میڈیا واچ | سرکار کی آنکھ سے

ڈیٹا کا حصول اور ترتیب : انعم ناز اور پلوشہ مشتاق

ٓیہ گراف قومی اردو میڈیا میں آپریشن ضرب عضب کی رپورٹنگ کے حوالے سے دی جانے والی خبروں کے ماخذ اور ان کے استعمال کے اعداد و شمار کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ گراف آپریشن کی رپورٹنگ کے ساتھ اپ ڈیٹ کیے جاتے ہیں۔( اس ڈیٹا کو اکھٹا کرنے اور ترتیب دینے کے طریقے کے بارے میں جاننے کے لیے کلک کریں)۔

آپریشن ضرب عضب کا آغاز ہوئے تقریبا تین ہفتے ہونے کو ہیں اور اس دوران فضائی حملوں کے بعد زمینی کاروائی بھی شروع ہو چکی ہے۔ اس آپریشن میں اب تک مرنے والے شدت پسندوں کی تعدا د سینکڑوں اور افواج پاکستان کے جانی نقصان کی تعداد درجن بھر سے اوپر بیان کی جا رہی ہے۔

اس آپریشن کی قومی اردو اخبارات میں کوریج کا جائزہ لیا جائے تو انگریزی میڈیا کی طرح شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کی موجودگی اور آپریشن میں ہونے والی ہلاکتوں کے حوالے سے تقریبا تمام اردو اخبارات بھی  آئی ایس پی آر کی پریس ریلیزز پر انحصار کرتے نظر آتے ہیں۔فوجی ذرائع کے علاوہ ان ہلاکتوں کی آزاد ذرائع سے رپورٹنگ دیکھنے میں نہیں آ رہی۔

تنقید نے اپنے میڈیا واچ پروجیکٹ کے تحت آپریشن ضرب عضب کی اردو اخبارات میں کوریج کا جائزہ لیا ہے۔ بین الاقوامی اور ملکی انگریزی اخبارات کی طرح اس جائزہ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ آپریشن کی رپورٹنگ کے لیے اردو اخبارات بہت حد تک حکومت کے عسکری اور غیر عسکری ذرائع پر انحصار کر رہے ہیں۔ اردو اخبارات میں مجموعی طور پر آپریشن سے متعلق دی جانے خبروں 51.3 فیصد سول حکومتی ذرائع اور 22.3 فیصد عسکری ذرائع سے حاصل لیا گیا ہے۔ آپریشن سے متعلق خبروں کا تیسرا بڑا ذریعہ شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کر کے بنوں پہنچنے والے آئی ڈی پیز ہیں جن سے لی گئی خبریں کل خبروں کا 15.1 فیصدہیں۔ دیگر ذرائع جن سے خبریں لی جا رہی ہیں خبروں میں اپنے حصے کے حساب سے بالترتیب یہ ہیں. نامعلوم ذرائع ، ماہرین اور شدت پسند.

فاٹا کے رہائشی افراد سے سب سے زیادہ 19 فیصد خبریں روزنامہ ایکسپریس نے لی ہیں جبکہ نوائے وقت نے اپنی کوریج میں فاٹا کے رہائشی ذرائع کو15 فیصد جگہ دی ہے۔ اس ماخذ سے س سب سے کم خبریں روزنامہ جنگ میں دیکھنے کو ملی ہیں جن کی تعداد 10 فیصد ہے۔

قومی پرنٹ میڈیا کی رپورٹنگ کو دیکھا جایے تو محسوس ہوتا ہے کہ پرنٹ میڈیا اس آپریشن کا مکمل حامی ہے۔ اس آپریشن کے مقاصد ان کے حصول کے لیے اپنائی جانے والی حکمت عملی یا اب تک حاصل ہونے والے نتائج سے اختلاف یا ان کے تنقیدی جائزے کی کوئی واضح کوشش کم سے کم آپریشن کے آغاز کے بعد قومی اردو اخبارات میں دیکھنے میں نہیں آئی۔

اردو اخبارات آپریشن کی رپورٹنگ کے لیے جن سرکاری ذرائع پر انحصار کر رہے ہیں ان میں سول حکومت کے عہدے دار نیز آئی ایس پی آر، اور دیگر فوجی ذرائع بالترتیب اس رپورٹنگ کے سب سے بڑے ماخذ ہیں۔ آپریشن کے آغاز کے دنوں میں ان ذرائع  پر انحصار تقریبا مکمل تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے شمالی وزیرستان سے بنوں پہنچنے والے پناہ گزیروں کے قافلوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اخبارات میں بھی پناہ گزیروں کے حوالے سے رپورٹ کی جانے والی خبروں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اس حوالے سے اس بات کا ذکر بے جا نہیں ہو گا کہ ٖفاٹا کے رہائشیوں سے لی جانے والی خبریں زادہ تر آئی ڈی پیز کو پیش آنے والی مشکلات اور ان کے لیے حکومت کی طرف سے کیے جانے والے انتظامات کی نوعیت اور ان انتظامات کے ناکافی ہونے پر ہیں۔ آپریشن کے حوالے سے ٖفاٹا کے ان رہایشیوں سے کوئی خاص خبریں حاصل نہیں ہو رہیں ۔

آئی ڈی پیز سے آپریشن کے بارے خبر حاصل نا ہونے کی وجہ شمالی وزیرستان میں کرفیو کا نفاذ اور نقل و حمل پر پابندی بھی ہو سکتی ہے لیکن یہ بات بھی اہم ہے کہ تنقید سے بات کرتے ہوئے بنوں آنے والے آئی ڈی پیز نے علاقے میں شدت پسندوں کی دیرینہ موجودگی اور ان کے فوج سے رشتے پر بات کرنے میں ناصرف خوف کا اظہار کیا تھا بلکہ اکثر اس حوالے سے کیمرے کے سامنے بات کرنے پر تیار نہیں تھے۔

آئی ڈی پیز حکومت کی طرف سے لگائے گئے کیمپ میں نہیں آ رہے یہ خبر اردو میڈیا پر مسلسل گردش کر رہی ہے ۔ لیکن وہ کہاں قیام کر رہ ہیں اور ان کے قیام کی جگہ تک حکومت کی سہولیات پہنچ پارہی ہیں یا نہیں اس طرف بھی اردو میڈیا نے کوئی خاص توجہ نہیں دی۔

شمالی وزیرستان سے آنے والے آئی ڈی پیز کی نقل مکانی پر بات کرتے ہوئے اردو میڈیا  زور و شور سے اس خدشے پر بحث کرتا رہا ہے کہ شدت پسند ان آئی ڈی پیز کے روپ میں شمالی وزیرستان سے دوسرے شہروں کی طرف منتقل نا ہو جائیں لیکن شدت پسندوں کی اس ممکنی نقل مکانی اور روپوشی کو روکنے ک حوالے سے پنجاب اور سندھ میں داخلے پر پابندی کے حوالے سے حکومتی بیانات کو کور کرنے کے علاوہ اردو میڈیا نے کسی کاروائی کو کور نہیں کیا اگرچہ بین الاقوامی اردو میڈیا میں ایسی کچھ رپورٹیں آئی ہیں جن کے مطابق سندھ میں شمالی وزیرستان سے آنے اور تنہا سفر کرنے والے کچھ لوگوں کو تفتیش کے لیے روکا گیا ہے ۔

شدت پسند ماضی میں بین الاقوامی اور قومی میڈیا سے مسلسل رابطے میں رہے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کی بعض کاروائیوں پر ان کا ردعمل لینے کے لیے ان کی براہ راست گفتگو بھی ہمارا قومی میڈیا اپنے ناظرین کو سنواتا رہا ہے۔ ٓپریشن کے آغاز کے بعد سے ایسا مھسوس ہوتا ہے کہ شدت پسندوں کی طرف میڈیا سے رابطہ نہیں کیا گیا۔ شائد یہی وجہ ہے کہ آپریشن کی کوریج میں شدت پسندوں کے حوالے سے دی جانے والی رپورٹوں کی تعداد بہت کم ہے۔ بین الاقوامی اردو میڈیا میں یہ سوال اٹھایا گیا  ہے کہ یہ خاموشی کسی حکمت عملی کا حصہ ہے یا شمالی وزیرستان چھوڑ کر نکلنے والے طالبان کسی مھفوظ ٹھکانے کی تلاش میں ہونے یا اپنے ٹھکانوں کو محفوظ رکھنے کے لیے میڈیا سے رابطہ نہیں کر رہے لیکن قومی میڈیا نے اس خاموشی کے بارے میں کسی رائے خبر یا حیرانی کا اظہار بھی ضروری نہیں سمجھا۔

شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کی غیر موجودگی کے حوالے سے بین الاقوامی میڈیا نے یہ رپورٹ کیا ہے کہ شدت پسندوں کی اکثریت آپریشن شروع ہونے سے پہلے علاقہ چھوڑ گئی تھی۔ زمینی کاروائی کے چار دن مین مٹھی بھر شدت پسندوں کہ ہلاکت کی اطلاعات سے بھی ہی اندازہ ہوتا ہے کہ ان خبروں میں صداقت کا عنصر ہے لیکن شدت پسند وہاں تھے یا نہیں اور اگر تھے تو وہاں سے کہاں منتقل ہوئے قومی اردو میڈیا نے اس سوال کا جواب تلاش کرنا تو کجا اس کو ا ٹھانا بھی مناسب نہیں سمجھا۔

پاکستانی فوج کی طرف سے کیے جانے والے سابقہ آپریشنز کے نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے بین الاقوامی میڈیا نے آپریشن کے بعد شدت پسندوں کی ممکنہ واپسی کے خدشات پر سوال بھی اٹھائے ہیں لیکن قومی میڈیا میں ان سوالوں کی کوئی بازگشت سنائی نہیں دی۔ سرکاری ذرائع کا اس آپریشن کے بارے اصرار ہے کی اس میں اچھے اور برے طالبان میں کوئی تفریق نہیں کی جارہی لیکن ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کے حقانی یا حافظ گل بہادر گروپ سے تعلق کے بارے کوئی خبر سامنے نہیں لائی گئی اور آپریشن میں مرنے والوں کو مسلسل غیر ملکی طالبان یا غیر ملکی شدت پسندوں کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔ شمالی وزیرستان میں موجود خان سعید سجنا گروپ کے حکومت سے تعاون کی رپورٹیں بھی بین الاقوامی میڈیا میں تو موجود ہیں پاکستانی اردو میڈیا اس پر خاموش نظر آتا ہے۔

 اخبارات

روزنامہ جنگ

روزنامہ جنگ نے آپریشن ضرب عضب کو رپورٹ کرتے ہوئے61.5 فیصد خبریں سول حکومتی ذرائع سے 18.8 فیصد خبریں عسکری ذرائع سے اور10 فیصد خبریں فاٹا کے رہائشی لوگوں سے اخذکی ہیں۔شدت پسندوں اور ٖفاٹا پر آزاد ماہرین سے اخذ کی جانے والی خبروں کی تعداد تقریبا 10 فیصد ہے۔

 ***

روزنامہ نوائے وقت

روزنامہ نوائے وقت نے آپریشن ضرب عضب کو رپورٹ کرتے ہوئے 50.4 فیصد خبریں سول حکومتی ذرائع سے21.6 فیصد خبریں عسکری ذرائع سے اور15 فیصد خبریں فاٹا کے رہائشی لوگوں سے اخذکی ہیں۔شدت پسندوں اور ٖفاٹا پر آزاد ماہرین سے اخذ کی جانے والی خبروں کی تعداد تقریبا 3 فیصد ہے۔

***

روزنامہ ایکسپریس

روزنامہ ایکسپریس نے آپریشن ضرب عضب کو رپورٹ کرتے ہوئے 45.1 فیصد خبریں سول حکومتی ذرائع سے 25.7 فیصد خبریں عسکری ذرائع سے اور19 فیصد خبریں فاٹا کے رہائشی لوگوں سے اخذکی ہیں۔شدت پسندوں اور ٖفاٹا پر آزاد ماہرین سے اخذ کی جانے والی خبروں کی تعداد تقریبا 3 فیصد ہے۔

*****

اعداد و شمار

سلمان حیدر راولپنڈی کی فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی سے منسلک ہونے کے ساتھ ساتھ تنقید کے اردو ایڈیٹر کے طور پر بھی کام کرتے ہیں ۔

Tags: , , , , , , , ,

18 Responses to

میڈیا واچ | سرکار کی آنکھ سے

  1. Yasser Chattha on Jul 2014 at 1:49 PM

    It’s a good initiative which was bitterly being missed. I feel a technical news-making task is being consciously hijacked for certain ulterior motives.

  2. TQ Chāt | # 11 | Tanqeed on Jul 2014 at 12:35 AM

    […] سرکار کی آنکھ سے […]

Leave a Reply to TahaSSiddiqui Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *