گنتی، گُلّی اور گلی | سلّو کا بلاگ

’’بچے ہیں لڑ پڑتے ہیں کوئی بات ہوئی ہو گی۔‘‘

یہ وہ الفاظ ہیں جو میرے ابا گلی میں ہونے والی لڑائی کی ہر اس رپورٹ کے بعد کہا کرتے تهے جس میں میں پٹ کر آیا کرتا تها۔ یہ رپورٹ عام طور پر ہماری اماں رات کے کھانے کے بعد چائے کا کپ ابا کے سامنے رکھتے ہوئے پیش کیا کرتی تھیں اور میری یہ خواہش ہی رہی کے میرے ابا کسی دن ایسی کسی رپورٹ کے بعد اٹھیں اور جا کر اس گهر کا دروازہ کھٹکھٹا دیں جس میں رہنے والا قادر بخش عمر میں مجھ سے کچه بڑا ہونے کے باوجود میری کلاس میں اور جس کے ابا میرے ابا سے عہدے میں کچھ بڑے ہونے کے باوجود ہمارے محلے میں تهے۔

command-of-stick-Malacca-Cane-of-pakistan-army-general

گلی ہمارے کهیل اور ہماری جنگ دونوں کا میدان تهی اور اس میدان میں یہ دونوں کام بلا ناغہ ہوا کرتے تهے۔ قادر بخش عمر میں ہی نہیں قد کاٹھ اور نالائقی میں بهی مجھ سے کافی بڑا تها۔ میں کلاس میں مانیٹر تها اس لیے ماسٹر صاحب کے اونگهنے کے دوران قادر بخش سمیت تمام بچوں سے سبق سننا میرے فرائض میں شامل تها۔ قادر بخش کلاس کے دوران گنتی اور گُلّی ڈنڈے کے دوران گُلّی کے ٹل گننے میں ایک ہی جتنی بے ایمانی سے کام لیا کرتا تها جو میری ماں کے خیال میں اسے وراثت میں ملی تهی۔ گُلّی ڈنڈے میں تو میں اس کا مقابلہ نہیں کر پاتا تها لیکن گنتی میں اس کی دھاندلی کے حوالے سے الیکشن کمیشن بهی میں ہی تها اور جوڈیشل کمیشن بهی۔ اس لیے قادر بخش کو عام طور پر میری رپورٹ کے بعد ڈی سیٹ ہی نہیں ہونا پڑتا تها بلکہ گُلّی کے ڈنڈے جتنی موٹی سوٹی سے ماسٹر صاحب اس کے ووٹوں کی گنتی درست فرمایا کرتے تهے اور وہ دونوں ہاتھ پھیلائے ہر ڈنڈ۱ کھاتا اور مجهے گھورتا رہتا تها۔ ان تمام ڈنڈوں کا بدلہ وہ گلی میں کهیل کے دوران لے گا مجهے بہت اچھی طرح معلوم تها۔ لیکن کیا کرتا کہ میرے دو کمروں کے گهر کا صحن روٹیاں سکھانے کے لیے جوڑ کر بچهائی چارپائیوں کے بعد کھیلنے کی جگہ دینے سے انکاری تو نہیں مگر شرمندہ ضرور تها۔ نتیجہ وہی گلی وہی گُلّی وہی ڈنڈا اور وہی ڈنڈا سوٹا۔

ایسی ہی ایک رپورٹ اور اس پر ابا جی کے ردعمل کے بعد جب میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو میں نے اعلان کر دیا کہ میں آپ کا بیٹا نہیں ہوں آپ مجهے کہیں اورسے لے کر آئے ہیں۔ باپ بیٹوں کا ساته دیتے ہیں قادر بخش کے ابا کی طرح جو اس وقت تک حقہ گڑگڑاتے رہتے ہیں جب تک ان کا بیٹا فریق مخالف کو پیٹتا رہتا ہے اور عین اس وقت چھڑانے آ جاتے ہیں جب دو پٹنے والے اکٹھے ہو کر قادر بخش پر پل پڑتے ہیں۔ اس وقت بهی قادر بخش کے ابا مارتے دوسروں کے بچوں کو ہیں اور گالیاں اپنے بیٹے کو دیتے ہیں تاکہ گهر میں بیٹھے سننے والے سمجھیں کے گالیوں کے بعد چٹاخ پٹاخ اور رونے کی متعلقہ آوازیں قادر بخش سے ہی آ رہی ہیں۔

مجهے دلاسہ دینے اور سوتیلا بیٹا ہونے سے متعلق میرے شکوک رفع کرنے کے بعد ابا نے مجهے ایک نصیحت کی تهی۔ مجهے آج وہ نصیحت اور یہ قصہ اس وقت بہت یاد آئے جب میں نے این ایل سی کے فوجی سربراہ اور عہدیداروں سے متعلق فوجی کمیشن کا فیصلہ پڑها۔ ووٹوں کی گنتی ٹهیک بهی ہو تب بهی آپ قادر بخش نہیں بن جاتے۔ جهگڑا کچھ بهی ہو چٹاخ پٹاخ کی آوازیں ہم جیسوں کے لیے ہیں۔ اس بار مسئلہ چونکہ قادر بخش کے بھائیوں میں تها اس لیے ہمیں ڈانٹ پھٹکار پڑتی سن کر ہی خوش ہونا چاہئیے وہ بهی اپنے گهر میں بیٹھ کر۔ ورنہ قادر بخش کے ابا گالیوں کا آخری برسٹ تماشہ دیکهنے والے بچوں پر بهی چلا دیا کرتے ہیں۔

اور ہاں میرے ابا کی اس نصیحت پر عمل کرنا چاہئیے کے بیٹے یا تو اپنے صحن میں کهیلو ورنہ گنتی بهی تو ماں کے پیٹ سے گنتے پیدا نہیں ہوئے تهے۔ سیکھی ہے نا! گُلّی ڈنڈا بهی سیکھ لو۔

 

سلمان حیدر تنقید کے مدیر ہیں۔  پیشے کے اعتبار سے استاد ہیں اور ہر اس چیز سے نبرد آزما ہوتے ہیں جو ان کے راستے میں آئے۔  ادب، تھیٹر میں فنکاری، ڈرامہ نگاری اور صحافی کا کام کر چکے ہیں۔ گزشتہ سات سال سے فاطمہ جناح یونیورسٹی سے منسلک ہیں۔

3 Responses to

گنتی، گُلّی اور گلی | سلّو کا بلاگ

  1. syed Shayan on Aug 2015 at 8:39 AM

    Hamesha ki tarah khoobsurat

  2. حسن فاطمی on Aug 2015 at 5:41 PM

    سلو بھائی بہت خوبصورت اور بے باک انداز میں تنقید کرتے ہیں. بلاگ پڑھ کے ایک بات یاد آ گئی.
    کسی نے کہا تھا
    سپاں نوں برادری پیاری ہو ندی آئے

  3. نصیر عباس on Aug 2015 at 12:59 AM

    سیلمان بھائی آپ بہت اچھا لکھتے ہیں ،آپ کی تحریر میں قراۃ العین کی تحریروں کا عکس جھلکتا ہے مولا پنجتن پاک آپکے رزق سخن میں اور برکت دے،آمین

Leave a Reply to حسن فاطمی Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *