جب ریاست بیگار کی اجازت دے

 ۷ شمارہ 

مترجم : سلمان حیدر

Artist: Tazeen Qayyum | "Test on a Small Area before Use- III"

مصور: تزئین قیوم | کسی چھوٹے حصے پر ٹیسٹ کر کے لگائیے، سوئم

پونی کوہلن نے جب ایک ساتھی ہاری کے ریپ پر احتجاج کرنے کے جرم میں اس کے خاوند کے قتل ہونے کی خبر سن کر اپنے خاوند کو اپنا معاوضہ لینے بھیجا تھا۔ یہ واضح ہو گیا تھا کہ ریپ کا یہ واقعہ اچھوتا نہیں اور یہ بھی کہ یہ یہاں کا معمول تھا۔ خواتین کے ریپ اور خاوندوں کو سزا ملنے کی کہانیاں بڑھتی جا رہی تھیں اور پولیس جو عام طور پر حادثہ ہونے کے بعد نمودار ہوتی تھی اس کا سدباب کرنے میں بھی ناکام تھی۔ اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اسے وہاں سے چلے جانا چاہیئے کیوں کہ وہ علاقہ جسے کاشت کرنے میں وہ مدد کرتی تھی ایسے جارحانہ واقعات سے بھرا پڑا تھا لکن جب اس کے خاوند نے اس کے معاوضے کے لیے کمدار سے رابطہ کیا تو اسے احساس ہوا کہ اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ انہیں بتایا گیا کہ ان کی کوئی رقم زمیندار کے ذمے نہیں ہے بلکہ وہ الٹا اس کے مقروض ہیں۔ “ہم ہل کر رہ گئے تھے لیکن ان کے مسلح محافظوں کی موجودگی میں کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ مجھے یقین ہو گیا کی ہم زمیندار کی حراست اور درندگی سے بچ نہیں سکیں گے۔” اس نے کہا ” مجھے لگا میں جہنم میں پھنس گئی ہوں”۔

پونی کوہلن پاکستان کے صوبہ سندھ میں شراکت کی بنیاد پر زراعت کرنے والے 17 لاکھ کارکنوں میں سے ایک ہے۔ ہاری کہلانے والے ان کارکنوں کی اکثریت کوہلن خاندان کی طرح قرضے میں جکڑی ہوئی صوبے کے غریب ترین ضلعوں ٹھٹہ، دادو، بدین، عمر کوٹ اور میر پور خاص میں رہتی ہے۔ پونی کی طرح باقی ہاری عورتوں کو بھی ظالمانہ جنسی استحصال کا سامنا رہتا ہے۔ ٹھیکیداروں اور مسلح محافظوں کے حلقے میں زمیندار اور اس کے ساتھیوں پونی کو اس کی یہاں سے جانے کی کوشش کے بعد جنسی تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیااوراسے اپنے خاندان کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ سب برداشت کرنا پڑا۔

پاکستان بلکہ دنیا بھر میں آج تک بیگارسے متعلق مباحث کو کمتر قرار دینے کے لیے جبری مشقت کو غیر اہم، کبھی کبھار اور کہیں کہیں ہونے والے واقعے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ عام طور پر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ غلامی تاریخ میں ہونے والی ایک غلطی تھی جس کی جدید زمانے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ اسہ وجہ سے غلامی تیسری دنیا کے پاکستان جیسے ممالک کے دور دراز دیہات تک محدود ہے۔ وطن کی محبت سے سرشار لوگوں کے لیے اس کا وجود پاکستان جیسی ترقی کرتی ہوئی قوم کے ماتھے پر کلنک کا ایک ٹیکہ ہے جسے مٹانے کے لیے قانون کے نفاذ اور بالا دستی کی ضرورت ہے کی غلامی بالاخر غیر قانونی ہے۔

اس مضمون میں میں اس خیال سے بحث اور اسے رد کروں گی کی غلامی ماضی کی کوئی چیز ہے اور یہ کہ جدید دور میں اس کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ انڈریا سمتھ جیسے مفکریں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے میں ان خواتین کی روداد کو، جو سندھ میں جبری مشقت سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئیں، ان پر ہونے والے جبر کو سمجھنے کے لیے استعمال کروں گی۔ اس طرح میں ان کا علمی اختیار ان کے حوالے کروں گی۔ وہی جانتی ہیں جو ان پر بیت رہی ہے۔

سمتھ نے اپنی کتاب   نیٹو امیریکن اینڈ دا کرسچن رائٹ: دا جنڈرڈ پالیٹکس آف انلائکلی آلائنس   کے تعارف میں لکھا ہے کہ مقامی لوگوں کو سمجھنے کے لیے ان کو پڑھنے کے بجائے میں یہ دکھائوں گی کہ مقامی لوگ اس دنیا کے بارے، جس میں ہم رہتے ہیں،ہمیں کیا بتاتے ہیں۔

———————————————————————————————————————————

وقف نہیں۔ خیرات نہیں۔ باہری امداد نہیں۔ صرف آپکی مدد درکار ہے۔

چندہ دیجیے

———————————————————————————————————————————

جبری مشقت سے فرار ہونے والی خواتین کی کہانیوں پر ایک گہری نگاہ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ یہ کہانیاں بیگار اور جبر کے ساتھ ساتھ خوابوں، خواہشوں اور آزادی کی طرف پیش قدمی کی کہانیاں ہیں۔ اگرچہ جبر انہیں ہر طرف سے گھیرے ہوئے محسوس ہوتا ہے لیکن سیڈرک رابنسن کی اس یاد دہانی کو دہرانا ضروری ہے کی یہ غلامی ان کی زندگی کا ایک جزو ہے۔ داراصل غیر انسانی صورتحال میں قید ان خواتین میں آزادی کی خواہش مزاحمت اور انسانی عزم کی تاریخ کے تسلسل میں دیکھی جانی چاہیئے۔ یہ مزاحمت ہی انہیں ان کے غیر انسانی وجود سے آزاد کروا سکتی ہے۔

جدید دور میں غلامی سرمایہ دارانہ نظام کے وجود کا نتیجہ ہے اور ریاست سرمائے کے ارتکاز کی حفاظت کرنے کے لیے لوگوں کی زندگی اور موت پر اپنے اختیار کی مدد سے اس غالمی کو ممکن بناتی ہے۔ سندھ کے بڑے زمینداروں کے پاس کام کرنے والی پونی کوہلن جیسی عورتوں کے ذریعے سرمائے کا اتکاز ممکن بنایا جاتا ہے۔ ماریا ڈیلا کوسٹا جیسے متحرک کارکنوں نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ محنت کش طنقے کی گھروں کی صورتحال ایک نئے محنت کش طبقے کی پیدائش بڑھوتری اور سرمایہ دار کو فراہمی کی ذمہ دار ہے۔

ایک طویل عرصے تک سماجی نظریہ سازوں نے غلامی کو ماضی کا قصہ یا زیادیہ سے زیادہ جاگیرداری میں اب تک پھنسے ہوئے علاقوں کا واقعہ سمجھا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ بہت سے سماجی نظریہ سازوں نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ بیگار داراصل سرمایہ دارانہ پیداواری نظام کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔

سیڑرک رابنسن جیسے لوگ اس کے علاوہ یہ بھی کہتے ہیں کہ سرمایہ داری ہمیشہ سے نسل پرست بھی رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ اس نے سستی إھنت اور بیگار کو اپنی بڑھوتری کے لیے استعمال کیا ہے بلکہ اس لیے کی بیگار نو آبادیات اور نسلی درجہ بندی سرمایہ دارانہ نظام کے لازمی جزو ہیں۔ ترقی جدیدیت اور سرمایہ دارانی نظام کے پھیلاو کو نا ٓبادیاتی نظام، ملک گیری اور غالمی سے علیحدہ کرنا تقریبا ناممکن ہے۔

درحقیقت نوآبادیات بنانے غلام رکھنے اور بیگار لینے کے عمل نے ہی اس صورتحال کو جنم دیا جس میں سرمایہ دارانہ نظام اپنی موجودہ شکل اختیار کر سکا ہے۔ اس لیے بیگار کو تاریخ یعنی سندھ میں برطانوی راج کے بنائے گئے اداروں، سماجی ڈھانچے اور ان کی پیدا کی گئی صورتحال سے ہٹ کر سمجھنا بے معنی ہے۔

نوآبادیاتی جڑیں

برطانیہ اپنی طاقت مجتمع کرنے کے لیے سندھ پراس وقت قبضہ کیا جب وہ ہندوستان کی تاریخی و ثقافتی پیمائش اور درجہ بندی میں مصروف تھے۔ ثقافتی درجہ بندی سے مراد یہ تھی کہ برطانوی انتظامیہ نے زبان قبیلے اور طنقے کے لحاظ سے تقسیم کرنے کے لیے مختلف درجے بنائے اور ان میں ان کا اندراج کیا۔ تاریخ دانوں اور دانشوروں نے اس کے بارے میں بہت کچھ لکھا ہے۔ مثال کے طور پر برنارڈ کوہن کی  کالونیلازم اینڈ اٹس فارمز آف نالج  اور ڈیوڈ گلمارٹن کا مقالہ سائنٹفک ایمپائر اینڈ ایمپیریل سائنس: کالونیلازم اینڈ اریگیشن ٹیکنالجی ان دا انڈس بیسن دیکھے جا سکتے ہیں۔

زمینداری برطانوی سیاسی اور معاشی بندوبست قائم کرنے کے لیے ضروری تھی اس لیے برطانوی حکومت نے زمینداروں، پیروں اور ان کے خانوادوں کو برطانوی راج کی حمایت کے عوض زمیں کے بڑے بڑے قطعات عطا کیے۔ برطانوی نو آبادیات اور اس سے جڑے ذاتی ملکیت کے حکومتی منظور شدہ نظام نے زمین کے مالکوں، جنہوں نے فوج اور ٹیکس کے ذریعے حکومت کو مدد فراہم کی، کی طاقت کو بنیادی ڈھانچہ فراہم کیا جبکہ تجارت، قدر زائد (سر پلس) کے حصول، اور مارکیٹ سے متعلق انتظامات نے سرمایہ دارانہ نظام کے ہراول کا کام کیا۔ مردم شماری کے دوران برطانوی حکومت نے زمیندار اور بے زمین لوگوں کے بیچ امتیاز کیا۔ اگرچہ دیہاتی معیشت میں یہ تقسیم پہلے سے موجود تھی لیکن برطانیہ نے اس تقسیم کو تسلیم کر کے اسے مضبوط تر کر دیا۔ کسان طبقے جو پہلے ہی اپنے ذات برادری کی درجہ بندی میں پھنسے ہوئے تھے اس تقسیم کے بعد ان کے بے زمیں ہونے پر مہر ثبت ہو گئی۔

اس طرح برطانیہ کے اپنی طاقت مجتمع کرنے کے لیے بنائے اور پھیلائے گئے نظام نے زمیندار اور بے زمیں گھرانوں کی سماجی درجہ بندی پر ایک دیرپا اثر ڈالا جس کے نتیجے میں زمیں کا حصول اس کسان کے گذارہ کرنے یہاں تک کہ زندہ رہنے کے لیے ضروری ہو گیا جس سے اجتماعی استمال اور بندوبست ذاتی ملکیت کے نئے نظام نے چھین لیا تھا۔

ذاتی ملکیت کے قانون سے پہلے کسان امیندار کی مدد سے یا اس کے بغیر زمیں صاف اور آباد کر سکتے تھے۔ لیکن جب برطانیہ نے زائد زمین کو سرکاری قراردے کر قبضے کو جائداد کی ملکیت سے مشروط کر دیا تو اس کے ذریعے زمینداروں کا ایک نظام پیدا ہوا جس میں زمیندار کسان کا حق دینے کے رواج کی بآسانی خلاف ورزی کر سکتے تھے۔

ان ریاستی اور سماجی ڈھانچوں نے جدید پاکستان میں بھی اپنا وجود قائم رکھا۔ ۱۹۴۷ میں پاکستان بننے کے بعد سندھ پاکستان کا پیجاب کے بعد دوسرا بڑا زرعی صوبہ بنا۔ ہندوستان کی تقسیم بڑے پیمانے پر مسلمانوں کی سنٹرل اتر پردیش، سنٹرل پردیش اور ہندوستان کے دوسرے مسلم اقلیتی علاقوں سے سندھ کی طرف منتقلی کا باعث بنی۔ اس متقلی نے کراچی میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کیا نیز مقامی اور مہاجر آبادی میں تناو کو جنم دیا۔ سندھیوں نے پنجاب، پنجابی آبادکاروں اور کراچی اور حیدرآباد میں آباد ہونے والے اردو بولنے والے مہاجروں کی بالا دستی کو محسوس کیا۔ یہ گروہ ریاستی اداروں میں تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے بھی زیسدہ نمایندگی رکھتے تھے۔ سبز انقالب کی وجہ سے جوں جوں پنجاب میں زرعی سرمایہ داری نے ترقی کی پیجابی سرمایہ دار نے سیاست پر غلبہ حاصل کرنا شروع کر دیا۔ ۱۹۸۰ تک سندھ کا غصہ علیحدگی کی اس تحریک کا روپ دھار چکا تھا جسے بنیادی طور پر پنجابی اور پختوں فوج نےدبایا۔ تب سے اب تک اندرون سندھ بڑی تعداد میں پنجابی فوجیوں کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ پنجابی افسروں کو سندھ کی زمینوں کی الاٹمنٹ جاری ہے۔

مرکز میں سیاسی جوڑ توڑ اور سندھ میں قوم پرستی کے بڑھنے نے دیہی سندھ میں زمینوں اور طاقت کے عدم توازن پر کوئی اثر نہیں ڈالا۔ اگر کوئی فرق پڑا ہے تو یہ کہ امینداروں اور وڈیروں کی طاقت میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ انہوں نے مرکز میں سندھ کے مفادات کی نمایندگی کا دعوی کیا ہے۔ دیہی سندھ زیادہ تر سندھی اور پنجابی زمینداروں کے زیر اثر رہا ہے جنہوں نے وقت کےساتھ ساتھ نمایندگی کی سیاست پر تسلط قایم کر کے اپنی سیاسی سماجی اور ماشی طاقت کو مجتمع کیا ہے۔ سندھ میں جہاں خاور ممتاز اور مہر نوشیروانی کی تحقیق کے مطابق دو تہائی دیہی گھرانے بے زمین اور اشاریہ چار فیصد گھرانے چوبیس فیصد زمین کے مالک ہیں بے زمیں ہونا ایک یہم عنصر رہا ہے۔

یہ صورتحال جس میں پونی کوہلن جیسے لوگ کام کرتے ہیں تاریخی طور پراس نظام سے جڑی ہوئی ہے جہاں زرعی کارکن زمیں کے مالک نہیں ہو سکتے۔ اس صورتحال کو برطانوی نو آبادیاتی نظام نے قایم کیا تھا اور خودمختار پوسٹ کولونیل ریاست اسے نیو لبرل سرمایہ داری کے دور میں لے کر آئی ہے جہاں بیگار قرضے کی بندشیں اور بے زمین ہاریوں پر جبر ممکن ہے۔

ماروان کوہلن: کتاب ویمن ان بانڈیج سے شہادت

ماروان کوہلن اور اس کا خاندان بےزمین ہاری ہیں جو مختلف امینداروں کے پاس معمولی آمدن کے لیے کام کرتے رہے۔ اگرچہ یہ آمسن بہت کم تھی لیکن ان کا گزارہ کسی نا کسی طرح ہو رہا تھا۔ مسئلہ تب پیدا ہوا جب انہوں نے ایک رشتے دار کے کہنے پر ایک نئے زمیندار کے لیے کام شروع کیا۔ انہوں نے اس کی زمین پر جھونپڑیاں بنائیں اور اس نے کام کے عوض انہیں کھانا اور تنخواہ دینے کا وعدہ کیا لیکن انہیں کبی پوری تنخواہ نہیں ملی۔ ایک دن اس کا شوہر اپنی پوری تنخواہ کا مطالبہ کرنے کے لیے گیا تو پہلے پہل زمیندار نے سوال گول کر دیا اور پھر آخرکار یہ کہا کہ وہ دراصل اس کے مقروض ہیں۔ یہ کہنے کے بعد اس کے غصے کا جہنم کا دروازہ ان پر کھل گیا۔ ماروان کہتی ہے ۔۔ ہم مکمل طور پر اس کے قبضے میں تھے۔ ہمارے جھونپڑوں کے گرد ایک اونچی باڑ تھی اور باہر جانے کا صرف ایک راستہ جس پر اس کا کمدار بیٹھا کرتا تھا۔

ماروان اور دوسرے ہاریوں کو بتایا گیا کہ اگر انہوں نے بھاگنے کی کوشش کی تو انہیں جان سے مار دیا جائے گا۔ ماروان اور اس کے خاندان نے بائیس سال اس زمیندار کے لیے کام کیا۔ اس دوران پولیس کے پاس جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کیونکہ ماروان کے مطابق وہ سب آپس میں دوست تھے۔ جو نگران عوتوں کو کھیتوں میں لے جاتا تھا اس نے اعلان کیا ہوا تھا کہ کھیتوں میں وہ تمام اس کی بیویاں ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی تھک کر بیٹھ جاتی تو کمدار انہیں اٹھانے کے لیے ٹھوکریں مارتا تھا۔ ایک دن کچھ ہاریوں نے فرار ہو کے زمیندار کے خلاف پولیس میں پرچہ درج کروا دیا۔ پولیس آئی اور شکایت کرنے والوں کے خاندان کو ساتھ لے گئی۔ کمدار نے ماروان اور باقی ہاریوں کو بتایا کہ جانے والے ہاری واپس آ جائیں گے لیکن کوئی واپس نا لوٹا۔ درحقیقت باقی ہاری خوفزدہ ہو گئے تھے کیونکہ پولیس ان کے بیان لینا چاہتی تھی۔ انہیں بات کرنے کے نتایج کا اندازہ نہیں تھا اس لئے انہوں نے بیان دینے سے انکار کر دیا۔ جب انہیں احساس ہوا کہ وہ ہاری آزاد ہو گئے ہیں تو انہیں افسوس ہوا کہ انہوں نے پولیس سے تعاون کیوں نہیں کیا۔ آخرکار آزاد ہونے والے ہاری ماروان خاندان کو ملنے آئے۔ کمدار کو اس بات پر اتنا غصہ آیا کہ اس نے ماروان کے خاوند کو بہت بری طرح مارا۔ اسے اپنے کاوند کو ہسپتال لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور اگر دے بھی دی جاتی تو اس کے پاس علاج کے لیے رقم نہیں تھی۔ وہ انتظار کے سوا کچھ نہ کر سکی۔

———————————————————————————————————————————

پاکستان کی کہانی سنانے میں ہماری مدد کیجیے۔ پاکستان میں ایک آزاد میڈیا کی تشکیل میں ہماری مدد کیجیے۔

چندہ دیجیے

———————————————————————————————————————————

ـآٹھویں دن وہ مر گیا۔ مجھے ملوم نہیں تھا کہ میں اتنے بڑے صدمے کا سامنا کیسے کروں گی۔ اس کے قاتل میرے سامنے تھے اور میں کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ جس دن میرا خاوند مرا میں نے فیصلہ کر لیا کہ کچھ بھی ہو ہمیں کسی نا کسی طرح یہ جگہ چھوڑنی ہو گی۔ـ

ویرو کوہلن پولیٹیکل اکانومی آف بانڈڈ لیبر سے شہادت

ویرو کا باپ اس سے بہت محبت کرتا تھا۔ وہ ہمیشہ اس کی کوشی اور بھلے کے لیے فکر مند رہتا تھا۔ اس نے ویرو کی شادی کے لیے ایک اچھے خاندان کا انتخاب کیا اور یہ شادی ہو گئی۔ انہیں یہ بات معلوم نہیں تھی کہ وہ خاندان ایک زمیندار کے قرضے کے جال میں پھنسا ہوا اس کے پاس بیگار کرتا ہے۔ انہوں نے اس زمیندار کے پاس سترہ سال جان توڑ محنت کی اور آخرکار اس کے چنگل سے نکلنے میں کامیاب ہو کر ایک اور امیندار کے پاس کام کرنے لگے۔ ان کا خیال تھا کی اچھے معاوضے اور بندشیں نا ہونے کی وجہ سے یہ ایک اچھی جگہ ثابت ہوگی۔ لیکن انہیں مایوسی ہوئی کہ یہ زمیندار پہلے والے سے بھی بد تر تھا۔ نیے فارم پرعورتیں ہمیشہ مسلح محافظوں کے نرغے میں ہاتی تھیں جو انہیں دھمکاتے اور خوفزدہ کرنے کے لیے ان کے سامنے ان کے شوہروں پر تشدد کرتے تھے۔ ایک دن جب ویرو کے بیٹے کی شادہ ہو رہی تھی تو یہ زمیندار وہاں سے گزرا اور اس نے یہ جاننے کا مطالبہ کیا کہ یہ شادی کس کی اجازت سے ہو رہی ہے۔ جب اسے کوئی تسلی بخش جواب نہٰیں ملا تو اس نے دولہا دلہن پر تشدد شروع کر دیا۔ اس کی طاقت اور اختیار کے سامنے ویرو نے خود کو بے بس محسوس کیا۔ اسے اس کے رونے پیٹنے کے باوجود پرے دھکیل دیا گیا۔

امیندار اور اس کے کمدار درندے تھے ۔ وہ ہاریوں پر بلا وجہ جسمانی تشدد کرتے تھے۔ ایک بار انہوں نے ویرو کے بیٹے کو مارنا شروع کر دیا جس کا جواب ویرو نے کمدار پر حملہ کر کے دیا۔ کمدار نے اس گستاخی کا بہت برا مانا اور زمیندار سے اس کی شکایت کی۔ ویرو نے زمیندار کے غضب کا نشانہ بننے کے خوف سے اپنے بیٹے اور بہو کو بھاگ جانے کا کہا۔ اگلے دن زمیندار نے آکر مطالبہ کیا کہ ویرو اپنی بہو اس کے حوالے کر دے۔ ویرو نے انکار کر دیا اور بتایا کہ وہ جا چکے ہیں۔ زمیندار بھڑک اٹھا اس نے اپنے محافظوں سے کہا کہ ویرو کی بہو کی جگہ اگلے دن ویرو کو اس کے سامنے پیش کیا جائے۔ اپنے لیے خوفزدہ اور اپنے بہو بیٹے کے لیے خوش ویرو خود کو تشدد اور اذیت سہنت کے لیے تیار کر رہی تھی جب اسے خیال آیا کہ وہ خود بھی بھاگنے کی کوشش کر سکتی ہے۔ اگلے دن عورتیں کام کے لیے گئیں تو ویرو ان کے ساتھ ساتھ گئی لیکن خاموشی سے سڑک کی طرف چل نکلی اور تب تک بھاگتی رہی جب تک اس سے بھاگا گیا۔ اس نے اپنے قدم اپنے بھائی کے گھر پہنچ کر روکے۔

اپنے بھائی کے گھر اس نے باقی لوگوں کو آزاد کروانے کا منصوبہ بنانا شروع کیا۔ اس نے ساٹھ ہزار روپے اکھٹے کیے جو اس کا مفروضہ قرضہ تھا اور اپنے رشتہ داروں کو بھیجا کہ اس کے خاندان کو لے آیئں۔

زمیندار نے جواب دیا کہ ویرو نے اس کے آٹھ لاکھ روپے دینے ہیں اور وہ یہ رقم حاصل کرنے کے لیے اس کے خاندان کی عورتوں کو بیچ دے گا۔ اس خبر سے گھبرا کر ویرو نے ایک اور حل کے بارے میں سوچا۔ اس نے ان ہاریوں کے کیمپ کے بارے میں سنا تھا جو دوسروں کی مدد کر سکتے تھے۔ ـ۔ یہ لوگ ۔۔۔ ایسی ہی قید سے آزاد ہوئے تھے جس میں میں تھی۔ وہ انصاف کے لیے تندہی سے لڑنے والے کسی بھی شخص کو کامریڈ کہتے تھے۔ میں نے کامریڈ لالی کی ماں کو بتایا کہ مٰیں اپنے خاندان کے لیے کیا کر رہی ہوں۔  اس نے کہا ہم سب تمہارے ساتھ ہیں اور تمہارے باقی خاندان کو آزاد کروانے میں تمہاری مدد کریں گے۔ میرے سانس میں سانس آیا۔۔

اس نے کچھ عرصے اسی کیمپ میں قیام کیا جہاں وسائل اکھٹے کیے گئےاور اس کے حالات کے بارے میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نامی ایک خود مختار نگران ادارے کی طرف سے ایک خط لکھا گیا۔ اس نے اکیلے یہ خط لے کر پولیس تک رسائی حاصل کی اور تین دن بغیر کچھ کھائے پیے پولیس افسر کا انتظار کرتی رہی۔ اسے خوف تھا کہ وہ امیندار کے علاقے کے پاس ہے اور اس کے کارندے اسے کسی بھی وقت پکڑ لیں گے۔ تیسرے دن وہ افسر اسے ملا اور اس نے وہ خط دے کر اسے اپنی پوری کہانی سنائی۔ پولیس افسر نے اس کے ساتھ جانے اور اس کے خاندان کو آزاد کروانے پر آمادگی ظاہر کر دی۔

محافظوں نے ہمیں دور سے آتے دیکھا تو وہ بھاگ کھڑ ے ہوئے۔ میں نے سوچا کہ جو شیروں کی طرح ہم مظلوموں پو تشدد کرتے گھومتے تھے وہ اب چوہوں کی طرح بھاگ رہے ہیں۔ میں خود کو بہادر محسوس کیا۔ بچوں اور خاندان کے دوسرے لوگوں سے ملنے کا خیال بہت سنسنی خیز تھا۔ وہ سکتے میں تھے اور انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ میں اتنے بڑے پولیس افسر کو ساتھ لا سکتی ہوں۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ میں مدد لے آوں گی اور اتنے بڑے پولیس افسر کی مدد کا تو بالکل بھی نہیں۔۔۔

آزاد ہونے کے بعد اس کا خاندان ایک کیمپ سے دوسرے میں منتقل ہوتا رہا۔ اسی دوران اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اس مسئلے سے نمٹنے میں اپنا حصہ ڈالے گی۔ مجھے محسوس ہوا کہ غریب ہاریوں کے ساتھ زیادتی کی حد ہو چکی ہے۔ اگرچہ اس جہنم میں زیادہ تر میرے ہندو برادری کے لوگ تھے لیکن کچھ مسلمان بھی تھے۔۔

  ویرو کوہلن نے آگاہی بڑھانے کے لیے کئی تنظیموں کے ساتھ کام کیا۔ ہندوستان گئی اور ۲۰۱۳ میں بیگار کے خاتمے کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑا۔

عورتیں اپنے گروں کے گرد بلند دیواروں، واحد بیرونی راستے پر محافظوں کی تعیناتی اور نقل و حرکت کی مسلسل نگرانی کی بات کرتی ہیں۔ بیگار جیل میں رہنے یا قید میں دن کاٹنے جیسی ہے۔ یہ خواتین روز تشدد کی دھمکیوں، جسمانی اور جنسی تشدد اور تھکا دینے والی بلا معاوضہ محنت کے سامنے مجبور ہیں۔ محافظ، زمیندار، ٹھیکیدار سب پولیس کی مدد سے ان عورتوں کی تشدد، جنسی زیادتی، خوفزدگی اور قتل کے ذریعے مسلسل جبر کا نشانہ بنائے رکھتے ہیں۔ محنت کے استحصال کے لیے کبھی نا ختم ہونے والے قرضے اور کسی بے خوف تشدد کا نشانہ بنی یہ عورتیں اس جبر کا مقابلہ احتجاج، فرار، اور دوسروں کو چھڑوانے کے لیے اتحاد بنا کر کرتی ہیں۔ یہ خواتین آزادی کے خواب دیکھتی ہیں جن کی تعبیر یہ اپنی برادری کے فرار ہونےوالے لوگوں، غیر سرکاری فلاحی تنظیموں اور کچھ سرکاری اداروں سے مل کر ڈھونڈتی ہیں۔

پاکستان کا ریاستی ڈھانچہ زمینداروں کے اس تشدد کی حمایت کرتا ہے۔ مثال کے طور پر پاکستانی ریاست نے جبری مشقت کے خالف قانون سازی کرتے ہوئے جبری مشقت کا قانون ۱۹۹۲ بنایا ہے۔ لیکن اس کے نفاذ کو یا تو نظر انداز کیا جاتا ہے یا اسے غیر موثر طور پر نافذ کیا جاتا ہے کیونکہ یہ زمیندار مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ میں صوبائی سطح پر ریاست کا چہرہ بن کر سامنے آتے ہیں۔

اسی طرح سندھ کا مشترکہ کاشت کا قانون کہتا ہے کہ مشترکہ کاشت میں فصل کا ایک خاص حصہ زمیں پر کام کرنے والوں کو دینا ضروری ہے لیکن اس کا نفاذ بھی نہیں ہوتا۔ کچھ نظریوں کے مطابق اس کی وجہ پاکستان میں، جس نے اپنی آدھی زندگی آمریت دیکھی ہے، جمہوریت کے پھلنے پھولنے میں کمی ہے جبکہ باقی لوگ پسے ہوئے طبقات کے حق میں مثبت امتیاز کی کمی کی نشاندہی کرتے ہوئے ہندوستان سے موازنہ کرتے ہیں جس نے بے زمیں ہاریوں سمیت نچلی ذاتوں کے حق میں راست اقدام کو قانانی بنایا۔

پاکستان میں جہاں ہندوستان ہی کی طرح ذات پات اور طبقاتی ڈھانچے موجود ہیںہاری خواتین ایک ایسے طبقے ذات اور مذہب کی نمائندگی کرتی ہیں جو ریاست کی نسل پرستی کا شکار ہے اور جسے ریاست کمتر سمجھتی اور ایسے نظام بناتی ہے جو ان کی إھنت کا استحصال کرتے ہوئے ان کی غربت، ان سے امتیازی سلوک اور ان پر جبر کا باعث بنتے ہیں۔

ریاستی ادارے انہیں ریاست کے سیاسی وجود سے نفی کرنا چاہتے ہیں مفت حا صل ہونے والی محنت زمینداروں پر مشتمل اس سیاسی وجود کو سہارا دینے کے لیے ان کی ضرورت بھی ہے۔ جیسا کہ فرانسیسی مفکر اور جدید حکومتی ہیئت کے نظریہ ساز مشیل فوکو کہتے ہیں ۔۔نسل پرستی جدید ریاست کے لیے ضروری ہے کیونکہ جدید حکومت کے کاموں میں ایک اہم کام یہی فیصلہ کرنا ہے کہ کون سے لوگ اہم ہیں اور کون سے غیر اہم۔۔۔

برطانوی نو آبادیاتی ریاست نے سندھ میں ریاستی نسل پرستی کے بیج اسی درجہ بندی کے طریقے اور بندو بست کے ذریعے بوئے جس میں لوگوں کے کچھ طبقوں کو دوسروں سے ہمیشہ کے لیے کمتر درجہ دیا گیا۔ تقسیم کے بعد پاکستان نے اپنی ضرورتوں کے تحت اسی نچلے طبقے کو برقرار رکھا جس کی نمائندگی ان عورتوں اور ان کے خاندان کی بیگار کرتی ہے جن کے حقوق اور آزادی کی کوئی وقعت نہیں اور جن کی إھنت اس وقت تک اہم ہے جب تک وہ زمین کے مالک طبقے کی پر تعیش زندگی کو سہارا دیے رکھے۔ فوکو نے ایک گجہ کہا ہے کہ یہ ایک طرح کی موت ہے کیونکہ ریاست ان مزدوروں کے حقوق ضبط کر لیتی ہے اور انہیں سیاسی وجود سے باہر گردانتی ہے۔ یہ پورے شہری نہیں سمجھے جاتے اور ہر روز اس خطرے کا سامنا کرتے ہیں جس کا سامنا شہریوں کو نہیں کرنا ہوتا۔

افریقی مفکر ایکلی بمبی نے فوکو کے فریم ورک کو استمال کرتے ہوئے اس علاقائی تقسیم اور درجہ بندی کو بیان کیا ہے جو نسل پرست جنوبی افریقہ کے قصبوں میں موجود تھی اور جہاں مخصوص علاقوں کے علاوہ سیاہ فام لوگوں کے حقوق ملکیت معطل تھے۔ اگرچہ پاکستان جنوبی افریقہ کی طرح کھلم کھلا نسل پرست ریاست تو نہیں لیکن جنوبی افریقہ سے یہ مماثلت آنکھیں کھول دینے کو کافی ہے۔

وہ تمام اضاحتیں جو نو آبادیاتی قبضہ گیر دیا کرتے تھے اب ان زمینداروں کی طرف سے پیش کی جاتی ہیں جن کی زمیں پر ہاریوں کے حقوق غیر قانونی ہیں اور جہاں انہیں شدید خطرے کا سامنا رہتا ہے اور وہ بھی نئی تہذیب کے نام لیواوں کی طرف سے۔ یہ خواتین ہاری حکومت کے منظور کردہ محنت کے اس استحصالی نظام کو چیلنج کر رہی ہیں اور ان کی مزاحمت ان کے عزم کی گواہی ہے۔

خواتین کی یہاں بیان کی گئی کہانیاں ان کی باعزت زندگی کی خاہش کا اظہار ہیں جو انہیں شدید غیر انسانی صورتحال میں بھی متحرک رکھتی ہے۔ ویرو کوہلن نے اہنے خاندان کو آزاد کیا خود کو آزاد کیا اور پھر بیگار کے خاتمے اور تمام مشقتیوں کی آزادی کے لیے در در کی خاک چھانی۔ اس نے اپنی آزادی کا خواب دیکھا اور اس خواب نے اسے قومی سظح پر تسلیم کروانے کے ساتھ ساتھ اس کے حلقے میں تین ہزار ووٹ دلوائے۔ اگرچہ یہ ووٹ اسے اسمبلی تک پہنچانے کے لیے کافی نہیں تھے لیکن یہ اس کی برادری اور لوگوں پر یہ ثابت کرنے کے لیے کافی تھے کہ مزاحمت ممکن اور باعزت زندگی اس کی پہنچ میں ہے۔۔

***

سارا سہیل اریزونا سٹیٹ یونیورسٹی میں عورت اور جنسی تعلیمات کے شعبے میں ڈاکٹری طالب علم ہیں۔

Tags: , , ,

One Response to

جب ریاست بیگار کی اجازت دے

  1. […] روکی گئی ہےپھر بھی یہ فیصلہ نیولبرل منطق ظاہر کرتا ہے ۔ سارہ سہیل سندھ میں عورتوں کی جبری مشقت کو نسل پرستی کے تناظر میں […]

Leave a Reply

Your email address will not be published.