Why Trouble Rules Balochistan

Pages: 1 2 | English

کوئٹہ اور اسلام آباد کے پاس فرقہ واریت سے نمٹنے کے لئے سرے سے ہی کوئی پالیسی نہیں ہے۔ جو عناصر شعیوں اور ہزاروں کے قتل عام میں ملوث ہیں  حکومت نے ان میں سے کسی کے خلاف کارروائی نہیں کی ہے اور نہ ہی کسی کو اس ضمن میں سزا ہوئی ہے۔ اگر حکومت چاہے تو جمعیت علمائے اسلام اور دیگر سنی مذہبی علما اس سلسلے میں کوئی کردار ادا کرسکتی ہیں کہ لشکر جھنگوئی کے ساتھ بات چیت کرکے انھیں معصوم شہریوں کے خلاف کارروائیوں سے روک دیں۔ تاحال حکومت نے(گورنرراج کے بعد) صرف بلوچ قوم پرستوں کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ بلکہ ایک ہی مہینے میں حکومت نے بلوچ قوم پرستوں کو دو مواقع پر ہتھیار ڈالنے کی پیش کش کی ہے اور کہا ہے کہ جو مزحمت کار حکومت کے سامنے ہتھیار ڈالیں گے حکومت انھیں اس کے عوض ہاہانہ دس ہزار روپے بطور وظیفہ دے گی۔اس کے علاوہ حکومت نے یہ پیشکش بھی کی ہے کہ ہتھیار ڈالنے والے افراد کو ان کی تعلیمی قابلیت کے  بنیاد پرسرکاری نوکریاں بھی فراہم کی جائیں گی۔  ماضی کی طرح اس بار بھی بلوچ قوم پرستوں نے نہ صرف حکومتی پیشکش کو یکسر مسترد کردیا ہے بلکہ اس پر طنز بھی کی ہے۔ مسلح بلوچ قوم پرستوں کے ایک ترجما ن نے سرکاری پیش کش کے جواب میں کہا کہ ’’اگر گورنر نواب ذولفقار علی مگسی اپنی نوکری چھوڑ کر بلوچستان کی آزادی کی تحریک میں ہمارا ساتھ دیں گے تو ہم انھیں تین گنا زیادہ تنخواہ دیں گے‘‘۔

مسلح بلوچ تنظیموں نے عام انتخابات کے دوران گڑبڑ کرنے کی دھمکی بھی دی ہے اور عوام سے اپیل کی ہے  وہ انتخابات کا بائیکا ٹ کریں کیوں کہ بقول ان کے انتخابات ان کی ’’تحریک آزادی‘‘ کو کمزور کریں گی۔ یوں لگتا ہے کہ اس دھمکی کے بعد حکومت اور بلوچ قوم پرستوں کے درمیان جو ڈیڈ لاک ہے اس میں کوئی بہتری نہیں آئے گی۔

گورنر راج کے نفاذ سے بلوچستان کے مسائل میں بہتری آنے کے بجائے اضافہ ہوگیا ہے۔ جو لوگ وفاقی پارلیمانی سیاست میں یقین رکھتے ہیں وہ گورنر راج کے نفاذ کے بعد یہ یقین نہیں کرپار ہے کہ  وفاقی حکومت راتوں رات صوبے کے لوگوں کے مینڈیٹ کو ٹوکر مار کر اپنی مرضی کی حکومت قائم کرسکتی ہے۔ جہاں تک بلوچ قوم پرستوں کا تعلق ہے تو وہ حکومت کی اس پالیسی کے حق میں نہیں ہیں کہ ایک طرف تو ان کے خلاف فوجی کارروائی کی جائے اور دوسری طرف انھیں وظیفہ اور دیگر سرکاری  مراعات کی پیشکش بھی کی جائے۔ اس تمام صورت حال میں سب سے زیادہ فائدہ فرقہ وارانہ جماعتوں کو ہورہا ہے جن کی طرف حکومت نے ایسی پالیسی اپنائی ہوئی ہے کہ نہ ان سےکچھ پوچھا جائے اور نہ ہی وہ اپنے بارے میں کچھ بتانے کی زحمت کریں اور یوں فرقہ وارانہ تنظیموں روز بروز مضبوط تر ہوتی جارہی ہیں۔

ملک سراج اکبر صحافی ہیں اور بلوچ حال کی مدیر بھی۔

Other articles >>

Help Tanqeed continue to bring you strong analysis and great journalism. Donate, so we can carry on the conversation.

Pages: 1 2 3 4

Tags: , , , , ,

3 Responses to Why Trouble Rules Balochistan

  1. […] across Pakistan. The result? Governor’s rule. Malik Siraj Akbar and Sajjad Hussain Changezi discuss the  aftermath. Ziyad Faisal considers the politics of another protest: the Tahir ul-Qadri march […]

  2. […] Governor’s rule has multiplied Balochistan’s troubles instead of fixing them. The supporters of parliamentary politics are still in a state of disbelief about how little they can do to prevent the federal authorities from usurping the provincial mandate. The Baloch nationalists oppose Islamabad’s carrot-and-stick policy while the sectarian groups remain the only beneficiary of the flawed and selective government approach. The Sunni extremist groups continue to thrive under what appears to be our “don’t-ask-don’t-tell” policy. (Courtesy: Tanqeed) […]

  3. […] Governor’s rule has multiplied Balochistan’s troubles instead of fixing them. The supporters of parliamentary politics are still in a state of disbelief about how little they can do to prevent the federal authorities from usurping the provincial mandate. The Baloch nationalists oppose Islamabad’s carrot-and-stick policy while the sectarian groups remain the only beneficiary of the flawed and selective government approach. The Sunni extremist groups continue to thrive under what appears to be our “don’t-ask-don’t-tell” policy. (Courtesy: Tanqeed) […]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *