On the Colony and Post-Colony

Feb 2013

Pages: 1 2 | English

جہاں تک اسرایل کا تعلق ہے تو یورپی سامراجیت سے جنم لینے کے بعد سے وہ امریکی سلطنت کا سب سے بڑا حامی بن کر ابھرا ہے۔ مشرق کیخلاف مغرب کا دفاعی مورچہ قرار دئے جانے کا مطلب، روزانہ کی بنیاد پر مقامی فلسطینیوں پر تشدد روا رکھنا ہے ۔ اصل میں تو سلطنت کی دانستہ کوشش ہے کہ افراتفری اور تشدد غیر مغربی دنیا میں معمول رہے ۔ شاید یہ کوئی سامراجی اصول ہے کہ ’ اگر تمہیں براہ راست نوآبادیاتی قبضہ قبول نہیں تو بھی ہم تمھیں چین سے بیٹھنے نہیں دیں گے اور یہ یقینی بنائیں گے کہ ہمارا چلے جاناتمہارے لئے پچھتاوے کا باعث بن جائے۔ ‘

دوسری طرف ایک اور رویہ جو پاکستان اور فلسطین میں مشترک ہے وہ انکے دانشمندانہ طبقے کے ایک حصّے کا اپنی ثقافت و تشخص کے انکار کی حد تک مغرب کو اپنے پر مسلط کرنا ہے ۔ پاکستان میں تو کچھ لوگ برنارڈ لیوس کے نظریات کو آگے بڑھاتے نظر اتے ہیں جنہیں ایڈورڈ سعید نے ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنایا ۔ لیوس کے نظریہ کے مطابق اسلام مسئلہ کی جڑ ہے جبکہ عرب اور عرب ثقافت سے کوئی بھی تعلق نقصاندہ ۔ حتی کہ اس کیمپ میں موجود لوگوں کو فلسطینی تحریک جیسا جائز مقصد بھی ایک بوجھ لگتا ہے۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ عزت وقار اور آزادی کی زندگی ایسی خواہشات ہیں جو ان ملکوں کے عام لوگوں کو آپس میں جوڑتی ہیں۔ بہت سے فلسطینی بھی آج تک مغرب کو اپنے ذہن پر حاوی کئے ہیں یہ سوچے بغیر کہ موجودہ مسئلے بشمول اسرئیلی حمایت مغرب ہی کی دین ہیں ۔

رجعت پسندانہ سیاست اور سوچ پاکستان اور فلسطین دونوں ہی میں نمایاں ہے۔ کہیں برنارڈ لیوس کے نظریہ میں، تو کہیں نفی اور فرار پر مبنی دلائل میں۔ آپ دیکھیں گے کہ کچھ لوگ خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی کو نیکی، حالات اورساخت جیسے الفاظ پر مشتمل ایک نئی انکاری زبان سے ٹالنے کی کوشسش کرتے ہیں۔ بلا شبہ ہمیں مغربی منافقت کاری کا پردہ چاک کرنا چاہیے لیکن اسکا مطلب اپنے مسائل سے راہ فرار اختیار کرنا بہرحال نہیں ۔

آخر میں ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ دونوں ملکوں میں ایسے لوگ رہے ہیں جو سامراجیت کے خلاف موقف رکھنے کیساتھ مقامی رویوں پر بھی تنقید کرتے رہے ہیں۔ اس ضمن میں الخطیبی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ بہت سے دوسرے دانشوروں نے جہاں نو آبادیاتی غلطیوں کی طرف نشاندھی کی ہے، وہیں ظلم و زیادتی کر والے مقامی اداروں، رویوں اور لوگوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ہے۔

ابن خلدون کی طرح ہم میں سے بہت سے لوگ انصاف اور پروقار زندگی کو ایک دائرے کی شکل میں دیکھتے ہیں۔ ذلت و رسوائی کا سامنا ہم میں سے کوئی بھی کرے ، پوری انسانیت اس سے متاثر ہوتی ہے۔ کسی ایک فرد سے روا رکھے جانے والی ناانصافی سب کو انصاف سے محروم کر سکتی ہے۔

مجید شحادۃ فلسطین کی جامعہ بیرزیت کے معھد ابراھیم ابو لغد للدراسات الدولیۃمیں پڑھاتے ہیں۔ جدیدیت، تشدد، شناخت، اور علم کی سیاست پر تحقیق بھی کرتے ہیں۔ امریکہ کی سیراکوز یونیورسٹی پریس نے ۲۰۱۱ء میں ان کی کتاب شائع کی جس کا نام ہے ’ناٹ جسٹ آ ساکر گیم: کالونیل ازم اینڈکانفلکٹ امنگ پیلسٹینن اِن ازرائیل ‘ (محض فٹبال کا کھیل نہیں: اسرائیل میں فلسطینیوں کے مابین نوآبادیات اور لڑائی)۔

دیگر مضامین>>

Help Tanqeed continue to bring you strong analysis and great journalism. Donate, so we can carry on the conversation.

Pages: 1 2 3 4

Tags: , , , , ,

One Response to On the Colony and Post-Colony

  1. […] Pakistani left. Sunaina Maira discusses the Pakistan liberal antipathy to Palestine. Magid Shihade draws comparisons between his home, Palestine, and the conditions in Pakistan where he has spent time. […]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *