سنیما جانا

Oct 2014

 ۷ شمارہ 

مترجم : انعم ناز اور سلمان حیدرNABI_main | Issue 7

صرف ایک فلم دیکھے جانے کا عمل بھی اپنی سماجی اقدار بناتا ہے جو شاید اس فلم اور اسے دکھانے والے سینما سے بھی زیادہ فلم اور سینما جلانے والے کے لیے پریشان کن ہے۔

ایک طرف پاکستانی سنیما اپنی بحالی کی جدوجہد کر رہا ہے تو دوسری طرف پرانے سنیما گھر ابھی تک خستہ حالی کا شکار اور قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ پرانے سنیما گھروں کو منہدم اور بند کیا جا رہا ہے ساتھ ہی ساتھ سنیما کے ایک نئے تجربے کے لیے شاپنگ مالز میں تھیٹر اور ملٹی پلیکس تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی جاری ہے، ان نئے تھیٹروں کو تاریخی طور پرسنیما کے علاقوں سے باہر اور ایسی جگہوں پر منتقل کیا جا رہا ہے جو عام طور پر متوسط طبقے کی پہنچ سے دور جدید شہری ترقی کے بڑے مراکز ہوتے ہیں، اس بیانیے کے اندر ایک اور کہانی سامنے آئی ہے۔

گزشتہ چند سالوں کے دوران لاہور، کراچی اور پشاور کے سنیما گھروں کو تشویشناک تیزی کے ساتھ تباہ کر دیا گیا ہے، غصیلے ہجوم کی طرف سے جلائے جانے والے یہ بوسیدہ سنیما گھر اس بھیڑ کے جزبات کا شکار بنےجس کا واحد مقصد تباہی تھا۔ عصرِ حاضرکے پاکستان میں سنیما گھروں کی منظم تباہی کے پیچھے کیا مفادات پوشیدہ ہیں؟ اگر سنیما کو عوامی زندگی کے طور پر سمجھا جائے تو پھر لوگوں کی تاریخ کے بارے میں یہ عوامی جگہ ہمیں کیا بتاتی ہیں؟

حالیہ حملوں میں بوسیدہ سنیما گھروں کو نشانہ بنایا گیا، یہ تباہی مالیاتی خدشات کے بجائے ایک مکمل طور پر مختلف نظریے کو سامنے لاتی ہے۔ اس مخصوص پس منظر میں، سنیما گھر صرف ان فلموں سے، جو وہ اپنے ناظرین کو بجلی کی ترسیل میں مسلسل رکاوٹ کے باوجود دکھاتے ہیں، کچھ بڑھ کر ہیں۔ سنیما گھر اپنےرسوخ ، جو وہ معاشرے میں رکھتے ہیں، اور ثقافت پر کنٹرول کا ذریعہ ہونے کے حوالے سے علامتی اہمیت رکھتے ہیں۔ تاہم، یہ غیر ضروری علامتی اہمیت سنیما گھروں کے وجود کے لیے ایک مستقل خطرہ بن کر رہ گئی ہے۔ 2006ء میں ڈنمارک کے کارٹون تنازعے اور حال ہی میں 2012ء میں یوٹیوب پر اسلام کو بدنام کرنے والی ویڈیو “اننوسنس آف مسلمز” جیسے بین الاقوامی واقعات کی وجہ سے بھڑکنے والے عوامی جذجات کی شدت ان سینما گھروں کو برداشت کرنا پڑی ہے- اس دوران ناراض ہجوم نے اسلام کے تخفظ کے لیے اور سامراجیت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سنیما گھروں کو تباہ کر ڈالا۔

فوری طور پر جو سوال ذہن میں آتا ہے وہ یہ کہ سنیما کیوں ایک مخصوص ذہنیت رکھنے والوں کی توڑ پھوڑ کا مرکزی نشانہ بن رہا ہے— کیا دکھائے جانے والے مواد کی نوعیت اس کا سبب ہے؟ کیا یہ فلمیں اس جارحیت کا سبب بن رہی ہیں اور بہت سے یاپھر چند لوگوں کے غضب کو دعوت دے رہی ہیں؟ یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ اس جاحیت کی وجہ کیا ہے: ضرورت سے زیادہ سرگرم پاکستانی سینسر بورڑ نے فلموں کے جارحیت کا سبب بننے کا کوئی خاص امکان باقی نہیں رہنے دیا۔ یہ ممکن ہے کہ سنیما گھروں میں دکھائی جانے والی فلم سنسر بورڑ کو سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے کے لئے دی گئی فلم سے بہت مختلف ہو، پھر بھی صرف اس عنصر سے سنیما گھروں کے خلاف بھڑکنے والے احتجاج کی مکمل وضاحت نہیں ہوتی۔

سنیما جانا
حقیقت میں، سنیما گھر جانے کا عمل بھی مسئلے کا ایک حصّہ ہو سکتا ہے۔ لوگ سنیما میں کیسے بیٹھتے ہیں، کس کے ساتھ بیٹھتے ہیں، اور سنیما کے اندھیرے میں ان کا دوسروں سے تعلق کیا ہوتا ہے؟ یہ وہ تمام چیزیں ہیں جو اس عوامی جگہ کو سماجی طور پر تخلیق کر کے اس کےحوالے سے جنس، طبقے اور نسلی علیحدگی کے عام قاعدے کو دوبارہ ترتیب دینے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ مختصراۤ، سنیما جانے اور فلم دیکھنے کے عمل کا سماجی معیار پر گہرا اثر ہو سکتا ہے، اوراس وجہ سے یہ دکھائے جانے والے مواد سے زیادہ توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔ اسی طرح فلم دیکھنے کا عمل فلم سے زیادہ مجرمانہ قرار پا سکتا ہے۔ ماہرِ بشریات برائن لارکن نے اس رحجان کو نوآبادیاتی نائیجیریا کے تناظر میں پڑھا ہے کہ جہاں نوآبادیاتی علاقےکانو میں سنیما تھیٹر کی تعمیر کے نتیجے میں صنفی اور نسلی تقسیم کے اردگرد بنائے گئے سماجی معیار بری طرح متاثر ہوئے اور ان پر تنازعات کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔ لارکن کی کتاب ، “سگنل اینڈ نائیز: میڈیا، انفراسٹرکچر اینڈ اربن کلچر اِن نائیجیریا” سنیما ـــ ایک ایسی ٹیکنالوجی جو نائیجیریا میں بھی مذہبی طور پر قابلِ اعتراض تھی پر ہونے والی اس کشمکش کا جائزہ لیتی ۔ لارکن سے انٹرویو کے دوران ایک اسلامی عالم نے کہا کہ سنیما اپنے مواد کے علاوہ دیگر اثرات کی وجہ سے بھی غیر اسلامی ہے۔ پہلی صورت کے بارے میں عالمِ دین کا کہنا تھا کہ سنیما اپنے دیکھنے والے کو گمراہ کر سکتا ہے کیونکہ وہ بھارتی فلمیں چلاتے ہیں جن میں خوبصورت غیر مسلم اداکاراوں کی موجودگی مردوں کے جذبات کو ابھار اور ان کے دلوں کو بہکا سکتی ہے۔ دوسرا اتنا ہی اہم مسئلہ،۔سنیما گھروں کا تمام مرد و عورت کے لئے ایک ساتھ دستیاب ہونا ہے جو کہ اسلام کی قدر یعنی دونوں جنسوں کہ علیحدگی کی خلاف ورزی ہے۔

———————————————————————————————————————————

پاکستان کی کہانی سنانے میں ہماری مدد کیجیے۔ پاکستان میں ایک آزاد میڈیا کی تشکیل میں ہماری مدد کیجیے۔

چندہ دیجیے

———————————————————————————————————————————

اس طرح، یہ خیال کا کہ عملی اسلام اور سنیما میں اختلاف ہے، جنوبی ایشیاء اور خاص طور پر پاکستان کے میں بھی اظہار ہوتا رہا ہے۔ تقسیم کے کچھ ہی عرصے بعد پاکستانی فلمی صنعت کی وزارت نے ایک بیان جاری کیا کہ: “اصولا، مسلمانوں کو فلم سازی میں ملوث نہیں ہونا چاہیے۔ اور اس ہوسناک اور للچانے والے کام کو کافروں کے لیے چھوڑ دینا چاہئیے” سرکاری بیان کے باوجود، سنیما کی صنعت کی پہلے سے موجود گہری جڑوں کی وجہ سے نئے آزاد پاکستان میں سینما سماجی سرگرمی اور عوامی زندگی کا ایک لازمی حصّہ تھا۔ تاہم بیسویں صدی کی ترقی کے ساتھ سنیما کی ثقافت پستی کا شکار ہوئی اور سنیما گھروں کی اکثریت کو دیوالیہ ہونا پڑا۔ ستّر کی دہائی میں کام کرنے والے 84 سنیما میں سے پچپن مسمار کر دیے گئے۔ ان میں سے زیادہ تر شادی ہال، پارکنگ اور شاپنگ پلازوں میں تبدیل کر دیے گئے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت سنیما گھروں کو عوامی افادیت کی جگہ کے طور پر شمار کرتی تھی جبکہ 80ء کی دہائی میں جنرل ضیاء الحق کی آمریت نے ایک نئے عوامی اور مذہبی اخلاقیات کے نفاذ کی خواہش کے لئے سنیما کے انہدام کی سہولت فراہم کی۔ پرانے سنیما گھروں میں سے کچھ کو مرمت کے بعد ان کے مقصد کو برقرار رکھتے ہوئے تھیٹر کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں ایبٹ روڈ پر شبستان اور پرنس کی انتظامیہ کی طرف سے ان کی مرمت کروائی گئی ہے اور اب تھری ڈی سکرین اور بیٹھنے کی نئی جگہیں موجود ہیں۔ ان تھیٹروں کے مالکان نے اپنے سامعین کو فلم کے ٹکٹ فروحت کرنے کے لئے پرانی یادوں اور جدیدیت کو ایک ساتھ ملایا ہے۔

نائیجیریا کی طرح پاکستان میں بھی سنیما گھر اس نوآبادیاتی کشمکش کا حصہ ہے۔ نمایاں طور پر اسے ایک سرکش اور بدنام جگہ سمجھا جاتاہے، اس حقیقت کے نتیجے میں کہ تاریخی طور پر اس جگہ نے موجودہ سماجی ترتیب اور طبقوں کو چیلنج کیا ہے۔ “سنیما ہال عوام کی زندگی میں ایک جدید اضافہ تھا، صرف تکنیکی طور پر نہیں لیکن سماجی ترتیب کو نیے طور پر قایم کرنے کے حوالے سے بھی۔” ایڈرین عتیق اپنی بھارتی سنیما کی سٹڈی میں ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں۔ یہ کشمکش سنیما کی شہرت کو آج بھی داغدار کرتی ہے۔

اخلاقیات کا ڈھونگ
سنیما گھر اپنے اردگرد کے علاقوں اور ان کے وقار اور سرگرمیوں سے اپنی اخلاقی وقعت حاصل کرتے ہیں۔ لاہور کی پرانی سنیما ڈسٹرکٹ ریڈلائٹ ایریا سے زیادہ دور نہیں ہے۔ تاریخی اعتبار سے، دلال اکثر فلم دیکھنے والوں کو راغب کرتے تھے اور یہ علاقہ پک اپ سپاٹ کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ پران نیول لاہور پر نظم لکھتے ہیں کہ انہیں اور ان کے کچھ مرد ساتھیوں کو ایک دلال مل گیا جس کا دعوٰی تھا کہ اپنا زیادہ تر کاروبار وہ سنیما گھروں کے قریب کر رہا تھا، کیونکہ یہ گاہکوں کے لئے خدشہ کم تھا۔ نیوائل ریڈ لائیٹ ڈسٹرکٹ جس کا مقبول نام ہیرا منڈی تھا اور سنیما کے تعلق کی مزید وضاحت کرتا ہے کہ 1930ء کی دہائی میں سنیما کی آمد اور قیام کے زریعے ہیرا منڈی کی طوائف کو اپنی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے کا موقع ملا۔ یہ کہا جاتا ہے کہ بہت سی اداکارائیں اور گلوکارائیں اپنے نسب ہیرا منڈی سے جوڑ سکتی ہیں۔ یہ بات عوام میں بہت مقبول ہوئی، اس نےلوگوں کے سنیما سے منسلک ہونے پر اثر ڈالا اور اس صنعت میں شامل ہونے کے خواہش مندوں کے لئے ایک مضبوط مخلافت کو جنم دیا۔ جو لوگ سینما کا حصّہ رہے اس حوالے سے ان کے اخلاقی کردار پر بھی سوال اٹھائے گئے، اس صنعت سے وابستہ لوگوں کی عزت اور اچھی ساکھ پر عوامی حلقوں اور ساتھ ساتھ نجی حلقوں میں ایک بحث کا آغاز ہوا۔ پاکستان میں سنیما کی صنعت اور حالیہ دنوں میں تفریخی صنعت اپنے آپ کو کمزور اخلاق کے اس الزام اور اس صنعت سے منسلک عزت کے فقدان سے علیحدہ کرنے میں کامیاب نہیں رہی۔

اس کے علاوہ ملٹیپلیکس کی تعمیر اور تاریخی سنیما ڈسٹرکٹ کے باہر آڈیٹوریم نے ان سنیما گھروں میں آنے والے سامعین اور پرانے سنیما کے سامعین کے بیچ طبقاتی تقسیم کو مضبوط بنانے میں مدد دی ہے۔ طبقاتی تفریق اپنے ساتھ صنفی اور نسلی درجہ بندی بھی لاتی ہے۔ پُرانے تھیٹر میں سینما دیکھنا نصف قیمتوں کی وجہ سے سستا ہے اور بعض اوقات وہاں ٹکٹ نئے ملٹیپلیکسوں میں فروخت ہونے والے ٹکٹوں کی قیمت کا چوتھا حصّہ ہوتا ہے۔ قیمت میں یہ کمی سنیما تک رسائی کو جمہوری نہیں بناتی کیونکہ کم خواتین ہی نئے سنیما کے مقابلے میں، جہاں بالائی اور متوسط طبقے کی خواتین کسی مرد کے بغیر دیگر خواتین کے ساتھ جانے میں تخفظ محسوس کرتی ہیں، سستے سینما گھروں میں جاتی ہیں۔

سنیما کی تفریخ اوراس کی پر ہونے والی جارحیت تقسیم سے پاک نہیں ہے۔ لاہور اور کراچی میں سنیما ڈسٹرکٹ میں پرانے سنیما گھر خطرے میں اور براہِ راست حملے کی ذد میں آتے ہیں۔ اس سے ایک مخصوص طبقے کے لئے تفریخی سرگرمیاں اور تفریح کے اختیارات محدود ہو جاتے ہیں۔ نسبتاْ نئے ملٹیپلیکس اس حوالے سے خوش قسمت سے ہیں۔ ان تھیٹروں میں سے کچھ شاپنگ مالز، کنٹری کلب میں واقع ہیں اور ان کے پاس بہت زیادہ سکیورٹی ہوتی جو کسی بھی ممکنہ حملے کو روکنے کے لئے کام کرتی ہے۔ ان سنیما گھروں میں شائیقین زیادہ تر اعلٰی طبقے اور بالائی-متوسط طبقے کے ہوتے ہیں۔ سنگ دل منطق کے تحت ان تھیٹروں پر حملہ ہونے کی صورت میں ہونے والے حملہ کرنے والے کے لیے جانی یا مالی نقصان کے عواقب، ، پرانے تھیٹروں کے مقابلے میں زیادہ سنگین ہوں گے جن کے ناظرین کا سیاسی عمل میں حصہ مقبلتا کم ہے۔
نقشے پر مستحکم علاقوں کے سنیما گھروں کو تلاش کرنے اور حملوں اور فسادات کے امکان جاننے سے نشانہ بنائے جانے اور نظر انداز کر دیے جانے والے سینما گھروں کے بارے میں مفید معلومات حاصل ہو سکتی ہیں۔زیادہ نشانہ بننے والے سینما بے شک وہی سنیما گھر ہیں جو سنیما ڈسٹرکٹ میں واقع ہیں۔ جو کراچی اور لاہور دونوں میں جلوس کے لئے اہم علاقوں مثلا شہروں کے پرانے تجارتی مراکز کے قریب قونصل خانوں کے ساتھ اور حکومتی دفاتر کے پاس واقع ہیں۔

———————————————————————————————————————————

وقف نہیں۔ خیرات نہیں۔ باہری امداد نہیں۔ صرف آپکی مدد درکار ہے۔

چندہ دیجیے

———————————————————————————————————————————

ایک جلوس کیا ہوتا ہے؟ ایک جلوس سڑکوں پر باہر لایا ہوا نیم منظم ہجوم ہوتا ہے، جو یا تو کسی موقع کی یاد میں یا احتجاج اور شاید کسی دھرنے کے لئے یا کسی ناکہ بندی کہ لئے ہو سکتا ہے۔ ستمبر 2012ء میں، یوٹیوب پر فلم :انّوسنس آف مسلمز” کی ریلیز کے بعد ، پاکستانی حکومت نے،جو اس وقت اس فلم کی وجہ سے لوگوں کے غم و غصّے کے سامنے بے بسی رہی، ان کا مطالبہ مان کر ایک عوامی چھٹی کا اعلان کر دیا۔ 21 ستمبر عوامی چھٹی کا دن قرار دیا گیا، “یومِ عشقِ رسولؐ” عنوان سے لفظی معنی کا اندازہ ہوتا ہے کہ نبی محمدؐ سے محبت کو منانے کا یہ دن دیا گیا۔ اس دن نمازِ جمعہ کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں اس فلم کے خلاف اختجاجی جلاس نکالے گئے جو زیادہ تر درمیانے اور نچلے طبقے کے مردوں سے بھرے تھے۔ اس مظاہرے کے بعد تشدد ، قتل و غارت اور املاک کو شدید نقصان پہنچایا، سنیما گھروں کو مسمار کر دیا گیا، سڑکوں پر گاڑیوں کو جلا دیا گیا، اور ریاستی املاک کے ساتھ ساتھ نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔ اس دن چھ سنیما گھروں کو تباہ کر دیا گئا تھا جن میں نشاط، کیپری، پرنس، اور صدر میں بیمبینو اور قائد آباد میں گلشن اور نرگس شامل ہیں۔ کوئٹہ میں توغی روڈ پر واقع ایک سنیما کو نذرِآتش کیا گیا تھا۔ پشاور میں فردوس سنیما تباہ کیا گیا اور شمع کو آگ لگائی گئی اور کیپیٹل سنیما پر حملہ کیا گیا اور سکرین نذرِ آتش کر دی گئی۔ لاہور کی سنیما ڈسٹریکٹ کے کچھ سنیما گھروں پر بھی حملہ کیا گیا اور توڑ پھوڑ کی گئی۔

اسی طرح کراچی میں بمبینوسنیما اس دن کی خبرں کے مطابق پانچ بار جلایا گیا تھا۔ پولیس اور آگ بجھانے والے عملے نے چار بار آگ بجھانے کی کاشش کی مگر ہجوم نے سنیما کو زمین پر مسمار ہونے تک آگ لگانا جاری رکھا۔ جائے وقوع پر موجود لوگوں کے انٹرویو سے اس بات کی نشاندہی ہوئی کہ وہاں آتش ذنی کے ساتھ ساتھ لوٹ مار بھی کی جا رہی تھی۔ “یہاں غریب ہی غریب کا سب سے بڑا دشمن ہے” مقامی پریس سے بات کرتے ہوئے سعید شیراز ایک سنیما مارکیٹر نے کہا۔ سنیما کے گراؤنڈ فلور پر چھوٹی سی موبائل بوتھ کے مالک قیصر یوسف نے کہا کہ ” انہوں نے نبیؐ کا نام لیا لیکن شیطان کاکام کیا” جب تک سٹیٹس کوپر سوال نہیں اٹھایا جاتا، سنیما اور اسلام ایک دوسرے سے الگ رہیں گے اور سنیما کی ثقافت یونہی خطرات اور حملوں کا شکار رہے گی، فلم دیکھنا ان حالات میں ممکنہ طور پر زندگی کے لئے خطرناک ترین واقع ہو سکتا ہے۔
پاکستان میں ثقافت کی سنسر شپ اور بلا روک ٹوک پھیلائی جانے والی تباہی، جیسے کے سنیما گھروں کی توڑ پھوڑ، عصرِ حاضر کے پاکستان میں اخلاقی اتھارٹی کی نوعیت واضح کرتی ہے۔ کچھ حلقے فنکارانہ جگہوں اور فن کو تحفظ دینے کے قابل نہیں سمجھتے بلکہ وہ ان جگہوں کو شوخ، غیر شرعی اور ایسے رویے کے طور پر دیکھتے ہیں: کہ اگر ان پر نظر نا رکھی جائے تو یہ اخلاقی پستی کی طرف لے جا سکتے ہیں۔اس طرح نئی عادات کی تخلیق کے لئے ممکنہ جگہ سمجھی جانے والی فنکارانہ جگہیں قدرتی طور پر غیر مستحکم رہتی اور تباہی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ہم سب کو اس پر مضطرب ہونا چاہئیے کہ فلم کے حوالے سے کام کرنے والے اندرے بیزن نے کہا تھا کہ “سنیما ہمیں ہماری خواہشات کے ساتھ ہم آہنگ ایک متبادل دنیا دکھاتا ہے” ۔ کوئی سوچ سکتا ہے کہ ہم اس کے بغیر کہاں ہوتے۔

***

حرا نبی ” آڈیو اینڈ موونگ امیجز” کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ اس وقت وہ دی نیو سکول سے میڈیا سٹڈیز میں ایم اے کر رہی ہیں۔

 

Tags: , ,

2 Responses to

سنیما جانا

  1. […] مرتضی پاکستانی سینما میں یادداشت اور ماں کے بارے، اور حرا ا نبی سینما بارے لوگوں کے تاثر اور خوف پر بحث کرتی ہے۔ عاصم […]

  2. گمنام on Mar 2015 at 7:43 AM

    اگر آپ کو قرض کی ضرورت ہے؟ آپ فنانس کے لئے تلاش کر رہے ہیں؟ آپ اپنے کاروبار کو وسعت کے لئے ایک قرض کے لئے تلاش کر رہے ہیں؟ حل ہے اس طرح قرض دے johnsonheart_loanfunds@outlook.com یہاں ہے، کیونکہ اس وقت کوئی زیادہ فکر. اس poeple تھے میرا بیٹا بیمار تھے جب میں رابطہ کریں اور میں اس کی دیکھ بھال کے لئے رقم کی ضرورت

    ہاں اگر تم واقعی ایک قرض کی ضرورت ہو تو اگر دلچسپی مندرجہ ذیل معلومات کے ساتھ فراہم کرتے ہیں.

    1) مکمل نام: ………
    2) جنس: ………
    3) کے قرض کی رقم کی ضرورت ہے: ………
    4) قرض دورانیہ: ………
    5) ملک: ………
    6) گھر کا پتہ: ………
    7) موبائل نمبر: ………
    8) ماہانہ آمدنی: …………………
    9) ملازمت: ………………………

    راہ کی طرف سے میرے نام گلاب Willams ہے، اور آپ کو مزید جاننا چاہتے ہیں تو جناب ہمارے ہیلپ rosewillams011@gmail.com پر مجھ تک پہنچ سکتے ہیں johnsonheart_loanfunds@outlook.com اور میں آپ کو جاننے کی ضرورت ہے آپ کو سب کچھ بتا دے گا

Leave a Reply to گمنام Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *