اقبال جرم!│ صوفی کا بلاگ

بے بسی، کمزوری، لاچاری اور حیرت کے ملے جلے جذبات سے کبھی آپ کا دماغ ماؤف ہوا ہے؟ میرا ہوا ہے آج! اگر میری یادداشت صحیح کام کر رہی ہے تو ۱۵ سال قبل ایک دفعہ ایسا ہی محسوس کیا تھا جب نماز جمعہ کے لئے پیدل جاتے میرے والد کو ایک تیز گاڑی والا پیچھے سے ٹکر مار گیا تھا۔ اپنے سامنے باپ کو ۱۰ فٹ آگے جا کر گرنے اورپھر بیہوش حالت میں ہسپتال لے جانے تک میری یہی حالت تھی۔ نہیں! نہیں! آپ غلط سمجھے! میرا ایکسیڈنٹ نہیں ہوا اور نہ ہی میرا موبائل چھینا گیا ہے۔ میں آج سلمان تاثیر کی چوتھی برسی کے سلسلے میں منعقد ایک تقریب میں گیا تھا۔ ہر سال لبرٹی چوک میں کچھ سرپھرے انکی یاد میں شمعیں روشن کرتے ہیں۔ کچھ تقریریں ہوتی ہیں اور پھر سب پرامن منتشر ہو جاتے ہیں۔ سلمان تاثیر ملائیت کے سامنے سر نہ جھکانے والے واحد شخص نہیں۔ لیکن جس طریقے سے اعلی اعلان انکا قتل ہوا اور پھر انکے قاتل کا والہانہ استقبال مرحوم سلمان تاثیر کو مذہبی منافرت کے خلاف ایک قابل فخر مثال بنا گیا ہے۔

تصویر بشکریہ آئ پی ایس ایس

تصویر بشکریہ آئ پی ایس ایس

گھر سے نکلتے ہوئے  ذہن میں تھا کہ اس  سال عید میلاد اور سلمان تاثیر  کی برسی ایک ہی دن ہیں۔ لیکن کسی  خاص خوف اور خطرے کا احساس نہیں ہوا۔  شام پانچ سے دس منٹ پہلے جب میں لبرٹی پہنچا تو سلمان تاثیر کی تصویر کے گرد کوئی  پندرہ بیس افراد تھے۔ کچھ لوگ شمعیں روشن کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔  کچھ اور دوست   پلے کارڈ لئے کھڑے تھے۔ میں بھی ایک سائیڈ میں اپنے پلے کارڈ کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ تھوڑے بہت نعرے لگ رہے تھے، وہی پرانے،  طالبان کا جو یار ہے۔۔۔ اور ملا گردی  ہائے ہائے! وغیرہ۔  اتنے میں چار لڑکے پیچھے سے اور دو آگے سے انتہائی غلیظ گالیاں بکتے ہوۓ  ہم لوگوں پر حملہ آور ہوئے۔ آتے ساتھ ہی انہوں نے سلمان تاثیر کی تصویر ی پوسٹر کو ڈنڈے مار کر پھاڑ دیا۔ دو لڑکے اس پوسٹر کو پاؤں تلے روندے رہے۔ ایک دو میڈیا کے لوگوں اور گاڑیوں پر حملہ آور ہوۓ۔  ڈنڈوں اور پتھروں سے جو سامنے آیا اسے مارنے دوڑے۔ کچھ دوستوں کو زخمی کر دیا  اور پھر سنی تحریک کے حق اور ’’غازی تیرےجانثار… بے شمار‘‘ کے نعرے لگاتے فرار ہو گئے۔ انٹرنیٹ پر اس حملے کی فوٹیج دستیاب ہیں۔ جیسے کہ جیسے کہ یہ والی۔

کچھ وقت تو یہ نگلنے میں لگا کہ یہ لوگ ہمیں مار کر یہاں سے بھگانا چاہتے ہیں۔ برسی پر آئے لوگ تتر بتر ہونے لگے۔ میرے پاس جو پوسٹر تھا اس میں ممتاز قادری کا نام واضح لکھا تھا  تو خیال آیا کہ پہلے یہ پوسٹر ٹھکانے لگانا چاہیے۔ تھوڑا سا سائیڈ پر ہو کر میں نے بکھری ہوئی  موم بتیاں اور گلدستے سمیٹے اور آہستہ آہستہ گاڑی کی طرف چلنے لگا۔ دس بارہ قدم چلنے پر پہلے بے بسی، پھر کمزوری اور آخرشرمندگی کے جذبات سے مغلوب ہو گیا۔ شرمندگی اس بات پہ کہ غنڈوں کی گالیوں کا جواب کیوں نہیں  دے سکے۔ اپنی ماؤں بہنوں اور دوستوں کو ٹھڈوں اور ڈنڈوں سے کیوں نہیں بچا سکے۔ گاڑی میں سامان رکھ کر واپس آیا تو مذہبی غنڈے جا چکے تھے جبکہ برسی کے شرکا پھر اکھٹے ہو رہے تھے۔ پولیس کی بھاری نفری بھی پہنچ گئی۔  تقریریں شروع ہو گئیں۔  ’’ہم نہیں ڈرتے …غنڈہ گردی نہیں چلے گی ….پنجاب حکومت اور پولیس مردہ باد …‘‘۔ یہ دیکھ کر کہ پروگرام جاری ہے بلکہ شرکا کی تعداد بڑھ چکی ہے،  حوصلہ ملنا چاہیے تھا لیکن پھر شرمندگی، ندامت، بےبسی اور احساس جرم نے جکڑ لیا۔

تصویر بشکریہ آئ پی ایس ایس

تصویر بشکریہ آئ پی ایس ایس

لبرٹی گول چکر کے سامنے کچھ دکان دار اور راہگیر حالات پر کمنٹری کر رہے تھے۔ ’’یار او مفلر آلے منڈے نے چنگیا پھنڈ یا ایے انہاں  نوں‘‘۔ ایک موٹر سائیکل والا رک کر  پوچھتا ہے ’’بھئ  یہ جھگڑا کیوں ہو رہا تھا‘‘۔ میں جواب دینے کے لئے منہ کھولتا ہوں …  ’’وہ سلمان تاثیر کی برسی …‘‘ اس پر وہ شہزادہ کہتا ہے  ’’یار کون سلمان تاثیر …یہ کیا کر رہے ہو۔ کیا فائدہ ہے اس کا؟‘‘ میرا  احساس ندامت فوری احساس جرم میں بدل گیا۔  جیسےپندرہ سال پہلے غلطی میرے باپ کی تھی کہ  وہ گاڑیوں والی سڑک پر پیدل چل رہا تھا۔ اسی طرح ہم مجرم ہیں کہ مذہبی کاروباریوں کے رنگ میں بھنگ ڈالنے کی منی چنی سی کوشش کرتے ہیں۔ ہمیں پیٹنے والے مذہبی غنڈوں! پولیس نے تو نامعلوم افراد کہہ کر تمھارے خلاف پرچہ کاٹ لیا ہے۔ لیکن اس تحریر سے میں ممتاز قادری کی توہین کرنے کا اقبال جرم کرتا ہوں۔ اگلی دفعہ سزا دینے کیلئے  اپنے  طالبانی بھائیوں کی طرح  بندوقیں یا خود کش جیکٹ استعمال کرنا!۔

۔ 4 جنوری 2015 کی شب کو لکھا گیا

2 Responses to

اقبال جرم!│ صوفی کا بلاگ

  1. Inam Shah on Jan 2015 at 7:27 AM

    There are many who are proud of you. Remember, being on the wrong side of majority opinion is particularly heroic these days.

Leave a Reply to Inam Shah Cancel reply

Your email address will not be published.