The Baloch Boycott

Apr 2013

English | اردو

تحریر: پیردان بلوچ

بلوچ مسئلہ اتنا آسان نہیں جتنا سمجھا جارہا ہے اور اتنا مشکل بھی نہیں جسکے سمجھنے کیلے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت پیش آٰئے!باز ماہرین بلوچ مسئلے کو مسئلہ بلوچستان کا نام دے کر زمینی حقائق سے راہ فرار اختیار کرتے ہیں اور کچھ دانشور اس مسلئے کو بلوچ سرداروں اور نوابوں کا پیداکردہ کہ کر تاریخ کے اوراق سے کھیلنے کی کوشش کررہے ہیں ۔مسلئہ بلوچستان ہم اس لیے استعمال نہیں کرسکتے۔۔کیونکہ بلوچستان میں پختون بھی آباد ہیں گوکہ پختون اپنی سرزمیں اور سرحدوں میں رہنے کہ باوجود پاکستانی فریم ورق میں رہ کر وفاق پاکستان کی بات کرتے ہیں جبکہ پختون علاقوں میں (بلوچستان میں شامل )ریاست پاکستان کی جانب سے ملڑی آپریشن نہیں ہورہا!مگر بلوچ علاقوں میں مسخ شدہ لاشیں اب تو معمول کا حصہ بن چکی ہیں تجب کی بات یہ ہے کہ ملٹری چیف پرویز مشرف کے دور ِ حکومت میں سیاسی کارکنوں کو اغوا کہ بعد پانچ ساتھ ماہ لاپتہ کرنے کہ بعد چھوڈ دیا جاتا تھا مگر ایک عوامی حکومت کہ پانچ سالہ دور میں بلوچ سیاسی رہنماوں طلبا قیادت و کارکنوں کی مسخ شدہ لاشیں تواتر کے ساتھ ملتے رہے ہیں جو اس نگران دور ِ حکومت میں تاحآل جارہٰی ہیں جبکہ بلوچ مسلئے کو سرداروں کا پیدا کردہ کہنا بلوچ سرداروں کہ ساتھ پاکستانی عوام کی جانب سے زیادتی ہے کیونکہ بلوچ سرداوں و نوابوں کی اکژیت پاکستانی مقتدرہ کے ساتھ بلوچوں کہ معاشی اور معاشرتی استعصال میں ایک دو قدم آگے رہے ہیں جبکہ اس سال بلوچ سردار بشمول سردار اختر مینگل پاکستانی انتخابات میں شرکت کرنے کیلے بقول ان کے سر پر کفن باندھے نکلے ہیں!جبکہ آختر مینگل سمیت دیگر پارٹیوں (انتخابات میں حصہ لینے والی بلوچ پارٹیاں )کو بلوچوں کی اکژیت کے سامنے دباو کا سامنا ہے۔۔جسکی ایک مثال انتخابات کے دوران پانچ مئی سے گیارہ مئی تک بلوچستاں میں آزادی پسند پارٹیوں کے اتحاد بلوچ نیشنل فرنٹ کی جانب سے بلوچ علاقوں میں شڑڈاون اور پہیہ جام ہڑتال کی کال ہے۔۔اور ان پارٹیوں کا الزام ہے کہ بلوچ علاقوں کوہلو ،ڈیرہ بگٹی میں تاحال آپریشن جاری ہے جبکہ بلوچ خواتین پاکستانی انتخابات میں بائیکاٹ مہم میں بلوچ نوجوانوں کے ساتھ بھرپور شرکت کررہی ہیں جنکی میں حآل ہی میں خاران ۔تربت کراچی اور کوئٹہ میں بہت بڑی تعداد میں عوام کی شرکت ہے ۔۔۔جبکہ ایک طرف پاکستانی میڈیا ان تمام حقایق سے چشم پوشی کرکے بلوچ علاقوں کی اصل صورتحال سے لوگوں کو بے خبر کررہا ہے جبکہ بلوچستان میں ایک ماہ سے پاکستانی میڈیا بشمول الیکڑانک اور فرنٹ میڈیا کو بلوچ آزادی پسند تنظموں کی جانب سے بلیک آوٹ کیا گیا ہے۔۔۔۔بلوچستان کی اس وقت ساری صورتحال کو خفیہ ادارے اور دیگر فورسز کنڑول کررہی ہیں جبکہ سول حکومت کی رٹ اب اپنے دفتروں تک بھی نہیں رہی ہے جس میں گزشتہ دن پنجگور اور خاران میں الیکشن کمیشن کے دفتروں پر بلوچ جنگجو کی جانب سے حملے بھی کیے گئے ہیں آخر میں اس جملے کے ساتھ شاہد لوگوں کو صورتحال سمجنھے میں مدد ملے گی۔۔۔۔ویت نام جنگ میں شکست کہ بعد صحافیوں نے امریکی فوجی جنرل سے سوال کیا کہ آپ نے گاوں کہ گاوں کیوں تباہ کردیے ؟؟؟طاقت کے نشے میں دھت جنرل نے جواب دیا !گاوں کو بچانے کیلے ہمیں گاوں تباہ کرنے پڑے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Pages: 1 2

Tags: , , ,

One Response to The Baloch Boycott

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *