یادداشت میں رکهی جنگ

شمارہ ٩Eng | Issue 9

Artist: Aman Mojadidi, "Morning Prayers"

Artist: Aman Mojadidi, “Morning Prayers”

اچھی شاعری کی واضح اور لازمی خوبی یہ ہے کہ وہ نثر نہیں ہوتی۔ شاعری جملوں کو توڑ کر انہیں مصرع نہیں کہتی۔ وہ معروضی ہونے کا دعوی نہیں کرتی۔ یہاں تک کہ اسکے لیے قابل فہم ہونے کی شعوری کوشش بھی لازم نہیں۔ بلکہ وہ ایک مکمل طور پر مختلف حقیقت کی خاکہ کشی کرتی ہے، جذباتی اور شعور سے ماورا عناصر کا ایک ایسا ملاپ جو نئی حقیقتوں کو جنم دیتا ہے ایسی حقیقتیں جو آواز میں ڈھلنےسے پہلے شاعر کے لیے بھی اجنبی ہوتی ہیں۔ یہ عمل اپنے اندر ایک اور کشش رکھتا ہے جب اس کا محرک وہی سب چیزیں بنی ہوں جن کو یہ عمل رد کرتا ہے۔ تاریخ، نثر، حقائق۔

یہی تارفیہ فیض اللہ کی شاعری کا حسن ہے۔ سیم کے نام سے چھپنے والی یہ کتاب اپنے مصرعوں میں 1971 کی جنگ آزادی کے دوران پاکستانی فوج کی جنسی درندگی کا نشانہ بننے والی عورتون کی تاریخ کو اپنے مسرعوں میں سمو لینے کی جدوجہد کرتی محسوس ہوتی ہے۔ یہ کتاب منظم ریپ اور اس کے بنگلہ دیش اور ملک سے باہر رہنے والے بنگلی دیشی شہریوں پر نسل در نسل اثرات کی تنقیدی اور اس سے بھی بڑھ کر جذباتی پرکھ کا نتیجہ ہے۔

فیضاللہ ایک بنگلہ نژاد امریکی شاعرہ ہیں جو مڈلینڈ ٹیکساس میں پلی بڑھیں۔ سیم ان کی پہلی کتاب اس فل برائٹ وظیفے کا نتیجہ ہے جسے انہوں نے بنگلہ دیش جانے اور بیرونگانہ کہلانے والے ان عورتوں کے انٹرویو کے لیے استعمال کیا۔ یہ مشرقی پاکتان کے خلاف مغربی پاکستان کے 1971 میں کئے جانے والے فوجی آپریشن پرایک شذرے سے شروع ہوتی اور ہمیں پارہ پارہ تاریخی بیانیے سےمتعارف کرواتی ہے: “بنگلہ دیشی ذرائع کے مطابق دو لاکھ عورتوں کو ریپ کیا گیا اور 30 لاکھ لوگ قتل ہوئے”۔ اس کے بعد یہ کتاب دھیرے دھیرے سنگین تاریخی حقائق کو سیال شاعری میں ڈھالتی ہے۔ پہلی ہی نظم کتاب کے آغاز میں دیے گئے تاریخی بیانیے اور شاعری کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش اور اس سے دیس سے باہر بسنے والوں کے درمیان تخالف کو سامنے لاتی ہے۔

جب انہوں نے مجھے اندھیرے کمرے کی طرف دھکیلا

خاموشی بوجھل ہو گئی

ناشپاتی کے باسی پھولوں کی خوشبو کی طرح

پٹ سن کے لمبے ریشے ہماری کمروں سے لپٹ گئے

اور ہاں وہاں اور لوگ بھی تھے

———————————————————————————————————————————

پاکستان کی کہانی سنانے کے لیے آزاد میڈیا کی تشکیل میں ہماری مدد کیجیے۔

سبسکرائب کیجیے یا چندہ دیجیے

———————————————————————————————————————————

فیض اللہ تاریخ کی حقیقتوں کو نہیں جھٹلاتی لیکن وہ انہیں اپنی شاعری میں بلاوجہ در آنے بھی نہیں دیتی۔ “ہاں وہاں اور لوگ بھی تھے” کا دستاویزی سچ اس وقت قاری کے حوالے کیا جاتا ہے جب وہ ناشپاتی کے پھولوں کی خوشبو اور پٹسن کے ریشوں کی لمبائی جیسی تاریخ کے لیے بے وقعت لیکن فیض اللہ کی شاعری کو اس کا رنگ دینے والی تفصیلات سے نمٹ چکتا ہے۔

تاریخ کی “حقیقت” فیض اللہ کے متن میں آوازوں کے تنوع سے بھی متاثر ہوتی ہے۔ کتاب کے صفحے بیرونگانہ کی آوازوں میں بسے ہوئے ہی نہیں وہاں دوسرے شعرا کے لفظ اور فیض اللہ کے قرابت داروں کی آوازیں بھی تواتر سے ہیں۔ ولا کیتھر، ٹامس ٹرانسٹرومر، پال کیلن، فیض اللہ کی ماں اور نانی کے لفظ کتاب میں جگہ جگہ بچھے ہیں۔

“انٹرویو کرنے والے کے نوٹ” کے دوران یہ ترچھے لفظ تاریخ کے تقاضوں سے براہ راست متصادم ہیں۔

لیکن نتھرے ہوئے بیانیے کی ضرورت نہیں تھی

تمہیں؟ روندی ہوئی عورت کے خاکے

سیاہ پڑتے آسمان کے پس منظر میں

پرچھائیں سے الجھی پرچھائیں

“انہوں نے مجھے اس دریا میں اچھال دیا

لیکن دریا مجھے نہیں مر سکا”

کل اس نے کہا۔ ۔۔۔۔۔۔

———————————————————————————————————————————

یہ مضمون آپ تک پہنچنے کے لیے ہمارے خون پسینے کے علاوہ روپیہ پیسہ بھی خرچ ہوا ہے۔

سبسکرائب کیجیے یا چندہ دیجیے

———————————————————————————————————————————

دریا وہ پانی جو لفظ بن کر اس تحریر میں بہتا ہے تاریخ کے نتھرے ہوئے بیانئے سیاہ پڑتے ہوئے آسمان اور شاعرہ کی تاریکی کو اپنی ماں کے جامنی مخمل میں بدل دینے کی خواہش کا درمیانی جوڑ ہے۔ جنگ اور ریپ کے منظر “پرچھائیں سے الجھتی پرچھائیں” فیض اللہ کی شاعری میں بار بار قدرے کے منظر کے سامنے آتے اور ان سے الجھ کر اس روایتی دستاویزی انداز کع توڑ دیتے ہیں جس میں جنگ کا خبر دی یا اسے یاد کیا جاتا ہے۔ جنگ اور قدرت کا یہ تضاد ایک ایسی شاعرانہ بساط بچھاتا ہے جو نیک وقت بہت تازہ بھی ہے اور خوفناک بھی۔

کئی پتے والا۔۔۔جیے نم کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے

گالب کی پتیوں کے طرح چمکتے ہوئے خول

گیلی گھاس میں الٹے ہوئے، جیسے

شفق میں دور تک بہتا دریا

اور اسی نظم میں ایک اور جگہ:

اس عورت پر

ایک پاکستانی سپاہی کی نظر

بارش کے ہاتھوں خم کھائے ہوئے پام کے درخت سے پڑی

اس کی ساڑھی اس پرسے پھاڑ دی گئی

“بارش سے خم کھایا ہوا پام کا درخت” “شفق” “گلاب کی پنکھڑیاں” اور “گیلی گھاس” قاری کو اس بربریت کے لیے تیار نہیں کر رہے جو وہ دیکھتا ہے۔ جنگ کی کند دھار، منظم ریپ کی حیوانیت، جنگ کے دوران پاکستان فوج اور اس کے بعد بنگلہ دیشی پراپیگنڈے کی سورت عورتوں پر منظم بربریت، تالابوں اور پھولوں کے بیچ قاری کو اچانک گھیر لیتے ہیں۔ لیکن بالکل یہی بات اہم ہے کہ اس ملک کا سارا منظر نامہ تشدد سے بھرا پڑا ہے۔ یہاں معصومیت لکھی نہیں جا سکتی۔

یہ شاعری بیک وقت مسحور کرنے اور جی اچاٹ کر دینے والی ہے۔ دستاریز مرتب کرنے کے استعماری دعوے شاعری کے ابہام اور اور تخیل سے ٹکراتے ہیں تو ایک نیا سچ جنم لیتا ہے۔ ایک ایسا سچ جو زبان کے لطف اور تاریخ کی نا انصافیوں کی طرف برابر متوجہ ہے۔

حیدر شہباز لاہور میں پیدا ہوئے اور لاس ویگاس میں رہتے ہیں جہاں وہ یونیورسٹی آف نیواڈا سے ایم ایف اے کے امیدوار ہیں۔ انہوں نے ییل یونیورسٹی سے تاریخ میں بی اے کیا ہے۔ 

Tags: ,

Leave a Reply

Your email address will not be published.