی بنیاد پرکہ ہمیں کہا جا تا ہے کہ  لوگ پیپلز پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں لہذا آپ کی بات ختم ہو گی تو پھر کشمیر میں لوگ ووٹ دیتے ہیں مسلم کانفرنس کو ، سوری ، نشنل کانفرنس کو۔تو  وہ تو ساری ہندوستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ تو کیا کشمیر کا مسلہ ختم ہو گیا؟ نہیں، ختم نہیں ہوا ۔ کشمیر کاحل  خود ارادیت (رایٹ اف سلف دٹرمنشن) ہے۔  اسی طرح  سندھ میں  جو اسمبلیاں جو ہیں ان کو معیار نہیں بنایا جا سکتا ہیں اور نہیں بنایا جانا چاہیے۔ یہاں  پر لاہور کی کریم دانشور تھے ان کو بھی میں نے کہا کہ   آپ اس کو دیکھا  نہیں تو نتائج ان کی کوئی اور نکل جایں گی ۔

تنقید: اب حالت توایسے ہو گئے ہیں خاص تور پر کراچی میں کہ وہاں پر صرف سندھی نہیں رہے بلکہ  مہاجر بھی ہو گئے ہیں جو ایم-کیو -ایم کے ذریعے یا ان کے تنظیم میں مہاجر بہت  سارے ہیں۔ وہاں تو پنجابی بھی بہت اور بلوچ بھی ۔ وہ تو کہتے ہیں کہ کراچی سب سی بڑا بلوچ شہر ہے۔ تو اس میں یہ جو مختلف قومیں بھی آ گئی ہیں سندھ کے اندر۔اگر آپ ریفرنڈم بھی هوئے تو اس کے بارے میں جی-ایس-ایم محاز کا کیا خیال ہیں؟

عبدل خالق جونیجو: اس پر ہم نے اپنی پارٹی کی طرف سے ایک مقالہ (تھیسس) دی ہے۔ وہ ابھی  صرف سندھی میں ہے۔ فل وقت آپ کہیں تو میں وہ آپ کو دے سکتا ہوں۔ انگریزی میں وہ ترجمہ ہو گئی ہے، ابھی چھپ رہی ہے  ہم آپ کو دے گے۔ اس میں ان تمام سوالوں کا تفصیل سے جواب دیا گیا ہیں۔ اور مثالوں کے ساتھ دنیا میں۔ فل حال میں اتنا کہوں گا کے سرزمین  پر حق حکمرانی ایک مقامی (انڈجنس) لوگوں کا ہوتا ہے۔ اگر باہر سے لوگ آتے ہیں، دو طرح سے آتے ہیں نہ۔ کچھ لوگ روزگار کے لئے آتے ہیں۔ تو اگر وہ روزگار کے لئے آتے ہیں ہماری سرزمین پر۔ تو اگر وہ شریف لوگ ہوتے ہیں تو پھر وہ یہ دعوا نہیں کریں گے وہاں پر مالکی  کا حکمرانی کا دعوا نہیں کریں گے۔ دوسرے قسم کے وہ لوگ ہیں جو آتے ہی وہا سے یہ ارادے لیکر ہیں۔ ان کو وہ توغاصب ہیں۔ اور وہ آۓ تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ  وہ وہاں کے مالک ہو گئے۔ اگر وہ روزگار کے لئے آتے ہیں تو ہمارا نگتہ نظر یہ ہے کہ  لوگ آتے ہیں دنیا میں مائیگریشن ہوتی ہے.  ایک جگہ سے دوسرے جگہ لوگ جاتے ہیں۔ یہاں سے لوگ جاتے ہیں امریکا، برطانیہ، عرب امارات میں لوگ جاتے ہیں۔ کیا وہ جاتے ہی وہاں  کے مالک ہو جاتے ہیں؟

نا ان کو وہاں پر  جائیداد (پراپرٹی) خریدنے کا حق ہوتا ہے، نہ ان کو وہاں ووٹ دینے کا حق ہوتا ہے۔ سیاسی حقوق نہیں ہوتیں ہیں ان کو۔ یہ تو پاکستان میں یہی چیزیں تو ہمیں آزادی کے راہ پہ لیکر جا رہی ہیں کہ پاکستانی ریاست ایک ایسی بن گئی ہے کہ سندھ کو انہوں نے ایک جنگل بنا دیا ہے. جس کو جہاں چاہے جو چاہے وہ برما سے آۓ، بوسنیا سے آۓ،جو آۓ سندھ میں آ گیا وہ سندھ میں مملکت بھی خریدتا ہے وہاں الیکشن بھی لڑ تا ہے  وہاں  وزیر بھیبنتا ہے۔ سینیٹر بھی بنتا ہے۔ تو یہی کا لونیل ازم ہے جس کے خلاف ہم جہدوجہد کر رہے ہیں۔ اور ریفرنڈم ہو گا تو جو سندھ کے باشندے ہیں تو وہی اس میں ووٹ دیں گے۔ ایسا مثال دنیا میں ہیں۔ وہ تفصیل سے ہمارا جو مقالہ (تھیسس) ہے اس میں  دیےگئے ہیں۔ باقی  وہ اگر اپنے کو، یہ بھی ہم واضح(کلیر) کر دیں کے ہماری قوم پرستی جو  ہے وہ نسلی بنیاد(اتھنک بیسس) پہ نہیں ہے۔ بھلے دوسری زبان بولنے والے لوگ ہوں لیکن وہ سندھ کی قومی حیثیت کو تسلیم کرتے ہیں اپنے آپ کو سندھی قوم کا حصہ سمجھتے ہیں تو وہ بھی اتنے ہی سندھی ہیں.  پھر وہ بھی اس میں برابر کے حقوق اور فرائض میں شریک ہوںگے. بھلے زبان وہ دوسری بولتے ہوں ۔ لیکن سندھ کے سیاسی، اقتصادی، ، ثقافتی (کلچرل) حقوق کو وہ مانتے ہوں جیسے لوگ جاتے ہیں دوسرے ملکوں میں جاتے  ہیں تو وہاں کے ہوتے ہیں نا؟ برطانیہ میں جاتے ہیں، امریکا میں جاتے ہیں کچھ عرصہ بعد جب  ان کے ثقافتی (کلچر) ان کے قوانین کے وہ پاسداری کرتے ہیں  تب ہی وہ ان کو سیاسی حقوق دیتے ہیں ان کو  شہریت دیتے ہیں اور وہ اپنی زبانیں بولتے ہیں پھر امریکن ہوتے ہیں برٹش ہوتے ہیں۔ اسی طرحسے جو لوگ سندھ میں ہوں گے ان کو سندھ میں تمام سیاسی حقوق حاصل ہوں گے۔ اور باقی جو روزگار کے لئے آتے ہیں وہ روزگار کریں لیکن ان کو سیاسی حقوق نہیں ہوں گے۔ اور باقی جو سندھ پر قبضہ کرنے کی بات کر رہے ہیں ان کے خلاف تو ہماری جنگ ہے تو پھر وہ جیتیں یا ہم جیتیں۔

تنقید: اگر آپ باہر کا مثال دے رہے ہیں تو پھر تو یہ بھی ہوتا ہے کہ جو ایک علاقے کا مثلا سندھ کی ثقافتی ہوتی ہیں شائد زبان بھی اس میں منتقلی (مائیگریشن) سے تبدیلی بھی آ سکتی ہے۔ اور تبدیلی آئ بھی ہو گی زبان میں۔ ثقافتی اور زبان ایک تو نہیں رہتا ہزاروں سال میں . بدلتا تو رہتا ہے  کبھی کہیں سے اثرات(انفلونس) آتے ہیں کبھی کہیں سے۔ اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہیں؟

عبدل خالق جونیجو: ہاں  اثرات (انفلوینس) آتا ہے، اثرات (انفلونس) ثقافتیں ایک دوسرے پر ڈالتی ہیں۔ اور زبانیں بھی لیتے ہیں پر اس کا مطلب یہ تو نہیں ہیں نہ  کہ باھر کی زبان آۓ اور وہ زبان چلے  تو وہاں کی مقامی زبان ہے اس کو ختم کر دیا جائے۔ ایک قدرتی عمل (نیچرل پراسس) ہوتا ہے.  ٹھیک ہے نہ! اگر آج کے بعد سو سال، دو سو سال، پانچ سو سال کے بعد ہو سکتا ہے کہ دنیا میں ایک زبان، دو تین زبانیں رہ جایں  اور دوسرے زبانیں  ختم ہو  جائیں اوراس میں اگر ہماری زبان بھی ختم ہو جاتی ہے تو ٹھیک ہے۔ لیکن یہاں پر تو یہ ہے کہ ریاست کی سرپرستی (اسٹیٹ پترونیج) یا ریاستی جبر کے  ذریعے ہماری زبان کو ختم کر کے اور اردو زبان کو زبردست کیا جا رہا ہے. جب پاکستان بنا تو ٢% تھے اردو بولنے والے لوگ تو وہ کیسے قومی زبان ہو گی؟ کس حساب سے ہوئی؟ دنیا میں کوئی ایسی مثال ہو گی کیا؟ ہم اس کے خلاف ہیں جو غیر قدرتی طریقہ سے (ان نیچرل مین)  سے سرکاری سرپرستی میں ہماری زبان کے خلاف چیزیں ہو رہی ہیں۔ ہم اردو کے خلاف بھی نہیں ہیں۔ ہم کسی بھی زبان کے خلاف نہیں ہیں ہم کہتے ہیں آپ اوپن فیلڈ (کھلے میدان) چھوڑ دیں ہماری زبان میں اتنی طاقت ہے  تو وہ زندہ رہے گی۔ اور مہوش صاحبہ  سندھی زبان میں اتنی طاقت ہے وہ زندہ رہی ہے۔ عرب جب یہاں آۓ تھے تو انہوں  نے یہاں کی سرکاری زبان عرب کردی تھی۔ ٣٠٠ سال تک عرب یہاں تھے۔ لیکن عربی کا اب نام نہیں ہے  سندھی قائم رہی ہے.  پھر یہاں افغانستان اور وسطی ایشیا سے مسلسل جو حکمران آۓ انہوں نے یہاں فارسی کو کیا۔  مغلوں نے بھی  یہاں فارسی سرکاری زبان تھی لیکن آپ اب جائیں سندھ میں آپ کو فارسی صرف کچھ پڑھے لکھے لوگ کرتے ہیں. سندھی نے اس کو بھی سروایو کیا ہے.

اور میں آپ کو بتاؤں یہاں پاکستان میں بڑے  زبان دن (لنگوسٹ) ہیں۔ پہلے اسلام آباد میں پڑھا تے تھے ڈاکٹر طارق رحمان۔ وہاں سے وہ ریٹائرڈ ہو گئے اب وہ لاہور میں لمس (لاہور یونیورسٹی اف مینجمنٹ سائنسز) میں یا کسی اور یونیورسٹی میں  پڑھاتے ہے (اصلاح: ڈاکٹر طارق رحمن بیکنہاؤس نیشنل یونیورسٹی میں سکھاتے ہے)۔ انہوں نے کتاب لکھی ہے “لینگویج اینڈ پولیٹکس ان پاکستان” (پاکستان میں زبان اور سیاست) جو انہوں نے کوئی بیس سال پہلے لکھی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ  برصغیر پر جب دو زبانیں ہندی اور اردو جو ویں چھاتی جا رہی تھیں سرکاری سرپرستی میں اور دوسرے زبانوں پر غلب حاصل کرتی جا رہی تھیں  تو دو زبانوں نے اس کا مقابلہ کیا کامیابی سے ایک بنگالی اور ایک سندھی۔ ہماری زبان میں یہ ہے اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس کو جو جومصنوعی طریقہ سے ختم کیا جاتا ہے ہم اس کے خلاف ہیں۔ اور باقی ایک پراسیس میں(عمل) تبدیلیاں آتی ہیں ہم اس کو قبول کرتے ہیں یہ نہیں ہیں کے جو  پانچ ہزارسال پہلے چیز تھی وہ ابھی بھی ہو گی۔

تنقید: آج کل  بہت ساری جہدوجہد ہو رہی ہے سندھ میں ای.پی.ایل.جی.اوآرڈننس کے پاس ہونے کی وجہ سے۔ اس کے بارے میں اگر آپ چند لفظ بول دیں۔ آپ کا کیا خیال ہے . کیا ہونا چاہیے؟

عبدل خالق جونیجو: یہ دیکھیں نا جو اس کا کنٹنٹ (متن)ہے اور جو اس کاطریقہ کار ہے دونوں لہاذ سے یہ ایکمیں تو کہتا ہوں سندھ کے لئے سندھی قوم کے لئے توہین آمیز (ڈروگیٹری) چیز ہے۔ بالکل عملی طور پر کراچی کو ایک الگ خودمختار حکومت بنا دیتی ہیں۔ یہ جو آرڈننس ہیں یہ جو قانون ہے ۔ اور اس کے خلاف جو جہدوجہد ہے وہ صرف اس آرڈیننس کے خلاف نہیں ہے۔ یہمیں نے آپ کوتھوڑا پہلے بتایا  نا کہ  مسلسل جو پہلے دن سے  ٤٨ سے لے کر پاکستان بننے سے ہمارے ساتھ جو کچھ ہوتا آ رہا ہے اس پر سندھ کے لوگوں نے آواز اٹھائی ہے جہدوجہدیں کیں ہیں لیکن حکمرانوں نے اس پرکان نہیں دھرا ہے. اور وہ اس کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں ۔ لیکن یہ چیزیں ان کو پتا نہیں ہیں کہ  یہی چیزیں جمع ہو کرپھر ایک پورے مائنڈ سٹ (ذہنیت) کو ایک ماحول کو جنم دیتی ہیں جیسے بنگال میں زبان کا مسلہ تھا بنگالیوں نے کہا تھا ہماری زبان کو قومی زبان بناؤ۔ انہوں نے اسی طرح سے ان کو ہتک آمیز(ڈروگیٹری) انداز میں کہا کہ  نہیں ان کی بھی کوئی زبان ہے اردو ہی رہے گی اس کو ختم کیا۔ وہیں سے سلسلہ چلا جو پھر چلتا چلتا ٦ پائنٹ پر آیا۔ حکمرانوں نے ٦ پائنٹ بھی نہیں مانے تو وہ آزادی پر گیا۔ تو یہ جو ٦٥ سال سے مسلسل سندھ کے ساتھ زیادتی  ہوتی جا رہی ہیں اور سندھ کے عوام کی جہدوجہد کا جواب نہیں دیا حکمرانوں نے اس سارے کا جو لوگوں کا غصہ ہے اور جو تبدیلی کا خواہش ہے  وہ اس آرڈیننس کے خلاف جہدوجہد کی شکل میں ابھر کے آئی ہے۔ ویسے میں آپ کو بتا رہا ہوں یہ جد وجہد ابھی لمبی چلے گی اور یہ جدوجہد اس پورے ریاستی نظام کی تبدیلی کے لئے چلے گی۔ اور ابھی سے وہ نظام کی تبدیلی کی آوازیں آ رہی ہیں۔

تنقید: اپ یہ جو آنے والے الیکشن ہو رہے ہیں اس میں یہ بھی لگتا ہے کہ پی ایم ایل ان  ساتھ دینے کی کوشش کرتی ہے۔ بلوچ قوم پرستی تنظیموں اور سندھی قوم پرستوں کی بھی۔ اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

عبدل خالق جونیجو: میں نے کہا نا ہم اس الیکشن کو جو سندھ کے اور بلوچستان کے مسائل ہیں جو اشیو ہے اسکا اس کا کوئی حل اس الیکشن میں نہیں ہے.  یہ الکشن اس سسٹم کو سٹیٹس قو کو بچانے  کے الکشن ہے.  اسی سسٹم کو ایسے ہی رکھنے کے لیے ہے. پی ایم ایل ان ہو یا پیپلز پارٹی ہو،جتنی پارٹیاں ہیں جو بنیادی ایشو ہے سندھ اور بلوچستان کی قومی حاکمیت کا اور اپنی تمام سیاسی اقتصادی اور ثقافتی معاملات پر مکمل اقتدار اعلیٰ کا اس کو ان میں سے کوئی بھی نہی مانتی. سب اس کے خلاف ہیں۔ وہ تو ایشو ہی نہیں ہے ان الیکشن میں۔ ان الیکشن میں تو بس یہ ہے کہ فلاں وزیراعظم بن جائے۔ تو ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سندھ اور بلوچستان میں گراؤنڈ ریالٹی ہیں جو اصل ایشو ہے اس سے اس الیکشن کا واسطہ ہی نہیں ہے۔ باقی اب جس کے ساتھ سندھ میں خاص طور پر اب صورتحال الکشن کے حوالے سے یہ بن رہی ہے کہ پیپلزپارٹی کا پہلے سندھ میں ایک پاپلر ووٹ ہوتا تھا۔ ٤٠ سال تک یہ اصل بات ہے۔ پھر  اس کے جو امیدوار آتے تھے ان کو ووٹ ملتے تھے تو پپلز پڑتی کو ایک بڑی اکثریت مل جاتی تھی. اب پپلز پڑتی کا جو پاپلر ووٹ ہے وہ نا ہونے کہ برابر رہ گیا ہے .  دس پندرہ فیصد رہ گیا ہو تو رہ گیا ہو باقی ختم ہو گیا ہے .اب یہ الیکشن اس بنیاد پر ہو گی کہ کتنے بڑے جاگیردار کس جماعت کے پاس گۓ ہیں. تو اب پی ایم ایل ان اورپپلزپارٹی دونوں کوشش کر رہی ہیں کہ زیادہ سے زیادہ ونینگ کینڈیڈیٹ (جیتنے والے امیدوار ) جو پراثر فیوڈل (جاگیردار) ہیں وہ ہماری طرف آئیں ۔ دونوں کوششیں کر رہی ہیں، جس کے ساتھ وہ زیادہ جایئں گے ان کو سیٹ ملیں گی۔

تنقید: جس طریقے سے ہم بلوچستان میں کل اینڈ ڈمپ (قتل کرو اور پھینکو) کے بارے میں سن رہی ہیں اور اغوا کے بارے مے سن رہے ہیں۔ ایسے چند جے-اس-قیو-ایم کے سرپرا ہوں کو بھی اٹھایا گیا ہے۔ ایسے ہو رہا ہے سندھ میں؟

عبدل خالق جونیجو:  جی ہاں۔ سندھ میں بھی بالکل اسی طرح ہو رہا ہے۔ اگر اس پیمانے پی نہیں تو سندھ میں ہو رہا ہے۔ جے-اس-قیو-ایم کے بھی گئے ہیں۔ جے-اس-ایم میں بھی ایک جماعت ہیں ان کے بھی لوگ گئے ہیں اور ان کے علاوہ بھی لوگ گئے ہیں، اٹھاے گئے ہیں جو یہاں تین تین ، چار چار سالوں کے بعد واپس آۓ ہیں.  یا تو واپس آۓ ہی نہیں ہیں. ان کی لاشیں آئی ہیں. اس طرح کے واقعات سندھ میں بھی ہو رہے ہیں وہ آہستہ آہستہ بڑھ  رہے ہیں۔ بلوچستان جتنے تو نہیں ہیں لیکن ہو رہے ہیں۔

تنقید: اب تک کتنے لوگ اٹھاے گئے ہیں.

عبدل خالق جونیجو: میں  بالکل صحیح تو نہیں بتا سکتا آپ کو۔ لیکن اگر اٹھانے والوں کا آپ کریں گے تو وہ سو سے تو زیادہ ہی ہوے گے۔

تنقید: اور لاشیں؟

عبدل خالق جونیجو: لاشیں بھی میں سمجھتا ہوں کوئی درجن بھر سے اوپر تو آ چکی ہوں گی جو اصل اعداد وشمار (فگر) ہیں۔.

تنقید: اور یہ کون کر رہا ہے؟

عبدل خالق جونیجو: اب دیکھیں نا ایک چیز۔ میں تجزیہ ہی کر سکتا ہوں انفارمیشن میرے پاس نہیں ہے۔ بلوچستان میں قومی  کی جدوجہد چل رہی ہے سندھ میں قومی حقوق کی جدوجہد چل رہی ہے۔ دونوں جگہوں پر لوگوں کو اٹھا یا جا رہا ہے اور اس میں سیاسی کارکن کی زیادہ تعداد ہے۔ تو ایک انسان کا عقل (کامن سینس) کہتا ہے کہ قومی حقوق کی جدوجہد سےاس کا ایک کنکشن لگتا نظر آتا ہے. کیونکہ دونوں جگہ ہے،  تو دونوں جگہ پر وہ ہو رہا ہے۔ کون کر رہا ہے؟ کوئی بھی کر رہا ہے تو اس کی ذمہ دار ریاست ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں یا تو ریاست خود شامل ہے ۔ اگر شامل نہیں ہے ریاست تو اس کا مطلب یہ ہیں کے وہ نااہل ہیں۔ کہ ریاست کی پہلی زمہ واری، مس مہوش،یہی ہوتی ہے نہ کتابوں میں یہی پڑھایا جاتا ہے کہ ریاست کی پہلی ذمہ واری ہے کہ لوگوں کی جان کا تحفّظ کرنا۔ ٹھیک ہے؟ اگر چھ سات  سالوں سے لوگ  مسلسل اغوا ہو رہے  ہیں اور ٹارچر ہو کہ لاشیں پڑ رہی ہیں اور ریاستی اداروں کو اتنی انٹیلی جنس اجنسیوں کوپتہ ہی نہی چلتا تو پھروہ نہ اہل ہیں نا. تو یاں تو وہ ملوث ہیں یاں وہ نہ اہل ہیں. زمہ وار دونوں طرح سے ہیں اور ہم ان کو زمہ وار سمجھتے ہیں۔

تنقید: اگر آپ آخر میں یہ بتا دیں کہ سندھی نیشنلسٹ موومنٹ کی آج سٹیٹس کیا ہے اور وہ کتنی مضبوط ہے اور آگے آپکا کونسا راستہ لینے کا ارادہ ہے؟

عبدل خالق جونیجو: میں نی پہلے بھی آپ کے ایک سوال کے جواب میں کہا کے نظریاتی طور پرفکری طور پر  وہ بہت مضبوط ہیں سندھ کا۔ بہت کم  سندھ میں جو مذہبی حلقہ ہیں وہ پاکستان کے ساتھ  آپ موازنہ کریں تو وہ سندھ میں بہت کم ہے۔ اس کو چھوڑ کر، سارے سندھ کے لوگ فکری نظریاتی طور پر قومی سوال قوم پرست تحریک کے ساتھ ہیں۔ اور اس کا جو میدان عمل ہے  اصل میں وہ اسمبلیاں نہیں ہیں۔ ایک جو میں نے مثال دی ون یونٹ جو بنا تھا سندھ کے وجود کوختم کردیا تھا  اس کے پیچھے بھی پوری ریاستی مشنری کی قوت تھی۔ لیکن اس کو سندھ کے لوگوں نے عوامی جدوجہد سے روڈ رستے کی جدوجہد سےون یون ٹ کو توڑا تھا۔ تو ابھی جو قومی تحریکیں ہیں اس کا جو جدوجہد کا میدان اسسمبلی نہیں ہے اس کا میدان عوام ہیں روڈ رستے ہیں، عدم تشدد جدوجہد ہے اور وہ جدوجہد بالکل بڑھ رہی ہے اور ہم بالکل پرامید ہیں کہ اب  فیصلہ کن مرحلے میں جاۓ گی۔

تنقید: شکریہ

Pages: 1 2 3