نا مکمل

میں رات رات بھر
پوری آنکھیں کھولے
اپنا آدھا دھڑ کہنیوں پر بلند رکھتا ہوں
تاکہ
دانت پر دانت جمائے
ہتھیلیوں میں ناخن گاڑ کر
ایک نظم جن سکوں
میرے ماتھے کا نمک آنکھوں کے پانی سے
لفظ بناتا ہے
جو بھنچے ہوئے جبڑوں کے بیچ سے تھوکے جاتے ہیں
میرے عضلات کا تشنج سطروں کی لمبائی کا فیصلہ کرتا ہے
نظمیں روتی ہوئی پیدا ہوتی ہیں
اور میں ان کے استقبال میں مسکراتا ہوں
یہ نظم مجھے ایک اذیت زدہ انتظار میں رکھے
پیروں کے بل پیدا ہو رہی ہے
میں اس کا چہرہ دیکھ سکوں
تو اسے ایک نام دوں
اسی اذیت میں پیدا ہونے والی نظموں سے مختلف
ایک نام
میں اس سے پہلے ایسی نظمیں جن چکا ہوں جن کا چہرہ نہیں تھا
میں نے ان نظموں کو ان کی آنول کے ساتھ کاغذوں میں دفنا دیا….

سلمان حیدر

Tags: , , , , , , ,

Leave a Reply

Your email address will not be published.