بلوچی، اردو

ایشیا ٹائپ نسخ یا نستعلیق فونٹ میں پڑھنے کے لیے ان ہدایات پر عمل کریں۔

 شمارہ ۸ │ Issue 8

مصور: مراد خان ممتاز │ ریگستان میں

مصور: مراد خان ممتاز │ ریگستان میں

بلوچی اور اردو، یہ دونوں ہی زبانیں بلوچوں کی مادری زبانیں ہیں۔ ہندوستان میں بلوچوں کی بہت بڑی اکثریت اردو مادری زبان کے بطور بولتی ہے۔

یہاں پاکستان میں ابھی تقریباً ایک سو سال سے بلوچی زبان کا بھرپور رابطہ اردو زبان کے ساتھ ہوا۔ اولین پچاس برس تو دونوں کے بیچ بغیر ایک دوسرے کو کہنی مارے اچھی لین دین چلی۔ فریادِ بلوچستان، شمس گردی، اور محراب گردی اردو زبان میں بلوچوں کی اولین تحریریں تھیں۔ انجمنِ اتحادِ بلوچاں اور بعد میں قلات نیشنل پارٹی سے لے کر نیشنل پارٹی اور بلوچ حق توار تک بلو چ کی سیاسی سماجی زندگی میں اردو ہی کے اندر ساری سیاسی شاعری تقاریر، مضامین اور خطوط لکھے جاتے رہے۔ دونوں زبانیں شرف و احترام کے تعلقات کے تحت بقائے باہم میں جیتی رہیں۔

مگر پچاس سال سے، جب سے اردو نے ریاستی سرکاری زبان کی حیثیت اختیار کی تووہ بلوچی کی چونڈیاں کاٹنے لگی۔ خود کو بھی نقصان پہنچاتی رہی اور بلوچی کو بھی اپنی مقتدرگی سے دیوار سے لگاتی رہی۔

ہم جانتے ہیں کہ ہر زبان رابطے کا ذریعہ ہے۔ زبان مقدس گائے نہیں۔  یہ اظہار کا وسیلہ ہے۔ یہ ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان رابطے اور افہام و تفہیم کا سب سے بہتر اور سب سے موثر ذریعہ ہے۔ لہٰذا دنیا کی ہر زبان مقدس بھی ہے اور محترم بھی۔ البتہ پاکستان میں، زبان محض لسانیاتی معاملہ نہیں ہے۔ تیسر ی دنیا کے ہر ملک کی طرح یہاں بھی’’زبان‘‘ سیاست اور انسان کش لڑا ئیوں تحر یکوں کا باعث رہی ہے۔ یہاں لال بجھکڑ حکمرانوں اور اُن کے احمق دانشوروں نے پورے پاکستان کو ایک قوم قر اردیے رکھا اور اردو کو قومی زبان۔ دلیل شلیل کوئی نہ تھی بس بز ورِ بوٹ وبم۔ یہ جو دنیا بھر میں21فروری بطور’’مادری زبان دن‘‘ منایا جاتا ہے۔ یہ دن پاکستان ہی کی وجہ سے وجود میں آیا۔ جی ہاں، پاکستان کی وجہ سے، جس نے اپنی ’’زبان پالیسی‘‘ کو اپنے اندر موجود ممتاز تاریخی شناختیں رکھنے والے مختلف علاقوں کے تہذیبی تنوع کو دبانے کے لیے استعمال کیا۔ ہوا یوں کہ مشرقی پاکستان کے بنگالیوں نے اپنی زبان بنگالی کو بھی قومی زبان قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ مگر پاکستانی حکمران اور اُن کے دانشور اردو کے پہلو بہ پہلو بنگالی کو بھی قومی زبان کا درجہ دینے کو ’’شرک‘‘ سمجھتے تھے۔ اُن کا مستقل خیال تھا کہ اس سے پاکستان کی ’’وحدت‘‘ اور ’’سالمیت‘‘ کو دھچکا لگے گااور پاکستان ٹوٹ جائے گا۔ چنانچہ جب حکومت پاکستان نے اردو کو واحد قومی زبان قرار دیا، تو اپنی زبان و ادب اور کلچر پر فخر کرنے والی بنگالی قوم نے اس فیصلے کو نہیں مانا۔

———————————————————————————————————————————

وقف نہیں۔ خیرات نہیں۔ بیرونی امداد نہیں۔ صرف آپکی مدد درکار ہے۔

سبسکرائب کیجیے یا چندہ دیجیے

———————————————————————————————————————————

میں قارئین کی توجہ ملا عبدالحق کے اُس بیان کی طرف مبذول کراؤں گا جو 20مارچ1952 میں چھپا جس میں اُس نے بنگالی کو قومی زبان بنانے کی مخالفت کی اس لیے کہ وہ زبان قومی زبان ہونے کے اُس کے مقرر کردہ مندرجہ ذیل شرائط پر پورا نہیں اترتی:

1- زبان دیسی ہو بدیسی نہ ہو۔
2- کسی خاص فرقے یا رقبے تک محدود نہ ہو۔
3- ملک کے مختلف علاقوں میں دوسری بولیوں کے مقابلے میں زیادہ لکھی پڑھی سمجھی یا بولی جاتی ہو۔
4- قومی تہذیب و تمدن اور روایات کی حامل ہو۔
5- ہر قسم کے جذبات و خیالات کے ادا کرنے پر قادر ہو۔
6- ادنیٰ سے اعلیٰ درجے تک ذریعہ تعلیم ہوسکتی ہو۔
7- زمانہ کا ساتھ دے سکے اور حالات کے مطابق ڈھل سکے۔(2)
(شریف آدمی! تم غلط تھے، قومی زبان کی سات نہیں صرف ایک شرط ہوتی ہے : وہ کسی قوم کی مادری زبان ہو )۔

ملا عبدالحق یہیں بس نہیں کرتا، وہ تو بس فرماتا ہی چلا گیا تھا۔ اُس نے زبانوں کے بارے میں اس قدر آلودہ تصورات پیش کیے، تصور تک نہیں ہوتا:
’’ اردو جس قدر قومی تہذیب و تمدن او رقومی روایات سے بھرپور ہے ، بنگالی اُسی قدرمحروم ہے۔ محروم کیا سرو پاہند وانی زبان ہے۔ اس میں تمام تلمیحات، تشبیہات، استعارے ، قصے، کہانیاں، اورتاریخی واقعات سب ہندوانی رنگ میں رنگے ہوئے ہیں۔ ساری زبان دیوتاؤں اور دیویوں کے افسانوں اور علم الاصنام کی تلمیحوں سے لبریز ہے۔ اسلامی تہذیب و روایات کا نام نہیں۔ اور اگر کہیں کچھ ذکر آتا ہے تو مسخ صورت میں۔ اردو زبان میں اسلامی مذہب اور اسلامی تاریخ کا بہت بڑا ذخیرہ ہے۔۔۔۔۔۔۔ بنگالی نے سنسکرت کا دودھ پیا ہے۔ اور ہندوانی ماحول میں پلی اور بڑھی ہے۔ اس میں ہماری تہذیب اور مذہبی خیالات کا سرمایہ نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔‘‘۔(3)

اُس کایہ ناروا ، مکروہ اور نسل پرستانہ فتویٰ بھی پڑھیے:

’’ پاکستان کا اتحاد و استحکام اور اس کی سا لمیت صرف اردو زبان پر منحصر ہے۔ اردو کے ساتھ کسی دوسری زبان کو شریک کرنا شِرک ہے کیوں کہ ایسا کرنا پاکستان کی وحدت کے منافی ہوگا‘‘۔(4)

اس قدر ناروا نقطہ نظر رکھنے والوں کو پتہ نہیں لوگ کس طرح اپنا ’’بابا‘‘ بناتے ہیں‘ اور پھر ایسے لوگوں کا دفاع سائنسی لہجے اور اصطلاحات استعمال کرکرکے کرتے ہیں؟ اس سے بڑی شاونزم میں نے نہ دیکھی نہ سنی۔

بعد میں ہم دیکھتے ہیں کہ بنگالیوں کی ’’زبان ایجی ٹیشن‘‘ کو طاقت کے زور پر کچلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اور ہر قیمت پر اردو کو واحد سرکاری و قومی زبان کے بطور مسلط رکھا جاتا ہے۔ چنانچہ اسی سلسلے میں21فروری1953 کو پولیس نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں احتجاج کرنے والوں پر گولی چلا دی جس سے چار طالب علم ہلاک ہوگئے۔ ناقابلِ تلافی نقصان کے بعد بنگالی کو بھی قومی زبان کا درجہ مل گیا۔

اس لیے جب بھی ’’قومی‘‘ اور’’سرکاری‘‘ زبان اردو کی بات ہوگی، دوسری پاکستانی قومی مادری زبانوں والے لوگ اُن ساری زیاد تیوں، زیانوں اور سسکیوں کو یاد کیے بنا نہیں رہ سکتے ہیں جواِن ارمان کچل ڈالنے والی تحر یکوں نے انہیں دی ہیں۔ ’’اردو پڑھو،اردو لکھو،اردو بولو‘‘ کی پالیسی نے نہ صرف اردو کاکھا دپانی روک دیا بلکہ اس نے ہماری باقی زبانوں کے ارتقا کے نرخرے پر پاؤں رکھے رکھا۔حاکم طبقے نے اردو کے ذریعے ہماری دیگر مادری قومی زبانوں پر ’’لسانی استعماریت ‘‘ یوں جاری کردی کہ اِسے اُن کے استحصال کی قیمت پر ’’قومی زبان‘‘ بنادیا گیا۔ ہمیں یہ شعورہے کہ کوئی زبان بجائے خودا ستعماری نہیں ہوتی۔ استعماریت زبان کی جو ہر ی خصوصیت نہیں، بلکہ اس کا مخصوص سیاسی استعمال ہے۔ جب بھی یہاں کی مادری قومی زبانوں کی تر قی کی بات چلی اردو کے شاونسٹ لوگوں نے اُسے’’ اپنے جناز ے کو دھوم سے نکلنے‘‘ پر محمول کیا۔ بدبختوں نے ایک جنازے کے خوف سے کتنے جنا زے نکلوادیے۔ مگر، غُل مچانے سے زبانیں اپنی تر قی کی جہد سے رک سکتی ہیں کیا؟۔ چنانچہ ،اپنی بقا کے لئے ہماری زبانیں اس طرح لپکیں جھپٹیں جس طرح دمے کا مریض آکسیجن کے لیے مچلتا جھپٹتا ہے۔ ایک ایک انچ کی پیش قدمی کئی کئی سر کھاتی گئی۔ ایک غیر جمہوری قدم دس مزید غیر جمہوری اقدامات کا سامان کرتا ہے۔

چونکہ یہ سرکار کی زبان تھی اور سرکار لیاقت علی کی سیٹو سنٹو اور ضیاء الحق کی جہادی فسادی اور عالمی رجعت کی علمبردار تھی، لہٰذا اردواِن رجعتی حکمرانوں اور فرسودہ فیوڈل نظریات کے ہاتھوں اخباروں میں، ریڈیو، ٹی وی پہ، اور نصابی کتب میں بہت نیچ اور غیر انسانی اعمال کی ترجمان بنا دی گئی۔ عوام الناس اور عوامی تحریک کے ساتھ جمہوری تعلقا ت نہ رکھ کر خوداُردو کو زبردست نقصانات ہوئے۔ اپنی مائتھالوجی اور فوک نہ ہونے کے سبب یہ زبان اپنے جڑوں ہی میں کمزور تھی۔ اوپر سے حاکم زبان بن بیٹھی تو مزید گڑبڑ ہوتی گئی۔اردو کے فیض، گل خان ، جالب،اور سجاد ظہیر تو جیلوں عقوبت خانوں میں گلتے سڑتے رہے۔ بلوچی زبان، اردو کے اندر پلہ بھاری رکھنے والے انسان دشمن انبار کے نیچے، گھٹے دَم کے ساتھ زندہ رہی۔

دنیا میں کہیں بھی کسی زبان کو کسی مذہب کے ساتھ نہیں جوڑا جاسکتا۔ حتیٰ کہ عربی اور عبرانی کو بھی نہیں۔ لہٰذا اردو بھی کسی خاص مذہب کی زبان نہیں ہے، ہو بھی نہیں سکتی۔ مگرہم نے دیکھا کہ ’’چاچائے اردو‘‘ نے اُسے مسلمانوں کی زبان قرار دیاتھا اور وہاں ہندی کو، اور یہاں باقی پاکستانی زبانوں کو باقاعد ہ بت پر ستوں کی زبانیں قرار دیاتھا۔ مگر اب بھی یار لوگ اُس اردو دشمن اور بقیہ زبانوں کے اِس دشمن سے دامن نہیں چھڑاتے۔ ہم سب گواہ ہیں کہ اب تک کی پوری پاکستانی تاریخ میں سرکاری فیوڈل لکھا ریوں نے بھی تو اتر کے ساتھ اردو کے فروغ واستحکام کودینی ومذ ہبی فریضے کے متر ادف گردانا۔

———————————————————————————————————————————

یہ مضمون آپ تک پہنچنے کے لیے ہمارے خون پسینے کے علاوہ روپیہ پیسہ بھی خرچ ہوا ہے۔

سبسکرائب کیجیے یا چندہ دیجیے

———————————————————————————————————————————

ایک اور پیدائشی نقص یہ ہے کہ بلوچی کے برعکس اردو کی جڑوں میں کہیں نہ کہیں انگر یز دوستی کی دیمک لگی ہوئی ہے، وہی انگر یز جو سا مراج تھا یہاں۔ جس وقت اِس خطے میں بولی جانے والی اکثر زبانوں میں سامراج دشمنی اپنے عروج پر تھی اردو بابے بھتیجے کچھ اور گنگنا رہے تھے۔ اُس میں گدِّو اور رحم علی تو کیا پید اہو تے، وہ تو عملی طورپر collaborators کی زبان بن چکی تھی۔ اردو کے آج کے بہت سارے پروفیسروں اور دانشو روں کا سب سے ’’روشن فکر‘‘ ہیرو، سرسید یوں کہہ رہا تھا: ’’……..اگر ہم اپنی اصلی تر قی چاہتے ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی مادری زبان تک کو بھول جائیں، تما م مشر قی علوم کو نسیاً منسیاً کردیں، ہماری زبان یورپ کی اعلی زبانوں میں سے انگلش یا فرنچ ہوجائے ……..‘‘۔  بتا ئیے یہ ہیرو اپنی مادری زبان سے ہی دستبر دار ہو چلا، اُس سے خطے میں موجود دوسری زبانوں کے ساتھ جمہوری تعلقا ت استوار کرواناتو دور کی بات ہے! ۔

اس بڑ ے امتحان میں ناکامی کے بعد اردو پر ایک اور نظر یاتی ذمہ داری ڈال دی گئی: دوقومی نظر یہ ۔ضحا ک کے ایک کند ھے پر ’’دو قومی نظر یہ‘‘ نامی روزکاایک انسانی مغز کھانے والا اژدھا تھا اور دوسرے پر’’ نیل سے کاشغر‘‘ تک کی پاسبانی کرنے کا ایک اور مغز خوراژدھا ۔نتیجہ یہ کہ، آبادیوں کی آبادیاں اُس کے نظر یاتی اژدھا ؤں کے زندہ رکھنے کوتج دی گئیں مگر اژدھاہیں کہ نہ مرتے ہیں نہ جان چھوڑ تے ہیں۔ ناقابلِ
تشر یح’’نظر یہ پاکستان‘‘ کے نظریے نے تو ابھی آناتھا۔

پھر اس کے نیفے میں ایک بہت بڑا پسو’’قو می یک جہتی‘‘ کے نام کا بھی اُڑسا دیاگیا۔ یہ بیچاری زبان،یک جہتی کہتے کہتے اپنا حلیہ تک بگاڑ چکی، مگر یک جہتی ہے کہ بلوچستان کے ’’امن وآزادی‘‘ کی طرح پکڑ میں ہی نہیں آتی۔ اور اِس یک جہتی کے اڑتے پر زے ہم روز’’مو ہن جو دڑو بنتے پاکستان‘‘ میں دیکھ رہے ہیں۔

اردو لکھنے والوں کی اکثریت چوں کہ ہندوستان سے آئی تھی اس لیے وہ اُن کے پیچھے اپنے وطن، صوبہ اور گاؤں کے دردِ فراق اور نا سٹلجیا سے باہر نہ نکل سکی۔ وہ رہتے تو یہاں تھے مگر سوچ وہاں اٹکی ہوئی تھی۔ وہاں، جہاں بد ترین فیوڈل نظام جاری و ساری تھا۔ وہاں کی اخلاقیات، لباس و پوشاک کو ہمیشہ معتبر جانا گیا اور یہاں وطنی زمینی حقائق کو دوسرا درجہ دیا گیا۔ ایک معاندانہ فضا اس زبان کے خلاف قائم ہوگئی جو کسی نہ کسی طو رپر آج بھی جاری ہے۔

اردو پر ایک سنہرا زمانہ بھی آیا۔ اور وہ مختصر زمانہ صرف1937 سے لے کر 1947 تک رہا۔ اس مختصر عرصے میں اردومیں بے شمار بلند قامت اور قابلِ احترام سامراج دشمن اور روشن فکر لکھاری ابھرکر سامنے آئے۔ منٹو، بیدی، کرشن چند ر، فیض، حبیب جالب ………. ۔ انگر یز سے آزادی کے لیے اس فکر وتحر یک نے شاند ار کام کیا۔ ان لوگوں نے تما م علا قوں، سارے مذ ہبی فرقوں کو اکٹھا کیا اور آزادی کی راہ پر ڈال دیا۔ مگر بین الاقوامی میکا رتھی ازم نے اس فکر کا گلا بہت جلد گھونٹ دیا۔ چنانچہ یہاں، پاکستان میں فیوڈل طبقہ کی حکمرانی کے دوام کے لیے اس فکرو تحریک کوموت کے گھاٹ اتار دیاگیا اور وہاں، ہند وستان میں نہروگیر ی نے یہ فریضہ سنبھالا۔ اور اس نظریہ کو سلو پوائزن کردیا۔

ہماری پوری ملکی تاریخ کا نوے فیصد وقت مارشل لائی فاشسٹ حکمرانی کا زمانہ رہا۔ اردو زبان یہاں کی دوسری تمام قومی زبانوں کے برعکس اُس کے ہاتھوں زیادہ استعمال ہوئی۔ اور زیادہ تر مارشل لا آئے ہی اس لیے کہ اردو اور دیگر زبانوں میں زمینی حقا ئق بیان کرنے والوں کی تنظیمی، انفر ادی، علمی اورعملی فضا کو بر باد کیا جا ئے۔ ایسا بڑا اور مہلک حملہ 1958کے مارشل لانے کیا۔ ضیا کا مارشل لا اُس کا نقطہ عروج۔ سیدھا سیدھا ماردھاڑ۔ اس لیے جو بچا وہ ماضی ا ور قدامت کی تلچھٹ تھا۔ اسی وجہ سے اُردو میں مستغیث، دام اقبالہ، فدوی، با ادب باملاحظہ، حضور اور فیض گنجور، جیسے غلامانہ الفا ظ گھسنے لازمی تھے۔

آپ اردو کو سرکاری زبان کہیں یا نہ کہیں، اسے قومی زبان کہیں نہ کہیں، اسے فرانکا کہیں نہ کہیں، حقیقت یہ ہے کہ یہ اقتدارکی زبان رہی ہے۔ اوریہاں تو ہمیشہ سے اقتدار، برتر لوگوں کا رہاہے۔ ایسوں کا جو عام انسانوں سے بالا تر ہیں، جو ’’بالا ئی کمیں گاہوں میں رہتے ہیں‘‘۔ اس خطے کے عوام ، اُن کی زبانوں اور کلچر وں کے لیے تحقیرکے جذبات رکھنا اُن کا اولین وآخرین فریضہ و وطیرہ رہا ہے۔ اس لیے حاکموں کی ’قومی‘‘ زبان کامقتد رو پاک و خالص وثقیل و مہذب و ممتاز و مکرم ہونا فطری بات ہوتی ہے۔ اردو ایک خاص طبقے کی زبان بن گئی۔

سیاسی اشرافیہ طبقے کا احساسِ کمتری، اُسے اردو میں فارسی، عربی اورانگریزی الفاظ ٹھونستے رہنے پر مجبور کرتا ہے ۔ یہmediocres ، پہ نسل پرست لوگ بلوچی کے الفاظ سے تواپنی صاف وزمزم واجلی زبان کو’’ گندہ ‘‘کرنے نہیں دیتے مگرانگریزی کے لئے اپنی زبان ترچھی کرتے ہیں، اپنے ہونٹ، گول و مخروطی و بیضوی بناتے جاتے ہیں، چہرہ حتیٰ کہ کلاہ بھی ٹیڑھا کرنے کو اعزاز سمجھتے ہیں۔

شریف لوگ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ زبان، انگلش کی سی ون تھرٹی سے گرائے گئے من وسلوی سے تر قی کرے گی۔ انہیں اندازہ ہی نہ رہا کہ یہ تو پڑ وسیوں سے گھل مل جا نے پہ زند ہ رہتی ہے۔ ہم سب اپنی اولاد کی تربیت کے لئے اُسے توگلی میں کھیلنے دیتے ہیں۔ مگر زبان کوتازگی اور آکسیجن سے محروم رکھتے ہیں۔ اردو کو عوام الناس نے تو اپنی چھابڑی تک پہنچادیا، مگر انتہا پرست لسانیاتی شاونسٹ دانشوروں نے اُسے گلی میں آنے نہ دیا، اس کے جوتے گرد آلود ہونے نہ دیے، اس کا گریبان پھٹنے نہ دیا، اس کے چہرے پہ خراش نہ آنے دی۔ زبانیں اگر خالص ہونے لگیں تو تہذیبوں کی موت کو کسی کا شیکسپیئر بھی نہیں روک سکے گا۔

ہمارے خطے کی اس زبان کے ساتھ ایک اور مسئلہ یہ ہو ا کہ یہ شہری مڈل کلاس لوگوں کی زبان رہی جو کہ تقریباًسارے کا سارا قدامتی، رجعتی اور بنیاد پرست ہے۔ پاکستان کا مڈل کلاس شاہ پرست و ہیرو پرست ہے،یہاں وہاں جھنڈے گاڑتے رہنے کا رسیاہے۔ جس زبان کومہذبوں، مشائخوں، پنڈتوں کا اشلوک خانہ بنا دیا جائے وہ بھلا کبھی عام انسانوں میں جڑیں پھیلا ئے گی ؟ لہذارجعتی مڈل کلاس کی فیوڈل اخلاقیات کے دیگر مظاہر کی طرح اُن کی اردو بھی اپنی آنکھ، کان، ناک اور زبان تک کی بے پردگی سے خوفزدہ ہے۔ پاکیزگی و دوشیزگی پہ اس قدرحساس کہ ہماری گلیوں بازاروں سے سفید چادر سے گھونگھٹ نکالے سر جھکائے تیز قدموں سے راستہ گزرتی ہے، گویا کارندے ’’پردہ کرو،پردہ کرو‘‘ کہتے جاتے ہوں، ہمارے لوگوں پر ڈنڈے برساتے، کہاروں کا راستہ بناتے جاتے ہوں۔

اردو پرایک اورغضب یہ ڈھایا گیا کہ یہ ساٹھ برس سے نسیم حجازی کی تلواروں، اس کے جہادی گھڑسواروں کی ٹاپوں نعروں، فتح و قبضہ والے ’’ہوائی طبقات ‘‘کی زبان رہی۔ عقیدے کی تھر ل (thrill)سے لبالب بھر ے لوگوں کی زبان۔ انہوں نے اس زبان کو مالیکیول، جینیٹکس، بلوچی تھیریم، فزیالوجی اور کوانٹم وکاسموس سے دور رکھا اور ’’کما حقہ‘، جوڑ، اکرام، نصرت، کار گزاری، اورسہ روزہ جیسی اصطلا حات سے اس کو باندھ ڈالا۔
پھر ایک اور وجہ بھی رہی۔ پنجابیوں بلوچوں پشتونوں اور سندھیوں نے اس میں لکھا تو ہے، مگر بہت کم نے اپنے’’خیالات کے ابلاغ‘‘ کی غرض سے اردو کو ذریعہ اظہار بنایا۔ زیادہ ترلوگ اس کے ذریعے شہرت و اشاعت وہدیہ و قیمت و ستارہِ شجاعت کے طلبگار تھے۔ ایسے موقع پر ستوں، جی حضوریوں اور دنیا داروں نے بھی اردو کو موٹے موٹے الفاظ ہی دے مارے، اسے اندلس، شپیاں، غرناطہ، چچنیا اورقسطنطنیہ، کی مہاجرتیں تو کروائیں مگراُسے سبی و خضدار کی زیارت سے بے نصیب رکھا۔

ردعمل میں اردوکو پر دہ کرانا تو ایک اور طرح کی غلطی ہے۔ اگر زبان پر دہ کرنے لگے تو خیالات ونظر یات کی پاک عریانیت کا اظہار کیسے ہو؟ اورپھر یہ بات بھی ہے کہ اردوچاہ بہار سے تونسہ تک پھیلی بلوچی سے کیوں کرپردہ کر پائے گی۔ اس با ت کابھی خیال رکھا جائے کہ صرف درآمدی بن کر رہنا اگر دیو الیہ پن ہے تو محض بر آمد ی بننے سے بھی ذخائرنے با لآخر خالی ہوجا نا ہوتاہے۔ آمد اور رفت دونوں کا تو ازنی بہا ؤہی زندگی کا رازہے۔

———————————————————————————————————————————

پاکستان کی کہانی سنانے کے لیے آزاد میڈیا کی تشکیل میں ہماری مدد کیجیے۔

سبسکرائب کیجیے یا چندہ دیجیے

———————————————————————————————————————————

ہم اُن دوستوں کی اِس خواہش سے کسی صورت بھی متفق نہیں جس کے تحت وہ اردو کوبلوچی کی جہداں قدموں کی گردمیں دفن کرنا چاہتے ہیں۔  یہ تو غیر جمہوری اپروچ ہوگا۔زبانوں کے بیچ جمہوری تعلقات کے علاوہ بھی بلوچ، اردو کے اس لیے بھی خیر خواہ ہیں کہ اس نے گور کی و گل خان، کر شن و کافکا، ناظم ونر ودا، مارکس ومنٹو، اور، ساحروساگان، اسی زبان میں پڑھے۔  اِسی زبان نے انہیں فلسفہ وتاریخ ومعا شیا ت کے علوم سے آشنا کیا، اسی کے ذریعے وہ دائیں بائیں سمجھ سکے ہیں۔ ماں باپ کے بعد استا د کا مقام آتا ہے ناں۔ بلوچی کے بعد اردو ہی بلوچ کو عز یز ہے۔ اردو خدانہ کرے کہ اپنی بلند ی سے ایک انچ بھی نیچے آئے۔ بس ہماری پر وازکو نہ روکے۔ وہ ہماری زبانوں کواپنی ہم جولی بنادے کہ ہم سب کی خوبصورتی اسی میں ہے۔ محبو باؤں کی زبانیں محبو بوں کی زبانوں سے برابری کامقام ہی چاہتی ہیں۔

اردو ایک مضبوط و تو انازبان ہے۔ اسے کسی ’’نفا ذِ اردو تحر یک‘‘ اور ’’تفہیمِ اردوتحر یک‘‘ کی ضرورت نہیں تھی۔ نہ اسے ’’مقتدرہ‘‘ کی محتاجی تھی۔ یہ اپنے اڑوس پڑ وس کی زبانوں کی بہتر ین سہیلی بن سکتی تھی۔ یہ link language رہ پاتی ہے یا نہیں، ڈنڈ ے ڈرپ اور’’ ڈیکا ڈران‘‘ اس بات کا فیصلہ نہیں کرسکتے۔ پاکستان کی ساری مادری زبانیں قومی زبانیں ہیں۔ سردار ی اگر سماج میں منظور نہیں تو زبانوں میں کیسے قبول ہوگی۔ زور کی چھینی بڑائی ،دماغوں دلوں میں رہنے کے اہل کبھی نہیں رہتی ۔ میری دعا ہے کہ اللہ مجھے میری اس تحریرکے پڑھنے والے ہر اُس شخص کی دوستی سے محروم کردے جو آج کے بعد، پنجابی، سندھی، پشتو اور بلوچی کو’’علاقائی‘‘ یا ’’مقامی‘‘ زبان کہے۔

مگر زبانوں کے آپسی لین دین کا مطلب زبانوں کا انضمام ہر گز نہیں ہے۔ اردو بلو چی نہیں بن سکتی اور بلوچی کو اردو نہیں بننا چاہیے ۔’’ایک خدا ، ایک رسول، ایک قرآن،ایک یونیفارم،اور ایک زبان‘‘ والے نعرے میں سے صرف پہلی تین باتیں ہی صحیح ہیں‘ آخری دو باتیں غلط ہیں ۔ہمارے آبا واجد اد نے یہی بات سمجھا تے سمجھا تے اپنی جوانیا ں قلی کیمپوں، ساہیوال اور مچ جیلو ں میں مر جھوائی تھیں۔

سمجھنے کی بات یہ ہے کہ آج اردو، چٹان زبانوں کے بیچ ہے ۔اردو ایسے لوگوں میں آگئی جہاں لفظوں تک کا تلفظ الگ ہے ۔یہاں ’’نی‘‘، کو’’نڑیں‘‘، ث کو’’ث‘‘، ذکو’’ذ‘‘ کہا جاتا ہے ۔ ایسا علاقہ جہاں کی ساری آریائی زبانوں میں مذکر مونث موجود نہیں ہیں۔ نہ بلوچی میں، نہ فارسی انگر یز ی میں۔ لہٰذا ہم بلوچ 1947 سے ٹٹول ٹٹول کر، الٹ پلٹ کر یہ دیکھنے میں لگے ہوئے ہیں کہ پنسل میں مونث اور، قلم میں مذکر والی طبعی یا خصلتی جگہیں کہاں واقع ہیں ۔

مجھے یقینِ واثق ہے کہ’’آؤ، آئیے اور آئیے گا‘‘ والے سارے فیوڈل تکلفات آریائی زبانوں کی بنت میں ڈھل جائیں گے جن میں صرف ’’تو‘‘ ہے،’’ تم‘‘ اور’’ آپ‘‘ وجودہی نہیں رکھتے۔ اسی طرح آپ بلوچ کو گولی مار و بھی وہ ’’ق‘‘ کوناف جتنی گہرائی سے نہیں نکال سکے گا۔ وہ ققنس پڑھے گا ہی نہیں۔ اردو شاعری کو چھوڑ کر باقی حالتوں میں وہ بے وقوف بننے کو تیار ہوگا مگر عَقُل کوعَقل نہیں پڑھے گا،نَظَم کونظم نہیں کہے گا۔ اپنے تَوکلی کو تو کلّی ہرگز ہرگز نہیں کہے گا۔

یہ عجیب بات بھی دیکھیے کہ ہمارے پورے خطے کی زبانیں لفظ ’’نیم ‘‘ سے اپنا کام چلاتی آ رہی تھیں…….چہار و نیم،دہ ونیم ، یازدہ ونیم۔ اب اگر’’ساڑھے‘‘ مسلط کرہی دیا تو ہمارے ’’ساڑھے ایک‘‘ اور’’ساڑھے دو‘‘ پرلوگ ہنستے کیوں ہیں ۔۔میں یقین سے کہتا ہوں کہ اردو پر’’ غلط العا م‘‘ اس مقدار، اور اس سرعت سے برسے گا کہ اُس کی صورت ہی بدل جائے گی۔

اردو کوزمین پہ اتر نے، نصا ب نے بھی نہ دیا ۔ میں اُن زیا د تیوں کو نہیں گنتا جو نصا بی کتب نے ہماری نسلوں کے ساتھ کی ہیں ۔ بس اتنا کہنا ہی کافی ہوگاکہ ہمارا تعلیمی نصاب کبھی تعلیمی نہ رہا، یہ ہمیشہ سے سیاسی تھا (اورہے )۔ رجعتی، فرقہ باز، جنگجواور، منافرت بھری سیاست کا نصا ب۔

فر سو دہ نصاب زبان میں سڑا ندو فر سود گی تولاتا ہی ہے۔ اُس کا عمومی ذوق اور taste گرادیتا ہے ۔ جسے وہ بعد میں دوسرے ذہنوں اور زبانوں میں پھیلا تاہے۔

جہاں تک ذرائع ابلاغ ( میڈیا) کا تعلق ہے تو ذرائع ابلاغ پر بھی اُسی سیاسی و معاشی حاکم طبقے کا قبضہ رہا ہے۔ اور میڈیا کی اردو بھی گذشتہ ساٹھ سال تک عوام کے لئے مشکل ترین ہی رہی ہے۔ اب جا کر سرمایہ دار کو عقل آگئی کہ اس نے اپنے پر اڈکٹ اور کماڈ ٹیز دلّی اور بدایوں میں نہیں لاہوراور لورالائی میں بیچنی ہیں۔ اپنے طبقے کے نظر یات، اپنے طبقے کی خبر اور تفر یح عوام الناس کے دلوں دما غوں میں انڈ یلنے ہیں۔ اس لیے میڈیا،با لخصو ص پرا ئیو یٹ ٹی وی چینلزاردو کو عام فہم، اور عوامی بنانے کا زبر دست با عث بن رہے ہیں۔ ٹا ک شوز، ٹی وی ڈراموں، گانوں، مزاحیہ پر وگراموں اور بالخصوص مزاحیہ شاعری میں اردو تیز ی کے ساتھ زمین کی قدم بوسی کررہی ہے، زمین جہاں انسان بستے ہیں۔ یوں اب پنجابیوں اور پشتونوں کے گھسنے سے اردو کے مردہ نوابی کلچر کی باقیات کچھ کچھ ٹوٹ رہی ہیں۔

اخبارات و رسائل میں تو معاملہ اور بھی دلچسپ ہے۔ اشتہارات سے لدے پھندے نام نہاد معیاری اخبار تو دو چار ہی ہیں۔ جبکہ اس ملک میں بے شمار اخبار اور رسائل چھپتے ہیں۔ ان میں غیر اردو لوگ لکھتے ہیں۔ اسی طرح کمپوزنگ اور پروف ریڈنگ کا کام بھی مقامی لوگ کرتے ہیں۔ چنانچہ پڑھتے ہوئے کہیں آپ کو تذکیر و تانیث کا بھٹہ بیٹھا ملے گا، کہیں واحد جمع زخمی زخمی پڑے ملیں گے اور کہیں کہیں کوئی مقامی لفظ اردو لفظ کوآنکھ مارتا نظر آئے گا۔ ایسی خوبصورت گلابی اردو کہ جی خوش ہوتا ہے۔ ابلاغ سو فیصد۔

جہاں تک ریڈیو کی بات ہے تو ریڈیو پاکستان کو تو کوئی سنتا ہی نہیں۔ عام لوگ، بالخصوص نوجوان نسل ایف ایم ریڈیو بہت سنتی ہے۔ وہاں جو اردو استعمال ہوتی ہے، جو اشارے کنائے ہوتے ہیں، جو فرمائشیں ہوتی ہیں اور جو انڈین گانے بجتے ہیں وہ عشق سے سرشار نوجوانوں سے متعلق ہوتے ہیں۔ عشق کے ابلاغ کے لئے بے ساختگی، بلاواسطگی اور آساں لسانی بہت ضروری ہوگئی ہیں۔ عشق تو خود استعارہ ہے،ضرب المثال ہے، معلی ہے، مرصع ہے، مسجع ہے۔ یہی ایف ایم،اردو کو ٹرانسفارم کرنے ، اور ہماری زبانوں کے الفاظ و استعارے اُس میں شامل کرنے میں کردار ادا کررہاہے۔
ایک اور حوصلہ افزابات یہ ہے کہ خود اردو نژ اد لوگوں کی اپنی نئی نسل نے بہت کچھ سیکھا۔ وہاں نسبتاً ایک علمی اپر وچ، ایک سائنسی نقطہ نظر، بقائے باہم اور جمہوری رویہ سا پیدا ہونے لگا ہے۔

پھر، یہ بھی ہے کہ آمر یت گئی، سچی یاجھوٹی، منصفانہ یا دھاند لیانہ سلطا نیِ جمہو رآگئی، پا لیسیاں کر سیا ں جلسہ عام میں لائی جارہی ہیں، فیوڈلوں کا فیوڈل پیر پگاڑہ تک عوام میں آکر جلسے کرنے لگا ہے۔ نعر ے، تالیاں تقر یر یں انسانی صورت اختیا ر کرتی جا رہی ہیں۔ یوں سیاسی عوامی زبان بھی انسا نی آبا دیوں میں نقل مکانی کررہی ہے۔

ایک اور بڑا عنصر بھی اردو کو جمہوری زبان بنا دے گا۔ وہ ہے میرا آپ کا قاری۔ قاری جو بلوچستان میں ہے، سندھ میں ہے ، جنوبی پنجاب میں ہے۔ اور وہ بیس سال کا نوجوان ہے ۔ بارہ تیرہ جماعتیں پڑھا ہوا۔ یقین کریں اگر لکھاری اُسے پڑھنے کو’’دامے درمے قد مے سخنے۔۔۔۔۔۔‘‘ دے گا تو وہ جواباً اسے ’’دامے،درمے، قد مے سخنے۔۔۔۔۔۔‘‘جتنی موٹی گالی دے کر کتاب پھینک دے گا۔

ہماری دیگر پاکستانی زبانیں بھی گذشتہ دودہائیوں سے اردو کی ہٹ دھرمی کو مارکیٹ میں خراشیں لگاتی جارہی ہیں۔ کلاس روم میں اردوکو ہماری زبانیں دل کھول کھول کراپنے خون کا عطیہ دے رہی ہیں۔ اسمبلی میں اس کااپنا\”انپڑا\”بنتا جارہاہے ، اس کی تعلیم\” تلیم \”بن رہی ہے، اس کا مذکر، مونث نہیں تو کم ازکم شی میل ضروربن رہاہے ……..مریض تیز ی سے شفایاب ہورہاہے۔ اس لیے کہ پڑوسی پاکستانی زبانیں اُس کی مہلک’’خالص گیری‘‘ میں بے شمارحیات بخش دراڑیں ڈالتی جارہی ہیں۔

زبانیں فرمائشوں پہ عام فہم اور جمہوری نہیں بنتیں ۔نہ ہی یہ آرڈ نینسوں کے ذریعے نافذ ہوتی ہیں۔ پاکستان میں شریعت کا نفاذ اور اردو کا نفا ذ ہمیشہ سماجی معر وض سے الگ کرکے دیکھے گئے ہیں۔ عملی سماجی قبولیت جیسے بنیاد ی عضر کو الگ رکھ کر کبھی کوئی اقدام نہیں ہوسکتا۔ زبان کی عام قبولیت اور زود تفہیمی بھی سماجی پرا سیس کے دوران دیکھی پر کھی جاسکتی ہے۔ آج کے سر مایہ داری نظام میں ملٹی نیشنل کمپنیاں گردنیں دبوچ دبوچ کرسماجوں کواپنے قالب میں ڈھا لتی جاتی ہیں۔ انہی کی برکت سے، ہم تو پہلے ہی نا خالصی کے صحت مند پراسیس میں گردن گردن ڈوبتے جارہے ہیں۔ جب کمپیوٹر نے کا تب کا پیشہ ختم کردیاتھا تواس نے ہم سب زبانو ں کے غیر ضروری اعضا بھی کاٹ ڈالے تھے۔ ہم سب کی شاخ تراشی کر دی تھی۔ حروفِ تہجی تک نئے سرے سے مرتب ہوگئے۔ پھر جب موبائل SMS ، فیس بک، ٹوئیٹرآئے توہماری زبانوں پر گویا دس ریختر سکیل کا زلزلہ آگیا۔ کسی لفظ کی چونچ گم ہے کسی کا دھڑ۔ ابجد و علامتوں کا ایسا آمیزہ کہ اب تک کے بنائے گئے قوائد و ضوابط، گرامر، آداب اورحجاب سب کچھ کاستیاناس ہو گیا۔ سپرا نتو سمجھو بن بھی گئی، رائج بھی ہوگئی۔ کارپوریٹ دنیاابھی بہت کچھ کرے گی۔ ٹکنالوجی بہت کرتب دکھائے گی۔ کسی کی پگڑی اچھلے گی، کسی کا گردہ چوری ہوگا اور کسی کی مونچھ کو بالچر لگ جائے گا۔ سب سے’’ فٹ‘‘ ہی بقا پائے گا۔۔۔۔۔۔۔ اور سب سے فٹ وہ ہوگا جو سائنس و ٹکنالوجی کو روح میں جذب کرکے علاقائی اتحاد و تعاون کو زیادہ سے زیادہ اپنی جھولی میں بھردے گا۔

اور پھر انسانوں کے اس بڑے گروہ کاذکر کیسے نہ ہو جو مراعا ت کو ٹھوکر مارتے ہوئے جیلوں عقوبت خانوں میں خون تھوکتا ہے مگر عوام الناس کی آزادی آبادی کے نغمے لکھنے سے بازنہیں آتا۔ انہی انقلابی سیاسی ورکروں دانشو روں نے اردوکے بشمول ہماری مادری قومی زبانوں کے نثر و نظم کا کینوس ولا یتوں تک وسیع کرڈالا۔ اُن کی تحر یریں کسانوں کے ترا نے بنیں، زندہ رہنے کا سبب اور زندگی کاڈھب بنیں۔ بمبئی کے سینما سے لیکر ریڈ یو کے نغما ت تک اردو کو ارضِ خدا کے بند وں تک پہنچا نے میں سامرا ج دشمنوں اور کمیو نسٹوں کے کردار کو کون گھٹا سکے گا۔ ہم آج بھی اردو کے فیو ڈل سانچے کو تو ڑ نے میں پوری تو انائیاں لگائے ہوئے ہیں۔ ہم آج بھی اسے عوامی استعا رات، تشبیہات و ضرب الا مثال سے مالا مال کررہے ہیں۔ ہم اردو کے ذخیر ہ الفا ظ کو ایک نہ ختم ہونے والا بینک عطا کرتے جارہے ہیں۔

لہٰذا نیا دورجوبھی اچھی چیز یں لائے گااُن میں ایک طرح سے زبان کے شاونزم کی شکست کا اعلان شامل ہوگا۔ اُن سب لوگوں کی شکست جنہوں نے برتری و نورانیت و روحانیت و خالصیت کے شیش محل بنانے چاہے تھے۔ اور اُسی شیش محل سے بلوچستان کے کوہ شاشان کو توڑنے کی خواہش کی تھی۔ یقین کیا جائے کہ بلوچی کا مرگ اُردو کی حیات نہیں بن سکتا، میری حیات ہی اُسے زندہ رکھے گی،اُسے عام فہم بنادے گی۔ ہم شا ونزم کی اس شکست کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ ہم اس کی مزید شکستیں دیکھیں گے۔

زبانوں کے بیچ جمہوری رشتے زندہ باد ہوں۔

———————————————————————————————————————————

وقف نہیں۔ خیرات نہیں۔ بیرونی امداد نہیں۔ صرف آپکی مدد درکار ہے۔

سبسکرائب کیجیے یا چندہ دیجیے

———————————————————————————————————————————

بلوچی پنجابی:

پواد کوہ کی چوٹیوں سے لے کر لاہور کے علاقے مزنگ تک تین کروڑ سے زائد بلوچ مادری زبان کے بطور پنجابی استعمال کرتے ہیں۔یہ الگ بدقسمتی ہے کہ سب سے زیادہ بولی جانے والی ہماری اِس مادری قومی زبان کو بری طرح نظر انداز کیا گیا ہے۔ بلکہ پنجاب میں اپنی وجوہات کی بنا پر اور بلوچستان میں اپنے اسباب کے حوالے سے اِس زبان پہ کوئی افتخار، جذباتی وابستگی، یا سماجی تہذیبی بقا کا ارادہ موجودہ نہیں ہے۔

بابا فرید گنج شکر، گرونانک، شاہ حسین، وارث شاہ، خواجہ غلام فرید، سلطان باہو، میاں محمد بخش، امرتا پریتم، فیض احمد فیض اور حبیب جالب جیسے شاعروں، اور سی آر اسلم ، افضل توصیف، احمد سلیم جیسے بلند پایہ دانشوروں کی اِس زبان نے نسلوں کے نسل امیر اور غنی بنا دیے۔

بلوچی زبان پنجابی سے اچھا خاصا لین دین رکھتی تھی۔ بالخصوص پاکستان بننے سے قبل، تو یہ لین دین برابری والی تھی۔ بڑے ہی دوستانہ اور فائدہ مند انداز میں۔ بعد میں تو خیر اعلانیہ یا غیر اعلانیہ ون یونٹ بنا کر پنجاب نے ہر طرح کی بالادستی لے لی۔ زبان میں بھی۔ چپڑاسی سے کمشنر تک سب وہاں سے آئے۔ اب یہ زبان چونکہ تاجر و کا شتکار ومویشی بان والی نہ تھی ، حاکم وافسرو حضورِ والا کی تھی اس لیے اب اُن کی زبان میں دوستی اور دوستی کے الفاظ و اصطلاحات نہ تھیں، بلکہ حاکمیت کی مرداریت کے لہجے اور الفاظ تھے۔ فوج کشیاں الگ۔ اب پھر میڈیا کے ذریعے، بالخصوص چینلوں پر مزاحیہ پروگراموں کے ذریعے اُس زبان کا اثر ایک نئے انداز میں آرہا ہے ۔ کاش وہ اپنے دانا، اور انقلابی کلاسیک کو فروغ دیتے تو ہم سب کا بھلا ہوتا۔

سب سے زیادہ آبادی پنجابی بولنے والوں کی ہے اس لیے پنجابیوں نے بڑ ا رول اداکر ناتھا ، لسانی جمہوریت میں.  مگر اسے تو یقین دلایا گیا کہ اُن کی زبان اجڈاور جاہل لوگوں کی زبان ہے۔ لہذا وہ سب مہذ ب بننے کے لیے گھر میں بچوں کے ساتھ اردو بولتے ہیں۔ پھر اُن کا اصل رسم الخط گر مکھی اُن سے چھنا گیا۔ کافروں والا رسم الخط جو ٹھہرا۔

فیس بک پہ ایک پنجابی بزرگ دانشور کا یہ فقرہ پنجابی زبان بولنے والوں کی خوب عکاسی کرتا ہے:

Hay, speak Urdu, the mother tongue of the Punjabi middle classes

ایک کہانی مجھے افضل توصیف نے سنائی۔ وہ اکبر بگٹی سے ملنے گئی تو اپنی ساری تصانیف ساتھ لے گئی۔ اکبر خان نے اُس کی اردو کتابیں اُسے واپس کردیں اور پنجابی کتاب اپنے پڑھنے کے لیے رکھ لی۔ حیرت زدہ افضل توصیف نے پوچھا ’’آپ پنجابی پڑھتے ہیں؟‘‘ تو اکبر خان نے یہ خوبصورت جواب دیا :’’ ہاں، اس لیے کہ میں پنجابی نہیں ہوں‘‘۔

لہٰذا پاکستان میں بولی جانے والی ساری قومی زبانوں میں پنجابی وہ واحد زبان ہے جسے اپنے دانشوروں ، بیوروکریٹوں، پالیسی ساز اداروں کی طرف سے بدترین سرد مہری کا سامنا ہے۔اسے تعلیمی یا سرکاری زبان کا درجہ تو کیا ملنا تھا اسے تو بول چال کی باعزت زبان بھی نہیں قرار دیا گیا۔ پنجاب کا صوبہ اپنی ترقی کا کتنا ڈھول پیٹتا رہتا ہے مگر اُن کی اصلیت یہ ہے کہ وہ اپنی مادری قومی زبان میں نہ پڑھ سکتے ہیں نہ لکھ سکتے ہیں۔
پنجاب یونیورسٹیوں سے بھرا صوبہ ہے۔ اور ہر یونیورسٹی میں اردو اور فارسی ڈیپارٹمنٹ موجود ہیں۔ مگر ابھی حال ہی تک پنجابی ڈیپارٹمنٹ کا وجود تک نہ تھا۔

بلوچی پشتو:
پشتوکامعا ملہ ذرا مختلف ہے ۔ پاکستان میں تو وہ بھی سمجھو بلوچی ہے مگر پڑوسی افغانستان میں اُسے فارسی کے ساتھ 19,20 کی برابری حاصل ہے ۔(بلوچی کو افغانستان میں بھی ترہ کی صاحب کے انقلاب کے مختصر عرصے کے بعدکو ئی برابری وغیر ہ کادرجہ حاصل نہیں ہے )۔پشتو اور بلوچی زبانوں کے تعلقات اس قدر دوستانہ رہے کہ دونوں زبانوں میں ایک دوسرے کے الفاظ استعارے اور ضرب الامثال بغیر کسی زور و جبر کے شامل ہوتے رہے۔ فوری پڑوسی گیری میں کلچر اور زبان تو خوب سرنگیں لگا لگا کر ایک دوسرے کو امیر کرتے جاتے ہیں۔

بلوچ تاریخ میں پڑوسی اقوام، اور خود اپنے اندر قبائل کے بیچ جنگ و صلح کا ابدی سلسلہ نظر آتا ہے ۔ مگر یہ سب ایک کوڈ کے ذریعے‘ ایک رواج کے تحت ہوتا ہے۔زبان اور کلچر پینترے بد ل بدل کر اپنی لین دین دین جاری رکھے ہوتے ہیں ۔

بلوچی فارسی :
فارسی تو صرف ایرانی بلوچوں کے لئے حاکم زبان نہیں ہے بلکہ یہ خوانینِ قلات کے ابتدا سے لے کر ابھی 1948 تک پاکستانی بلوچستان میں خان قلات کی سرکاری اور ریاستی زبان ہوا کرتی تھی ۔ مسجدوں میں فارسی کے ساتھ عربی بھی پڑھائی جاتی تھی ۔ جدید یت کے دور میں یہ لین دین مزید بڑھ چکی ہے ۔بالخصوص افغانستان و ایران کی بلوچی میں۔ اس لئے کہ ریاستی زبان وہاں فارسی ہے اور تعلیم،میڈیا، اور سفر نے اس زبان کو حد سے زیادہ بڑھادیا ہے۔

کارینا جہانی کی کھوج کے مطابق بلوچی کا فارسی زبان سے رابطہ دو ہزار سال سے بھی پرا نا ہے۔(5)۔
ایران میں توسرکاری طور پر دوسری زبانوں کو دبایا جاتا ہے اور ریاست اس بات پہ سو فیصد یقین رکھتی ہے کہ فارسی کے علاوہ ہرزبان خطر ے کاباعث ہے (ریاست کے لیے)۔ ایسی نفرت کہ صدیوں تک سعدی و رومی و حافظ پڑھتے رہنے کے باوجود اور خوانینِ قلات کی سرکاری زبان بنے رہنے کے باوجود آدھا بلوچستان اپنی زبان کے گلے پر اس زبان کی کرخت گرفت کو محسوس کرتا ہے۔ فارسی کو ساواک کی طرح شک اور سسپنس سے دیکھا جاتا ہے ۔ دو بہن زبانوں کے بیچ ایران کی سرکاری ( شاہ و ملا دونوں) سسرال نے ثریا تک جاتی دیواریں کھڑی کردی ہیں۔ حالانکہ دونوں زبانوں کا منبع و سرچشمہ ایک لفظ و بُنت ایک ، گرامروگنتی ایک، شیرینی واثر آفرینی ایک۔طبقاتی ریاست قوموں کی برادری و دوستی کی سب سے سفاک دشمن ہوتی ہے ۔

بلوچی سندھی:
سنسکرت آریاؤں کی زبان بھی تھی اور برصغیر کی لسانی تاریخ میں اہمیت کی حامل ہے۔ اس خطہ زمین پر بولی جانے والی زبانوں میں سے اکثر اس کی شاخیں ہیں ۔

سندھی بلوچی کی طرح کوئی باہر سے آنے والی یا کسی دوسری زبان سے جنم لینے والی نہیں بلکہ وادی سندھ میں پروان چڑھنے والی زبان کے انڈک گروپ کا ایک سرکردہ رکن ہے جو زندہ زبان کا ثبوت دیتے ، اپنے بولنے والوں کے ہمراہ زمانے کے نشیب و فراز سے ہمکنار ہوتے ، ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرتے اور اپنے آپ کو جدت میں ڈھالتے ہوئے دور حاضر کو پہنچی ہے۔(6)

سندھیوں نے ستر کی دھائی کے اوائل سے اپنی حیثیت سندھ کی حدتک منوالی ہے ۔تعلیم اور سرکاری دفاتر میں سندھی کو اردو کے برابر کی حیثیت حاصل ہے۔ وہاں سندھی زبان کی پبلی کیشنز بھی کافی ہوتی ہیں۔ مگر ایک حاوی میڈ یا، ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی نے مل کر انہیں بھی اجرک دن ، اور ٹوپی دن منانے کی حد تک نیچے پھینک دیا۔ بلوچی اور سندھی ساخت اور کچھ الفا ظ وجملوں کے ماسوا، اب تقریباً ایک ہی زبان ہوچکی ہیں۔ کتنے الفاظ ہیں بلوچی کے جو شاہ نے اپنی شاعری کی زینت بنائے۔ کتنی باتیں سندھی کی ہیں جو مستیں توکلی کی شاعری کو حسین و جمیل بناتی ہیں۔ آبادیاں اس طرح رل مل گئی ہیں کہ بلوچ روانی سے سندھی بولتے ہیں اور سندھی بلوچی ۔

بلوچ کی قومی زبانوں میں سندھی بھی شامل ہے، بڑی اکثریت کی مادری زبان کی حیثیت سے۔

بلوچی براہوئی:
بلوچ قوم کی دوسری بڑی قومی زبان براہوئی ہے۔ رخشا نی بلوچی بولنے والوں کاایک بہت بڑا حصہ دولسانی آبادی پر مشتمل ہے ۔ وہاں بلوچی اور براہوئی دونوں مادری زبانیں ہیں ۔ اسی طرح سندھ اور پٹ فیڈ رمیں بے شما ر قبیلے یہی دونوں زبانیں مادری زبانوں کے بطو ربر تتے ہیں۔
محققین نے بہت زور ماری کہ براہوی کو دراوڑی میں شمارکرلیں۔ مگر خ غ ژ جیسے حروف کی موجودگی اور مذکر مونٹ کی غیر موجودگی اسے دراوڑیت میں ڈالنے نہیں دیتے۔ اور اپنی بہن زبان بلوچی کے ساتھ ہی پیوستہ رکھتے ہیں۔بلوچی براہوئی زبانوں کے درمیان بے شما ر اشتر اک موجودہے ۔ الفا ظ ، ضرب الا مثال ، شاعر ی کی ذیلی اصناف میں بلاکی لین دین موجودہے ۔ قو می سیاست نے بلو چوں کی ان دونوں زبانوں کو گوندلگالگا کر قریب قریب ایک کر دیا ہے ۔

ہماری اس مادری زبان کی ترقی کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے ۔بر اہوئی زبان کو بلوچی میں ضم کرنے کی ہر خواہش وکوشش کا مقابلہ کرنا ہوگا ۔ اسی طرح برا ہوئی زبان کولے کر ہر طرح کے لسانی شاونز م کی حوصلہ شکنی ضروری ہے ۔ زبانوں کو اُن کی اپنی مرضی اور مزاج کے مطابق تر قی ملنی چاہیے ۔

بلوچی سرائیکی:
ہم جس زبان کو جغدالی کہتے ہیں( یدگالی، یغدال)۔ وہی تو سرائیکی ہے۔ کہیں میں نے پڑھا ہے کہ ’’جغدال‘‘ بلوچی میں کسان کو کہتے ہیں۔(7) ، مگر شاید مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔پورا ڈیرہ غازی خان، اسماعیل خان، راجن پور اور اوستہ محمد کا بلوچ بطور مادری زبان سرائیکی بولتا ہے ۔ ہماری مشرقی سلیمانی بلوچی پر سرائیکی کے زبردست اثرات موجود ہیں۔ میں حیران رہ جاتا ہوں بے شمار الفاظ اور کئی محاورے دونوں زبانوں ( اور کبھی کبھی سندھی میں بھی) مشترک طور پر مستعمل ہیں:

اُبھا، ادّا، آلس، آنو، بھولو، بیڑی، پارت ، پاڑ، پاہو، جت، جھاتی، جھیڑہ، چٹی، دلّو، دروہ ، دگ ، سانگ، سندھو، سنج، کوڑ کی ، گُلر، گَلّہ، لٹھ، لج، بہا، بے وس، پور ہیا ، پُر آف ، پُھری، ٹیٹر، چونچ، دانہہ، گیس ، مڈی۔۔۔۔۔۔(8)
بلوچی زبان نے سرائیکی کی مٹھا س میں زبردست اضافے کیے ہیں۔

 

شاہ محمد مری  بلوچ تاریخ دان اور دانشور ہیں جوکئی کتابیں شایع کر چکے ہیں۔ آپ بولان میڈیکل کالج میں پروفیسر ہیں اورکوئٹہ سے شایع ہونے والے ماہتاک سنگت میگزین کے مدیر بھی ہیں۔

 

حوالہ جات
-1 ایکسی نوف۔ ایس۔The Balochi Language of-2006 Turkmenistan۔ ایسالا۔ صفحہ19
-2منصور ، فیروز الین ۔ پاکستان میں قومی زبانوں کا مسئلہ سچیت کتاب گھر صفحہ18۔لاہور۔
-3 منصور۔۔۔۔۔۔ صفحہ25
-4 منصور۔۔۔۔۔۔ صفحہ37
–5جہانی ، کارینا۔2008۔ کتاب’’\”Baloch and others میں۔ Rechart پبلیکشنز ۔ صفحہ144۔
-6 سندھی، حیدر۔’’سندھی زبان و ادب کی تاریخ‘‘مقتدرہ قومی زبان پاکستان۔2005۔ صفحہ نمبر39
-7 عبدالحق ، مہر ۔ ملتانی زبان اور اُس کا اردو سے تعلق۔1967 ۔ اردو اکادمی بہاولپور صفحہ282
-8 ہتورام۔ بلوچی نامہ1896۔ لاہور ۔ صفحہ 122

Tags: , , , ,

One Response to

بلوچی، اردو

  1. Nazar Hussain Kazmi on Jan 2017 at 6:42 AM

    اپ کی جدوجہد کا سلام

    نذر کاظمی

Leave a Reply to Nazar Hussain Kazmi Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *