Warning: error_reporting() has been disabled for security reasons in /home/madih0/public_html/tanqeed.org/wp-load.php on line 24 Warning: error_reporting() has been disabled for security reasons in /home/madih0/public_html/tanqeed.org/wp-includes/load.php on line 333 علی سید | ایک چھوٹا سا مکالمہ | Tanqeed

علی سید | ایک چھوٹا سا مکالمہ

Jan 2017

SalmanPoster

نوٹ: اس مکالمے میں س ح یا س بھائی سے مراد سلمان حیدر یا سلو بھائی ہرگز نہیں۔

سن 2011

س ح: یار تم چُپ ہی رہا کرو۔ کیوں اپنے گھر والوں کو ایک اور صدمہ پہنچانا چاہتے ہو۔ ٹھیک ہے، میرا نام س ح ہے، نام سے میں بھی آدھا یا تین چوتھائی کافر ہوں اور باتوں سے غدار بھی ہوں لیکن میں پنجاب میں پیدا ہوا ہوں، پنجابی بولتا ہوں۔ میری بات اتنی بری نہیں  لگے گی انہیں۔ فیصل آباد والا اونچا بھی بولے گا تو شرارت ہوگی۔ کوئٹہ والے کی سرگوشی بھی گستاخی سمجھی جاتی ہے۔ احتیاط کیا کرو، مجھے پتہ ہے چپ رہنا بہت مشکل ہے لیکن برداشت کر لو۔ ہم ہیں نا بولنے کے لئے۔

میں: ٹھیک ہےس بھائی میں مان لیتا ہوں آپکی بات۔ میں زیادہ کچھ نہیں بولوں گا۔ لیکن آپ کو کچھ زیادہ خوش فہمی نہیں ہے؟ یار لوگوں کے بارے میں اس قدر حسنِ زن؟ انہیں آواز سے مطلب ہے۔ پورا غدار کافر چپ ہوگا تو نیم غدار کافر کو پکڑ کے چپ کرا دینگے۔

س ح: ہاں لیکن اس میں ابھی وقت ہے۔ تب تک ہم بولتے رہینگے شور مچاتے رہینگے۔سب کے لئے۔ بلوچستان کے لاپتہ افراد کے لئے بھی اور گلگت کے بابا جان کے لئے بھی۔ پاکستان میں شیعہ نسل کشی کے خلاف بھی اور مذہبی اور ریاستی غنڈہ گردی کے خلاف بھی۔ بس تم میری بات مان لو اور احتیاط کرو۔ بلکہ چپ ہی رہا کرو۔

میں: ٹھیک ہے بھئی آپکو کون ٹال سکتا ہے لیکن ہمارے ہاں ایک کہاوت ہے کہ ہر چیز کھیلنے کے لئے صحیح مگر ابّا کی مونچھ کھیلنے کے لئے نہیں ہوتی۔ اور آپ ہیں کہ کھیلنا تو کیا مونچھ منڈوانے پہ   تُلے ہوئے ہیں۔ آپ بھی احتیاط کیا کریں۔

س ح: یار مونچھوں کا فیشن گیا۔ یا تو کلین شیو کریں یا پوری داڑھی رکھ لیں۔ پتہ تو چلے کون کہاں کھڑا ہے۔

(اس پرہم دونوں نے قہقہ لگایا)

س ح: ہاں! لیکن یاد رہے یہ بات صرف میں کر سکتا ہوں تم نہیں۔ تم زیادہ کسی مذاق پر ہنس بھی نہیں سکتے۔ تمہارا یار لوگوں کے ساتھ کوئی مذاق نہیں ہے۔ تم بس چپ رہو۔ میں تمہارے لئے بول لونگا۔

سن 2017

س ح: ۔۔۔۔۔لا پتہ۔۔۔۔۔۔

میں: س بھائی آپ نے میرے لئے بولنا تھا اور بولتے رہے۔ اب آپ نہیں بول سکتے۔ آپکا مزاح بھی ایک حد تک ہی برداشت ہوا یار لوگوں سے۔ بس چار باتیں آپ نے زیادہ کر لیں۔ ہاں میں البتہ چپ رہا اور بظاہر ٹھیک رہا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اب میرے لئے کون بولے گا؟ اور آپکے لئے کون بولے گا؟ کیا میں اب آپکے اور اپنے دونوں کے لئے بول سکتا ہوں یا میں اب بھی چپ رہوں؟

Tags: , , , , , , ,

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *