کتنے آدمی تھے…│ سلو کا بلاگ

ایشیا ٹائپ نسخ یا نستعلیق فونٹ میں پڑھنے کے لیے ان ہدایات پر عمل کریں۔

news-1417698731-5292

جہاں تک میری یاداشت کام کرتی ہے گنتی سے میرے تعلقات کبھی بھی بہت اچھے نہیں رہے. اس گھسے پٹے لطیفے کے کردار کی طرح جو ڈاکٹر کی سٹتھوسکوپ تلے گنتی گننے کے حکم کو سکول ٹیچر کا حکم سمجھ کر اپنے باپ سے پوچھ بیٹھا تھا کہ آپ مجھے پھر اسکول لےآیے ہیں میرے احساسات بھی اسکول جاتے ہوے کچھ اسی طرح کے ہوا کرتے تھے جیسے تحریک انصاف کی اراکین اسمبلی کے  استعفے دینے کے بعد اسمبلی جاتے ہویے ہوتے ہیں. وجہ یہ نہیں کے میں نے سول نافرمانی کے تحت اسکول سے استعفی دے دیا تھا بلکہ وجہ سکول میں لگی ہوئی فوجی عدالت تھی جس کے تحت غلطی کا عزر سننے کا مرحلہ ڈنڈے خانے کے بعد آتا تھا بلکہ اکثر اوقات تو ڈنڈے عذر کیا غلطی سے بھی پہلے رسید کر دیے جاتے تھے.

میری حساب کی کلاس میں اکثر ڈنڈے اس حساب سے برابر تقسیم کیے جاتے تھے جس حساب سے پچھلے دنوں اسلام آباد میں پٹرول برابر مل رہا تھا. یعنی غلطی رکشہ جتنی ہو یا ٹرک جتنی ڈنڈے ایک جتنے پڑیں گے. فرق ڈنڈوں اور پٹرول کی تقسیم میں صرف یہ تھا کے پٹرول ٹرک کو رکشہ جتنا مل رہا تھا اور ڈنڈے رکشہ جتنی غلطی پے ٹرک جتنے پڑتے تھے.

اسکول کی اسمبلی، جس میں عام طورپر قومی اسمبلی جتنی پر مغز اور با معنی تقریریں ہوا کرتی تھیں، کا ایک مرحلہ بایاں پاؤں آگے بڑھا کر تختی کو داہنے ہاتھ میں محمّد بن قاسم کی تلوار بلند کیے اک دونی دونی دو دونی چار کا رجز پڑھنے کا بھی تھا. یہ مرحلہ پھر بھی با آسانی طے ہو جایا کرتا تھا کہ آوازوں کے اس بے ہنگم اجتماع میں دو دونی کتنے بھی ہوں اجتماعی آواز دہشت گردی کے خلاف ہماری آل پارٹی کانفرنس کی اعلانات کی طرح بلند اور بے معنی ہوتی تھی.

اصل جان لیوا مرحلہ اسمبلی کے فوری بعد حساب کی کلاس کی صورت میں شروع ہوتا تھا جسے خدا جانے کس عقلمند کے مشورے پر صبح ہی صبح سب سے پہلے پڑھایا جاتا تھا . اس کلاس کے صبح ہونے کی اور تو کوئی وجہ میری سمجھ میں نہیں آ سکی واحد امکان یہ ہے حساب صبح اس لئے پڑھایا جاتا تھا کے اس کلاس میں پٹ کر اردو اور انگریزی کی کلاس بھی ہاتھوں میں اٹھتی ٹیسوں کو دانتوں تلے دبانے میں گزر دی جائیں اور حساب میں دلچسپی نہ رکھنے والے کو تمام مضامین میں نکما ثابت کرنے کا کلیہ درست قرار پا سکے.

دو دونی چار اور چار دونی آٹھ سے نکل کے لڑکپن کے مرحلے میں داخل ہوے تو حساب اور بھی پیچیدہ ہو گیا. جیب خرچ ہمیشہ مطلوبہ اشیا سے ذرا کم نکلتا رہا. خواہشوں کو ضرورتوں سے الگ کرنے کا کلیہ اگر کسی استاد نے کسی کلاس میں پڑھایا بھی تھا تو مجھے یقین ہے کے میں کلاس سے باہر دھوپ میں ہاتھ اونچے کیے کھڑا سوچ رہا تھا کے اگر استاد سزا کے طور پر بیری کے نیچے ہی کھڑا کر دیتے تو میں کم سے کم اچک کے دو چار بیر ہی توڑ لیتا.

اس دوران میں میں اپنے والدین پے فرمائشوں کے تابڑ توڑ حملے یوں کیا کرتا تھا جیسے بحران آج کل حکومت پر کر رہے ہیں. اسی دوران میری کسی خواہش پے جزبز ہو کے میرے والد نے کہا تھا کے جب بڑے ہو گے تو پتا چلے گا کے سو میں کتنے بیس ہوتے ہیں. بڑے ہوے تو پتا چلا کے سو میں کتنے بھی بیس ہوں مہینے کے تیس سے ہمیشہ کم ہی ہوتے ہیں.

اس مرحلے سے گزر کے کالج میں گیے تو ایک مذہبی تنظیم سے رابطہ ہوا. اس تنظیم کے اجلاسوں میں اراکین کی تعداد کبھی اتنی نہیں ہوتی تھی کے گننے کے لیے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں استعمال کرنی پڑی ہوں. ایک ایسے ہی اجلاس میں ہمارے لیڈر نے ہمیں یہ بتایا کہ حق پے ڈٹ جانے والوں کی تعداد ہمیشہ کم رہی ہے اور یہ بھی کے ایک مومن دس کافروں پے بھری ہوتا ہے. اسی تنظیم سے تعلق کے دوران ہمیں پندرہ کو ایک سو پچاس گننے اور میٹنگ سے جلسے کی طرح خطاب کرنے کی عادت پری.

پیشہ صحافت بنا تو جلسوں جلوسوں گنتی درپیش ہوئی. اب اندازہ ہوا کے جلسے کی گنتی کا دارو مدار اس پر نہیں کے لوگ کتنے تھے بلکہ اس پر ہے کے آپ کی بلکہ آپ کے باپ یعنی {اخبار مالک} کی ہمدردی کس جماعت کے ساتھ ہے. بھاٹی دروازے کی بہار ہزاروں کے اجتماع پڑھتے پرھتے کلے آ رہے تھے جب لاہور آ کے بھاٹی دروازے کی سامنے اس چوک کو دکھنے کا اتفاق ہوا جہاں یہ ہزاروں لوگ جمع ہوا کرتے تھے تو پتا چلا کو ہزاروں لوگوں کو اس جگہ میں جمع کرنے کے لیے ہزاروں لوگوں کے علاوہ خاصی ڈھٹائی اور بےحیائی کی بھی ضرورت ہوتی ہے.

اب جب میں ملین مارچوں کی خبریں پڑھتا ہوں تو سوچتا ہوں کے خدا جانے سارے صحافی میرے ہی اسکول کے پڑھے ہوے ہیں. یا صحافت کے لیے بھی شاعری کی طرح مبالغہ صفت قرار پا گیا ہے. کسی مزاح نگار نے لکھا تھا کے اعدادوشمار اگر اکاؤنٹس بک میں ہوں تو ان کے ساتھ شاعری غبن کہلاتی ہے اگر اعدادوشمار اخبار میں ہوں تو ان کے ساتھ شاعری صحافت ہو گی کیا؟

Leave a Reply

Your email address will not be published.