حساب کتاب کے روزے | دانش مصطفیٰ کا بلاگ

مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں
ہو نہ جاۓ تجھ سے بھی تکرار، میں روزے سے ہوں

میرا روزہ اک بڑا احسان ہے لوگوں کے سر
مجھ کو ڈالو موتیے کے ہار، میں روزے سے ہوں

میں نے ہر فائل کی دمچی پر یہ مصرع لکھ دیا
کام ہو سکتا نہیں سرکار، میں روزے سے ہوں

پاکستان میں روزہ رکھنے والے زیادہ تر لوگوں کے رویے کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ شاید خدا، معاشرے اور میرے جیسے گناہ گار کو انکا ممنون ہونا چاہیے۔ پاکستانیوں کے اس رویے کے پس منظر میں میرا کراچی سے اسلام آباد تک کا پی آئی اے کا ایک سفر قابلِ ذکر ہے۔

ایسا لگ رہا تھا جیسے شام 6 بجے کی پرواز میں سب روزے سے تھے یا وہ میری طرح شاید ایسا ظاہر کر رہے تھے۔ یہ بات فہم سے بالا ہے کہ سفر میں روزہ معاف ہوتا ہے۔ بعض راسخ العقیدہ مسلمانوں کے خیال میں شاید سفر میں، ڈرائیونگ کرتے ھوئے، یا پھر جہاز چلاتے ہوئے روزہ رکھنے کی خدا اضافی نیکیاں دیتا ہے۔ جہاز کے اڑتے ہی افطار پیک اس معزرت کے ساتھ بانٹ دیے گئے کہ شام 7:16 پر اسلام آباد میں افطار کا وقت ہو گا اور وہ وقت لینڈنگ کا بھی ہو گا جسکی وجہ سے اس وقت کھانا نہیں دیا جا سکے گا۔ ظاہر ہے کہ ٹیبل ٹرے کے حفاظتی تکلفات روزہ داروں کے افطار کے میں رخنہ نہیں ڈال سکتے۔ 7:16 ہوتے ہی میں نے کھانا شروع کر دیا تو میرے ساتھ والے مسافر نے مجھے تنبہہ کی کہ سورج ابھی تک سامنے ہے۔ یقینی بات ہے کہ 35000 فٹ کی بلندی پہ سورج زمین کے مقابلے میں زیادہ دیر تک دیکھائی دے گا! فلائیٹ کیبن میں لوگوں کی بحث شروع ہو گئی کہ زمین پر وقت ہو جانے کے باوجود فلائیٹ میں روزہ افطار کرنا چاہئے کہ نہیں۔

کھٹمنڈو جانے والی فلائیٹ میں میں نے نوٹ کیا کہ کیبن میں بیٹھے ریزرو پائیلٹ باقیوں کے ساتھ ناشتہ نہیں کر رہے وہ بھی شاید روزے کی حالت میں تھے اور انہوں نے شاید جہاز کھٹمنڈو سے واپس لے کر آنا تھا۔ ایک دفعہ لندن سے پی آئی اے کی پرواز کے فلائیٹ اٹینڈنٹ نے بڑے فخر سے اعتراف کیا کہ وہ روزے سے ہے اور اسکے خیال سے کپتان اور سیکنڈ افسر بھی روزے سے تھے۔ کیری سکوفیلڈ نے اپنی کتاب میں بغیر کسی طنز کے ذکر کیا کہ کشمیر میں آنے والے زلزلے کے دوران آرمی ایوی ایشن کے پائلٹ بھی روزے سے تھے۔

یہاں پہ معاشرے کی ضروریات اور انفرادی بخشش کے درمیان توازن، اور لوگوں کی اسلامی قانون کی سمجھ جیسے دو مسائل اٹھتے ہیں۔ پہلے مسلے کو لیتے ہیں. ایک نکتہ نظر یہ ہے کہ انفرادی بخشش، سماجی تقاضوں کو نبھاے بغیر ناممکن ہے۔ لیکن آج کل کے حالات کو دیکھ کر سوال اٹھتا ہے کہ کیا انفرادی بخشش سماجی تقاضوں سے پہلوتہی کر کے بھی ممکن ہے؟ مذہبی دائیں بازو، تبلیغی جماعت اور نیو لبرل اسلامسٹ اس سوال کا جواب اثبات میں دیں گے،بلکہ ان کی راۓ میں انفرادی بخشش اور سماجی تقاضے ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ ان کے پاس ایک پوری مزکورہ حساب کی سائنس ہے جو نیکی اور بدی کا حساب رکھتی ہے جومشکوک حد تک آج کی حساب کتاب پر مبنی نیو لبرل دنیا کی ثقافت اور سوچ کی مانند ہے۔

اس نیو لبرل دور میں بہت سے لوگ مغربی صارفیت اور فری مارکیٹ کی معیشت اور نیو لبرل ازم کے علمی اصولوں سے بہت متاثر ہیں۔ وہ نیو لبرل اخلاقیات کی حامل ایک پوری پاکستانی نسل کو جنم دے رہے ہیں جو کمزور اور غریب لوگوں کی نشاندہی کرنے پر بوریت کا اظہار کرتی ہے۔ طاقت ور کے مقبلے میں کمزور کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے نہ کے انفرادی دولت کی حفاظت۔ یہ بات پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پاکستان تحریکِ انصاف کے نیو لبرل ازم سے متاثر حواریوں کو انہونی لگتی ہے۔

اس نیو لبرل دور میں اخلاقی گراوٹ ایک بھیانک خواب کا روپ دھا رتی ہے۔ ایسے میں تبلیغی جماعت، اور اس کے جملہ مذہبی دائیں بازو کے حواری، روحانیت کو بھی نیو لبرل اقدار اور اخلاقیات کے ترازو میں تولتے اور بیچتے نظر آتے ہیں۔ ان کی سوچ میں خداوند دیہی پنجاب میں ایک پرائمری اسکول ٹیچر یا ایک چھوٹے دکان دار کی طرح ہے۔ اگر ایک منٹ پہلے روزہ افطار کر لیا ہے تو روزے کا کوئی ثواب نہیں ملے گا! اگر روزے کے درمیان میں دانت صاف کرتے ہوئے ٹوتھ پیسٹ منہ میں چلا گیا تو کوئی ثواب نہیں ملے گا! اگر سحری میں اونٹنی کا دودھ پیا تو دگنا ثواب ملے گا! خٗدا کے لیے ! وہ تمہارے ارادوں کو جانتا یا انکی پرواہ نہیں کرتا؟ خُدا کو نہیں معلوم تھا کہ ہم ہوائی سفر کریں گے اسی لیے غلطی سے سفر کے دوران ہمیں روزے کی چھوٹ دی؟ کیاخُداکے لئے تمہارا بھوکا رہنا اور روزے میں جہاز چلاتےہوئے دوسروں کی زندگیاں خطرے میں ڈالنا قابلِ قبول ہو گا؟ یا پھر خُدا یا اس کے فرشتے واقعی کسی ساہوکار کی طرح بیٹھ کے کیلکولیٹر پہ لوگوں کی نیکیوں اور گناہوں کی گنتی کرتے رہتے ہیں؟

میری راۓ میں انفرادی بخشش حقوق العباد اور معاشرتی ذمہ داریاں نبھاے بغیر ناممکن ہے. اگر معاشر ہ نہیں تو مذ ہب بھی نہیں ۔مذہب اور معاشرہ لازم و ملزوم ہیں. اگر دنیا میں صرف ایک ہی انسان رہ جائے تو مسلمان ہونا یا نہ ہونا بے معنی ہے۔ اگر وہ اکیلا مسلمان شہادت دے گا تو کس کے سامنے؟ اور اگر انسا ن نہ ہوں تو اسلام بھی نہیں کیونکہ بکریاں یا خرگوش کسی بھی مذہب کی پیروی نہیں کر سکتے۔ مذہب کو سماجی خلاء میں نہ سمجھا جا سکتا ہے نہ اس پر عمل کیا جا سکتا ہے۔ اگر مذہب معاشرے کی بھلائی کے خلاف یا غیر متعلق ہوجاۓ تو اس کا خاتمہ ہو جاتا ہے، اور دنیا کی تاریخ ایسی مذہبی نابودگیوں کی داستانوں سے بھری پڑی ہے۔ کسی مذہب کے پیروکار اس مذہب کے نام پر بھوک پیاس کے عالم میں اگر ہوائی جہاز گرانے یا ٹریفک ایکسیڈنٹ اور ان کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ضیاع کا موجب بنتے ہیں، تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ اس مذہب کے بحران کی حقیقی علامات ہیں۔

دوسرا سوال جو کہ اسلامی قانون پر ہے اس کو سمجھنے کے لئے میں اپنے پسندیدہ اسلامی قا نون کے عالم،خالد ابوالفضل کا حوالہ دوں گا. آپ کیلیفورنیا یو نیورسٹی لاس اینجلس میں اسلامی قانون کے پروفیسر ہیں۔

“اسلامی قوانین اور شریعت کی تشکیل میں خدا کے کلام پر، خدا کے نام پر، قاری یا مفسر کی آمریت جمانا، جدید دور میں ایک عام بات ہے۔ جب قاری یہ دعویٰ کرتا ہے کہ مصنف یعنی خدا کی مرضی [جو قاری یا مفسر کو معلوم ہے] سب سے مسلم ہے،تو اس وقت قاری مصنف کو بر طرف کر کے خود مصنف کا اختیار ہاتھوں میں لے بیٹھتا ہے. یعنی قاری یا تبصرہ نگار [شرک کرتے ہوئے] خود خدا بن بیٹھتا ہے. خدا کے کلام اور اختیار کو قاری یا مفسر کے ہاتھ دینا نہ صرف اسلامی قانون کی منطق کے خلاف ہے بلکے ایک آمرانہ اور کرپٹ عمل ہے۔

اسلامی قوانین کا منبع خدائی منطق ہے جو انسان کوعبارت کی صورت میں ملتی ہے. اور وہ خدا ہی ہے جو انسان کو اس عبارت میں پنہاں ہدایات سمجھنے کا راستہ بتاتا ہے. خدائی ہدایات کی جستجو، نتایج یا جستجو کی منزل سے قطع نظر، اہمیت کی حامل ہے. بلکہ صرف جستجو ازخود صدقہ جاریہ کے مترادف ہے. ہدایات کو پا لینے یہ ان کو درست طور پر سمجھ لینے کی کوئی خاص اہمیت نہیں. اس لئے نہیں کہ ہدایات غیر ضروری یا فضول ہیں، بلکہ اس لئے کہ ہدایات ارتعاش پزیر ،متحرک، واضح اور ہر تاریخی دور میں متعلقہ رہیں۔ انسان خدا کی رضا کو حتمی طور پر سمجھنے یا جاننے کا دعویدار نہیں ہو سکتا. وہ صرف اس کی رضا کی جستجو میں اپنی تپسیا کا دعوی کر سکتا ہے. اسلام میں خدا اور انسان کے رشتے کی اٹل اور آخری حقیقت کا خلاصہ ان لازوال لفظوں میں ہے کہ ’صرف خدا بہتر جانتا ہے‘۔

لیکن موجودہ اسلامی معاشرے جیسے کہ پاکستان میں خدا کے بجائے مُلا بہتر جانتا ہے۔ خدا کی رضا کوجاننے کا دعوی صرف خدا اور شاید اس کا رسول کر سکتا ہے. ایک گناہگار انسان کا خدا اور اس کی رضا کے نام پر انسانی جان لینے کی حد پار کرنا خدائی کے دعوے کے مترادف ہے. اس پس منظر میں یہ بھی مملکت خداداد پاکستان میں خدا کی شان ہی ہے کہ زبانی طور پر نبوت کا دعوی آپ کو سرکار، اور اسلام کے ٹھیکیداروں سے کافر کا لقب دلوا دے گا. لیکن خدا کی مستند ترجمانی کرنے کا معنوی طور پر ، نبوت چھوڑیے، خدائی کا دعوی ، آپ کو متقی اور پرہیزگار علماء کی صفوں میں جگہ دلا دے گا.

ابوالفضل ہمیں یاد دہانی کراتے ہیں کہ خدا کی حاکمیت انسان کو اپنی خود مختاری اور عقل سلیم کے بوجھ اور ذمے داری سے استثنیٰ نہیں دیتی. شاید خدا کو تمام انسانی معاملات کو قابو کرنے میں دلچسپی نہیں. قرآن میں بیان ہے کہ خدا تمام تخلیق کو انسان کی ذہانت اور خود مختاری کے احترام کا حکم دیتا ہے۔ شاید خدا انسان کو ڈھیل دیتا ہے کہ وہ اپنی چند بنیادی اخلاقی حدود میں رہتے ہوئے اپنی عقل سلیم کی روشنی میں ایک دوسرے اور کل مخلوق کے ساتھ اپنے معاملات چلا سکے. میرے خیال میں کوئی مضایقہ نہیں اگر اس ڈھیل کا فایدہ اٹھاتے ہوئے ہم مسلمان اپنی عقل سلیم کواستعمال کرتے ہوئے یہ فیصلے خودہی کر لیں کہ کب روزہ معاشرتی مفاد اور حقوق العباد سے ہم آہنگ ہے اور کب نہیں، اور کب خدا آپ کے ۰ سے ۹۰ خط العرض یا ۰ سے ۳۵۰۰۰ فٹ کے درمیان روزہ افطار کرنے کو قبول کرے گا۔

پس نوشت :میں رمضان میں پاکستان میں ہوائی سفر نہیں کرتا، اور آپ کو بھی نہیں کرنا چاہیئے. پائلٹس روزے سے ہوسکتے ہیں اور میرا نہیں خیال کہ آپ ان کی بخشش کے لئے قربانی کا بکرا بننا چاہیں گے۔

پس پس نوشت :کراچی شہر کے منتظم کے مطابق افطار سے گھنٹہ پہلے کراچی میں زیادہ ٹریفک حادثات ریکارڑ کئے جاتے ہیں جب لوگ پاگلوں کی طرح گاڑی چلاتے ہیں۔ میری تجویز: افطار سے گھنٹہ پہلے اندر رہیں تاکہ روزہ داروں اور ان کی افطار کے درمیان کہیں آپ نہ پس جائیں ۔

دانش مصطفیٰ کنگزکالج لندن کی جغرافیہ کے ڈیپارٹمنٹ میں پڑھاتے ہیں۔  وہ ہمہ وقت قاری کی مصنف پر دھونس کے خلاف سینہ سپر رہتے ہیں۔

Tags:

Leave a Reply

Your email address will not be published.