ہندی سینما کے چند حالیہ سیاسی ڈرامے│ صوفی کا بلاگ


ایشیا ٹائپ نسخ یا نستعلیق فونٹ میں پڑھنے کے لیے ان ہدایات پر عمل کریں۔

Feb19th

اردو اور ہندی بولنے سمجھنے والوں کے لئے ہندی سینما کی تفریحی اہمیت سے انکار ممکن نہیں – پاکستان اور ہندوستان کا مشترکہ ثقافتی ورثہ بٹوارے کے کچھ سالوں بعد تک بننے والی فلموں میں تو بہت ہی واضح تھا – موسیقی اور نغمہ نگاری جیسے شعبوں میں آج بھی شراکت داری دیکھنے کو مل جاتی ہے – پاکستانی اداکار اب ہندی فلموں میں کام بھی کر رہے ہیں- امید ہے یہ سلسلہ چلتا رہے گا ۔

جو دوست نوے کی دہائی میں جوان ہوئے ہیں انھیں شاید یاد ہو گا کہ اس عرصے میں ہندی فلموں کو کم ہی سنجیدگی سے لیا جاتا تھا – کبھی کبھار کوئی اچھی فلم آ جاتی لیکن باقائدگی سے معیاری فلمیں دیکھنے کو نہیں ملتی تھیں – اردو سینما بھی زوال پذیر تھا- پنجابی زبان کو پاکستانی پنجاب کا متوسط طبقہ ویسے ہی گھاس نہیں ڈالتا- تو بہت سے لوگوں کی پہلی ترجیح کوئی انگریزی فلم ہی ہوتی تھی – یا پھر پرانی ہندی اور اردو فلمیں جن کی کہانی، موسیقی اور ہدایت کاری نئی فلموں سے بہتر لگتی تھی ۔

٧٠ اور ٨٠ کی دہائیوں میں ہندی آرٹ سینما کی لہر تلے کچھ دلچسپ فلمیں بنیں لیکن نوے کے آتے آتے یہ صنف بھی ناپید ہو چکی تھی ۔

لگتا یوں ہے کہ پچھلے دس پندرہ سالوں میں ہندوستان کی معاشی ترقی نے ہندی سینما پر بھی مثبت اثر مرتب کیا ہے – اگرچہ ا ب بھی زیادہ تعداد میں انگریزی فلموں کے چربوں اور مسالے دار مواد سے ہی پیسا کمایا جا رہا ہے – لیکن دو مثبت تبدیلیاں سامنے آئی ہیں – ایک تو کمرشل فلموں کے موضوعات میں تنوع دیکھنے کو ملا ہے اور دوسرا کم بجٹ آزاد فلمنگاری نے جڑ پکڑ لی ہے ۔

جہاں تک مجھے یاد پڑتاہے ہندی سینما میں سیاست کو مرکزی موضوع شاذ و نادر ہی بنایا گیاتھا – اکثر سیاست دانوں کو ثانوی کرداروں میں یا تو منظم جرائم کا سرپرست دکھایا جاتاتھا یا پھرسیاست شریف لوگوں کے بس کی بات نہیں والی مثال – منہ کا زائقہ بدلنے کے لئے ذیل میں چند حالیہ فلموں کا تذکرہ ہے جواپنے عوامی پن کے باوجود سیاست کو سنجیدہ تناظر میں دکھاتی ہیں – میرے خیال میں یہ فلمیں ہندی سینما کے جس بہتر ہوتے معیار کی نمائیندگی کرتی ہیں- وہ رحجان چلتا رہے گا کیونکہ ان میں کم پیسوں سے بننے والی فلمیں بھی ہیں اور بھاری سرمایہ والی بھی – ہدایت کار نئے بھی ہیں اور پرانے بھی ۔

مجھے اس تحریرکی علمی اور تحقیقی کم مائیگی کا پہلے ہی سے اعتراف ہے – اس ضمن میں پڑھنے والوں کا تبصرہ ، غلطیوں کی نشان دہی اور ملتی جلتی فلموں کا ذکر خوش آئندہو گا ۔

حاصل  (٢٠٠٣)۔

ہدایت کارتگما نشو  دھولیا  تو اسے ایک رومانوی فلم کہتے ہیں – لیکن الہ آباد یونیورسٹی  میں طلبا سیاست کا پس منظر ہی  اس فلم کی جان ہے – فلم  میں کئی سین چھوٹے اور بڑے شہروں کی سیاست میں فرق کو اجاگر کرتے ہیں – ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے کہ   ذات برادری کی  دراڑیں  اب طلبا  سیاست  کو تقسیم کر رہی ہیں  اور تشدد کا رحجان بڑی حد تک سیاسی نرسریوںمیں سرایت کر چکا  ہے- حاصل  ریلیز ہونے پر زیادہ بزنس تو نہیں کر پائی  لیکن اپنے یادگار  مکالموں اور عرفان خان کی اداکاری کی وجہ سے انٹرنیٹ پر آج تک  مقبول ہے – جیسے کہ یہ سین

ہزاروں خواہشیں ایسی (٢٠٠٣)۔

یہ کہانی خوشال گھرانہ  کے ایسے  نوجوان کی ہے   جو بائیں بازو کی انقلابی  سیاست پر مائل ہے – نظریاتی سنجیدگی ثابت کرنے کے لئے وہ اپنی آرا م دہ زندگی چھوڑ کر  مشرقی ہندوستان کے دیہات  میں بطور کمیونسٹ پارٹی ممبر کام کرنے پہنچ جاتا ہے – اس کے مقابلے میں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا اسکا ایک ہم جماعت  موجودہ نظام میں لوگوں کو ناجائز ترقی کرتے دیکھتا ہے  تو اسے اپنا   دیانت دار ،  گاندھی گیری کا علمبردار باپ بے وقوفانہ حد تک جذباتی دکھائی دیتا ہے – دونوں نوجوان  اپنے اپنے سیاسی نظریہ کے تحت ایسے فیصلے کرتے ہیں جو مستقبل میں ان  پر اور انھیں چاہنے والوں پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں –
ہدایت کار سدھیر مشرا نےآدرشیت اور عملیت پسندی  کا جو تناؤپیش کیا ہے ، مجھے حیرت ہے کہ فلمی دنیا میں اور لوگوں کادھیان اس پر کیوں نہیں گیا – دو متضاد سیاسی نظریوں کو جوڑنے والی انسانیت کا کردار گیتا کی شکل میں انتہائی خوبصورت چترانگداسنگھ ہے- جس سے دونوں نوجوان محبت کرتے ہیں – گیتا کا اپنا سیاسی سفر بھی فلم کا دلچسپ پہلو ہے اور اختتام میں چونکا دینے کی صلاحیت بھی ہے۔

گلال (٢٠٠٩)۔

پاکستان میں مقتدر حلقوں کے حمایتی جہادی حلقے عوام کو اکثر یہ بتاتے رہتے ہیں کہ ہندوستان کے طول و عرض میں آزادی کی ان گنت تحریکیں چل رہی ہیں –  بتانے کا مقصد یہ فریب بیچنا ہوتا  ہوتا ہے کہ جلد ہی ہندوستان کے ٹکڑے ہو جائیں گے – وہ ‘جلد’ تو کبھی نہیں آیا اور نا  کبھی  آئے گا کیونکہ  ان  تحریکوں میں سے کچھ نرگسیت سے بھرپور ذہنوں کا خواب ہیں جن سے عوام کو کوئی خاص دلچسپی نہیں   – گلال ،  راجپوتانہ  ریاست کی مثال لیتے ہوئے  ان نوابوں رئیس زادوں اور راجوں کی باقیات  کا احوال سناتی ہیں جو ماضی سے نکلنا نہیں چاہتے – اور اسکے لئے اپنے اور دوسروں کے حال تک  قربان کرنے کے لئے تیار ہیں – انوراگ کشیپ    کو  ہندی سینما کا  tarantino بھی کہا جاتا ہے – لیکن گلال  کووہ   گرو دت کی شہرہ آفاق فلم پیاسا  کے ساحر لدھیانوی  کے لکھے گیت ‘یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے ‘    سے انسپائر قرار دیتے ہیں – فلم میں دکی بنا کا کردار انتہائی دلچسپ ہے جو پیوش مشرا نے نبھایا ہے – یہ کردار سپاہ سالار کا بھائی ہونے کے باوجود آزادی کی سیاست کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے جس کا اظہار وہ شاعری اور گیتوں میں کرتا  ہے –  پیوش  اس فلم کے موسیقار اور نغمہ نگار بھی ہیں-  ساحر لدھیانوی اور رام پرساد بسمل کے کلام کو موقع کی مناسبت سےجو  انہوں نے ڈھالا ہے …کمال کر دیا ہے – او  ری دنیا نغمے کے  چند بول…۔

غالب کے ،مومن کے خوابوں کی دنیا

مجازوں  کے ان انقلابوں  کی دنیا

فیض فراقوں ، ساحر و مخدوم

میر کی، ذوق  کی ، داغوں کی دنیا

یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے؟

یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے ؟

راج نیتی (٢٠١٠)۔

یہ سیاسی موضوع پر بڑے بجٹ کی فلم ہے جس میں بہت سے مشہور اور مہنگے اداکاروں نے کام کیا ہے – پرکاش جھا  ہندی فلم انڈسٹری کاجانا مانا  نام ہیں جن کی اکثر  فلمیں شمالی بھارت کے پس منظرمیں بنی ہیں  –  اس فلم میں انہوں نے خاندانی سیاست کی کہانی پیش کی ہے جس سے ہم بہت حد تک واقف ہیں  کہ  سیاسی خاندان مافیا کی طرح کام کرتے ہیں –  سیاسی  وراثت پر باہمی لڑائیاں اور چپقلش عام سی بات  ہے –   ذاتی مفاد پر عوامی خواہش کی چادر سرمایہ  اور طاقت کے زور پر چڑھائی جاتی ہے – وغیرہ وغیرہ … فلم میں اگرچہ بہت سے ڈرامائی موڑ ہیں لیکن  ان کا زیادہ تر تعلق اناپرستی  سے لیس  خاندانی جھگڑوں سے ہوتا ہے- ایک لحاظ سے یہ فلم پرانے  تصورات کو  پکا کرتی ہے کہ سیاست میں شرافت اور دیانت داری کی کوئی جگہ نہیں –

حیدر (٢٠١٤)۔

چاہے آپ ہندی سینما کو (معیار کے اعتبار سے) کتنا ہی نیچ  خیال  کرتے ہوں آپ کو ماننا پڑے  گا کہ وشال بھاردواج  نے شیکسپیر کودیسی  رنگ میں رنگنے سے انصاف  کیا ہے-  مقبول اور  اوم کارا    دونوں دیکھنے کے قابل فلمیں تھیں –   اسی سلسلے کی یہ تیسری فلم  شہرہ آفاق ڈرامے ‘ ہیملیٹ سے ماخوز ہے  لیکن کشمیر ی کہانی غیر سیاسی تو ہو نہیں سکتی – اس فلم کا ہندوستانی سنیما گھروں میں ریلیز ہونا اور پھر اچھا کاروبار کرنا  ہندوستانی جمہوریت پر رشک کرنے کا ایک اور موقع فراہم کرتا ہے – یاد رہے کہ پاکستان میں اس فلم کو دکھانے کی اجازت نہیں ملی جبکہ فلم میں جہاں پاکستانی فوج کی جہادی دخل اندازی کا ذکر ہے وہیں بھارتی فوج کی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں  کو بھی اجاگر کیا گیا ہے – مجموعی طور پر فلم کا ایک متوازن سا موقف سامنے آتا ہیں جس میں زیادہ اہمیت انسانی جذبات کی ہے قطع نظر اس سے کہ انکے سیاسی خیالات کیا ہیں –فلم دیکھ کر یاد آتا ہے  کہ تنازعہ کشمیر نے  وہاں کی  سیاسی ،مذھبی  اور طبقاتی بنیادوں کو بالکل ہلا کر رکھ دیا ہے – شاہد کپور، تبو  اور کے کے مینن تینوں  نے کمال کی اداکاری کی ہے – بھارتی  فوجی عقوبت خانوں سے نکلنے والی  صدا ” قفس اداس ہے یارو  صبا سے کچھ تو کہو…” جسم میں سنسنی ڈورا نے کے لئے کافی ہے –

دیکھ تماشا دیکھ (٢٠١٤)۔

ایک سچے واقعے سے متاثر  یہ فلم خوش اندازپیرائے  میں بہت سے سیاسی اور سماجی  مسائل پربات کرنےکی کو شش کرتی ہے – ہدایت کار فیروز خان نے کینوس تو کافی وسیع چنا لیکن پھر بھی کہانی ا  کھڑی ا  کھڑی سی دکھائی دیتی ہے – فلم میں بہت سے کردار مرکزی خیال سے جڑتے اور پھر اپنی ہی سمت میں جاتے دکھائی دیتے ہیں – فلم میں  ایک ہی کہانی فرقہ واریت ، بین المذاہب  پیار ، کاروباری صحافت ، مذہبی سیاست ،  سرکاری مشینری کی بے حسی اور عام آدمی کی بے بسی کا احاطہ کرنا چاہتی ہے –  بہرحال  کہنے کا ڈھنگ نیا ہے ، فلم  ناظر کی دلچسپی کا سامان رکھتی ہے  اور اختتام اگرچہ چونکا دینے والا نہیں لیکن پھر بھی حیرت کا امکان لئے سامنے آتا ہے –۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *