Why Trouble Rules Balochistan

English | اردو

بلوچستان میں ژولیدگی کا راج 

تحریر: ملک سراج اکبر

گورنر راج کے نفاذ سے بہتری آنے کے بجائے بلوچستان کے مسائل میں اضافہ ہوگیا ہے۔ 

چند ہفتوں قبل بلوچستان میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کے حالات اب ایک بار پھر’’ نارمل‘‘ ہورہے ہیں۔  لیکن صورتحال  صرف بلوچستان کے منفرد انداز میں نارمل ہورہی ہے یعنی صوبے میں ایک بار پھر بلوچ قوم پرستوں کے خلاف فوجی آپریشن کا آغاز کردیا گیا ہے، شعیہ ہزاروں پر از سرے نو حملوں کاآغاز ہوگیا ہے، سرکاری اہل کاروں اور پنجابی آباد کاروں پر بھی اسی طرح کے حملے دوبارہ شروع ہوگئے ہیں۔ اگر بدامنی، خوف و ہراس بلوچستان کی روزمرہ زندگی کا ایک تلخ حصہ بن چکی ہیں تو صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد  حالات بدستور ماضی کی طرح ہی نارمل ہیں یعنی بہتری کی طرف کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔  ابھی چند ہفتے قبل ہی باور کیا جارہا تھا کہ بلوچستان میں بڑھتی ہوئی بد امنی، بد عنوانی اور سیاسی عدم استحکام کا واحدحل گورنر راج  ہے لیکن اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ جن مقاصد کے حصول کی خاطر گورنر نواب ذولفقار علی مگسی کو انتظامی اختیارات دے دئے گئے ہیں  اور ان کے حصول میں ناکامی کے بعد   بلوچستان کے لئیے مستقبل قریب میں کیا رکھا ہے؟

گورنر راج کی مدت ساٹھ دن ہے اور اس دوران گورنر مگسی کے سامنے انتہائی غیرمعمولی اہداف  ہیں۔ ان سے یہ توقع کی جارہی ہے کہ وہ صوبے میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنائیں گے،ناراض بلوچ قوم پرست رہنمائوں کے ساتھ مذاکرات کریں گے اور پچھلی حکومت میں بد عنوانی میں ملوث وزرا کے خلاف بےلاگ احتسابی عمل کا آغاز کریں گے۔ علاوہ ازیں گورنر مگسی سے یہ امید یں بھی وابستہ کی جارہی ہیں کہ وہ صوبے میں آئندہ عام انتخابات کے  پیش نظر ایسے سازگار حالات پید ا کریں جن سے متاثر ہوکر بلوچ قوم پرست بھی انتخابات میں حصہ لیں اور ایک بار پھر قومی دھارے میں آجائیں۔

خو د سیاسی جماعتوں نے بلوچستان میں گورنر راج کے نفاذ کے خلاف بھرپور احتجاج نہیں کی ہے۔ حتیٰ کہ خود پاکستان پیپلز پارٹی کی صوبائی قیادت نے سابق وزیر اعلیٰ نواب محمد اسلم رئیسانی کی حکومت کی برطرفی کی یہ کہہ کر حمایت کی ہے کہ رئیسانی حکومت  کاور نا اہل تھی اور ایک ناایک دن اس حکومت  کا یہی انجام ہونا تھا۔صرف نواب رئیسانی کی مخلوط حکومت میں شامل جمعیت علما اسلام اور بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی نے  گورنر راج کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے  اور وفاقی حکومت کے فیصلے کی پرزور مذمت کی ہے۔ مذکورہ دونوں جماعتوں کے مظاہروں اور سینٹ سے  مسلسل بائیکاٹ  کے باوجود اس با ت کا دور دور تک عندیہ نہیں مل رہا ہے کہ صدر آصف علی زرداری  کسی قسم کے دباو میں آکر گورنر راج ختم کردیں گے۔  اگرچہ صوبے میں گورنر راج کے خلاف کوئی پرجوش تحریک تو نہیں چل رہی لیکن اصل مسئلہ تو امن و امان کا ہے جس میں فرنٹیر کور ( ایف سی ) کو پولیس کے اختیارات دینے کے باوجود کوئی  بہتری نہیں آ رہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر بلوچستان میں بدامنی کی یہ لہر جاری رہتی ہے تو کیاصوبے میں عام انتخابات کا انعقاد  ممکن ہو سکے گا؟

26 جنوری کومشتبہ بلوچ حملہ آوروں نے حکومت کے حامی ایک امن فورس پر ڈیرہ بگٹی میں حملہ کرکے تین افراد کو ہلاک اور چار کو اغوا کرلیا۔ اس واقعے کے دو دن بعد اٹھائیس جنوری کو آزاد بلوچستان کے حامی زیر زمین تنظیم بلو چ لبریش فرنٹ (بی ایل ایف) نے گوادر میں پسنی کے علاقے میں پاکستان ائیر فورس کے اہلکاروں پر حملہ کرکے دو افراد کو ہلاک کردیا جب کہ اسی دن پسنی ہی میں تین پنجابی آبادکاروں کو بھی نشانہ بنا کر ہلاک کردیا گیا ۔ سرداری نظام سے پاک مکران ڈویژن جس میں گوادر کے ساتھ ساتھ تربت اور پنجگور کے اضلاع شامل ہیں اب بلوچ علحیدگی پسند تحریک کا  ایک اور مرکز بن چکا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بلوچستان کے جو جو اضلا ع قدرتی وسائل یا سمندر کی وجہ سے اہمیت کے حامل ہیں  وہ سب قوم پرست تحریک کے گڑھ بن چکے ہیں۔ مسلح بلوچ قوم پرستوں کا کہنا ہے کہ  گورنر راج کے نفاذ کے بعد حکومت نے کئی بلوچ اضلا ع میں فوجی آپریشن شروع کی ہے جس کے ردعمل میں انھوں نے بھی حکومتی اہلکاروں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لائی ہے۔  کوئٹہ  میں دس جنوری کےالمناک بم دھماکوں کےبعد  جن کے نتیجے میں سو سے زاہد افراد جان بحق ہوگئے اور وفاقی حکومت نےاس واقعہ کو  جواز بنا کر گورنر راج نافذ کیا  ایک بار پھر شعیہ ہزارہ برادری کے خلاف بھی حملوں کا آغاز ہوچکا ہے۔ انتیس جنوری کو ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے دو پولیس اہلکاروں کو کوئٹہ میں نشانہ بناکر ہلاک کردیا گیا۔ گورنر راج کے نفاذ کے بعد یہ کوئٹہ میں ہزاروں پرپہلا حملہ تھا۔ اس واقعے کی ذمہ داری ایک نسبتاً نامعلوم تنظیم  جیش الاسلام نے قبول کی۔ بلوچستان میں شعیہ اور ہزاروں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کی  ذمہ داری عموماً لشکر ِ جھنگوی ہی  قبول کرتی ہے لیکن  جیش الاسلام کی جانب سے تازہ ترین  واقعہ کی ذمہ داری قبول کرنے سے  اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بلوچستان میں فرقہ وارانہ تنظیموں کی تعداد میں بدستور اضافہ ہورہا ہے۔  جیش الاسلام اس وقت منظر عام پر نمودار ہوئی جب اس تنظیم نے  پچھلے سال تیس دسمبر کو مستونگ میں شعیہ زاہرین کے بس پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ۔ اس واقعہ میں  بیس شعیہ زائرین ہلاک ہوئے تھے۔

<<اگلہ صفحہ

Pages: 1 2 3 4

Tags: , , , , ,

3 Responses to Why Trouble Rules Balochistan

  1. […] across Pakistan. The result? Governor’s rule. Malik Siraj Akbar and Sajjad Hussain Changezi discuss the  aftermath. Ziyad Faisal considers the politics of another protest: the Tahir ul-Qadri march […]

  2. […] Governor’s rule has multiplied Balochistan’s troubles instead of fixing them. The supporters of parliamentary politics are still in a state of disbelief about how little they can do to prevent the federal authorities from usurping the provincial mandate. The Baloch nationalists oppose Islamabad’s carrot-and-stick policy while the sectarian groups remain the only beneficiary of the flawed and selective government approach. The Sunni extremist groups continue to thrive under what appears to be our “don’t-ask-don’t-tell” policy. (Courtesy: Tanqeed) […]

  3. […] Governor’s rule has multiplied Balochistan’s troubles instead of fixing them. The supporters of parliamentary politics are still in a state of disbelief about how little they can do to prevent the federal authorities from usurping the provincial mandate. The Baloch nationalists oppose Islamabad’s carrot-and-stick policy while the sectarian groups remain the only beneficiary of the flawed and selective government approach. The Sunni extremist groups continue to thrive under what appears to be our “don’t-ask-don’t-tell” policy. (Courtesy: Tanqeed) […]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *