لاہورکی اشرافیہ کا قبض

۵ شمارہ

عمار جان | ترجمہ: تنقید

"مصور: عائشہ مالک | "ہجام

“فوٹوگرافر: عائشہ مالک | “ہجام

گلوبل ساؤتھ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی اس دورکی نمایاں خصوصیت ہے۔ کروڑوں کسان شہروں کی طرف نکل مکانی کر رہے ہیں اورشہر اپنا دائرہ پھیلاتے ہوئے دیہات نگل رہے ہیں۔ ہمیشہ کی طرح آج بھی شہری علاقے سرمایہ داری نظام کے قیام و دوام کے لئے اہم ہیں لیکن اب ان علاقوں کی اہمیت سرمایہ مخالف قوتوں کے لئے بھی بڑھ رہی ہے کیونکہ ریاست اور پسماندہ طبقات کی سیاسی کشمکش میں شہر میدانِ جنگ بن گئے ہیں۔ قاہرہ سے لے کر استنبنول اور ساؤ پائلو تک شہروں میں ہونے والے ظلم وجبر اور بیگانگی کی کیفیت کے خلاف ایک جمِ غفیر سڑکوں پر امڈ آیا ہے۔ ان احتجاجی ریلیوں سے حکومتی کنٹرول کی کمزوریاں عیاں ہو رہی ہیں اور ریاست سے ٹکر لینے کے لئے شہروں کا تخلیقی استعمال بھی نظر آتا ہے۔

گزشتہ تین دہائیوں میں پاکستان کی شہری آبادی تیزی سے بڑھی اور شہروں کی کمرشل اور سیاسی اہمیت میں بھی اضافہ ہوا۔ اس عرصے میں پوری دنیا کے شہری علاقوں میں زمین کی خریدو فروخت اور سٹہ بازی کی وجہ سے اقتصادی ترقی کی شرح تیزرہی۔ پاکستان میں بھی فوجی آمر جنرل مشرف کے دورمیں زمین کی خریدو فروخت اور سٹہ بازی کی بنیاد پر ترقی کی شرح تیز تھی مگر یہ اقتصادی ترقی کھوکھلی اور سطحی تھی۔ اسی عرصے میں سماجی ترقی کے خواہاں متوسط طبقہ کا سیاسی اور اقتصادی کردار بھی بڑھا۔ شہری پراپرٹی کی قیمتوں میں اضافہ اور بڑھتی ہوئی نکل مکانی کے دہرے اثرات اس دور کے پاکستان میں شہری مکینوں کی زندگیوں کو اپنے تابع بنائے ہوئے تھے۔

پاکستان کے ثقافتی دارلخلافہ لاہور میں ان تبدیلیوں کے اثرات نمایاں ہیں پر ان کو سمجھنے کے لئے شہر کی نوآبادیاتی ماضی پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ شہر سازی کے مثبت و مضر اثرات کو سمجھنے کے لئے تحقیق کی ضرورت ہے مگر افسوس کہ پاکستان میں اس موضوع پر کوئی خاطر خواہ کام نہیں ہو رہا۔ شہر سازی کے عمل کو سمجھنے کے علاوہ شہروں میں بسنے والے مختلف طبقات کے اضطراب و اشتیاق اور سرمایہ کی خواہشات کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ لاہور میں بسنے والے کروڑوں افراد میں سے اکثریت ان غریبوں کی ہے جو نہ تو شہری فلاح وترقی کی منصوبہ سازی میں شمار ہوتے ہیں اورنہ ہے اس سے مستفید ہوتے ہیں۔ حکومت نجی منافع کے لئے ان کی زندگی تک داؤ پر لگا دیتی ہے۔ حکومت اور شہری اہلکاروں کارویہ بدلنےکے لئے ضروری ہے کہ فی الفور شہر سازی اور شہری مکینوں پر تحقیق کرتے ہوئےسیاسی طور پر متحرک و منظم ہوا جائے، کیونکہ محض تحقیق کافی نہی۔

غریب شہری اور ترقیاتی منصوبے
انیسویں صدی کے برطانوی نوآبادیاتی دور میں لاہور کا جغرافیائی اور انتظامی حدود اربعہ کافی حد تک تبدیل ہوا۔ ویلیئم گلور اپنی کتاب ’’میکنگ لاہور ماڈرن‘‘ میں لکھتے ہیں کہ برطانوی حکمرانوں نے اپنی طاقت کے اظہار کے لئے شہر کا نقشہ نئے سرے سے کھینچا۔ انگریزوں کی شہری منصوبہ بندی میں نسلی امتیاز کا پہلو شامل تھا۔ انگریزحکمرانوں نے شہر کے مقامی باشندوں سے دوری رکھنے کے لئے مال روڈ تعمیر کی اور یہاں تمام سرکاری عمارتیں بنائی گئیں۔ اگرچہ لاہور کے ترقیاتی منصوبوں میں نسلی امتیاز کو برقرار رکھنے کی بھرپورکوشش کی گئی مگر شہرِلاہورپر یہاں کے پرانے مقیموں کی چھاپ باقی رہی۔ مقامی باشندوں کی موجودگی سے انگریز حکمرانوں کے دلوں میں مقامی مزاحمت کا خوف بھی برقرار رہا۔

1860 کی دہائی میں برطانوی حکمرانوں نے لاہورمیں مقیم یورپی رہائشیوں اور میاں میر چھاؤنی کے برطانوی انڈین سپاہیوں کو لاہور کے مقامی باشندوں کی بیماریوں اور غلاظت سے بچانے کے لئے پبلک ہائیجین یا صحتِ عامہ کی منصوبہ بندی شروع کی ۔ بظاہر تو یہ پالیسی شہر میں صحت اور صفائی کے معیار بلند کرنے کے لئے رائج کی گئی تھی ۔ مگر اس کے نتیجے میں عام تاثر پھیل گیا کہ لاہور کے مقامی باشندوں کارہن سہن کا طور طریقہ نا صرف انگریزوں کے لئے بلکہ خود مقامی لوگوں کے لئے نقصان دہ تھے۔ گویا قصہ یہ بنا کہ مقامی لوگوں کی بہتری کے لئے مہر بان نوآبادیاتی ریاست کو نظم و ضبط قائم کرنے کی ضرورت ہے چاہے اس کے لئے ریاستی آلاتِ جبر ہی کیوں نہ استعمال کرنے پڑیں۔ اسی تاثر کی بنیاد پر ہمیں انگریزوں کی جرائم اور جراثیم کی پالیسیوں میں مماثلت نظر آتی ہے ۔ صحت عامہ ہو یا نظم و ضبط، رویہ یہ تھا کہ مقامی یاغی عوام کو سدھارنے اور ان کوخود سے بچانے کا بیڑا برطانوی حکمرانوں کے سر ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ یہ نوآبادیاتی رویہ آج بھی زندہ ہے۔ آج بھی اشرافیہ اور سرکاری افسران غریب شہریوں کوشہر کی صحت اور امن و امان کے لئے خطرہ قرار دیتے ہوئے پسماندہ طبقا ت کے رہائشی علاقوں میں جبرو تشدداور تفریق کی پالیسیاں لاگو کر تے ہیں۔

نوآبادیاتی دور میں لاہور حکمران طبقات کی رہائشی کالونی بنا اور برطانوی راج ختم ہونے کے بعدلاہور اپنے نئے حکمرانوں یعنی مقامی اشرافیہ کی کالونی بن گیا۔ برطانوی دورِ حکومت میں جب ہندوستا نی انڈیئن سول سروس کے ذریعے ریاستی ڈھانچے کا حصہ بننا شروع ہوئے تو ان مقامی حکمرانوں کے لئے ہاؤسنگ سوسائٹیاں بھی بننا شروع ہو گئیں جن میں چھاؤنی، ماڈل ٹاؤن اور مال روڈ سے جڑے کئی علاقے شامل ہیں۔

نوآبادیاتی ریاست کی پالیسی تھی کہ انگریز وں اور ان کے مقامی حلیفوں کوپسماندہ طبقات سے علحدٰہ رکھاجائے کیونکہ غریب شہریوں کوشر پسند گردانہ جاتا تھا ۔ مگر نسلی امتیاز کی بنیاد پر لاہور میں اتنی شدید نقل مکانی دیکھنے کو نہی ملتی جو انیسویں اور بیسویں صدی میں بیشتر یورپی ممالک اور نوآبادیاتی شہروں میں ہوئی تھی (ہاں بٹوارے کی وجہ سے بہت نکل مکانی ہوئی، پر اسکا شہر کی ترقیاتی پالیسیوں سے کوئی تعلق نہ تھا) ۔ لاہور میں یہ سب نوے کی دہائی میں ہواجب شریف برادران نے لاہور کو پیرس بنانے کا عزم کیا۔

شرفاء کا لاہور اور شریف برادران کا پیرس
لاہور اور پیرس میں مماثلت کا یہ بیان یقیناَ اس حکومت کو ناگوار گزرے گا۔ 1848کے ادھورے انقلاب کے بعد پیرس کو ایک ایسامثالی شہر بنانے کی تجربہ شروع ہوا جس میں عوامی و عمومی جگہوں سے سیاسی مخالفین اورپسماندہ طبقات کا نام ونشان مٹا کر شہر کو قوم اور ریاست کی قوت کا اظہار بنا یا گیا۔ جارجز یوجین ہاسمین کے تعمیر کردہ اس شہر نے پوری دنیا کے شہری منصوبوں پراپنا اثر چھوڑا۔ ہاسمین ایک ایسے شہرکی تعمیر کا خواہاں تھا جس میں وسیع شاہراہوں کا جال بچھا ہواور یہ جال بچھانے کے لئے ہاسمین نے شہر کے وسط میں موجودغریب اور پسماندہ علاقوں کا خاتمہ کیا۔ کرایہ کے گھر اتنے مہنگے ہو گئے کہ غریب شہریوں کو مجبوراَ مضافاتِ شہر منتقل ہوناپڑا۔ خیابانوں کو وسیع کرنے اور لمبی شاہراہیں بنانے کا ایک اور مقصد بھی تھا ۔ اگر پیرس کے مکین 1848کے بعد دوبارہ انقلابی جوش سے ریاست کے خلاف کھڑے ہوں توان پر قابو پانے کے لئے پولیس اور فوج کو جلد از جلد شہر کے مختلف علاقوں تک پہنچایا جا سکے۔
لاہور میں ہاسمین کی بدروح نوے کی دہائی سے بھٹکنا شروع ہوئی ا ور متواتر حکومتوں کے سرمنظم معاشرہ کی تشکیل کا بھوت سوار ہو ا۔ حکمرانوں نے غربت مٹانے کے بجائے اسے چھپانے اور شہر کو سطحی طور پرخوبصورت بنانے کا بیڑاٹھا لیا۔ شاہراہیں اور فلائی اوورز کی تعمیر زوروشور سے شروع کی گئی اور گلبرگ، ماڈل ٹاؤن، ڈیفنس ، کنال کے اردگرد کے علاقے، اور ٹھوکر نیاز بیگ کے مضافات میں بننی والی نئی رہائشی سکیموں کے درمیان وسیع خیابانوں کا ایک جال بچھا دیا گیا۔ پھران علاقوں میں بین الاقوامی فرنچآئزیں، بڑے بڑے شاپنگ مال، ریسٹورانٹ اور کیفے بنناشروع ہوگئے اور لاہور کی مڈل کلاس بین الاقوامی صارفین کی ہم عصر بن کرکنزیومر کلچر کا حصہ بن گئی۔

شہری تعمیرو ترقی کےاس دور میں لاہور اور اس کے مضافات میں زمین کی قیمتیں برق رفتاری سے بڑھیں خاص طور پر 2001 کے بعد پاکستان کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں آسان منافع کے ساہوکاروں نے لا محدود خریدوفروخت کی۔ اسی دور میں ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا کاروباربھی خوب چمکا اور اوپری مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے زیادہ سے زیادہ لوگوں ان سوسائیٹیوں میں گھر خرید کر اپنا نام بھی نام نہاد مہذبین کی فہرست میں درج کروانے لگے۔ حکومتی اہلکاروں اور سرمایہ داروں نے پراپرٹی کے کاروبار کو زور وشور سے جاری رکھا اور سٹہ بازی کا بازار بھی خوب گرم ہوا۔

منافع کے پیچھے اس اندھی دوڑ میں کسی نے بےزمین طبقات کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ ملکیت رکھنے والے طبقات کوسماجی ترقی کے بے مثال مواقع ملے مگر بے زمین طبقات کو مزید نیچے دکھیلا گیا۔ بڑھتے ہوئے کرایوں کا مطلب تھا کہ معیاری رہائش ان کی استطاعت سے باہر تھی۔ دیہاتوں سے شہروں تک نکل مکانی اور شہر کا پھیلاؤ بڑھنے کی وجہ سے لاہور کی آبادی میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا۔ اس آبادی کا بیشتر حصہ ان طبقات سے تھا جو شہر کا نقشہ بدل دینے والے اس ترقیاتی معجزے سے کوئی فائدہ نا پاسکے لیکن وہ اس کی تباہ کاریوں سے بخوبی واقف تھے کیونکہ جب کبھی شہر کے اشرافیہ اور ریئل اسٹیٹ ٹائکون نئی سوسائٹی بنانے کے لئے زمین تلاش کرتے تو سب سے پہلے غریب شہریوں کے گاؤں اور کچی آبادیاں اجاڑی جاتیں ہیں۔

آج شہر کے پسماندہ محلوں میں خلقت کی کثرت اتنی کہ آدمی پر آدمی گر رہا ہو۔ سرکاری اہلکار ان علاقوں کی فلاح وبہبود کے لئے کچھ نہیں کرتے کیونکہ ان علاقوں میں صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات مہیا کرنے کے لئے پیسہ نہیں،اور جو پیسہ ہے اس پرتو گویا شہر کے امراء اور اشرافیہ کا حق ہے کیونکہ یہ عالمی اور مقامی منڈیو ں کے صارفین ہیں۔ درحقیقت حکمرانوں اور اشرافیہ کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ اگر لاہور کو مشرق کا پیرس بنانا ہے تو غربت اور پسماندگی کو رکاوٹ بننے نہی دیا جا سکتا۔ شہر کا جغرافیہ یورپی طرز پہ تشکیل دینے کے لئے غربت اور پسماندگی ختم کرنا ضروری نہیں اور نہ ہی حکومت کا ایسا کرنے کا کوئی ارادہ۔ لیکن یہ بہت ضروری ہے کہ غریبوں اور غربت کو اس طرح چھپایا جائے کہ مقامی اور بین الاقوامی صارفین اور اشرافیہ کی آنکھوں پر بوجھ نہ پڑے۔ پس یہی ایک مسئلہ ہے جس کے حل کی تگ و دو میں ہیں آج کے لاہور کے حکمران کوشاں۔ اور ان کا رویہ ہو رہا ہے روزبروزجابرانہ اور آمرانہ اور غیر منصفانہ۔ ان پالیسیوں کےنتیجے میں اشرافیہ اور محنت کش طبقات کے درمیان ظاہر اور مخفی دیواریں کھڑی کر کہ لاہور کو دو شکلی شہر بنایا جا چکہ ہے۔

شہرِتوانگراورشہرِناتوانگرمیں تقسیم کرنے کے لئے تین تراکیب استعمال کی گئیں۔ پہلی ترکیب ہے سڑکوں اور فلائی اورز کا ایسا جال بچھانا کہ اشرافیہ ایک سے دوسرے علاقےکا سفر کریں تودرمیان میں بسنے والے سینکڑوں لوگوں کے پسماندہ حالاتِ زندگی سے لاعلمی و لاتعلقی کارویہ قائم رکھ سکیں۔ اس کی ایک مثال جناح فلائی اوور ہےجوگلبرگ کوڈیفنس سےملاتا ہے اورجس کے نیچے شہر کے وہ پرانے اور نظر انداز محلے ہیں جہاں کئی دہائیوں سے محنت کش طبقات رہتے ہیں۔ اس فلائی اوور کی بدولت شہر کے اشرافیہ غریب طبقات سے دوررہ کر لاہور کو ایک یورپی شہر تصور کرتے ہوے روز خراماں خراماں روانِ سفر ہیں۔ دوسری ترکیب سڑکوں کو چوڑا کرتے ہوئے گھروں، دکانوں اور مین روڈوں پر بنی تجاوزات کوپیچھے دکھیلنے پر مشتمل ہے۔ اس تخلیقی تباہ کاری کا نمونہ فیروزپور روڈ اور ٹاؤن شپ کے علاقوں میں ملتا ہے جو کوٹ لکھ پت کے برابر ہیں۔ کوٹ لکھ پت جوجنگجو ٹریڈیونین کی کاروائیوں کا گڑھ رہا ہے اب سڑک پر تیز رفتار گاڑیوں میں گزریں تو یہ علاقہ نظر بھی نہیں آتا۔ تیسری ترکیب شاید سب سے زیادہ ظاہر اور نظر آنے والی ہے۔ یہ ان دیواروں اور بیرئیر پر مشتمل ہے جو ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے ارد گرد لگائے جاتے ہیں تاکہ ناپسندیدہ عناصر کو باہر رکھا جا سکے۔ ایک طرح سے یہ اعلانِ عام ہے کہ ان سوسائٹیوں میں بسنے والی اشرافیہ دیگر سماج سے بالاتر اور بہتر ہے اور جو کوئی بھی اس طبقہ سے تعلق نہیں رکھتا وہ مجرم نہیں تو مشکوک و ملزم ضرور ہے۔ اپنے امتیاز کا اس فاسد طریقے سے ڈھنڈورا پیٹتی ہوئی اشرافیہ نئی سوسائیٹیوں کے علاوہ ڈیفنس، ماڈل ٹاؤن اور چھاؤنی کے علاقوں میں بھی بستی ہے۔ توانہیں تین تراکیب کو مختلف تناسب میں استعمال کر تے ہوے شہر کی فضا و خلا کو از سرِ نو تشکیل دینے کا سلسلہ جاری ہے تاکہ ناپسندیدہ لوگوں کی آمدورفت کوکنٹرول کیا جا سکے۔

یہی وجہ ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں میں جوان ہونے والی لاہوری مڈل کلاس کا شہر کی بیشتر آبادی سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ انگریزی میڈیم اسکولوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور لاہور کے مڈل کلاس نوجوانوں کا عالمی پاپولر کلچر سے لگاؤ بھی ان کی بیگانگیت اورسماج سے دوری کے اسباب ہیں۔ آپ ساری عمر شاہراہوں، خیابانوں اور فلائی اوورز سے گزرتے رہیں تو شاید کبھی بھی اس غربت اور پسماندگی سے واسطہ نہ پڑے جو آپ کے خوبصورت علاقے کے ساتھ ساتھ موجود توہے پر ان تعمیراتی منصوبوں کی وجہ سے آپ کی نگاہوں سے اوجھل کر دی گئی ہے۔

لگتا ہے کہ شہر میں اس دوشکلی دنیا کی تعمیر سے اشرافیہ کو مستقل قبض بھی ہو گیا ہے۔ انہیں ہر وقت فکر لگی رہتی ہے کہ پسماندہ اور غریب علاقے جواشرافیہ کے تصوراتِ زندگی میں محض غلاظت، جرم، جہالت اور عیاشی کا گڑھ ہیں ان کو کسی نہ کسی طرح کنٹرول میں رکھا جائے تاکہ کل کائناتی نظام برقرار رکھا جا سکے۔ دوسری جانب محنت کش طبقات کا اپنے شہر سے تعلق مزیدمبہم اور غیر یقینی ہورہا ہے۔ ان کی آنکھوں کے سامنے شہر کا جغرافیہ بدل رہا ہے، دولت اور پیسہ کی فراوانی ہے، ہر طرف عالمی منڈی کی اشیاء بک رہی ہیں مگر اس بندر بانٹ میں یہ محض خاموش تماشائی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس دور میں شہروں میں فسادات میں خاص طور پر دکانوں، بنکوں، گاڑیوں اور امارت کی نشانیوں پر حملہ ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ جنہیں خاموش تماشائی بنایا جا رہا ہے وہ ان تمام چیزوں کو غریب دشمنی کی نشانیا ں سمجھتے ہیں۔ پاکستانی ریاست اور اشرافیہ ان سے نمٹنے کے لئے نوآبادیاتی دور کی پالیسیاں اختیار کر رہی ہے اورسیاسی مزاحمت کو جرم قرار دیا جاتا ہے اور شہری علاقوں میں کنٹرول کی آمرانہ اور عسکریتی پالیسیاں مرتب کی جا رہی ہیں۔

شہری علاقے اور عسکریتی پالیسیاں
مطالعہ شہر سازی کے عالمی سکالر سٹیفن گراہم کے نزدیک پوری دنیا کی حکومتوں نے شہری علاقوں اور آبادیوں کو کنٹرول کرنے کے لئے جنگی تراکیب کا استعمال شروع کر دیا ہے۔

لاہور کی کہانی بھی مختلف نہیں البتہ یہاں کی عسکریتی پالیسیوں میں نوآبادیاتی ریاستی اہلکاروں کی پالیسیوں کی جھلک نظر آ تی ہے۔ انڈیا میں برطانوی ملٹری کے لئے پنجاب نہایت اہم تھا اور چھاؤنیوں کا قیام شہر سازی کی عمل کی شروعات بنا۔ کسی بھی بڑی شہر میں عسکری چھاؤنیوں کا قیام نوآبادیتی ریاست کا خاصہ ہے جس کی مثال اور کہیں نہیں ملتی۔ یہاں تک کہ حفظانِ صحت کے لئے قانون سازی میں یہ پہلو بھی تھا کہ برطانوی انڈین آرمی کے سپاہیوں کو تحفظ دیا جا سکے اور یہ ریگولیشن چھاؤنی اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں فوج نے ہی لاگو کی تھی۔ اسّی کی دہائی سے لاہور شہر میں فوج اور سویلین انتظامیہ کے آپس کے تعلقات زیادہ مضبوط ہوتے دکھائے دیے اور لاہور کی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں پاک فوج کا عمل دخل بھی بڑھ گیا۔

فوج شہر کے پرمنعفت علاقوں میں زمین کی خریدوفروخت کو جس طرح ریگولیٹ کرتی ہے اسکی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔ چھاؤنی میں قدم رکھتے ہی فوج کی قوت کا احساس ہوتا ہے ۔ ہر چوراہے اور داخلی راستے پر جنگ کی تیاری مکمل کئے فوجی سپاہی کھڑیں ہیں۔ یہاں جنگ کا استعارہ بہت مناسب ہے۔ یاد رہے کہ ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے کے لئے چرڑپنڈ کے کاشتکاروں سے زمین بندوق کے زور پر ہی ہتھیائی گئی تھی۔ اب یہ لوگ ڈیفنس میں موجود کچی آبادیوں تک محدود ہو گئے ہیں اور ان کی آمد و فت پر ڈی ایچ اے کے سیکیورٹی گارڈ کڑی نظر رکھتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سماج کی تشکیل جنگ و تشدد کی بنیادپر ہوتی ہے اور یہ تشدد کبھی مکمل طور پرغائب نہیں ہوتا۔ امن و امان کی حالت میں بھی یہ تشدد سماج کی ساخت میں نقش ہوتا ہے اور جب بھی ریاستی طاقت افراد پر مسلط کی جاتی ہے تو یہ تشکیلی تشدد اپنا وجود ظاہر کردیتا ہے۔ اسی تشکیلی تشدد کے ذریعے طاقت اپنے تابع علاقوں اور انسانوں پر اپنی برتری بار بار قائم کرتی ہے۔ بالخصوص جب نوجوان ان علاقوں میں قدم رکھتے ہیں تو انہیں چیک پوسٹوں پر روکا جاتا ہے، ان کی تلاشی لی جاتی ہے۔ اور اگر یہ نوجوان پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتے ہوں تو ان کی تلاشی لینے کے امکان اور بھی بڑھ جاتا ہیں۔

ڈی ایچ اے واحد ادارہ نہیں جو اپنی قوت کا اظہارڈنکے کی چوٹ پر کرتا ہے۔ آج روزمرہ زندگی عسکریت پسندی اور جنگ وتشدد سے لبریز ہے اور حالات مزید بگڑ رہے ہیں ۔ اسکی حقیقی وجہ توہے اشرافیہ کا قبض یعنی جرائم پیشہ افراد کا خوف اور نظم و ضبط قائم کرنے کا شوق ۔ اس قبض کی وجہ سے وہ پوری شہری زندگی کو اپنے مطابق ڈھال رہے ہیں۔ دن بدن پرائیوٹ سیکیورٹی گارڈز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، شہرِتوانگر اور شہرِ ناتوانگر کے درمیان رکاوٹیں اور چیک پوسٹیں بڑھتی چلی جا رہی ہیں اور اشرافیہ کے نوکروں کو رجسٹر کرنے کی بیہودہ کیمپین چلائی جا رہی ہیں تاکہ مالک کو نوکر سے تحفظ دیا جا سکے۔ پسماندہ علاقوں میں پولیس ہر فرد کو ملزم قرار دے رہی ہے اور اس کا جبر بڑھ رہا ہے۔

ایک طرف امراء اپنی ہاؤسنگ کالونیاں بنانے کے لئے سیکڑوں خاندانوں کو ان کے گھروں سے نکال رہے ہیں تو دوسری طرف غریبوں کے خلاف غیرانسانی رویہ اور ان کو بغیر وجہ مشکوک قرار دینے کا سلسئلہ بھی زور پکڑ رہا ہے۔ منافع کی اس اندھی دوڑ میں غریبوں کو لاہور کی ثقافتی زندگی سے باہر دکھیلا جا رہا ہے اور غریبوں کی رہائش کا بندوبست، ان کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کرنے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔

متبادل شہری نظام کا قیام

اس عہد کی شہری زندگی کو سرمایہ کے مطابق ڈھالا جا رہا ہے۔ سرمایے کی فطرت ہے کہ یہ ہمیشہ اضافی پیدوار ہضم کرنے کے چکر میں جہان ومکان کو بھی اپنے مقاصد کے لئے تباہ کر کے نئے سرے سے تشکیل دیتا ہے۔ سرمایہ کو بڑھانے کا جنون عام آدمی کو نظر انداز کرتے ہوے بلکہ اسے پاؤں کے نیچے روندتا ہوا بڑھتا چلا جاتا ہے ۔ رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں تیزی اور لاہور میں ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی بھر مار اسی جنون کی دین ہے۔ سماج میں پھیلے ہوئے رویہ اور تاثرات کو بھی سرمایہ اپنے مفاد کے لئے استعمال کرتا ہے۔ ایک منظم سماج کے قیام کا شوق، غریبوں کا خوف، اور جرائم کے بارے میں تعصبات قائم کر کے سرمایہ اپنے مفاد کا کھیل بخوبی کھیلتا ہے۔

افسوس تو اس بات کا ہے کہ غریب دشمنی کے اس کھیل میں لاہور کی مڈل کلاس کا جھکاؤ سرمایہ کی طرف ہے۔ سیاسی شعور رکھنے والی یہ مڈل کلاس غریبوں کو مجرم قرار دینے کے خلاف آواز نہیں اٹھاتی اور نہ ہی حکومت پر دباؤ ڈالتی ہے کہ وہ غریبوں کے لئے رہائش کا بندوبست کرے۔ اس کے برعکس ان کی سیاسی سوچ دنیا کو دو حالتی تصور کرتی ہے جس میں ایک طرف تو پڑھے لکھی مڈل کلاس ہے اور دوسری طرف جاہل ہجوم۔ جب بھی یہ مڈل کلاس لاہور کے مسائل پر بات کرتی ہے تو اسی دو حالتی نظریہ کی بنیاد پر پسماندہ طبقات کوکم تر قرار دیتی ہے اور خود کو حاصل سہولیات و امتیاز کو اپنا حق تصور کرتی ہے۔ پسماندہ طبقات کی طرف یہ رویہ، کہ وہ پسماندہ ہیں اس لئے کمتر، ان کو مزید پسماندگی کی طرف دکھیلنے کا سبب بن جاتا ہے۔ اس رویہ کو تبدیل کرنے کے لئے طلباء اور دانشوروں کو محنت کش طبقات کی جدوجہد کی ساتھ جڑنا پڑے گا تاکہ حقیقی طور پر ایک منصفانہ سماج کی بنیاد رکھی جا سکے۔ یہی اتحاد ہمیں مشرقِ وسطیٰ اور ترکی میں نظر آتا ہے جہاں تبدیلی کے لئے اس مڈل کلاس کی شمولیت نہایت ضروری اور اہم رہی ہے۔

لیکن مڈل کلاس کی شمولیت کافی نہیں کیونکہ محنت کش طبقات کی اپنی جدوجہد ہی سے حقیقی تبدیلی آسکے گی۔ اس کے لئے ہمیں شہر میں محنت کش طبقات کی جدوجہد کی جائزہ بھی لینا پڑے گا۔ لاہور کے کئی پسماندہ علاقوں میں محنت کش طبقات نے جلسے جلوس، ریلیاں نکالی گئی خاص طور پر لوڈ شیڈنگ کے مسئلے پر لیکن اس کے علاوہ پولیس کے جبر کے خلاف بھی، کچی آبادیوں سے بیدخلی اور روز مرہ کی آفتوں اور مصیبتوں کے خلاف بھی۔ اگرچہ ان ریلیوں اور احتجاجی جلسوں سے ہمیں اس نظام کے تضادات کا پتہ لگتا ہے اور شہر میں جدوجہد کے بارے میں بھی معلوم ہوتا ہے مگران کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر رویوں میں تبدیلی نہیں آ سکی۔ اس طغیان کو انقلابی طوفان بنانے کے لئے کوئی خاطر خواہ کام نہیں ہو سکا۔ لیکن امید کی کرن باقی ہے کیونکہ استنبول اور ساؤ پائلو میں شہریوں کے بڑے پیمانے پر احتجاج سے تو نظر آ رہا ہے کہ سرمایہ داروں اور حکومت کی پالیسیوں کے خلاف شہری علاقوں میں نئے طریقوں سے جدو جہد تشکیل دینے اور کامیابی حاصل کرنے کے امکان بڑھ چکے ہیں۔

اگر ہم نے لاہور شہر اور سیاسی عمل میں تعلق پیدا کرنا ہے تو ہمیں اس بات کا ادراک کرنا پڑے گا کہ یہ ایسی نئی سوچ سے ہی ممکن ہے جو سماج کے حاشیوں سے ابھرے گی، یعنی کوٹ لکھ پت، شاہدرہ، ٹھوکر نیاز بیگ اور اسی طرح کے دیگر محنت کش علاقے، کیونکہ یہاں کہ باشندے حکمرانوں کی امتیازی پالیسیوں کا شکار ہیں اور شہر کی ثقافت اور مراعات تک رسائی حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ ان لوگوں کو ان پڑھ، گنوار قرار دینے کہ بجائے ان کے ساتھ جڑ کر کام کرنا ہو گا۔ شہری مسائل پر ایک چارٹر آف ڈیمانڈزیعنی منشورِ مطالبات مرتب کرنا ہو گا جس میں زمین پر سٹہ بازی کا خاتمہ ،ر شہر کے تمام مکینوں کے لئے رہائش کے انتظام، بنیادی سہولیات مہیا کرنا، اور امراء کے علاقوں سے رکاوٹیں چیک پوسٹیں اور غریبوں کو مشکوک و ملزم و مجرم دینے کا سلسئلہ ختم کرنے کے مطالبات ہوں۔ اس طرح ہم شہر کے تمام مکینوں کو شہری ترقی میں برابر کا حصہ دار بنا سکتے ہیں۔

ان مطالبات کی وجہ سے شہر کے غریب سیاسی اور سماجی زندگی میں دوبارہ سے شامل ہو سکیں گے اور شہر کے مکین ایک دوسری کے وجود اور برابر حیثیت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اگر غریبوں کو چھپانے کی کوششیں جاری رہیں تو نہ صرف پسماندہ طبقات مزید پسماندہ ہوتے جائیں گے بلکہ مڈل کلاس اور اشرافیہ کا قبض بھی شدت اختیار کر لے گا۔ غریب اور محنت کش طبقات کے مسائل حل کئے بغیر بالادست طبقات اپنے پنجروں میں بند ہو کہ رہ جائیں گے اور انہیں مزید سیکیورٹی اور تحفظ کی ضرورت محسوس ہونے لگی گی جس سے پاکستانی سماج میں تفریق مزید بڑھ جائے گی۔

طاقت اور طاقتوروں کے فاسد کھیل کو ختم کرنے کے لئے عام آدمی کی اشتراکی اور اجتماعی جدوجہد ہی کام آتی ہے ۔ ایک آمرانہ، جابرانہ، اور ناقص شہری معاشرے سے ہمیں بچانے کے لئے لوگوں کا اتحاد اور اشتراک ہی امید کی کرن ہے کہ ہم اس کی بدولت با لآخر اپنی نوآبادیاتی ماضی کے بھوت سے چھٹکارا پا سکیں۔

عمار علی جان کیمبرج یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی طالبِ علم ہیں اور عوامی ورکرز پارٹی کے سیاسی کارکن بھی۔

Tags: , , , , , , ,

2 Responses to

لاہورکی اشرافیہ کا قبض

  1. […] کو عسکریتی ساخت میں ڈھالنے کی انتہا ہو گئی ہے۔ حصار بند ہاوسنگ سوسائٹیوں کے بھر مار ہے، اور اسکے ساتھ سڑکوں کا وسیع جال جس کا […]

  2. […] Source شرفاء کا لاہور اور شریف برادران کا پیرس لاہور اور پیرس میں مماثلت کا یہ بیان یقیناَ اس حکومت کو ناگوار گزرے گا۔ 1848کے ادھورے انقلاب کے بعد پیرس کو ایک ایسامثالی شہر بنانے کی تجربہ شروع ہوا جس میں عوامی و عمومی جگہوں سے سیاسی مخالفین اورپسماندہ طبقات کا نام ونشان مٹا کر شہر کو قوم اور ریاست کی قوت کا اظہار بنا یا گیا۔ جارجز یوجین ہاسمین کے تعمیر کردہ اس شہر نے پوری دنیا کے شہری منصوبوں پراپنا اثر چھوڑا۔ ہاسمین ایک ایسے شہرکی تعمیر کا خواہاں تھا جس میں وسیع شاہراہوں کا جال بچھا ہواور یہ جال بچھانے کے لئے ہاسمین نے شہر کے وسط میں موجودغریب اور پسماندہ علاقوں کا خاتمہ کیا۔ کرایہ کے گھر اتنے مہنگے ہو گئے کہ غریب شہریوں کو مجبوراَ مضافاتِ شہر منتقل ہوناپڑا۔ خیابانوں کو وسیع کرنے اور لمبی شاہراہیں بنانے کا ایک اور مقصد بھی تھا ۔ اگر پیرس کے مکین 1848کے بعد دوبارہ انقلابی جوش سے ریاست کے خلاف کھڑے ہوں توان پر قابو پانے کے لئے پولیس اور فوج کو جلد از جلد شہر کے مختلف علاقوں تک پہنچایا جا سکے۔ لاہور میں ہاسمین کی بدروح نوے کی دہائی سے بھٹکنا شروع ہوئی ا ور متواتر حکومتوں کے سرمنظم معاشرہ کی تشکیل کا بھوت سوار ہو ا۔ حکمرانوں نے غربت مٹانے کے بجائے اسے چھپانے اور شہر کو سطحی طور پرخوبصورت بنانے کا بیڑاٹھا لیا۔ شاہراہیں اور فلائی اوورز کی تعمیر زوروشور سے شروع کی گئی اور گلبرگ، ماڈل ٹاؤن، ڈیفنس ، کنال کے اردگرد کے علاقے، اور ٹھوکر نیاز بیگ کے مضافات میں بننی والی نئی رہائشی سکیموں کے درمیان وسیع خیابانوں کا ایک جال بچھا دیا گیا۔ پھران علاقوں میں بین الاقوامی فرنچآئزیں، بڑے بڑے شاپنگ مال، ریسٹورانٹ اور کیفے بنناشروع ہوگئے اور لاہور کی مڈل کلاس بین الاقوامی صارفین کی ہم عصر بن کرکنزیومر کلچر کا حصہ بن گئی۔شہری تعمیرو ترقی کےاس دور میں لاہور اور اس کے مضافات میں زمین کی قیمتیں برق رفتاری سے بڑھیں خاص طور پر 2001 کے بعد پاکستان کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں آسان منافع کے ساہوکاروں نے لا محدود خریدوفروخت کی۔ اسی دور میں ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا کاروباربھی خوب چمکا اور اوپری مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے زیادہ سے زیادہ لوگوں ان سوسائیٹیوں میں گھر خرید کر اپنا نام بھی نام نہاد مہذبین کی فہرست میں درج کروانے لگے۔ حکومتی اہلکاروں اور سرمایہ داروں نے پراپرٹی کے کاروبار کو زور وشور سے جاری رکھا اور سٹہ بازی کا بازار بھی خوب گرم ہوا۔منافع کے پیچھے اس اندھی دوڑ میں کسی نے بےزمین طبقات کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ ملکیت رکھنے والے طبقات کوسماجی ترقی کے بے مثال مواقع ملے مگر بے زمین طبقات کو مزید نیچے دکھیلا گیا۔ بڑھتے ہوئے کرایوں کا مطلب تھا کہ معیاری رہائش ان کی استطاعت سے باہر تھی۔ دیہاتوں سے شہروں تک نکل مکانی اور شہر کا پھیلاؤ بڑھنے کی وجہ سے لاہور کی آبادی میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا۔ اس آبادی کا بیشتر حصہ ان طبقات سے تھا جو شہر کا نقشہ بدل دینے والے اس ترقیاتی معجزے سے کوئی فائدہ نا پاسکے لیکن وہ اس کی تباہ کاریوں سے بخوبی واقف تھے کیونکہ جب کبھی شہر کے اشرافیہ اور ریئل اسٹیٹ ٹائکون نئی سوسائٹی بنانے کے لئے زمین تلاش کرتے تو سب سے پہلے غریب شہریوں کے گاؤں اور کچی آبادیاں اجاڑی جاتیں ہیں۔آج شہر کے پسماندہ محلوں میں خلقت کی کثرت اتنی کہ آدمی پر آدمی گر رہا ہو۔ سرکاری اہلکار ان علاقوں کی فلاح وبہبود کے لئے کچھ نہیں کرتے کیونکہ ان علاقوں میں صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات مہیا کرنے کے لئے پیسہ نہیں،اور جو پیسہ ہے اس پرتو گویا شہر کے امراء اور اشرافیہ کا حق ہے کیونکہ یہ عالمی اور مقامی منڈیو ں کے صارفین ہیں۔ درحقیقت حکمرانوں اور اشرافیہ کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ اگر لاہور کو مشرق کا پیرس بنانا ہے تو غربت اور پسماندگی کو رکاوٹ بننے نہی دیا جا سکتا۔ شہر کا جغرافیہ یورپی طرز پہ تشکیل دینے کے لئے غربت اور پسماندگی ختم کرنا ضروری نہیں اور نہ ہی حکومت کا ایسا کرنے کا کوئی ارادہ۔ لیکن یہ بہت ضروری ہے کہ غریبوں اور غربت کو اس طرح چھپایا جائے کہ مقامی اور بین الاقوامی صارفین اور اشرافیہ کی آنکھوں پر بوجھ نہ پڑے۔ پس یہی ایک مسئلہ ہے جس کے حل کی تگ و دو میں ہیں آج کے لاہور کے حکمران کوشاں۔ اور ان کا رویہ ہو رہا ہے روزبروزجابرانہ اور آمرانہ اور غیر منصفانہ۔ ان پالیسیوں کےنتیجے میں اشرافیہ اور محنت کش طبقات کے درمیان ظاہر اور مخفی دیواریں کھڑی کر کہ لاہور کو دو شکلی شہر بنایا جا چکہ ہے۔شہرِتوانگراورشہرِناتوانگرمیں تقسیم کرنے کے لئے تین تراکیب استعمال کی گئیں۔ پہلی ترکیب ہے سڑکوں اور فلائی اورز کا ایسا جال بچھانا کہ اشرافیہ ایک سے دوسرے علاقےکا سفر کریں تودرمیان میں بسنے والے سینکڑوں لوگوں کے پسماندہ حالاتِ زندگی سے لاعلمی و لاتعلقی کارویہ قائم رکھ سکیں۔ اس کی ایک مثال جناح فلائی اوور ہےجوگلبرگ کوڈیفنس سےملاتا ہے اورجس کے نیچے شہر کے وہ پرانے اور نظر انداز محلے ہیں جہاں کئی دہائیوں سے محنت کش طبقات رہتے ہیں۔ اس فلائی اوور کی بدولت شہر کے اشرافیہ غریب طبقات سے دوررہ کر لاہور کو ایک یورپی شہر تصور کرتے ہوے روز خراماں خراماں روانِ سفر ہیں۔ دوسری ترکیب سڑکوں کو چوڑا کرتے ہوئے گھروں، دکانوں اور مین روڈوں پر بنی تجاوزات کوپیچھے دکھیلنے پر مشتمل ہے۔ اس تخلیقی تباہ کاری کا نمونہ فیروزپور روڈ اور ٹاؤن شپ کے علاقوں میں ملتا ہے جو کوٹ لکھ پت کے برابر ہیں۔ کوٹ لکھ پت جوجنگجو ٹریڈیونین کی کاروائیوں کا گڑھ رہا ہے اب سڑک پر تیز رفتار گاڑیوں میں گزریں تو یہ علاقہ نظر بھی نہیں آتا۔ تیسری ترکیب شاید سب سے زیادہ ظاہر اور نظر آنے والی ہے۔ یہ ان دیواروں اور بیرئیر پر مشتمل ہے جو ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے ارد گرد لگائے جاتے ہیں تاکہ ناپسندیدہ عناصر کو باہر رکھا جا سکے۔ ایک طرح سے یہ اعلانِ عام ہے کہ ان سوسائٹیوں میں بسنے والی اشرافیہ دیگر سماج سے بالاتر اور بہتر ہے اور جو کوئی بھی اس طبقہ سے تعلق نہیں رکھتا وہ مجرم نہیں تو مشکوک و ملزم ضرور ہے۔ اپنے امتیاز کا اس فاسد طریقے سے ڈھنڈورا پیٹتی ہوئی اشرافیہ نئی سوسائیٹیوں کے علاوہ ڈیفنس، ماڈل ٹاؤن اور چھاؤنی کے علاقوں میں بھی بستی ہے۔ توانہیں تین تراکیب کو مختلف تناسب میں استعمال کر تے ہوے شہر کی فضا و خلا کو از سرِ نو تشکیل دینے کا سلسلہ جاری ہے تاکہ ناپسندیدہ لوگوں کی آمدورفت کوکنٹرول کیا جا سکے۔یہی وجہ ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں میں جوان ہونے والی لاہوری مڈل کلاس کا شہر کی بیشتر آبادی سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ انگریزی میڈیم اسکولوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور لاہور کے مڈل کلاس نوجوانوں کا عالمی پاپولر کلچر سے لگاؤ بھی ان کی بیگانگیت اورسماج سے دوری کے اسباب ہیں۔ آپ ساری عمر شاہراہوں، خیابانوں اور فلائی اوورز سے گزرتے رہیں تو شاید کبھی بھی اس غربت اور پسماندگی سے واسطہ نہ پڑے جو آپ کے خوبصورت علاقے کے ساتھ ساتھ موجود توہے پر ان تعمیراتی منصوبوں کی وجہ سے آپ کی نگاہوں سے اوجھل کر دی گئی ہے۔لگتا ہے کہ شہر میں اس دوشکلی دنیا کی تعمیر سے اشرافیہ کو مستقل قبض بھی ہو گیا ہے۔ انہیں ہر وقت فکر لگی رہتی ہے کہ پسماندہ اور غریب علاقے جواشرافیہ کے تصوراتِ زندگی میں محض غلاظت، جرم، جہالت اور عیاشی کا گڑھ ہیں ان کو کسی نہ کسی طرح کنٹرول میں رکھا جائے تاکہ کل کائناتی نظام برقرار رکھا جا سکے۔ دوسری جانب محنت کش طبقات کا اپنے شہر سے تعلق مزیدمبہم اور غیر یقینی ہورہا ہے۔ ان کی آنکھوں کے سامنے شہر کا جغرافیہ بدل رہا ہے، دولت اور پیسہ کی فراوانی ہے، ہر طرف عالمی منڈی کی اشیاء بک رہی ہیں مگر اس بندر بانٹ میں یہ محض خاموش تماشائی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس دور میں شہروں میں فسادات میں خاص طور پر دکانوں، بنکوں، گاڑیوں اور امارت کی نشانیوں پر حملہ ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ جنہیں خاموش تماشائی بنایا جا رہا ہے وہ ان تمام چیزوں کو غریب دشمنی کی نشانیا ں سمجھتے ہیں۔ پاکستانی ریاست اور اشرافیہ ان سے نمٹنے کے لئے نوآبادیاتی دور کی پالیسیاں اختیار کر رہی ہے اورسیاسی مزاحمت کو جرم قرار دیا جاتا ہے اور شہری علاقوں میں کنٹرول کی آمرانہ اور عسکریتی پالیسیاں مرتب کی جا رہی ہیں۔شہری علاقے اور عسکریتی پالیسیاں مطالعہ شہر سازی کے عالمی سکالر سٹیفن گراہم کے نزدیک پوری دنیا کی حکومتوں نے شہری علاقوں اور آبادیوں کو کنٹرول کرنے کے لئے جنگی تراکیب کا استعمال شروع کر دیا ہے۔لاہور کی کہانی بھی مختلف نہیں البتہ یہاں کی عسکریتی پالیسیوں میں نوآبادیاتی ریاستی اہلکاروں کی پالیسیوں کی جھلک نظر آ تی ہے۔ انڈیا میں برطانوی ملٹری کے لئے پنجاب نہایت اہم تھا اور چھاؤنیوں کا قیام شہر سازی کی عمل کی شروعات بنا۔ کسی بھی بڑی شہر میں عسکری چھاؤنیوں کا قیام نوآبادیتی ریاست کا خاصہ ہے جس کی مثال اور کہیں نہیں ملتی۔ یہاں تک کہ حفظانِ صحت کے لئے قانون سازی میں یہ پہلو بھی تھا کہ برطانوی انڈین آرمی کے سپاہیوں کو تحفظ دیا جا سکے اور یہ ریگولیشن چھاؤنی اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں فوج نے ہی لاگو کی تھی۔ اسّی کی دہائی سے لاہور شہر میں فوج اور سویلین انتظامیہ کے آپس کے تعلقات زیادہ مضبوط ہوتے دکھائے دیے اور لاہور کی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں پاک فوج کا عمل دخل بھی بڑھ گیا۔فوج شہر کے پرمنعفت علاقوں میں زمین کی خریدوفروخت کو جس طرح ریگولیٹ کرتی ہے اسکی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔ چھاؤنی میں قدم رکھتے ہی فوج کی قوت کا احساس ہوتا ہے ۔ ہر چوراہے اور داخلی راستے پر جنگ کی تیاری مکمل کئے فوجی سپاہی کھڑیں ہیں۔ یہاں جنگ کا استعارہ بہت مناسب ہے۔ یاد رہے کہ ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے کے لئے چرڑپنڈ کے کاشتکاروں سے زمین بندوق کے زور پر ہی ہتھیائی گئی تھی۔ اب یہ لوگ ڈیفنس میں موجود کچی آبادیوں تک محدود ہو گئے ہیں اور ان کی آمد و فت پر ڈی ایچ اے کے سیکیورٹی گارڈ کڑی نظر رکھتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سماج کی تشکیل جنگ و تشدد کی بنیادپر ہوتی ہے اور یہ تشدد کبھی مکمل طور پرغائب نہیں ہوتا۔ امن و امان کی حالت میں بھی یہ تشدد سماج کی ساخت میں نقش ہوتا ہے اور جب بھی ریاستی طاقت افراد پر مسلط کی جاتی ہے تو یہ تشکیلی تشدد اپنا وجود ظاہر کردیتا ہے۔ اسی تشکیلی تشدد کے ذریعے طاقت اپنے تابع علاقوں اور انسانوں پر اپنی برتری بار بار قائم کرتی ہے۔ بالخصوص جب نوجوان ان علاقوں میں قدم رکھتے ہیں تو انہیں چیک پوسٹوں پر روکا جاتا ہے، ان کی تلاشی لی جاتی ہے۔ اور اگر یہ نوجوان پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتے ہوں تو ان کی تلاشی لینے کے امکان اور بھی بڑھ جاتا ہیں۔ڈی ایچ اے واحد ادارہ نہیں جو اپنی قوت کا اظہارڈنکے کی چوٹ پر کرتا ہے۔ آج روزمرہ زندگی عسکریت پسندی اور جنگ وتشدد سے لبریز ہے اور حالات مزید بگڑ رہے ہیں ۔ اسکی حقیقی وجہ توہے اشرافیہ کا قبض یعنی جرائم پیشہ افراد کا خوف اور نظم و ضبط قائم کرنے کا شوق ۔ اس قبض کی وجہ سے وہ پوری شہری زندگی کو اپنے مطابق ڈھال رہے ہیں۔ دن بدن پرائیوٹ سیکیورٹی گارڈز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، شہرِتوانگر اور شہرِ ناتوانگر کے درمیان رکاوٹیں اور چیک پوسٹیں بڑھتی چلی جا رہی ہیں اور اشرافیہ کے نوکروں کو رجسٹر کرنے کی بیہودہ کیمپین چلائی جا رہی ہیں تاکہ مالک کو نوکر سے تحفظ دیا جا سکے۔ پسماندہ علاقوں میں پولیس ہر فرد کو ملزم قرار دے رہی ہے اور اس کا جبر بڑھ رہا ہے۔ایک طرف امراء اپنی ہاؤسنگ کالونیاں بنانے کے لئے سیکڑوں خاندانوں کو ان کے گھروں سے نکال رہے ہیں تو دوسری طرف غریبوں کے خلاف غیرانسانی رویہ اور ان کو بغیر وجہ مشکوک قرار دینے کا سلسئلہ بھی زور پکڑ رہا ہے۔ منافع کی اس اندھی دوڑ میں غریبوں کو لاہور کی ثقافتی زندگی سے باہر دکھیلا جا رہا ہے اور غریبوں کی رہائش کا بندوبست، ان کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کرنے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔متبادل شہری نظام کا قیاماس عہد کی شہری زندگی کو سرمایہ کے مطابق ڈھالا جا رہا ہے۔ سرمایے کی فطرت ہے کہ یہ ہمیشہ اضافی پیدوار ہضم کرنے کے چکر میں جہان ومکان کو بھی اپنے مقاصد کے لئے تباہ کر کے نئے سرے سے تشکیل دیتا ہے۔ سرمایہ کو بڑھانے کا جنون عام آدمی کو نظر انداز کرتے ہوے بلکہ اسے پاؤں کے نیچے روندتا ہوا بڑھتا چلا جاتا ہے ۔ رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں تیزی اور لاہور میں ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی بھر مار اسی جنون کی دین ہے۔ سماج میں پھیلے ہوئے رویہ اور تاثرات کو بھی سرمایہ اپنے مفاد کے لئے استعمال کرتا ہے۔ ایک منظم سماج کے قیام کا شوق، غریبوں کا خوف، اور جرائم کے بارے میں تعصبات قائم کر کے سرمایہ اپنے مفاد کا کھیل بخوبی کھیلتا ہے۔افسوس تو اس بات کا ہے کہ غریب دشمنی کے اس کھیل میں لاہور کی مڈل کلاس کا جھکاؤ سرمایہ کی طرف ہے۔ سیاسی شعور رکھنے والی یہ مڈل کلاس غریبوں کو مجرم قرار دینے کے خلاف آواز نہیں اٹھاتی اور نہ ہی حکومت پر دباؤ ڈالتی ہے کہ وہ غریبوں کے لئے رہائش کا بندوبست کرے۔ اس کے برعکس ان کی سیاسی سوچ دنیا کو دو حالتی تصور کرتی ہے جس میں ایک طرف تو پڑھے لکھی مڈل کلاس ہے اور دوسری طرف جاہل ہجوم۔ جب بھی یہ مڈل کلاس لاہور کے مسائل پر بات کرتی ہے تو اسی دو حالتی نظریہ کی بنیاد پر پسماندہ طبقات کوکم تر قرار دیتی ہے اور خود کو حاصل سہولیات و امتیاز کو اپنا حق تصور کرتی ہے۔ پسماندہ طبقات کی طرف یہ رویہ، کہ وہ پسماندہ ہیں اس لئے کمتر، ان کو مزید پسماندگی کی طرف دکھیلنے کا سبب بن جاتا ہے۔ اس رویہ کو تبدیل کرنے کے لئے طلباء اور دانشوروں کو محنت کش طبقات کی جدوجہد کی ساتھ جڑنا پڑے گا تاکہ حقیقی طور پر ایک منصفانہ سماج کی بنیاد رکھی جا سکے۔ یہی اتحاد ہمیں مشرقِ وسطیٰ اور ترکی میں نظر آتا ہے جہاں تبدیلی کے لئے اس مڈل کلاس کی شمولیت نہایت ضروری اور اہم رہی ہے۔لیکن مڈل کلاس کی شمولیت کافی نہیں کیونکہ محنت کش طبقات کی اپنی جدوجہد ہی سے حقیقی تبدیلی آسکے گی۔ اس کے لئے ہمیں شہر میں محنت کش طبقات کی جدوجہد کی &

Leave a Reply

Your email address will not be published.