Geographies of Our Minds | Daanish Mustafa

Feb 2013

One of the distinct disadvantages that I have suffered from the beginning of my schooling was not being weak in Urdu–ever! It just seemed to me as a kid that all the good [laiq] kids–according to the adults, seemed to read Enid Blyton, while rogue kids (nalaiks) like myself read stuff like A. Hamid’s Maut ka Taqub (chasing death), Ishtiaq Ahmed’s Inspector Jamshed ke Karname (The exploits of Inspector Jamshed), Ibn-e-Safi’s Imran Series, Muhammad Asif Jah’s Tilism-e-Hoshruba, and Ghalib Lakhnavi and Adbullah Bilgirami’s Dastaan-e-Amir Hamza (The Adventures of Amir Hamza). To this list, I must also add the Devta book series featuring the adventures of Anosha and Sarang Baba. Read on in English >>

بلاگ | ہمارا تخیلاتی جغرافیہ | دانش مصطفیٰ

میں اکثر یہ سوچتا ہوں کے اگر بچپن سے اردو میں کمزور ہوتا تو جانے کہاں سے کہاں نکل گیا ہوتا۔  بچپن میں ایسا لگتا تھا کہ سب اچھے اور لائق بچےاینَڈ بلیٹن پڑھتے ہیں اور مجھ جیسے گندے اور نالائق بچے اے حمید کی موت کا تعقب سیریز، اشتیاق احمد کے لکھے ہوئے انسپکٹر جمشید کے کارنامے، ابن صفی کی عمران سیریز، محمّد آصف جاہ کی طلسم ہوشربا، اورغالب لکھنوی اور عبدللہ بلگرامی کی داستان امیر حمزہ پڑھتے ہیں۔ اس لسٹ میں انوشا اور سارنگ بابا کے کارناموں کا شمار بھی ضروری    ہے۔  اردو میں اورپڑھیں >>   ں 

Pages: 1 2 3

Tags: , , , ,

2 Responses to Geographies of Our Minds | Daanish Mustafa

  1. Usman Qazi on Feb 2013 at 1:50 AM

    The last line in the author’s intro should read:
    وہ ہمہ وقت قاری کی مصنف پر دھونس کے خلاف سینہ سپر رہتے ہیں .

  2. Munir Ahmad on Feb 2013 at 12:04 AM

    -مصنف نے یہ میری کہانی لکھی ہے یا اپنی ؟
    یہی تو میرے ساتھ بھی ہوتا تھا – یا شاید اکثر کے ساتھ ہوا ہے
    لیکں شاید بتاتے ہوئے ہچکچاہٹ ہوتی ہے
    – مجھے یاد آگیا کہ ابھی حال ہی میں چھ سات سال پیشتر کی بات ہے ایک بہت بڑے ادارے کے چیر مین جنرل محمد جاوید صاحب ایک میٹنگ کی صدارت کر رہے تھے – تقریبآ ایک ہی ایج گروُ پ کے افسران اعلی بیٹھے ہوئے تھے – جنرل جاوید صاحب نے کہا ۔۔۔ میں جانتا ہون آپ سب لوگ اردو میڈیم کے پڑھے ہوئے ہیں – انگریزی بس بول ہی لیتے ہین – آپ کی سہولت کے لئے اردو میں ہی خطاب کروں گا
    اس کا حل کیا ہے ؟ کیا بچوں کو پہلی جماعت سے ہی اردو پڑھانا شروع کردیں یا میرے زمانے کی طرح چھٹی جماعت سے انگریزی کا آغاز کیا جائے – لیکں اس کے لئے پہلے دیہات جاکر وہان کی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے — یہ ہے کلی بادینی -یہ ہے کلی جمال دینی – یہ ہے کلی
    مینگل — کوءتہ سے دور ایران کی شاہراہ پر واقع ایک قصبے نوشکی سے بھی پرے دور کے دیہات — پچاس سال پہلے وہاں انگریزی تو کیا اردو بولنے والا بچہ بھی مل جاتا تو حیرت ہوتی –اسکول میں اساتذہ کرام کو خاص ہدایت یہی ہوتی تھی کہ کہ ان کے گھر میں کوئی پڑھانے والا نہیں -تم نے جو پڑھانا ہے یہیں پڑھانا ہے – جو سکھانا ہے یہیں سکھانا ہے – –یہ نہیں ہو تا تھا جیسا کہ بڑے شہروں میں ہوتا ہے کہ داخلے سے پہلے یہ دیکھا جا تا ہے کہ ماں با باپ کتنا پڑھے ہوئے ہیں — اب کیا صورت حال ہے اس کا جائزہ لینا پڑے گا اور اس کے بعد فیصلہ کرنا پڑے گا –
    دس پندرہ سال قبل کی بات ہے کہ ایک بچہ کشمور اور قصبہ روجھاں کے درمیان کسی گاوں کا آیا – سرائیکی بولتا تھا -سرایکی بھی ایسی کہ شہر کراچی کے بولنے سرائیکی بولنے والے حضرات حیران ہو جاتے تھے – میں نے بات چیت کے دوران کہا کہ یہ جس علاقے سے آیا ہے وہاں کے بچے اردو ہی بول لیں تو کامیابی ہے انگریزی کیا سکھائین گے – اسی طرح جھالاوان ، ساراوان -پنجگور کے دیہاتون کا بھی یہی حال ہے –

Leave a Reply to Munir Ahmad Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *