متفرق

poem3

درختوں پر کھلے پهولوں کی خوشبو

رنگ اڑنے سے ذرا پہلے
ہوا کا ہاتھ تها مے کوچ کر جاتی ہے شہروں سے

***

نئے موسم کے سورج ہو
پرانی کهڑکیوں کی درز سے کمرے میں آ جاؤ
یہ خط کوئی نہیں لکهتا
مگر کرنیں منڈیروں سے اتر کر نرم ہاتهوں سے پرانی چٹخنی کو رام کرنے کا سلیقہ جانتی ہیں

***

کسی اخبار کے ماتھے پہ لکهی سرخیوں کی زندگی زیادہ
سے زیادہ ایک دن ہے

***

محبت میں لکهی نظمیں پرانی کیوں نہیں ہوتیں…
جنگ: ایک کولاژ
مورچے کهودنے کا کفارہ دینے کو
قبریں جسموں سے پر کرنی پڑتی ہیں

***

بوڑهی کمریں بیٹوں کے دفنانے کو جهکتی ہیں
سیدهی نہیں ہوتیں

***

قبروں پر جو پانی چهڑکا جاتا ہے
چکھ کر دیکھو
اس میں نمک ہے

***

پائینتی لگ کر آپ ہی آپ سلگنے والی اس عورت نے
جنگ چهڑنے سے خوابوں کے دفنانے تک
خوشبو نہیں پہنی

***

سرہانے پر ہاتھ پھیرتی ماں سے پوچهو
جیتا کون

***

تمغے جس سونے سے ڈهالے جاتے ہیں
اس میں سے نیت کا کهوٹ علیحدہ کرنا ناممکن ہے…

***

اک زخم نیا لگ جانے سے
کچھ درد پرانے کہلائیں
جو سب کو اپنا جانتے ہیں
خود سے بیگانے کہلائیں
ہر درد لگائے سینے سے
ہم سب دیوانے کہلائیں…

سلمان حیدر

Tags: , , , , , , ,

Leave a Reply

Your email address will not be published.