Politics Interrupted

Feb 2013

English | اردو

سیاست منقطع ہے

 زیاد فیصل

اگرقادری کے خلاف تمام سیاسی پارٹیوں کا اتحاد جمہوری عمل کی صحت کی نشانی ہے تو یہ اس کھوکھلی جمہوریت کی انتہا بھی ہے ۔

جب ہزارہ قوم نے کوئٹہ میں اپنے لواحقین کی لاشیں سڑکوں پر بچھا کردھرنا ڈالا تو ان کے احتجاجی نعروں سے اسلام آباد کے ایوان اور محلات تک گونج اٹھے۔ پرپاکستان کی بعد از نوآبادیاتی ریاست کی وفاقی حکومت نے محض ہوائی فائر کی روایت قائم رکھتے ہوئے بلوچستان اسمبلی کو برطرف کیا اور نواب اسلم رئیسانی کی چھٹی کر دی۔ ان  اقدامات کو بڑے شہروں میں سراپا احتجاج لوگوں اور میڈیا نے خوب سراہا کہ وفاقی حکومت نے بلوچستان میں گورنر راج لاگو کیا اور فرنٹیر کور  کو عوام کے ’’تحفظ ‘‘ کے لئے بلا لیا۔

پاکستان کے شہری علاقوں میں ہزارہ قوم کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا یہ جذبہ اس سے پہلے کبھی دیکھنے کو نہ ملا۔ پراس جذبہ سے سرشار لوگ کچھ ہی دیر میں منتخب حکومت کی طرح اصل مسئلہ سے کنی کترانے لگے۔ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے لشکرِجھنگوی اور سپہ صحابہ جیسی قاتلانہ سنّی تنظیموں کا نام تک نہ لیا۔ اس قتل و غارت کے سرپرستِ اعلیٰ ملک اسحاق کو تو اب بھی کھلی چھٹی ہے کہ وہ حیوانیت اس سلسلہ کو جاری رکھے۔ اس مذہبی فرقہ وارانہ تشدد کے نظام کے پیچھے پاکستان ملٹری اور ریاست کا ہاتھ ہے جس نے اپنے مفادات کی خاطر ان مذہبی تنظیموں کی سرپرستی کی۔ مگر فوج کو تو کسی سزا کا امکان تک نہیں۔

اب اگر وفاقی حکومت کی اتنی سکت نہیں کہ وہ ان تنظیموں اور فوج سے ٹاکرا لے سکے تو ایسی نااہل اور نامربوط حکومت کی برطرفی سے کیا حاصل۔ اس سارے کھیل میں صوبائی حکومت کی کوئی اہمیت نہیں۔ بلکہ اسے تو قربانی کا بکرہ بنا کر، صدقہ کی چھری پھیر کر، خاکی وردی کے گناہوں کو دھونے کی کوشش کی گئی ہے۔

اسی دوران اسلام آباد میں جناب ڈاکٹر طاہرالقادری کا بھی نزول ہوا۔ سیاسی پارٹیوں اور آئینی جمہوریت کے دیگر حامیوں کے نزدیک یہ ’’لانگ مارچ ‘‘ کسی سرکس سے کم نہ تھا۔ لیکن اس سارے ڈرامے کا تجزیہ کریں تو ہمیں بدلتے ہوئے سیاسی حالت کا اندازہ ہوتا ہے۔

اب یہ بات تو واضح ہو چکی ہے کہ طاہرالقادری نے لانگ مارچ کے لئے ایساوقت چنا جب وزیراعظم کے خلاف کرپشن کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ متوقع تھا۔ دراصل طاہرالقادری کا شمار ان غیر جمہوری اور غیر منتخب سیاسی قوتوں میں ہوتا ہے جو پاکستان کے سیاسی نظام میں گڑبڑ کے خواہاں ہیں۔ ایسالگتا ہے کہ ہماری سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اب بھی ان کوششوں میں ہے کہ غیر جمہوری طریقوں سے سویلین حکومتوں کو قابومیں رکھا جائے۔

قادری دھرنے کے روزِاول سے سب نگاہیں ملا، فوج اور عدلیہ کی مثلث پر مرکوز تھیں۔ ان تینوں قوتوں کے آپس میں گٹھ جوڑ کے حوالے سے مختلف رائے ملتی ہے۔ لبرل حلقے کے مطابق یہ تین دھاری الحاق جمہوریت کے خلاف سازش ہے جس کا مقصد منتخب حکومت کی جگہ ایک ٹیکنوکریٹ حکومت لانا ہے۔ فرض کر یں کہ ۱۵ جنوری کو بیک وقت قادری لانگ مارچ اور سپریم کورٹ کا فیصلہ محض اتفاق ہی تھا ۔ پر اس حقیقت سے تو کسی کو انکار نہیں کہ ان دونوں اقدامات سے منتخب حکومت کو سافٹ کو کے ذریعے ہٹانے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

اپوزیشن پارٹیوں نے قادری لانگ مارچ کی حمایت نہیں کی اور نہ ہی عمران خان نے اس میں شمولیت کی ۔ تو جب پیپلز پارٹی کی حکومت نے قادری کی طرف مزاکرات کا ہاتھ بڑھایا تو مولانا کے پاس سمجھوتہ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ اس سمجھوتے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ قادری کو جو بھی گارنٹی دی گئی وہ برسرِاقتدار اتحادی پارٹیوں نے دی ہے اور اس فیصلہ میں اپوزیشن پارٹیاں شامل نہیں ۔ لانگ مارچ کے مطالبات سے تولگتا تھاکہ قادری صاحب کے خواہش تھی کی ملٹری اور عدلیہ کو عبوری حکومت میں نمایاں کردار دیا جائے۔ پرحکومت کے ساتھ ہونے والے سمجھوتے کے تحت آنے والے معاملات میں قادری کا کردار صرف مشاورتی ہو گا۔ اس ’’جیت‘‘ سے اور کوئی فائدہ ہو نہ ہو، مولانہ اور ان کے ساتھیوں کو اپنی بچی کھچی عزت سمیٹ کر گھر لوٹنے کا رستہ ضرور مل گیا۔

  <<اگلہ صفحہ

Pages: 1 2 3 4

Tags: , , , , , , ,

One Response to Politics Interrupted

  1. […] rule. Malik Siraj Akbar and Sajjad Hussain Changezi discuss the  aftermath. Ziyad Faisal considers the politics of another protest: the Tahir ul-Qadri march on […]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *