وڑ گئی تاریخ | حافظ صوفی کا بلاگ

ہمارے موجودہ حکمرانوں کو  تاریخ سے  خصوصی دلچسپی ہے۔ شیرشاہ سوری ثانی  اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کے جانشین کا خطاب  صرف درباریوں اور مصاحبین  کی اختراع نہیں۔  اگر کسی کو غلط فہمی تھی کہ  جلاوطنی اور جمہوری  جدوجہد نے شاہی خاندان  کی تاریخ میں دلچسپی کم کر دی ہو گی  تو و ہ دور کر لے کیوں کہ نئے دور حکومت میں اعلیٰ افسران تاریخ کی  اچھی خاطر مدارات کر رہے ہیں۔

ہمارے ہاں تاریخ سے کھلواڑ کے کچھ  رائج طریقه کار ہیں :۔

انحراف : اسکے تحت شاہراہوں اور چوراہوں کے نام کادرٹوپباس  اور  علی عوض العیسری  پر تو رکھے جا سکتے ہیں لیکن بھگت سنگھ پر نہیں-

نظرانداز : ماہر تعلیم اور دانشوروں کا محبوب یہ ٹوٹکا برصغیر پاک و ہند کی تاریخ کو صالح مسلمان بادشاہوں کی حالات زندگی اور فتوحات تک محدود رکھتا ہے۔

نیم سچ :  مکمل جھوٹ سے زیادہ دیرپا اس  کی ایک مثال  قرار داد مقاصد کو آئین  کی وہ بنیاد قرار دیتی ہے جو متفقہ طور پر پارلیمنٹ سے منظور ہوئی ہو۔

ان طریقوں میں  ایک شاندار اضافہ پنجاب کے سابق چیف سیکرٹری  نے اپنے دور میں متعارف کروایا ہے-

تفصیل جسکی  ماجد شیخ نے مورخہ ٦ اکتوبر کے ڈان اخبار میں رپورٹ کی ہے۔  انکے مطابق دس لاکھ کے لگ بھگ نادر دستاویزات اور قریبا ستر ہزار کتابیں ریڑھیوں اور ہتھ گاڑیوں پر لاد کر  لاہور سول سیکرٹریٹ کےپرانے اصطبل میں پھینکوا دی گئی ہیں۔

سبحان الله! یعنی خس کم جہاں پاک۔

لاہور سول سیکرٹریٹ کی تاریخی اور مشہور زمانہ لائبرری اور رکارڈ روم کی جو  جگہ خالی ہوئی  وہاں  ایک نیا کانفرنس ہال اور آرام کمرہ تعمیر کروایا گیا ہے۔

 حیرت ہے کہ جارج آرویل کو اپنے ناول  ١٩٨٤ کے لیے تاریخ  تباہ کرنے کی اتنی سادہ لیکن عمدہ  ترکیب کیوں نہیں سوجھی۔

گھوڑوں کے اصطبل میں پا ئے جانے والے اس  خزانے میں کس طرح کے ہیرے جواہرات مدفن ہیں، اس بارے میں ماجد شیخ کے الفاظ :

” اصطبل کے تاریک اور سل زدہ ماحول میں اسد اللہ خان غالب کی اپنے ہاتھ سے لکھی وہ درخواست ہے جس میں وہ اپنی پنشن کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اورنگ زیب عالم گیر کے دربار سے ١٦١٦ میں لیتھو پرنٹ میں لکھا سر تھامس روۓ کا ایک ریکارڈ۔  دنیا میں اس دستاویز کے دو ہی نمونے بچے ہیں۔ ایک تو یہ لاہور میں گل سڑ رہا ہے لیکن دوسرا جس پر انگریزوں کو بجا طور پر فخر ہے برٹش میوزیم لائبرری میں ایک نیٹروجن بھرےگلاس کے ڈبے میں محفوظ کیا گیا ہے۔”

” بھگت سنگھ کے مقدمے، عرف عام میں لاہور سازش کیس کی کاروائی اور ریکارڈ بھی اس ذخیرے میں شامل ہے۔ اسکے علاوہ سن ١٦٠٠ سے لے کر ٢٠٠٠ تک  پنجاب کی چار سو سالہ تاریخ، مغل، افغان، سکھ، انگریزی  راج اور پاکستان کے شروع کے سالوں سے حکومتی کاغذات اصطبل کے برآمدوں میں بکھرے پڑے ہیں۔ ١٨٥٧ کی جنگ آزادی کا اصل ریکارڈ بھی یہیں موجود ہے۔”

” جناب چیف سیکریٹری نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اصطبل کے بچوں بیچ ایک ٹائلٹ بھی بنوایا ہے جس سے یہاں کی  فضا اور بھی  معطر ہو گئی ہے۔”

آجکل حکومت رعایا پر ہوتی ہے، سیاست  ٹھیکوں اور کاروباروں پر چلتی ہے، ملک کا دفاع پلاٹوں  کی خرید و فروخت سے کیا جاتا ہے، تعلیم ریڑھیوں پر بکتی ہے تو کتابیں ؟ تاریخ ؟ وڑیں پانڈے… (او سوری ) اصطبل  میں !

حافظ صوفی پیشے کے اعتبار سے انجنیئر ہیں جو حرف و قلم سے وابستگی رکھتے ہیں اور حسب  توفیق ترجمے میں طبع آزمائی کرتے رہتے ہیں۔

Tags:

Leave a Reply

Your email address will not be published.