Politics Interrupted

Feb 2013

 Pages: 1 2 | English

اگر اس حکومت سے اگلی حکومت تک اقتدار کی منتقلی آئین کے مطابق ہو گئی تو یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی دفعہ ہو گا ۔ تمام بڑی سیاسی پارٹیوں کے لئے یہی سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اس قادری ڈرامےمیں اپوزیشن پارٹیوں کا آئین کی پاسداری اور منتخب حکومت کے اختیارات کی حمایت میں اکھٹا کھڑا ہونا  مثبت اور خوش آئند بات ہے۔ اس وجہ سے ۱۶ جنوری ملٹری، عدلیہ، اور ملاکے غیر جمہوری اتحاد کے خلاف جمہوری قوتوں کی یکجہتی کا دن تھا ۔

بہر کیف طاہرالقادری کا دھرنا ہو یا ملک میں فرقہ وارنہ اور مذہبی انتشار کا پھیلنا، حالات کا تقاضہ ہے کہ ہم پاکستان کے تناظر میں جمہوری عمل پر نظر ثانی کریں۔ اگرقادری کے خلاف سیاسی پارٹیوں کا اتحاد جمہوری عمل کی صحت کی نشانی ہے تو یہ اس کھوکھلی جمہوریت کی انتہا بھی ہے ۔ اس اقتصادی طور پر ضعیف ملک میں مزدور پیشہ طبقہ اپنی نمائندہ حکومتوں سے مزیدکام کرنے کے امید لگاکر بیٹھا ہے۔ پر جہاں لوگ نیو لیبرل اقتصادی پالیسیوں کے چنگل میں پھنسے ہیں وہاں حکمران طبقہ نے صرف جمہوریت کی بقا کی رٹ لگائی ہوئی ہے۔ اور ایسی جمہوریت جس میں تمام سیاسی پارٹیاں صرف ووٹوں کی سیاست کرتی ہیں اور اثرورسوخ رکھنے والوں افراد و طبقات کو پٹانے کے چکر میں لگی رہتی ہیں۔ دولت کی مساوی تقسیم یا روزی روٹی کی فراہمی کے لئے کوئی بھی کام نہیں کررہا۔

ان تمام سیاسی پارٹیوں نے عوام دشمن نیو لبرل سماجی و اقتصادی پالیسیوں کو تبدیل کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں کیا۔ اسی سیاست سے ان پالیسیوں کو مرتب اور لاگو کرنے والے اداروں کو تقویت اور ریاستی جبر کو شہ ملتی ہے ۔ وہی ادارے جو ان مذہبی اور فرقہ پرست گروہوں کی سرپرستی کرتے ہیں ۔ اور پھر یہ گروہ اس ریاستی پشت پناہی کی وجہ سے اس قدر طاقت ور اور نڈر ہو جاتے ہیں کہ ہزارہ قوم اور شیعہ قوم کا قتل عام کرتے ہیں اور یہ سب ڈنکے کی چوٹ پر کرتے ہیں۔

ایسے نظام میں قادری جیسے غیر منتخب لوگوں کا پورے جمہوری عمل کو ہلا دینا کوئی معمہ تو نہیں۔ یہ بھی حیرانی کی بات نہیں کہ جمہوریت کو ہر لمحہ ملٹری اور عدلیہ سے ڈر لگا رہتا ہے۔ جمہوریت کی بنیاد آئین یا قانون کی بالادستی نہیں بلکہ عوامی قوت ہے۔ اگر ہم پاکستان میں عام آدمی کو اقتصادی عدل اور سیاست میں شمولیت کا موقع نہیں فراہم کریں گے تو ہمارا ملک ہمیشہ اسی قسم کے حالات سے دوچار رہے گا۔

زیاد فیصل اٹلی کی باکونی یونیورسٹی میں اقتصادیات کے طالبِ علم ہیں۔ یہ عوامی ورکرزپارٹی اور نیشنل سٹوڈنٹ فیڈریشن سے منسلک ہیں ۔

<<دیگر مضامین

Help Tanqeed continue to bring you strong analysis and great journalism. Donate, so we can carry on the conversation.

Pages: 1 2 3 4

Tags: , , , , , , ,

One Response to Politics Interrupted

  1. […] rule. Malik Siraj Akbar and Sajjad Hussain Changezi discuss the  aftermath. Ziyad Faisal considers the politics of another protest: the Tahir ul-Qadri march on […]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *