برابر کا میچ | سلو کا بلاگ

فون کی گھنٹی بجی تو میں سعد عثمان کا نام دیکھ کر چونک گیا۔ ابھی کوئی ہفتہ بھر پہلے اس سے سالوں بعد ملاقات ہوئی تھی۔ اسے ایسا کیا کام آن  پڑا  میں نے بٹن دبانے سے پہلے سوچا۔

ٍارے بھائی کیسے ہیں آپ؟ ملتے ہی نہیں آپ تو بڑے آدمی ہو گئے۔ انٹیلیکچوئل جو ٹھہرے اب ہم سے کہاں ملیں گے، وہ بولے چلا گیا۔ ارے نہیں کہاں بس یہ چھوٹا موٹا لکھنا لکھانا ہی تو ہے میں نے بات کاٹتے ہوئےرسمی سے انکسار  کا اظہار کیا۔ اچھا چلیں آپ کو کھانے پر بلاتے ہیں کسی دن آج تو  اس لیے فون کیاکہ میرا بھائی ایک پروٹیسٹ ارینج کر رہا ہے  غزہ  پر اسرائیل کی ائیر سٹرائیک کے خلاف اس میں آپ کو تقریر کرنا ہو گی۔ دیکھنا اب نہ نہیں کہنا یار یاروں کے کام نہیں آئیں گے تو کون آئے گا۔ وہ میرا کالج کے زمانے کا شناسا تھا اور اسے پتا تھا کے میں ایک جوشیلا  مقرر ہوں۔ کم وہ بھی نہیں تھا لیکن ہم آمنے سامنے اس لیے نہیں ہوتے تھے کے میں اردو مقابلوں میں حصہ لیتا تھا اور وہ انگریزی میں ۔ میں اور تقریر ، ارے بھائی عرصہ ہو گیا چھوڑے ویسے بھی آپ جیسا تو نہیں بول سکتا۔ ارے بھائی میں خود کر لیتا لیکن وہ اس بار اردو میں تقریر کروانا چاہتے ہیں، آپ کو تو پتا ہے جلسے میں ہر طرح کی گیدرنگ ہوتی ہے۔ اچھا چلیں آپ کہ رہے ہیں تو ضرور۔ میں ایک آدھے  سے  انکار کے بعد اقرار کرتے ہوئے خوش تھا۔

غزہ، ہاں خوب مجمع ہوگا میں نے وقت اور جگہ پوچھ کے فون بند کرتے ہوئے سوچا۔ خوشی کی وجہ یہ نہیں کہ تھی میں  نے کبھی کسی احتجاج سے خطاب نہیں کیا تھا۔ تقریروں  کا سلسلہ تو چلتا رہتا تھا لیکن اتنے بڑے  مجمع سے خطاب کا میرا یہ شاید پہلا موقع ہوتا دراصل میرے فرقے کے مرنے والوں پہ احتجاج کوئی اتنے بڑے نہیں ہوتے تھے۔ وہی گنتی کے چند لوگ۔ مجھے ان کے چہرے اور انہیں میری تقریریں تقریباٗ یاد تھیں۔

اگلے دن میں احتجاج میں پہنچا تو تعداد میری توقع کے خلاف بہت متاثرکن نہیں تھی۔ چلو اپنوں سے تو زیادہ ہے میں نے خود کو تسلی دی۔ مجمے میں کوئی جاناپہچانا چہرہ ابھی تک تو نہیں تھا کہ وہاں صرف اونچے گھروں کے بچے تھے۔  مجھے کچھ کچھ شرمندگی بھی تھی۔ میں آج تک ان اپر کلاس لڑکے لڑکیوں کو برگر کہہ کر ان کے خلاف اپنے تعصب کا اظہار کرتا رہا تھا لیکن مجھے آج پتا چلا کہ وہ مجھ سے بھی زیادہ سچے دل سے مظلوموں کے حامی ہیں۔ کانوں میں بلوٹوتھ رسیور لگائے سٹائیلش لڑکے لڑکیاں بھاگ بھاگ کر پروٹیسٹ کا انتظام کر رہے تھے۔

میں ان سے متاثر ہونے لگا لیکن پھر میں شرمندگی اور ستائش کے ملے جھلے جزبات پے قابو پا کہ اپنا اعتماد بحال کر لیا۔ ایک بھرپور تقریر کے لیے یہ ضروری تھا۔ نعرہ بازی زوروں پر تھی۔ ایک منٹ کو نعرہ بازی روک کے میگا فون سے اعلان کیاگیا کہ غزہ پے ایک اور ہوائی حملہ ہوا ہے۔ اندازہ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد ہنڈرڈز میں پہنچ جائے گی۔

نعرے دوبارہ شروع ہوئے تو جوش پہلے سے بھی زیادہ تھا۔ ڈیتھ ٹو اسرائیل ڈاؤن وس یو ایس اے کی آواز سے جناح سپر گونج اٹھی۔ میں نے ایک منتظم لڑکی سے اپنے دوست کے بھائی کا پوچھا تو اس نے ایک لڑکے کی طرف اشارہ کر دیاجو کہ لڑکیوں اور کیمرہ والوں کے بیچ گھرا کھڑا انہیں ہدایات دے رہا تھا۔ دیکھیں لوگ ہر طرح کے آ رہے ہیں، کچی آبادی والے بھی پہنچنے کو ہیں بس ہم شروع کر رہے ہیں آپ نے سٹیج کے علاوہ مینجمنٹ کو کور کرنا ہے اس نے اپنے ساتھ کھڑی لڑکیوں کی طرف اشارہ کیا۔

آخری ہدایت سن کر کیمرے والوں کی باچھیں کانوں تک چر گیئں۔ مجھے لگا کہ یہ آج بھی میری آواز۔ کے ساتھ ان لڑکیوں کی فوٹیج چلا دیں گے۔ میں نے ایک کیمرہ مین کے سامنے، جو پہلے احتجاج کور کرنے کی وجہ سے کسی حد تک میرا واقف تھا، اپنے خدشے کا اظہار کیا تو اس نے مجھے یقین دہانی کروائی کہ وہ میری پوری تقریر کور کرے گا۔

میں اس کی یقین دہانی اور اسے دونوں کو دل ہی دل میں برا بھلا کہتا اپنے دوست کے بھائی کے پاس گیا اور اسے اپنا تعرف کروایا تو اس نے مظاہرین کے پاس ہی کھڑی  ایک بڑی سی گاڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ بیٹھ جائیں گرمی بہت ہے میں آپ کو تقریر کے وقت بلا لوں گا۔

گاڑی میں دو لاپروہ سے لڑکے اگلی سیٹوں پہ بیٹھے ریڈیو کے چینل بدل رہے تھے۔ شاید غزہ پہ تازہ خبر کا انتظار کر رہے تھے۔ انہوں نے مجھے نظرانداز کر دیا۔ کچھ دیر جب ریڈیو سے کوئی انسانی آواز برآمد نہ ہوئی تو ان میں سے ایک نے اپنے پیروں میں پڑے کولر  کا ڈھکنا کھول کہ ٹھنڈی منرل واٹر کی بوتل نکالتے ہوئے دوسرے سے کہا کہ اپنے سیل پہ سن لے نا یار۔ ابے میں ریڈیو اور ٹارچ والے سیل نہیں رکھت پہلے نے تنک کر جواب دیا۔ چل بھائی سے پوچھ لے ان کے پاس ہوگا، پہلے نے ہنستے ہویےمیری طرف دیکھا۔ مجھے لگا کے مجھے شلوار قمیض پہن کے نہیں آنا چاہیے تھا۔

بدمزا سا ہو کہ میں انہیں کچھ کہے بغیر گاڑی سے اتر آیا اور دوبارہ مجمعے کے پاس جا کہ کھڑا ہوا تو کچھ دوکاندار بھی باہر تماشہ دیکھنے لگے۔ احتجاج کے منتظمین نے ان سے جا کہ بات کی۔ غالباٗ انہیں احتجاج میں شرکت کی دعوت دی ہوگی۔ کچھ نے وہیں کھڑے کھڑے نہ میں سر ہلا دیا اور کچھ بنا کچھ بولے واپس دکانوں میں پلٹ گئے۔ میں ان دکان داروں کی سنگ دلی پر حیران ہونے لگا۔ نہ جانے فلسطین میں مرنے والے معصوم بچوں کی شکلیں وہ کیسے بھول گئے۔

ایک ٹی وی شوروم کے سامنے سے گزرے تو شوروم والے کو غیرت دلانے کو میں نے آگے بڑھ کر اس سے کہا کہ ارے تم جلوس میں شامل نہیں ہو سکتے تو کم سے کم یہ فٹ بال میچ تو بند کر سکتے ہو۔ جلوس تھوڑا آگے بڑھ چکا تھا اس نے مجھے اپنے کام سے کام رکھنے کو کہا اور اندر چلا گیا۔ میں بڑبڑاتا ہوا پلٹا اور سوچا کہ آج کی تقریر میں یورپ اور امریکہ کے ساتھ ان دکانداروں کو بھی نہیں چھوڑوں گا۔ سارا یورپ اور یا ایس اے ہم مسلمانوں کے خلاف  اندر سے ایک ہے۔  اور یہ ان کی مصنوعات بچنے آدھ ننگی عورتوں کی مورتیاں شوکیسوں میں لگا کے فحاشی پھیلانے والے بھی فلسطین میں ہونے والے مظالم کے ذمہ دار ہیں۔ فرنگ کی رگِ جان پنجہّ یہود میں ہے تو ہماری ان کے شکنجے میں۔ آج ٹی وی کیمرے بھی کئی ہیں بس سہی ہے یہ پیغام ساری قوم تک جانا چاہیے۔

تقریر کے نکات دہرا کے سر اٹھایا تو ایسا لگا سڑک خالی سی ہے۔ میں نے معاملہ جاننے کو قدم تیز کر دیے۔ جلوس آگلے ڈسپلے سینٹرکے ٹی وی کے سامنے جمع تھا۔ مجمعے سے نکل کے آنے والی لڑکی کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ وہ بے یقینی سے سر ادھر اؔدھر ہلا رہی تھی۔ کیا ہوا میں نے پوچھا کیا ایک اور ائیر سٹرائیک نہیں یہ ٹی وی والے بھی مرنے والوں کی لاشیں دیکھا کہ دکان چمکائے رکھتے ہیں میں نے سوچا۔ وہ مسلسل نہیں میں سر ہلا رہی تھی۔  ارے ہوا کیا کچھ بتائیں تو،  میں نے ڈسپلے سینٹر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جہاں اب بھی ٹی وی کے سامنے بہت رش تھا۔

مجھے وہ لڑکی نظر آ گئی جس سے میں نے سعد عثمان کے بھائی کا پوچھا تھا۔ میں اس  کی طرف پلٹا۔ کیا ہوا کتنے مرے کچھ بتاؤ تو۔ لیٹسٹ سٹیٹسٹکس تقریر میں شامل کرو اپڈیٹ رہنا ہمیشہ اچھا ہوتا ہے مجھے اپنے استاد کی بات یاد آ گئی۔ لڑکی کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ میں نے اسے کہا بھی تھا، اس نے عثمان کے بھائی کی طرف اشارہ کرنے ہوئے کہا، پچھلے ڈسپلے سنٹر کے سامنے اردو سپیچ کروا لیتے ہیں جنہوں نے سننی تھی وہ تو آئے نہیں۔ میچ پنیلٹیز پے آگیا ہے ۔ بٹ یہ کسی کی سنے تب نا۔۔ ایک پنیلٹی کک دیکھنے کو نہیں ملی۔

مجھے لگا فٹ بال سیدھی میرے پیٹ میں آ لگی ہو۔ اس ڈسپلے سینٹر کے سامنے میں نے بجھے دل کے ساتھ تقریر کی۔ تقریر کے بعد میں دوبارہ اپنی کوریج کی تلقین کرنے اپنے جاننے والے کیمرہ مین کے پاس گیا  تو وہ کسی ساتھی کو بتا رہا تھا کہ میچ برابر ہو گیا۔۔ مجھے لگا واقعی میں یوںہی بجھا ہوا تھا، میچ تو برابر ہوا تھا۔

سلمان حیدر راولپنڈی کی فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی سے منسلک ہونے کے ساتھ ساتھ تنقید کے اردو ایڈیٹر کے طور پر بھی کام کرتے ہیں ۔

Tags: , , , , ,

Leave a Reply

Your email address will not be published.