Geographies of Our Minds | Daanish Mustafa

Feb 2013

English | اردو

میں اکثر یہ سوچتا ہوں کے اگر بچپن سے اردو میں کمزور ہوتا تو جانے کہاں سے کہاں نکل گیا ہوتا۔  بچپن میں ایسا لگتا تھا کہ سب اچھے اور لائق بچےاینَڈ بلیٹن پڑھتے ہیں اور مجھ جیسے گندے اور نالائق بچے اے حمید کی موت کا تعقب سیریز، اشتیاق احمد کے لکھے ہوئے انسپکٹر جمشید کے کارنامے، ابن صفی کی عمران سیریز، محمّد آصف جاہ کی طلسم ہوشربا، اورغالب لکھنوی اور عبدللہ بلگرامی کی داستان امیر حمزہ پڑھتے ہیں۔ اس لسٹ میں انوشا اور سارنگ بابا کے کارناموں کا شمار بھی ضروری ہے۔

بچپن میں میرے محلے کے اچھے بچوں کے پاس قسم قسم کی کامک بُکس ہوتی تھیں۔  یہ قلمکار بھی اپنے طفلانہ ذوق کی تسکین کے لئے ان کامِکس کی تصویروں کو دیکھنا پسند کرتا تھا اور باآواز بلند ان کو سراہتا بھی تھا۔  باآواز بلند اس لئے کہ کہیں یاروں کو پتا نہ چل جاۓ کہ میں انگریزی سے نابلد ہوں اورکہانی کچھ پلے نہیں پڑھ رہی۔  سچ پوچھیے تو میں تھوڑی سے بےایمانی بھی کرتا تھا۔  جیسے ہی کسی دوست کے گھر نئی انگریزی کامک بک دیکھی تو بھاگم بھاگ جا کر والدین کی منت سماجت شروع کر دی کہ تھوڑے سے پیسے دے دیں کتاب لینی ہے۔  پیسے مل گئے تو جا کے بازار سے اس کامک سیریز کا اردو ترجمہ خرید لیا تا کہ عاجز کو بھی مختلف سوپر ہیرو اور ہیروئنوں کی جملہ خصوسیات کی شدھ بدھ ہوتاکہ اچھے بچوں کی محفل میں سر اٹھا کے شامل ہوا جا سکے۔ دنیاداری کے اس ڈھکوسلے سے فرصت کے اوقات میں عاجز کی دنیا تعلیم و تربیت، نو نہال اور بچوں کی دنیا، جیسے رسالوں سے آباد ہوتی تھی۔

سچ پوچھیے تو مجھے بھی اینڈ بلیٹن اور بیٹ مین جیسے مشہورزمانہ ادبی شاہکار پڑھنے کا بیحد شوق تھا۔  لیکن شومئی قسمت مجھے نویں جماعت تک انگریزی طوطے کی طرح پڑھنی اور بولنی تو آتی تھی سمجھ رتی برابر نہیں آتی تھی۔  انگریزی میڈیم اور انگریزی گو (الحمدللہ عاجز بھی انگریزی میڈیم بچوں کی صف میں شامل تھے بس انگریزی گو بچوں کے حلقوں کے مضافات میں رہتے تھے) بچوں کی فیمس فائیو، اور سیکرٹ سیون سے آباد دنیا مجھے ایک روشن جدید دیس کی تصویر لگتی تھی۔  میری اس چھوٹی سی دنیا کا محور دیسی اور”پینڈو” بھاشائوں یعنی اردو، پنجابی اور پہاڑی کا فرسودہ نما ادب تھا۔  پھر ستم بالاے ستم یہ کہ انگریزی گو بچوں کے والدین بڑے فخر سے اپنے بچوں کے اردو میں برے نمبروں کا تذکرہ کرتے تھے اور مجھے حسرت ہی رہتی تھی کہ کبھی میں بھی اپنے والدین کو اتنے ہی فخر سے اپنے اردو میں برے نمبروں کی شکایت کرنے کا موقع دوں، نہ کہ انھیں ہر سال اپنے ریاضی کے نتیجے کا رونا روتے دیکھوں۔

انگریزی کے حوالے سے یہ احساس کمتری اور اچھے اساتذہ جیسے کہ برن ہال کے مسعود غنی صاحب کی مہربانیاں اور محنت آخر رنگ لے ہی آئی اور نویں جماعت  میں یہ قلمکار فر فر انگریزی بولنا اور سمجھنا شروع ہو گیا۔  اور پھر لڑکپن کے آخری پہروں میں جب میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے امریکا گیا تو گویا اُس انگریزی شناس دنیا کی مستند شہریت مل گئی جوبچپن میں ایک دور افتادہ، بیرون از دسترس پرستاں کی مانند تھی۔

وقت گزرنے کے ساتھ  بچپن کی یہ خجالت بالغ عمری کا ایک قیمتی اثاثہ بن گئی ہے۔  میرے ذہن میں اس دنیا کا نقشہ بڑی حد تک ‘موت کا تعقب’ کے کرداروں یعنی لافانی عنبر، انسانی روپ میں سانپ ناگ، اور غیبی لڑکی ماریا کی  داستان کا مرہون منت ہے۔  پانچ ہزار سالوں کی تاریخ پر محیط چین، تبت، ہندوستان، وسطی اشیا، حلب، مصر، مغرب، روم، اور یونان کی مسافتوں نے ان خطوں کو میرے ذہنی نقشے کے وسط میں آویزاں کر دیا۔  طلسم ہوشربا کے جنات، پریاں ، اور دیو کوہ قاف کے باسی تھے۔  امیر حمزہ فارس اور توران میں باطل کے خلاف نبردآزما  تھے۔  ان کہانیوں کے ساتھ ساتھ یہ دیس بھی میرے تخیل اور سوچ کا حصہ بن گئے ہیں۔  اور یہاں بہت بڑی زیادتی ہو گی اگر میں انوشہ اور سارنگ بابا کا ذکر نہ کروں جنہوں نے سکندراعظم اور چندر گپت موریا کے زمانے کے ٹیکسلا کو میرے لئے زندہ جاوید کیا۔  اور صاحبو جہاں تک تعلق ہے فیمس فائیو کا، فاروق، فرزانہ اور محمود کسی بھی وقت جاسوسی میں ان کے کان کاٹ کے ہاتھ میں تھما سکتے ہیں۔

نوک جھونک سے قطع نظربقول ہمارے فکری پیشوا حضرت ایڈورڈ سعید کے، یہ کہنا فضول ہے کہ اردو ادب انگریزی ادب سے بہتر ہے یا انگریزی ادب فارسی ادب سے افضل ۔  ہر ادب اپنے پڑھنے اور لکھنے والوں کی ثقافت اور بصیرت کی عکاسی کرتا ہے۔ اپنی ثقافت کے پیراہن میں پرویا جغرافیای تخیل، اس تخیل سے نکلی سوچ، اور اس سوچ کو آواز دینے والی زبان، نہ کہ کسی اور کا تخیل، سوچ، اور زبان اس دنیا سے اپنی شرایط پہ جینے اور لڑنے کے لئے لازمی ہے۔  اپنا ادب اپنے آپ کو جاننے اور اپنی آواز کو پہچاننے کا مستند ذریعہ ہے۔  مندرجہ بالا کہانیوں اور تصنیفات کی وساطت سے ہی میں نے اپنا ذہنی جغرافیہ دریافت کیا، اور اپنی آواز آراستہ کی ہے. آج کی تازہ خوشخبری یہ ہے کہ جناب مشرف علی فاروقی کی تپسیا نے طلسم ہوشربا کے انگریزی ترجمے کی صورت میں رنگ دکھایا ہے۔ اب انگریزی میڈیم بچے بھی داستان سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں: “جیسے جیسے ساقیان جشن شب بھرتے ہیں ساغر افکار انڈیلتے ہیں ارغوانی مے تحریر ۔ آغوش قرطاس پر ؛ جب امیر حمزہ کی افواج نے پسپا کیا”۔

دانش مصطفیٰ کنگزکالج لندن کی جغرافیہ کے ڈیپارٹمنٹ میں پڑھاتے ہیں۔  وہ اکثر عبارت  پر پڑھنے والے کی آمریت کی خلاف جہاد میں ملوث رہتے ہیں۔

Pages: 1 2 3

Tags: , , , ,

2 Responses to Geographies of Our Minds | Daanish Mustafa

  1. Usman Qazi on Feb 2013 at 1:50 AM

    The last line in the author’s intro should read:
    وہ ہمہ وقت قاری کی مصنف پر دھونس کے خلاف سینہ سپر رہتے ہیں .

  2. Munir Ahmad on Feb 2013 at 12:04 AM

    -مصنف نے یہ میری کہانی لکھی ہے یا اپنی ؟
    یہی تو میرے ساتھ بھی ہوتا تھا – یا شاید اکثر کے ساتھ ہوا ہے
    لیکں شاید بتاتے ہوئے ہچکچاہٹ ہوتی ہے
    – مجھے یاد آگیا کہ ابھی حال ہی میں چھ سات سال پیشتر کی بات ہے ایک بہت بڑے ادارے کے چیر مین جنرل محمد جاوید صاحب ایک میٹنگ کی صدارت کر رہے تھے – تقریبآ ایک ہی ایج گروُ پ کے افسران اعلی بیٹھے ہوئے تھے – جنرل جاوید صاحب نے کہا ۔۔۔ میں جانتا ہون آپ سب لوگ اردو میڈیم کے پڑھے ہوئے ہیں – انگریزی بس بول ہی لیتے ہین – آپ کی سہولت کے لئے اردو میں ہی خطاب کروں گا
    اس کا حل کیا ہے ؟ کیا بچوں کو پہلی جماعت سے ہی اردو پڑھانا شروع کردیں یا میرے زمانے کی طرح چھٹی جماعت سے انگریزی کا آغاز کیا جائے – لیکں اس کے لئے پہلے دیہات جاکر وہان کی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے — یہ ہے کلی بادینی -یہ ہے کلی جمال دینی – یہ ہے کلی
    مینگل — کوءتہ سے دور ایران کی شاہراہ پر واقع ایک قصبے نوشکی سے بھی پرے دور کے دیہات — پچاس سال پہلے وہاں انگریزی تو کیا اردو بولنے والا بچہ بھی مل جاتا تو حیرت ہوتی –اسکول میں اساتذہ کرام کو خاص ہدایت یہی ہوتی تھی کہ کہ ان کے گھر میں کوئی پڑھانے والا نہیں -تم نے جو پڑھانا ہے یہیں پڑھانا ہے – جو سکھانا ہے یہیں سکھانا ہے – –یہ نہیں ہو تا تھا جیسا کہ بڑے شہروں میں ہوتا ہے کہ داخلے سے پہلے یہ دیکھا جا تا ہے کہ ماں با باپ کتنا پڑھے ہوئے ہیں — اب کیا صورت حال ہے اس کا جائزہ لینا پڑے گا اور اس کے بعد فیصلہ کرنا پڑے گا –
    دس پندرہ سال قبل کی بات ہے کہ ایک بچہ کشمور اور قصبہ روجھاں کے درمیان کسی گاوں کا آیا – سرائیکی بولتا تھا -سرایکی بھی ایسی کہ شہر کراچی کے بولنے سرائیکی بولنے والے حضرات حیران ہو جاتے تھے – میں نے بات چیت کے دوران کہا کہ یہ جس علاقے سے آیا ہے وہاں کے بچے اردو ہی بول لیں تو کامیابی ہے انگریزی کیا سکھائین گے – اسی طرح جھالاوان ، ساراوان -پنجگور کے دیہاتون کا بھی یہی حال ہے –

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *