اچھی اردو بھی کیا بری شے ہے

ایشیا ٹائپ نسخ یا نستعلیق فونٹ میں پڑھنے کے لیے ان ہدایات پر عمل کریں۔

 شمارہ ۸ │ Issue 8

مصور: مرد خان ممتاز │ نژاد/روانگی

مصور: مرد خان ممتاز │ نژاد/روانگی

اردو کے لسانی اورادبی کلچرکی ایک بات جس کی طرف میں یہاں توجہ دلانا چاہتا ہوں، اورجومیرے نزدیک اس زبان سے وابستہ شناختی سیاست کی کنجی ہے۔ یہ عجیب رواج ہے کہ شروع ہی سے مختلف افراد اورگروہ ایک دوسرے کو بتاتے آئےہیں کہ تمھاری زبان معتبر نہیں ہے اورتم اچھی اردو نہ بول سکتے ہو اورنہ لکھ سکتے ہو۔ یہ رواج مجھے افغانستان میں کئی برس طالبان کے زیر تسلط قائم رہنے والی امارت اسلامی کی یاد دلاتا ہے جس میں بندوق بردارافراد لوگوں کی داڑھیوں اورلباسوں کی لمبائی ناپ کران کے ایمان کی گہرائی کے بارے میں فیصلے بلکہ فتوے صادر کیا کرتے تھے۔

اس لسانی فرقہ پرستی کا رشتہ اردو کی ابتدا کے بارے میں عجیب الخلقت اورباہم متضاد تصورات سے ملتا ہے جومیرے علم کے مطابق کسی اور زبان کےبارے میں نہیں پائے جاتے۔ ہرزبان کسی خاص جغرافیائی علاقے کی ہوتی ہے جہاں کے بولنے والے اسکو صدیوں کے سماجی عمل میں ایک خاص شکل دیتے ہیں جس میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ ہمارے خطے میں بولی جانی والی باقی زبانوں کے سلسلے میں ایسا کوئی ابہام نہیں ہے کہ یہ کہاں کی زبان ہے اور اسکی خصوصیات کیا ہیں۔ جیسے پنجاب کے رہنے والے مختلف لہجوں اور رنگوں میں جوزبان بولتے ہیں اسے پنجابی کا نام دیا جاتا ہے۔ جغرافیے ہی کے لحاظ سے لوگ اپنی بولی کو نئی  زبان کا نام دینا چاہتے ہیں، جیسے سرائیکی، جومعقول اور سمجھ میں آنے والی بات ہے۔

لیکن اردو کی ابتدا کے بارے میں کچھ انوکھے تصورات رائج ہیں۔ ایک تحقیق تو مستقل چل رہی ہے کہ یہ بلوچستان میں پیدا ہوئی تھی، پنجاب میں  یا بنگال میں، جہاں سے وہ کسی مافوق الفطرت عمل کے نتیجے میں دلّی کے لال قلعے میں جا پہنچی جہاں وسط ایشیا سے آئے ہوے فاتحین آباد تھے جن کی اصل زبان تو ترکی تھی لیکن وہ مقامیوں پر حکمرانی کے لیے فارسی استعمال کرتے کرتے تاریخ کے کسی نامعلوم موڑ پر اردو کے مالک بن بیٹھے، جس کا اصل نام ہندی تھا!اس خانہ ساز تاریخ پر کسی کو حیرت نہیں ہوتی کیونکہ ہمارے ہاں  تاریخ کو جغرافیہ سے بالکل  الگ رکھنے کا شغل عام ہے۔ ’’اسلامی‘‘ تاریخ  ایک سن  سے کسی ایک جغرافیائی خطے میں شروع ہوتی ہے، پھرکہیں اور نکل جاتی ہے، پھر اندلس سے ہوتی ہوئی محمّد بن قاسم کے ساتھ وہ یہاں آ پہنچتی ہے۔ یہ دنیا کی غالباً واحد تاریخ ہے جو کسی علاقے اور اسکے رہنے والوں کی نہیں ہے۔ یہی کام  اردو زبان کے ساتھ کیا گیا ہے۔ ’’تاریخ ساز‘‘ لوگ جو بھی کہیں، حقیقت یہ ہے کہ اردو (ہندی) زبان جس علاقے میں بولی جاتی تھی بدقستمی سے اردو والوں نے اسکا نام لینا چھوڑ دیا۔ اس علاقے کو ہندوستان کہتے تھے؛ اب تو ہندوستان کا نام پورے برصغیرکے لیے  لیا جانےلگا ہے  ورنہ یہ نام کم و بیش اس علاقے کا تھا جسے ابسرحد کے اُس پار ’’ہندی بیلٹ‘‘ کہا جانے لگا ہے۔ شبلی نعمانی (1857-1914) کا ایک مصرع ہے:

زبمبئی چو بہ ہندوستاں رسم شبلی

یعنی ’’جب میں بمبئی سے ہندوستان پہنچا‘‘،  گویا بمبئی ہندوستان کی اس تعریف میں شامل نہیں تھا۔ اسی طرح راجستھان، پنجاب اور بنگال میں اس خطے سے آنے والوں کو ہندوستانی بلایا جاتا تھا۔ (۱۹۴۷ کے بعد پنجاب میں اس علاقے سے آنے والے لوگوں کو اول اول ہندوستانی ہی کہا گیا؛ کلکتہ میں آج بھی انھیں ہندوستانی کہا جاتا ہے۔) ایک مسئلہ تو یہ ہوا کہ ہندوستان کی تعریف بدل گئی، جو ایک الگ دلچسپ موضوع ہے۔پھر اردو کی سیاست کرنے والے مراعات یافتہ طبقے نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ یہ زبان پورے برصغیر میں بولی جاتی ہے، جو حقیقت سے کوسوں دور بات تھی۔ وجہ اسکی سیاسی تھی کیونکہ دلی اور اس کے اردگرد کےحکمران طبقے اقتدار کھونے کے بعد نئے زمانے میں اپنا تہذیبی اثرورسوخ قائم رکھنا چاہتے تھے۔ اگرچہ مغل دربار کی زبان کبھی اردو نہیں رہی تھی لیکن ایک خاص موقع پر انھوں نے مقامی زبان کو، جسے ہندی، ہندوی یا ہندوستانی کہا جاتا تھا، فارسی کی جگہ  اپنا لیا اوراسے نام دیا ’’زبانِ اردوئے معلیٰ‘‘،یعنی لال قلعے  اور اسکے اردگرد کے علاقے میں، جہاں تک مغلوں کا اقتدار محدود ہو چکا تھا، بولی جانے والی فارسی زدہ  مقامی زبان جو اپنے آپ کو بادشاہ  سمجھنے والا  آخری مغل حکمران بھی  بولتا اورلکھتا تھا اور اس سے وابستہ مراعات یافتہ لوگ بھی۔ اخلاق احمد دہلوی (1919-1992) نے اپنی کتاب ’’یادوں کا سفر‘‘ میں اسی تیموری گھرانے کی ایک  خاتون کا ذکر کیاہے  جن کو  ١٨٥٧ کے غدر کے دنوں میں لال قلعہ سے بھاگنے پر انکے دادا نے پناہ دی تھی۔ ان خاتون کو لال قلعے کی نشانی سمجھا جاتا تھا۔ اخلاق احمد دہلوی کے مطابق ان کے بچپن میں وہ ایک بزرگ ہستی کے طور پر ان کے گھر میں رہتی تھیں، جہاں کوچہ چیلاں کے باسی مولانا محمد علی جوہر اور حکیم اجمل خان وغیرہ  انکی باتیں سننے آیا کرتے تھے۔ ایک پردہ ڈال دیا جاتا تھا جس کے پیچھے سے وہ اپنی باتیں کیا  کرتی تھیں۔ ایک دن گفتگو میں انھوں نے ’’طوطی‘‘ کا لفظ استعمال  کیا تو حاضرین میں سے کسی نے کہا کہ آپ نے اسے مونث بولا ہے جبکہ استاد داغ دہلوی (1831-1905) نے اسے مذکر باندھا ہے۔دلّی کے شرفا داغ کو استاد مانتے تھے، کیونکہ وہ اپنی زبان دانی کا بڑے بلندبانگ طریقے سے اعلان کر چکے تھے:

نہیں کھیل اے داغ یاروں سے کہہ دو

کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے

اردو ہے جس کا نام ہمی جانتے ہیں داغ

سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

دوسرے لفظوں میں ساری دنیا میں میری زبان دانی  کا چرچا ہے (بعد میں اس مصرعے کو اردو کی باقی زبانوں پر ’’برتری‘‘ کے سلسلے میں بھی استعمال کیا جانے لگا!)

وہ بزرگ خاتون اس پر تحکمانہ نخوت سے بولیں کہ داغ تو لونڈی بچہ تھا، اسکا کیا تعلق اردو سے؟… اردو تو ہم بتائیں گے کیسے بولی جانی چاہیے!

اب یہ روایت شاید مکمل صحیح نہ ہو، کیونکہ اخلاق احمد دہلوی خاصے گپ باز تھے، لیکن اس سے ’’مستند‘‘، ’’معتبر‘‘ اور ’’اچھی‘‘ اردو کے سلسلے میں قائم کی جانے والی بے بنیاد حفظ مراتب یا ہائرارکی کی نشاندہی ضرور ہوتی ہے جس کا چلن عام تھا اور ’’علمی دنیا‘‘ میں اب بھی ہے۔ آگے چل کر وہ بتاتے ہیں کہ انھیں کھاری باؤلی جا کر اپنے دوست شاہد احمد دہلوی(1906-1967) کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہ تھی کہ ڈپٹی نذیر احمد (1830-1912) کے پوتے کہیں ان کی زبان خراب نہ کردیں کیونکہ ڈپٹی صاحب کی سسرال ضرور دلّی کی تھی لیکن وہ خود بجنور کے رہنے والے تھے!

بہرحال، یہ ایک کم و بیش تسلیم شدہ چیز تھی کہ کسی محاورے، روزمرہ یا کسی لفظ کی تذکیر و تانیث کے سلسلے میں (اردو میں انھی معمولی باتوں پر ہونے والی سرپھٹول کو علمی بحث سمجھا جاتا ہے) لال قلعے سے تصدیق ہو گی تو اسے مستند مانا جائے گا۔ دنیا کی کسی اور زبان میں ایسا نہیں  ہوتا۔ زبان اسے بولنے والے عام لوگ بناتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ وہی اسے بدلتے بھی ہیں۔ دنیا کی ہر زبان میں یہی اصول تسلیم کیا جاتا ہے، تو پھر اردو کے سلسلے میں کیوں نہیں؟

———————————————————————————————————————————

وقف نہیں۔ خیرات نہیں۔ بیرونی امداد نہیں۔ صرف آپکی مدد درکار ہے۔

سبسکرائب کیجیے یا چندہ دیجیے

———————————————————————————————————————————

مولاناالطاف حسین حالی (1837-1914) کا کہنا تھا کہ اردو اسکی مستند ہے جو دہلی اور اسکے آس پاس  کا رہنے والا ہو اور مسلمان ہو۔ اب زبان کا تعلق تو کسی مذہب سے نہیں ہو سکتا۔ پنجاب میں رہنے والے سکھ، مسلمان اور ہندو سب پنجابی بولتے ہیں۔ یہی معاملہ بنگلہ، سندھی اور دوسری زبانوں کا ہے۔

جوں جوں مغلوں کا اقتدار کمزور پڑتا گیا، مختلف صوبے علیحدہ ریاستیں بننے لگے۔ جیسے اودھ۔ زبان کے معاملے میں بھی اودھ کا صدرمقام لکھنؤ ایک الگ مرکز بن گیا۔ لکھنؤ والوں کی کوشش تھی کہ مستند زبان والے تصور پر (جو اصلاً بےبنیاد تھا) اس دربار اور اس سے وابستہ امرا اور علماکی اجارہ داری ہو جائے۔ ایک لمبے عرصے تک لکھنؤ اور دہلی کے مابین یہ کشمکش  رہی کہ کس کا روزمرہ، محاورہ اور لہجہ  مستند ہے۔ (یہ سلسلہ بہت بعد تک چلتا رہا، مثلا پاکستان میں ١٩٦٠ کے برسوں میں شاہد احمد دہلوی اور جوش ملیح آبادی(1894-1982) کے درمیان یہ بحث چل رہی تھی کہ کونسی زبان معتبر ہے۔ جوش کے نزدیک دلّی کی، یعنی شاہد احمد کے دادا ڈپٹی نذیر احمد کی زبان مستند نہیں تھی، جب کہ شاہد احمد کہتے تھے کہ لکھنؤ والوں کی زبان تو پورب کے لونڈے لپاڑوں کی بولی ٹھولی ہے۔ جی، وہی شاہد احمد جن کے ساتھ کھیلنے کو اخلاق احمد کی والدہ منع کرتی تھیں۔)

١٨٦٠ میں انگریزوں نے، غدر یا جنگ آزادی کو، جو کچھ بھی آپ اسے کہنا چاہیں، نمٹانے کے بعد، یہ فیصلہ کیا کہ اونچے حکومتی درجوں جیسے اعلیٰ عدلیہ، تعلیم کے اعلیٰ اداروں اور سول سروس میں  فارسی کی جگہ انگریزی کو رکھا جائے گا، جبکہ نچلی سطح یعنی پرائمری تعلیم، تھانے، کچہری، ڈاک خانے، آبپاشی، پٹوار وغیرہ میں مقامی زبانوں کو شامل کیا جائے گا۔ اکثر جگہوں پر تو اس سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا، جیسے سندھ میں سب کو معلوم تھا کہ وہاں مقامی زبان سندھی ہے۔ اسی طرح بنگال میں نچلی سرکاری سطح پر بنگالی رائج ہو گئی۔ لیکن مشکل آ گئی اس علاقے میں جسے بعد میں یو پی کہا گیا، یعنی موجودہ ’’ہندی بیلٹ‘‘ کے ایک حصے میں۔ وہاں  زبان کا رشتہ رسم الخط   سے جوڑکر بڑا ہنگامہ برپا کیا گیا، حالانکہ عوام (جسے پہلے رعایا یا رعیت کہا جاتا تھا) کی اکثریت (۹۷ فیصد) تو لکھ پڑھ ہی نہیں سکتی تھی  لہٰذا لکھاوٹ سے زبان کا تعلق جوڑنا مضحکہ خیز تھا۔

لیکن دہلی کے نزدیک ہونے کے باعث، جہاں مسلم امرا کا اثر و رسوخ تھا،  نچلے درجوں کی حکومتی نوکریوں کے لیے اردو جاننے کو لازمی قرار دیا گیا۔  ادھر آبادی کے ایک بڑے طبقے (ہندوؤں) نے ناگری رسم خط میں پڑھنا شروع کیا ہوا تھا۔ انکا انگریز حکمرانوں سے کہنا تھا کہ آپ تعلیم تو عام کر رہے ہو  لیکن ملازمتوں کے دروازے ہم پر بند کر رہے ہو۔ اسکے نتیجے میں ایک پوری تحریک چلی جس کا مطالبہ تھا کہ ناگری سکرپٹ کو بھی ملازمت کی شرائط میں شامل کیا جائے۔

١٩٠٠ میں یو پی (اسوقت نارتھ ویسٹ پراونسز اینڈ اودھ) کے گورنر میکڈانل نے ایک حکم جاری کیا  جس کے تحت ناگری رسم خط جاننے والوں کو بھی ملازمتوں کے لیے قابل قبول مانا گیا۔ اس حکم میں کہیں بھی اردو کو معزول نہیں کیا گیا تھا، لیکن  ملازمتوں پر اجارہ داری  کے خاتمےکے امکان نے اس تنازعے  کو سیاسی شکل دے دی۔ لہٰذا اردو کی  بقاکو ملازمتوں اور سرکاری و ریاستی سرپرستی سے جوڑ دیا گیا۔ اسی کو اردو کا فروغ ، ترویج و ترقی کہا جانے لگا۔ ’’اردو کی خدمت‘‘ کا عجیب فقرہ ایجاد کیا گیا، جو آج تک رائج ہے۔ (کیا آپ نے کبھی دریا میں کشتی چلانے والے کو یہ کہتے سنا ہے کہ وہ دریا کی یا کشتی کی خدمت کر رہا ہے؟)مطلب صرف یہ تھا کہ اس وقت جو لوگ اردو میں ماہر تھے انھیں سرکاری سرپرستی اور ملازمتیں زیادہ ملیں۔ اس لڑائی میں ہندی اور اردو والوں نے اپنی اپنی زبان کے بارے میں مبالغہ آمیز دعوے کیے۔ جیسے ہندی والے کہتے تھے کہ ہندی پورے ہندوستان (یعنی برصغیر)میں بولی جاتی ہے؛  یہ کہتے تھے اردو پورے ہندوستان (یعنی برصغیر) میں بولی جاتی ہے۔ دونوں ہی دعوے (بنگلہ، تمل، سندھی، گجراتی یا کوئی اور زبان بولنے والوں کی نظر میں)محض فراڈ تھے۔

اسی زمانے میں پنجابی مسلمانوں نے اردو کو اپنا لیا ۔  اس کی وجہ بھی شناختی سیاست تھی  کیونکہ پنجاب میں ١٨٤٣ تک سکھوں کی حکومت رہی تھی جس دوران مسلمان ’’سکھا شاہی‘‘ سے سخت نالاں رہے تھے۔ رنجیت سنگھ کے تخت لاہور سے پہلے مغلوں نے سکھوں کو  دبا کر رکھا ہوا تھا۔ لہٰذا نئے حالات میں پنجابی مسلمانوں نے پنجابی کو سکھوں سے منسوب کر کے نئے استعمالات کے لیے رد کر دیا اور تعلیم اور ملازمتوں کے لیے اردو کو ترجیح دی۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہریانہ اور ہماچل کے علاقوں کے ساتھ ساتھ موجودہ خیبر پختونخواہ بھی اس وقت پنجاب ہی کا حصہ تھا اور بیسویں صدی کے ابتدائی برسوں تک رہا، اور وہاں کے غیرپنجابی باشندوں کے پنجابیزبان کو اختیار کرنے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہو سکتی تھی۔

١٨٦٠ کے بعد اردو پنجاب کے پرائمری اور ہائی سکولوں میں پڑھائی جانے لگی تھی۔ اسی دور میں پرنٹنگ پریس بھی عام ہو چکا تھا۔  اردو صحافت کا مرکز بھی پنجاب بن رہا تھا۔ جب کوئی آبادی کسی زبان کو اپنا لیتی ہے تو اس پر اختیار کا حق بھی رکھتی ہے۔ پنجابی مسلمانوں نے خود ہی طے کرنا تھا کہ وہ زبان کیسے بولیں گے۔ لکھنؤ اور دہلی والوں سے  پوچھ پوچھ کر تو نہیں بولنا اور لکھنا تھا۔بعد میں اردو کے بیشتر بڑے صحافی، ادیب اور شاعر اس وسیع تر پنجاب ہی سے آئے اور اردو پر ان کا اختیار جائز طور پر قائم ہو گیا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس کا کچھ کیا نہیں جا سکتا۔

———————————————————————————————————————————

یہ مضمون آپ تک پہنچنے کے لیے ہمارے خون پسینے کے علاوہ روپیہ پیسہ بھی خرچ ہوا ہے۔

سبسکرائب کیجیے یا چندہ دیجیے

———————————————————————————————————————————

گویا شناختی سیاست کا پہلا مرحلہ تو وہ تھا جب اردو والوں (یعنی ’’ہندوستانیوں‘‘) نے ہندی سے اپنے آپ کو علیحدہ کیا۔ اب دوسرے مرحلے میں انکو فکر تھی کہ اردو کی اجارہ داری ان سےچھن نہ جائے۔شمالی ہندوستان سے جو لوگ پنجاب آ کر آباد ہوے، اور ١٩٤٧ کے بعد تو ظاہر ہے کہ بڑی تعداد میں آئے، انھیں ’’ہندوستوڑے‘‘ پکارا جاتا تھا (منٹو کی کہانی ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ میں بھی یہ لفظ ملتا ہے)؛ جواب میں وہ  ’’پنجابڑوں‘‘ یا ’’پنجابی ڈھگّوں‘‘ کے لہجے اور رہن سہن کا  مذاق اڑایا کرتے تھے۔ یہ سب لسانی سیاست کا حصہ تھا کہ نئی ریاست میں ملازمتیں اور سرپرستی کسے ملے گی۔ ۱۹۴۷ کے بعد پاکستان میں شناختی سیاست ایک نیا لسانی رخ اختیار کرنے والی تھی۔

کرسٹوفرکنگنے اردو ہندی جھگڑے کے موضوع پر اپنی تحقیقی کتاب ون لینگیوج ٹو سکرپٹس میں ہندی اور اردو  صحافت و اشاعت کے ابتدائی سالوں  کے اعداد و شمار دیے ہیں۔ یوپی اور دوسرے علاقوں میں اردو اس میدان میں ہندی کا مقابلہ نہیں کر پا رہی تھی۔ ایک تو مسلمان آبادی کا صرف پندرہ بیس فیصد تھے۔  پھر اردو والوں کا تصور تھا کہ ان کی زبان لال قلعے کی ہونے کی بدولت سرکاری سرپرستی  کی محتاج  ہے۔ اس زمانے کی اردو کتابوں میں قیمتیں درجوں کے حساب سے رکھی جاتی تھیں۔ عوام الناس سے ایک قیمت لی جاتی تھی، رؤسا کے لیے ایک اور قیمت اور والیان ریاست  کے لیے کچھ اور ہدیہ رکھا جاتا تھا۔ انجمن ترقی اردو اورنگ آباد میں جا کر بنی  کیونکہ حیدرآباد ریاست نے اس کے لیے پیسہ فراہم کیا تھا۔  اس کے برعکس ہندی میں اشاعت کرنے والوں نے بنیادی طور پر اپنے خریداروں پر انحصار کیا، اور چونکہ وہ آبادی کے  اسی پچاسی فیصد حصّے  کے لیے چھاپ رہے تھے تو کچھ ہی عرصے میں ہندی کتابوں ،اخباروں اور رسالوں کی سرکولیشن اردو سے کئی گنا ہو گئی۔ ہندی بیلٹ کے بہت بڑے ناول نگار پریم چند اردو میں لکھتے تھے لیکن انکی بولی مقامی رنگ میں تھی اور ان کی زبان کو کبھی مستند تسلیم نہیں کیا جا سکتا تھا۔ پھر اردو کے مسلمان ادیبوں کے برعکس، وہ صرف مسلمانوں کے لیے نہیں لکھتے تھے۔ انکی کئی کتابیں ہندی میں پہلے شائع ہوئیں۔ اپنے ایک خط میں وہ لکھتے ہیں کہ ہندی میں نہ چھپواؤں تو پھر کھاؤں  کہاں سے؟

یو پی سے کچھ ناشروں اور مدیروں نے بھی، جن میں ہندو بھی شامل تھے، پنجاب میں آ کر پرنٹنگ پریس لگائے اور رسالے جاری کیے، کیونکہ یہاں اردو اشاعت کامیاب اور منافع بخش کام تھا۔ اردو بولنے اور استعمال کرنے والوں (’’اہلِ زبان‘‘ اور ’’غیر اہلِ زبان‘‘ دونوں) کے شناختی بحران کا تعلق ان کے مذہب سے بھی ہے۔ سامنے کی بات ہے کہ برصغیر  کے ٩٩ فیصد مسلمان اپنا  پرانا مذہب چھوڑ کر اسلام میں آئے ہیں۔  ظاہر ہے کہ وہ اسی دھرتی سے تعلق رکھتے ہیں۔ پنجاب میں تو یہ بالکل  واضح  ہے جہاں اکثر لوگوں کے خاندانی نام بھی ہندوؤں اور سکھوں جیسے ہیں۔ لیکن ایک افسانوی بات بنائی  اور پھیلائی گی جو آج تک رائج ہے۔لوگ اپنی بات شروع ہی یہاں سے کرتےہیں  کہ ’’جب مسلمان ہندوستان میں آئے‘‘… ارے بھائی! مسلمان ہندوستان میں نہیں آئے بلکہ یہاں کی آبادی کے  15 / 20  فیصد حصے نے اپنا مذہب تبدیل کر لیا۔ اسے ماننے میں کیا حرج ہے؟ اس تبدیلی سے مذہب تو وہی ہو گیا جو دنیا کے دوسرے علاقوں میں بسنے والے مسلمانوں کا ہے، لیکن رہنے والے تو آپ وہیں کے رہے نا! یہاں کچھ ایسا تاثر دیا جاتا ہے جیسے ’’ہم کہیں اور سے آئے تھے شاید‘‘ اور اپنا رہن سہن بھی وہیں کہیں سے لائے تھے۔ مسلمان حکمرانوں اور زمینداروں کے لیے  یہ شناخت کا ایک اہم جزو بن گیا کہ وہ  اپنا  ناتا  وسطی ایشیا ، افغانستان  یا  عربی علاقوں سے جوڑیں۔

ہمارے کلچر میں بیرونی مال اور زبان کی  کشش تو شروع ہی سے رہی ہے۔ سیاست اور تاریخ کے عمل میں فارسی (اور عربی) کے جو لفظ اردو میں شامل ہوے انھیں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ جیسے یہ شاید اونچی ذات کے الفاظ ہوں۔ اور جو مقامی الفاظ ہیں وہ شاید نیچی ذات کے ہیں۔ نت نئے اصول وضع کیے گئے مثلاً  فارسی اور ہندی الفاظ کے مابین اضافت نہیں لگا سکتے۔ اب فارسی میں تو اضافت لگانے کا ایک ہی طریقه ہے۔ فارسی بولنے والے یہ اصول  نہیں سمجھ سکیں گے۔ لیکن یہاں ہم  نے ذات پات کی ایک دیوار کھڑی کر دی۔ ایک پوری سیاسی تحریک چلائی جاتی رہی ہے جس کے تحت جس زبان میں فارسی کے لفظ اور ترکیبیں زیادہ تھیں وہ اتنی ہی مستند ٹھہری۔ مزید یہ کہ مقامی الفاظ کو ترک کر دینا چاہے  اور انکی جگہ فارسی الفاظ استعمال  کرنے چاہییں۔ جیسے کہ ‘آنا’ نہیں کہنا چاہیے ،’ تشریف لانا’  یا ‘حاضر ہونا ‘کہنا چاہیے… وغیرہ۔ اسی بنا پر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اردو کسی زبان کا نہیں بلکہ ایک خاص تہذیب کا نام ہے۔

اردو کو جس طرح ایک سیاسی (اور مذہبی) کاز بنایا گیا ہے اس میں سارے وہی ہتھکنڈے استعمال ہوے جو اسلام کا سیاسی استعمال کرنے کے سلسلے میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ مثلاً اردو کے بارے میں کہا جاتا  ہے کہ اسے نافذ کرنا چاہیے …اسلام کے بارے میں بھی یہی کہا جاتا ہے کہ اسے نافذ کرنا چاہیے۔پھر کیونکہ اسلام کے بنیادی متن (قرآ ن، حدیث اور روایات) عربی زبان میں ہیں، اور عام لوگ عربی نہیں جانتے، اس لیے علماے دین کا  وجود بہت ضروری ہے  جو لوگوں کو بتائیں کہ اسلام  کیا ہے اور اس پر عمل کیسے کرنا ہے۔ اسی طرح سے اردو آپ کو کیا پتا کس طرح بولی جاتی ہے؟اس لیے کچھ علماے شعر و ادب ہونے چاہییں جو آپ پر لسانی حکمرانی کر سکیں. اگر آپ کو کوئی مذہبی مسئلہ درپیش ہو  تو آپ مولوی کے پاس جاتے ہیں پوچھنے کے لیے۔ اسی طرح جو ’’غیر اہلِ زبان‘‘ اردو لکھتے پڑھتے ہیں ان کو ان علما سے رجوع کرنا چاہیے زبان و بیان کی تصحیح کرانے کے لیے۔ اگر آپ حلق سے ‘ع’ اور’ ق’ کی آواز نہیں نکال سکتے تو سمجھا جاتا ہے کہ آپ کا اسلام کمتر ہے اور آپکو مولویوں سے رہنمائی لینے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح اردو بھی کچھ لوگوں کی برترقرار پائی … اور باقیوں کو انسے پوچھ پوچھ کر بولنا چاہیے۔ وغیرہ۔

ہندی سے بہت عرصہ الجھنے کے بعد بھی اردو کا احساس برتری ختم نہیں ہوا، بلکہ یہ سلسلہ ١٩٤٧ کے بعد بھی چلتا رہا۔ اب ان کے ساتھ پنجابی بھی شامل ہو گئے۔ کیونکہ تقسیم کے بعد کے اولین برسوں میں فوج میں پنجابی غالب تھے (اب بھی ہیں) اور  افسر شاہی میں اردو بولنے والوں کا راج تھا (جو اب نہیں ہے)۔ سیاسی طاقت پر قبضہ کرنے کی حد تک ان دونوں گروہوں کے مفادات ایک سے تھے۔  پنجابیوں اور ہندوستانیوں نے سب سے پہلے  اردو کو بنگالیوں کے خلاف استعمال کیا۔یہ طے کر دیا گیا کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہو گی۔ پنجابیوں کا اپنا تجربہ یہ تھا کہ جب وہ اپنی زبان کو غیرمسلموں کی زبان سمجھ کرتعلیمی اور سرکاری زندگی سے خارج کر سکتے ہیں تو دوسروں کو بھی ایسا کر لینا چاہیے۔ لیکن وہ یہ بھول گئے  کہ بنگالیوں کارشتہ اپنی زبان سے بالکل اور طرح کا تھا۔ یہی حال سندھیوں کا بھی تھا۔ ان دونوں قوموں کا کہنا یہ تھا کہ اردو کو رابطے کی زبان ماننے کا مطلب یہ کہاں سے ہو گیا کہ ہم اپنی زبان چھوڑ دیں۔ مشرقی بنگال والوں کا کہنا یہ تھا کہ ہم نے مثلاً بلوچستان جا کر کاروبار تو کرنا نہیں۔ ہمارا روز کا لین دین  تو بنگالی میں ہی ہوتا ہے۔ لیکن یہاں سے جو افسر اور فوجی لوگ وہاں جاتے تھے حکومت کرنے کے واسطے، انکے لیے بنگالی سیکھنا تو ہتک کی بات تھی۔ ایک تو ویسے ہی بنگالی بائیں سے دائیں لکھی جاتی ہے، جو غیرمسلم زبان کی نشانی ہے، پھر اس میں سنسکرت کے بہت سے الفاظ شامل ہیں، تو وہ کیسے مسلمانوں کی زبان ہو سکتی ہے۔بنگالیوں کے بارے میں یہ طے شدہ تھا کہ انکا اسلام بھی ہم سے کمتر ہے اور انکی زبان بھی۔

١٩٧١ میں بنگالیوں کا قصہ تو نمٹ گیا۔ اسکے بعد سے کراچی اور پنجاب میں اردو صحافت اور میڈیا کے دباؤ سے اردو اب پورے پاکستان کی زبان ہے۔ پچھلی مردم شماری کے مطابق پاکستان کے کوئی 7 فیصد لوگ ہیں جنھوں نے اپنی مادری زبان اردو لکھوائی۔ ان کے سوا باقی سارے لوگ کم ازکم دو زبانیں یکساں مہارت سے بول اور سمجھ سکتے ہیں۔ یہ خاصیت شمالی ہند کے لوگوں میں قدرتی ہے۔ حتیٰ کہ انگریزوں نے جب مردم شماری میں لازمی  قرار دیا کہ لوگ ایک مادری زبان کا اعلان کریں تو وہ سوچ میں پڑ جاتے تھے  کہ کس زبان کا انتخاب کریں۔ کیونکہ وہ پنجابی بھی بولتے تھے، ہندوستانی بھی اور مقامی بولی بھی۔ مشرقی یوپی کے لوگ اپنے گھر میں پوربی اور بھوجپوری بولتے تھے، جسکو اردو ہی نہیں مانا جاتا۔ لیکن انھوں نے بھی مردم شماری میں اپنی مادری زبان اردو ہی لکھوائی۔ مگر اردو پر تو قبضہ تھا لال قلعے کا اور لکھنؤ کا۔ تو وہ جو خالص اسلام کی طرح دھلی ہوئی خالص زبان تھی اسکو انھوں نے اپنی مادری زبان کہہ دیا۔ اب مادری زبان انکی وہ ہو گئی جس میں وہ اپنی ماں سے بات چیت نہیں کر سکتے کیونکہ وہ اسکی سمجھ میں ہی نہیں آئے گی! یہ سب شناختی سیاست کے کرشمے تھے۔

اعجاز احمد نے اپنے ایک لیکچر میں بہت پتے کی بات لکھی ہے کہ انگریزوں نے اپنے یورپین تجربہ سے  خود ہی یہ اخذ کر لیا تھا کہ کسی علاقے میں رہنے والوں کی ایک ہی زبان ہوتی ہے۔ لیکن  برصغیر میں یہ بات بالکل ہی غیرحقیقی تھی۔ یہاں تولوگ اپنی زبان کا نام تک نہیں رکھتے، اسے ’’بھاشا‘‘ کہہ  دیتے ہیں۔ (انڈونیشیا اور ملائیشیا والے اپنی زبانوں کو ’’بہاسا انڈونیشیا‘‘ اور ’’بہاسا ملائیشیا‘‘کہتے ہیں۔) میاں محمد بخش (1830-1907)سیف الملوک میں اپنی زبان کو ہندی کہتے ہیں۔ اسی طرح کئی مراٹھی اپنی زبان کو ہندی کا نام دیتے ہیں۔لیکن انگریزوں نے لسانی سروے کے دوران یہاں لازم کر دیا کہ ایک ہی مادری زبان منتخب کرنی ہے۔ تو لوگ  اسوقت کے سیاسی حالات کے حساب سے انتخاب کیا کرتے تھے۔

———————————————————————————————————————————

پاکستان کی کہانی سنانے کے لیے آزاد میڈیا کی تشکیل میں ہماری مدد کیجیے۔

سبسکرائب کیجیے یا چندہ دیجیے

———————————————————————————————————————————

اردو کی برتری کی ساری تحریک سیاسی تھی۔ بشمول اس بات کے کہ اگر آپ خالص اردو نہیں بول سکتے تو آپ اچھے مسلمان نہیں ہو سکتے۔ مقصد یہ نہیں تھا کہ لوگ اپنی زبان چھوڑ کر اردو اختیار کر لیں۔ کسی کے گھر میں جا کر تو نہیں دیکھا جاتا کہ کونسی زبان بولی جا رہی ہے۔ غرض یہ تھی کہ تعلیمی اور انتظامی سطح پر (جہاں ملازمتیں ملتی ہیں) اردو کی بالادستی تسلیم کی جائے۔

١٩٧٠ کے بعد سے، جب پہلی دفعہ  بالغ رائے دہندگی کی بنیاد پر ووٹ ڈالے گئے تھے،خواص اور عوام کے درمیان فرق اصولی طور پر ختم ہورہا  ہے۔کسی بھی قسم کی جمہوریت میں تعداد کی اہمیت مسلمہ ہے۔ ابتدا میں تو علماے زبان و تہذیب اس بات پر معترض تھے کہ عالم اور جاہل دونوں کا ایک ووٹ کیسے ہو سکتا ہے؟ لیکن اب کوئی شخص  اگر ان پڑھ ہےتو اس کا کہنا ہے کہ ’’تعلیم کی کمی کو  میری معذوری کیسے سمجھا جا سکتا ہے۔ مجھے تو ووٹ ڈالنے کا شوق ہی اس لیے ہے کہ سماجی ناہمواری کو دور کر نے میں کردار ادا کر سکوں۔ اگر اس طرح کی شرطیں لگا دی جائیں کہ اسمبلی میں صرف گریجویٹ  جا سکتے ہیں تو پھر  بھائی، گریجویٹوں  کو تو پہلے ہی غیر تعلیم یافتہ لوگوں سے زیادہ حقوق حاصل ہیں۔ پھر پارلیمنٹ کا فائدہ کیا ہے؟‘‘ نمبروں کا دباؤ ہی اردووالوں کو یہ کہنے پر مجبور کرتا ہے کہ اردو (بولنے والوں کی تعداد کے لحاظ سے) دنیا کی تیسری (یا شاید دوسری، یا چوتھی) بڑی زبان ہے۔ لیکن اس تعداد میں تو ہندی بولنے والے بھی شامل کر لیے جاتے ہیں۔دوسری طرف یہ بھی کہتے ہیں کہ اردو تو وہ ہے جو عربی رسم خط میں لکھی جاتی ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ اردو سبھی اقوام بشمول  پنجابی، سندھی، پشتون اور بلوچ سمجھتے یا بولتے ہیں۔ لیکن ان اقوام کی اردو خالص نہیں ہے۔ تو خالص اردو کی تعریف کرنا پھر مشکل ہو جاتا ہے۔ جب تک ہم کنویں کے مینڈک بنے رہیں تب تک تو اردو برتری کی سیاسی بنیاد کسی حد تک محفوظ رہتی ہے۔ لیکن جیسے ہی باہر سر نکالتے ہیں اس کا علمی بنیاد پر دفاع کرنا نا ممکن ہو جاتا ہے۔

نوٹ اس مضمون کا عنوان کراچی کے شاعر اور صحافی پیرزادہ سلمان کے تحریف کردہ مصرعے پر مشتمل ہے۔ اسے استعمال کرنے کی اجازت دینے پر میں ان کا ممنون ہوں، اگرچہ مضمون میں کہی گئی باتوں کی ذمےداری کسی بھی طرح ان پر عائد نہیں ہوتی۔

  اجمل کمال ۱۹۸۹ سے ایک ادبی سہ ماہی آج شائع کر رہے ہیں۔ فکشن، نان فکشن اور شاعری کے ترجمے کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اردو اور انگریزی اخباروں اور رسالوں کے لیے مضامین اور کالم لکھتے رہے ہیں۔ کراچی میں مقیم ہیں۔
کتابیات

یادوں کا سفر، اخلاق احمد دہلوی، مکتبہ عالیہ، لاہور، ۲۰۱۰

One Language Two Scripts : The Hindi Movement in Nineteenth Century North India by Christopher R. King New Delhi: Oxford University Press, 1994

Hindi Nationalism, Alok Rai, Orient Longman, 2000

In the Mirror of Urdu: Recompositions of Nation and Community, 1947-65, Aijaz Ahmad. Indian Institute of Advanced Study, 1993

Tags: , , , ,

7 Responses to

اچھی اردو بھی کیا بری شے ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *




Help Tanqeed survive!

Help us expand Tanqeed. Consider donating just $2. Your donations will all go towards funding reporters for in-depth, long-form journalism. Thanks! -Tanqeed editors

Archives