انکی شعلہ فشاں آنکھیں

 ۶ شمارہ

ترجمہ: اسد فاطمی

Photo credit: Gulf Labor | gulflabor.org
خلیجِ فارس کے مزدور (gulflabor.org)

۲۰۱۰ء میں گلف لیبر (خلیجی مزدور) کے نام سے آرٹسٹوں اور سماجی کارکنان کے سنگم نے تارکِ وطن مزدوروں کی حالتِ زار کے خلاف  ابو دھبی کے گُگنھائم میوزیم کا بائیکاٹ کیا۔ اس واقع کے بعد اس سنگم نے جزیرۃ السعدیات میں بننے والے تمام میوزیموں کو نشانہ بنایا جن کے سرپرست گگنھائم، لوُوغ، برطانوی میوزیم، اور نیویارک یونیورسٹی جیسے قابلِ ذکر بین الاقوامی ادارے ہیں۔  ان کا بنیادی دعوی یہ ہے کہ ان آرٹ میوزیموں کو بنانے والے تارکِ وطن مزدور کٹھن اور غیر محفوظ حالات میں کام کر رہے ہیں۔ ان حالات کی تفصیلات پر مبنی متعدد دستاویزات ترتیب دی گئی ہیں۔ خلیج کے نظام محنت کے مسائل اور استحصال کا محیط ڈرا دینے والا ہے: کام کے دوران اموات کی اور خودکشیوں کی شرح میں اضافہ تباہ کن ہے؛ حفظان صحت کے مخصوص اقدامات ناپید ہیں، رہائش کا انتظام اور طرز زندگی غیر محفوظ ہے، ایسے حالات کار جن میں اجرتوں اور پاسپورٹ کو نوکری میں اطاعت کی ضمانت کے طور پر تحویل میں رکھا جاتا ہے؛ اور ایسے سماجی حالات پیدا کیے جاتے ہیں جن میں نسل پرستی اور جنسی امتیاز کا پھیلاؤ ہوتا ہے۔ شاید سب سے زیادہ تشویش ناک امر یہ ہے کہ ان حالات میں احتجاج اور عدم اتفاق مکمل طور پر ممنوع ہیں۔ خلیجی ممالک میں کام کرنے والے محنت کش قانونی طور پر ایسوسی ایشن بنانے اور ہڑتال کرنے کے حق سے محروم ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، محنت کشوں کو اپنے مسائل اور ناراضگی کے اظہار کے لیے رسمی ایسوسی ایشنز یا ٹریڈ یونین جیسے اجتماعی ڈھانچے بنانے کی کوئی اجازت نہیں ہے۔ جبکہ گلف لیبر نے اس مباحث پر توجہ مرکوز کی ہے کہ کس طرح فنون لطیفہ سے متعلق جگہوں پر محنت کشوں کے حقوق کی صورتحال کو بدلا جائے۔ اس ضمن میں پیش کی گئی دلیل کا دائرہ فنکارانہ محنت کے منصفانہ حالات کار کو تسلیم کرنے کے امر اور اجتماعی افعال کی آزادی کو عالمی سطح پر بحث کا حصہ بنانے پر محیط ہے۔

 خلیجی محنت کش اتحاد میں حصہ لینے والے فنکار اپنی گراں قدر فنکارانہ، دانشوارانہ اور کارکنانہ حیثیتوں میں اس قانونی برزخ سے باہر رہ کر احتجاج کے تخلیقی طریقے نکال رہے ہیں۔ ان کا پرزور احتجاج قانون سے کھلم کھلا بغاوت شمار ہوتا ہے۔ اس طرّاحانہ اقدام میں، خلیجی محنت کشوں نے ابوظہبی میں فنی اداروں کی تعمیر میں تارک وطن محنت کشوں کے حالات کار کے مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے اکتوبر 2013ء میں ہفتہ وار فنی اقدامات کی “52 ہفتے” کے نام سے ایک سال پر محیط ویب مہم شروع کی۔ قانونی حقوق کی غیر موجودگی میں آرٹ بذات خود ایک زبان کی شکل اختیار کرتا ہے۔ یہ کچھ اچنبھے کی بات نہیں ہے کہ ان کے سیاسی افعال اور منجمد حالات کے ساتھ عدم اتفاق کی لہر بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل کردار کی حامل ہوتی جا رہی ہے۔ احتجاج کے ڈیجیٹل روپ دھارنے سے، گلف لیبر انٹرنیٹ پر وسیع تر مخاطب طبقے تک پہنچ کر زمینی تنوعات پر ثقافتوں کو باہم جوڑا جا رہا ہے کہ وہ محنت کش عدم مساوات کے مسئلے اور عالمگیریت کے ذریعے ممکن بنائی گئی سماجی تقسیم پر شراکت اور وابستگی کا مظاہرہ کریں۔

———————————————————————————————————————————

یہ رسالہ قارئین کے چندے سے چلتاہے۔ اس کارِ خیر میں آپ بھی حصہ ڈالیں۔

———————————————————————————————————————————

 اس سنگین بندوبست، جسے مافوق سرمایہ داری کہا جا سکتا ہے، یقینی طور پر محنت کشوں کو سالہا سال سے کام کی بندشوں، مظاہروں اور ہڑتالوں کے لیے باہم منظم ہونے سے نہیں روکا، چہ جائیکہ ایسا کرنا قانون توڑنے کے مترادف ہے۔ جنوبی ایشیائی خطے اور خلیجی اخبارات اور صحافتی اداروں کے قارئین کی نظر سے محنت کشوں کے اضطراب کی تفصیلات اوجھل نہیں ہوں گی: جیسا کہ معاملے میں شریک مزدوروں کی تعداد، ان کی ناراضگی کی وجوہ کیا ہیں، معاملے سے متعلق کمپنی کا نام کیا ہے۔ اور قانون کے احکام کی روشنی میں کیے گئے معاہدے کی شرائط پر مبنی احتجاج کے معاملے میں یہ بالکل بجا اور قابل فہم ہے۔ تاہم، محنت کشوں کی تنظیم اور تارک وطن مزدوروں کے حالات پر اثرات کا معاملہ دھیان دیے جانے کے قابل ہے۔ ہڑتالوں اور عدم اتفاق کے اقدامات اپنی وضاحت آپ ہیں، لیکن مزدوروں کی تنظیم اور حکمت عملی کے اجتماعی افعال کی تاریخ اور سیاق و سباق نسبتاً طویل ہیں، اور شاید ایک عملی تطبیق بننے کے عبوری مرحلے پر ہے۔ احتجاجی کلچر کی تاریخ جس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں، عام طور پر محنت کشوں کے مختلف علاقوں میں سفر کرنے سے خود انہی کی کہانیوں اور تجربات کے ذریعے لوگوں تک پہنچتی ہے۔ گھمکّڑ صحافیوں کی رپورٹوں کے مجموعوں اور ان واقعات کو اپنے قابو میں لانے اور محاسبہ کرنے والی کمپنیوں اور حکومتوں کے خفی ریکارڈز سے آجر اور اجیر کے درمیان تعلق کے بارے میں سمجھا جا سکتا ہے، تاہم تارک وطن محنت کشوں کی تنظیموں کے بارے میں بہت سے سوال پھر بھی باقی رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر، یہ کہ خلیجی خطے کے قانون کی رکاوٹوں کے باوجود تارک وطن محنت کشوں نے خود کو ایک عبوری سیاق و سباق میں کس طرح منظم کیا ہے؟ نیز، ان غیر منصفانہ حالات کار اور حالات زندگی کے مسئلے پر کیا حکمت عملی برتی جاتی ہے؟ احتجاج کرنے کی پاداش میں ریاست کی طرف سے شدید سخت گیر سزائیں روا رکھے جانے کے احتساب کا نظام کیا ہے؟ یہ ڈھیلی ڈھالی تاریخ، خلیج اور جنوبی ایشیا کے علاقائی تجربے سے کوسوں دور مدفون پڑی ہے۔ تاہم احتجاجی کلچر کے روزنامچے کو پردیس نشینی اور باہمی تعلق کے تصورات کے ذریعے بہتر طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اور پردیس نشینی سے میرا اشارہ معاشی اور سماجی حرکیتوں اور ان کے سیاسی نفاذات کی طرف ہے جو بین القومیتی اور مہاجرتی ہیں۔

 میری پایۂ تکمیل کو پہچنے والی کتاب ٹیری فائنگ مسلمز: ریس اینڈ لیبر ان دی ساؤتھ ایشین ڈائسپورا (2011) میں کی گئی تحقیق کا محور محنت کشوں کی نسلوں اور سلسلۂ مراتب سے متعلق متعدد امور ہیں، جس میں میں نے پاکستانی محنت کشوں کو درپیش نسلی خطرات کا جائزہ لیا ہے۔ جیسا کہ میری یہ تحقیق ایک عشرے پر محیط تھی، اس دوران معاملہ گھمبیر ہی ہوا ہے اور فرا واقعی تناسب کو پہنچ چکا ہے۔ اگرچہ میں نے اپنی تحقیق میں ان لوگوں کی حالیہ صورتحال کا جائزہ لیا ہے جن کو میں محنت کش پردیس نشین کا نام دیتا ہوں، دوسرے لفظوں میں مزدور طبقے کی وہ آبادیاں جو یورپ اور شمالی امریکا میں جا بسنے کی آس لگائے خلیج اور دوسرے خطوں کا سفر کرتی ہیں، ایک بنیادی سوال جو مزدوروں کی تنظیم کی سماجی تاریخ پر مرکوز تحقیق کی غایت بنا وہ بین القومیتی اور بین الااقوامیت پسند اساس کا حامل ہے۔ نیویارک شہر کے تنظیم ساز اور گروہی کارکن اکثر اپنی سیاسی تنقید اور افعال میں جنوبی ایشیائی ممالک میں ٹریڈ یونین ازم اور ابھار کو اپنے ممالک سے جوڑتے ہیں۔ مثال کے طور پر، مزدور تنظیم ساز اور دانشور بیجو میتھیو اپنی کتاب ٹیکسی کیبز اینڈ کیپٹل ازم ان نیویارک سٹی (2005) میں ایک چلتی پھرتی کہانی بیان کرتے ہیں کہ کس طرح سے جنوبی ایشیائی ٹیکسی مزدوروں کی مشقت کی قوت میں روزمرہ تنظیمی محنت اور مزدور حکمت عملی سے ثمرات حاصل ہوتے ہیں۔ اپنی تحقیق میں نے بڑی سہولت سے نیویارک اور متحدہ عرب امارات میں جنوبی ایشیائی مزدوروں کی تنظیمی تاریخ اور احتجاج کو ان کے حالات کار کے حصے طور پر، اور ان کے سیاسی کلچر کے طور پر احاطہ کیا ہے۔ ایک طرف، جیسا کہ سابق ٹریڈ یونینسٹ یا سادہ مزدور اپنے طبقاتی مقام میں چھپے تضادات کو بہت بہتر طور پر سمجھتا ہے، تارک وطن مزدور کا معاملہ عام لوگوں کے عمومی خیال سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ حتی کہ خلیج کے تارک وطن محنت کشوں کے بیانیے میں حکمت عملی، فاضل عوام کے سیاسی فہم کے جائزے کی بجائے کسمپرسی اور مظلومیت پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔

 ان تواریخ احتجاج کی گہرائی اور حجم کا کچھ تو رابرٹ ویٹالیس کی کتاب امیرکاز کنگڈم: متھ میکنگ آن دی سعودی آئل فرنٹیئر (2007) سے اندازہ ہو سکتا ہے۔ اس میں، ویٹالیس نے ہڑتالوں کے اس سلسلے کو بیان کیا ہے جو 1940ء کے اوائل میں جنوبی افریقی، اطالوی، عرب اور پاکستانی محنت کشوں نے سعودی عرب کی آئل ریفائنریوں کے امریکی آقاؤں کے مسلط کردہ حالات کار کے خلاف کی تھیں۔ امریکی اوورسیز سرمایہ داری کی استحصالی شرائط اور نسل پرستی کی باہم مربوط تحقیق کے ذریعے پاکستانی مزدور اور بطور خاص منظم مہمات اپنے حالات کا جم کرو ساؤتھ کی اس امریکی نسل پرستی سے تقابل کر سکتے ہیں جن کا ویٹالیس نے نہایت دلچسپ انداز میں خلاصہ پیش کیا ہے۔ عرب امریکی آئل کمپنی آرامکو نے سعودی تیل کے میدانوں کی وسیع پھیلاؤ کارپوریٹ تنظیموں کے مزدور کیمپوں کا ایک ماڈل پیش کیا ہے جو تقسیم کرو اور حکومت کرو اور نسلی سلسلۂ مراتب کے نوآبادیاتی تصورات پر مبنی ہے۔  ان کیمپوں کی وضع میں روا رکھی گئی نسلی تقسیم کو جنوبی امریکا کی کوئلے کی کانوں میں بھی ایک پیش رفتہ تجربے کے طور پر آزمایا جا چکا ہے۔ سماجی انجنئیرنگ کے ایک تجربے کے طور پر، ایسی حکمت عملی تاریخی طور پر سرمایہ داری نظام کے امریکی زاویۂ نگاہ کا مرکزی پہلو رہی ہے جس سے انتظامیہ کے نسل پرستانہ سلسلۂ مراتب کو عالمگیر بندوبست کی سطح پر وسعت ملتی ہے۔ مزدوروں کے استحصال اور ان کے احتجاج، دونوں باتیں بیان کرنے کی وجہ سے یہ کتاب تھوڑے صفحات میں ایک بڑے مظہر کو بیان کرنے والا ایک اہم کام ہے۔ چونکہ ویٹالیس نے سفارتی تبادلوں پر توجہ مرکوز کی ہے، یہ آرامکو کی تاریخ اور امریکا اور سعودی عرب کے بیچ توانائی، عسکری اور معاشی مفادات کا ایک نسبتا چھوٹا حصہ ہے۔ کہ یہ تعلق محنت کش پردیس نشینوں اور ان کے سیاسی کلچر کو نسل پرستانہ سرمایہ داری کے اصولوں پر جعلسازی کے نتائج فراہم کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، جنوبی ایشیائی تارک وطن مزدور نے نسل پرستی کا اپنے استحصال کے ایک سکہ بند پہلو کے طور پر ادراک کر لیا ہے اور اپنی سیاسی تنقید میں اس پر آواز اٹھائی ہے۔

———————————————————————————————————————————

دو سے چھ ڈالر ماہوار ہدیہ دیجیے اور تنقید کو اشتہاروں سے پاک اور آزادانہ طور پر چلانا ممکن بنایے۔

———————————————————————————————————————————

 بالکل حال ہی میں، دانشور اور فلمساز ویویک بالد اپنی کتاب بنگالی ہارلم اینڈ دی لوسٹ ہسٹریز آف ساؤتھ ایشین امیرکا (2013) میں دادا امیر حیدر خان کی مثال پر نظر ڈالی ہے۔ جیسا کہ ان کے بہت سے پرستار جانتے ہیں، ان کی یادداشتوں چینز ٹو لوز (جو پاکستان میں دو جلدوں کے سیٹ کی شکل میں 2007ء میں دوبارہ شائع ہوئی ہیں) میں دادا خان کی، مزدوروں کی پردیس نشین تاریخ کے ایک موضوع مطالعہ کے طور پر نمائندگی کی ہے۔ بالڈ نے اپنی یادداشتوں کے پہلے حصے میں دادا خان کی زندگی کو موضوع بنایا ہے، جس میں وہ برطانوی ہندوستان میں اپنے عبوری سالوں کو یاد کرتے ہیں، ایک بحری مزدور کے طور پر اپنے سفروں، اور امریکہ میں ایک ریلوے مزدور اور آٹو ورکر کی حیثیت سے اپنے تجربات یاد کرتے ہیں۔ اس مقام پر ہم امریکہ کے صنعتی شہروں کے مزدور طبقہ معیشت میں درپیش نسل پرستی کے بارے میں چند اہم تفصیلات کے بارے میں جانتے ہیں جن کا دادا خان نے سمندر میں مشاہدہ کیا اور انہوں نے ان کے شعور میں اضافہ کیا۔ خان کی زندگی کے وہ لمحات مثالی ہیں جن میں انہوں نے بیسویں صدی کے اوائل میں جنوبی ایشیائیوں کو درپیش نسلی اور طبقاتی ناانصافیوں اور اپنی ابتدائی مصروفیات کا زکر کیا ہے۔ ان یادداشتوں کا دوسری جلد میں وہ اپنی لمحہ بہ لمحہ تربیت، ماسکو میں ناانصافی کے خلاف لڑنے کی تعلیم اور بعد میں اپنے وطن مالوف آزاد کشمیر، پاکستان میں کی گئی جدوجہد کا تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ دادا خان کی یادداشتوں کی اس جلد کے دوسرے حصے میں ایک مفکر اور ایک سلجھے ہوئے دانشور اور سرمایہ دارانہ نظام کے نقاد کے طور پر اپنے ارتقاء کا زکر کرتے ہیں۔ دادا خان کی یادداشتیں یہ سمجھنے کے لیے نہایت معلوماتی ہیں کہ وہ جنوبی ایشیائی، برطانوی راج کی رعایا کی حیثیت سے، اور بعد میں مابعد نوآبادیاتی پاکستان کے شہری کی حیثیت سے دنیا کے کس طرح روبرو ہوتے ہیں، یوں وہ پردیس نشینی کے قابل زکر سانچوں کو کئی مختلف نسلی اور قومیتی پس منظر کے حامل لوگوں کے ساتھ باہم مربوط کر کے دیکھتے ہیں۔ دادا خان کے بین الاقوامی سفروں نے سامراج اور نسل پرستی کے خلاف انقلابی سیاست میں صاحب بصیرت بنایا ہے۔ پروفیسر حسن گردیزی بجا طور پر شکریہ کے حقدار ہیں کہ انہوں نے یہ جلدیں تالیف اور شائع کر کے ہمیں جنوبی ایشیا اور اس کے پردیس نشینوں کی انقلابی سیاست میں کردار مسلمانوں، کشمیریوں اور پاکستانیوں کے کردار کے بارے میں بہت سے حقائق تسلیم کرنے کے قابل کیا ہے۔ نتیجے کے طور پر، تارک وطن مزدوروں کے حالات کار، جدوجہد کے تسلسل اور ناانصافی کے خلاف احتجاج کے حوالے سے ان کے مصائب، مشکلات اور کامیابیوں کی نمائندگی میں ہم دادا امیر حیدر کو ایک پیچیدہ شخصیت کی مثال کے طور پر دیکھتے ہیں۔

جنید رانا یونیورسٹی آف الینوئے میں اربانا مہم میں، ایشین امریکن اسٹڈیز کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔

اسد فاطمی ایک سماجی کارکن ہیں اور نوجوانوں کے ذولسانی ماہنامے ” “لالٹین” کے اردو حصہ کے مدیر بھی ہیں۔ نثراور شعر لکھنے کے علاوہ ترجمے اور مطالعے میں اردو، ہندی، فارسی، انگریزی اور پنجابی [شاہمکھی+گرمکھی] میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

شمارہ۶: ہجوم اور تحریک کے دیگر مضامین۔

Tags: , , , , , ,

One Response to

انکی شعلہ فشاں آنکھیں

  1. […] رانا خلیج فارس میں تارکین وطن مزدوروں کی جدوجہد کی طرف اشارہ کرکے ان کی کہانی کو محظ مظلومیت اور […]

Leave a Reply

Your email address will not be published.