الہدٰی کی کشش

 ۷ شمارہ 

مترجم : حافظ صوفی

Artist: Tazeen Qayyum | A Journey Unfinished

مصور: تزئین قیوم | ایک ادھورا سفر

الہدٰی انٹرنیشنل کا نعرہ ہے کہ: “سب کے لئے قرآن، ہر دل میں ، ہر ہاتھ میں”۔

میں اپنی والدہ کے گھر پر قرآن خوانی کی تیاری کرتے ہوئے سفید چادریں فرش پر ڈال رہی تھی جب میری آنٹی میرے پاس آئیں – سرگوشی میں کہنے لگیں “تم جانتی ہو یہ بدعت ہے”، اور مجھے ایک تحفہ دیا جس میں ایک نماز کی کتاب اور ڈاکٹر فرحت ہاشمی کے خطبے کی ایک سی- ڈی تھی۔ الہدٰی، جو خواتین کی قیادت میں خواتین کے لئے ایک تقوٰی گروپ ہےکے ساتھ یہ میرا پہلا تعارف تھا۔ اس واقعے کے بعد میں نے پاکستان اور میسی ساگا (کینڈا) میں اپنے خاندان میں تقوٰی کے طریقوں میں بہت سی تبدیلیاں محسوس کیں ۔ ہم قدامت پسند یا کچھ لوگوں کی نظر میں’ راسخ العقیدہ’ ہو گئے تھے ۔ “اعتدال پسند” مسلمان یا جدید مسلمان کےتشخص کو چھوڑ دیا گیا تھا ۔ قرآن خوانی کا عمل ختم ہو رہا تھا جس کی جگہ بدعت اور شرک کے الفاظ استعمال ہونے لگے تھے ۔ الہدٰی میں حصّہ لینے والی میرے خاندان کی عورتوں کی وجہ سے ایک بڑی حد تک یہ تبدیلیاں رسمی اور غیر رسمی طور پردر کر آئیں -اس وجہ سے اس تنطیم کے بارے میں میرا تجسس بڑھنے لگا۔

جو چیز الہدٰی کو آمنہ ودود، رفعت حسن، عاصمہ برلاسی یا فاطمہ مرنیسی کے ترقی پسند اسلا می نقطہ نظر سے الگ کرتی ہے- وہ لغوی اسلامی روایت کو برقراررکھنے کا عزم ہے – ایک روایت جو عام طور پر عورتوں کے مفادات کی بہتری کے ساتھ منسلک نہیں۔ پھر بھی الہدٰی نے شہری “جدید” تعلیم یافتہ خواتین کے درمیان کافی مقبولیت حاصل کر لی تھی— یہ بظاہر ایسا گروپ ہے جن سے آپ لغوی تشریحات نا منظور کرنے کی توقع کریں گے ۔ ایسا اس لئے ہے کیونکہ الہدٰی کی لغوی تشریح لبرل ازم کے کچھ پہلوسموۓ ہوۓ ہے ۔

لبرل تقوٰی

‘لبرل ازم’ کی اصطلاح سے میرا مطلب کچھ خاص ہے۔ میں اس سیاسی فلسفہ کا حوالہ دے رہی ہوں جس میں معاشرتی ڈھانچے، انفرادی خودمختاری اور جمہوری فرنچائز اور حد بندی پر مبنی ہیں ۔ معقولیت اور انفرادی ملکیت کی بنیاد پر آزادی—ایک معیار جس کی مخصوص، لبرل فلسفیانہ سوچ کے اندر اخراج کی مضبوطی شامل ہے۔ بے شک، معقولیت کی پکار ایک گہرا سیاسی قدم ہے جس کی جڑیں اقتداری رشتوں میں پیوست ہیں ۔ اس پکار میں یورپی سوچ کو معقولیت کی سنہرا معیار سمجھا جاتا ہے ۔ اسلام کی لبرل جدیدیت کے ساتھ مصالحت کرنے کی کوششوں نے اکثر اسلام کو دوبارہ معقولیت کے ساتھ ہم آہنگی کر کے پڑھنے پر زور دیا ہے۔ بہت سے مسلمان علماء اجتہاد کی طرف ہو گئے ہیں—منظم، ترقی پسند اورپس منظر کی روشنی میں مقدس صحیفوں کی ازسرنو تشریح کی لبرل اسلام قرار دیا گیاہے۔ یہ قدم محمد اقبال، سید احمد خان اور علی گڑھ تحریک کے بیسویں صدی کے اسلامی دانشوروں کے اسلامی جدیدیت سے ماخوذ ہے۔ بہت سےلوگ “جدید” اسلام کا “روایتی اسلام” کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں، جو کہ تاریخی “اسلامی روایت” کو برقرار رکھنے کے لئے اور کلامِ مقدس کی لغوی تشریخ میں مصروف عمل بیان کیا جاتا ہے – مولانا مودودی اور جماعتِ اسلامی جس کی طرف ایک مثال ہے۔ اگر ہم ان تعریفوں کو ماں لیں تو الہدٰی روایتی اسلامی تنظیم ہے لیکن یہاں کچھ سقم باقی رہ جاتا ہے ۔یہ متعین کرلینا کہ لغوی اسلامی روایت اور لبرل ازم ساتھ نہیں چل سکتے پاکستانی تناظر میں لبرل ازم کو سمجھنے کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے ۔

علماء اور مبصرین نے اس خیال کو نظرانداز کیا ہے کہ لغوی اسلامی نقطہ نظر عقلی بھی ہو سکتا ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ رسم و روایت کو مسترد کرنا ترقی کے لئے اہم ہے۔ لبرل ازم صاحبِ عقل کو خود مختار، سوچتا ہوا اور دنیا میں خود مختاری سے کام کرتا ہوا تصور کرتا ہے۔ لبرل فلسفی رسم و رواج کو عادت کی صورت سمجھتے ہیں جو خود مختاری اور خود سوچنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں۔ با اثر لبرل فلسفی (اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازم) جان اسٹوارٹ مل نے لکھا ہے کہ رسم و رواج ترقی کے متضاد ہیں کیونکہ وہ “غیر ضروری وجہ” دیتے ہیں۔ مل نے روایت کو’تقلید ‘ کے حوالے سے سمجھا ہے—اس کا کہنا ہے کہ تقلیدی روایات کے لئے ذہنی صلاحیتوں کی مشق کی ضرورت نہیں ہے۔ اصل میں، یہ ان صلاحیتوں کو کمزور کرتی ہے۔ مل نے نتیجہ اخز کیا کہ رسم کو رجعت پسندانہ طاقت کے طور پر مسترد کر دینا چاہیے، اور وہ معاشرہ جہاں رسم کی غیر آئینی حکومت مکمل ہو چکی ہے “وہ وحشی معاشرہ” ہے -ان بچوں کی مانند جو اس وقت تک انفرادی آزادی کا استعمال نہیں کر سکتے جب تک وہ مناسب طور پر مہذب نہ ہو جائیں۔ اس لبرل سوچ نے سامراجیت کے لئے ایک مہذب مشن کے طور پر راہ کھولیاور لبرل ازم کو (غلط طرح سے)انسانی مساواتی فلسفے کے طور پرپیش کیا ۔ ، جدید لبرل ازم رسم و رواج کو ترقی و تہذیب کے برعکس سمجھتا ہے۔ لہٰذا، لبرل دلائل،لغوی اسلام پر غور کرتے ہوئے اسے لبرل ازم کی ضد تصور کرتے ہیں۔ اس کے باوجود لبرل اور روایت پسند اسلام میں فرق بہت صاف نہیں ہے۔ الٰہدی کے ساتھ ( دونوں سرکاری اور غیر سرکاری) وابستہ خواتین کے ساتھ انٹرویو اور شراکتی مشاہدہ کرتے ہوئے مجھے پتہ چلا کہ الہدٰی کا لغوی بیانیہ لبرل نظام میں موجود گروه بندیوں اور سماجی ڈھانچوں کو مزید مضبوط کرتا دکھائی دیتا ہے ۔یعنی لبرل بیانہ کی طرح معروضیت پر زور ، کتابی علم کی بنیاد پر ترقی پسندانہ سوچ اور مراعات یافتہ طبقے کی تقوی بھری خواندگی کو اسلامی اخلاقیات کامرکز سمجھنا ۔ یہ باتیں پھر اس چیز پر بھی اثرانداز ہوتی ہیں کہ الہدیٰ والے غیر تعلیم یافتہ طبقے کے اسلام کو مذمتی نظروں سے دیکھتے ہیں۔

تقلیدی امت

الہٰدی کی سابق طالبِ علم، عالیہ کا کہنا ہے کہ: “طالبِ علم ہونا اندھی تقلید سے بہتر ہے”۔

اوپر دیے گئے حوالے میں، “تقلید”اور “طالبِ علم” کی مخالفت وہ علامت ہے جس کی گرد الہٰدی انٹرنیشنل کی خواتین اپنے طریقےکار وضع کرتی ہیں۔ 1990ء میں پاکستان میں خواتین کے لئے ابھرنے والا پہلا اسلامی تقوٰی گروپ، الہٰدی انٹرنیشنل قرآن تک رسائی کے اہم مسائل سامنے لے کر آیا ۔ الہٰدی میں خواتین نے مذہبی علم اور اس کی تیاری میں مردوں کی بالا دستی کو چیلنج کرنے کے لئے انتھک کام کیا۔ اسلام کی اپنی پریکٹس کو بہتر بنانے کے لئے خواتین کے تقوٰی میں بڑھتےہوئے نقص/خامی کو ڈھونڈا گیا ۔ ڈاکٹر فرحت ہاشمی جو گلاسکو یونیورسٹی سے حدیث سائنس میں ڈاکٹریٹ کے ساتھ ایک پاکستانی اسکالر ہیں ان کی طرف سے الہٰدی انٹرنیشنل اسلام آباد میں قائم کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے یہ پاکستان کے دیگر شہری مراکز اور باہر کے ممالک بشمول آسٹریلیا، کینیڈا، متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور امریکہ تک پھیل گیا۔ اس تنظیم نے اپنا کام اسلام آباد کے امیر علاقوں میں خواتین کے گھر میں قرآن کی کلاس دینے سے شروع کیا۔ اگرچہ گھر میں دی جانے والی کلاسیں اب بھی تعلیم کی ایک مرکزی صورت ہیں۔ الہٰدی کی اب اسلام آباد اور مسی ساگا (کینیڈا) میں اپنے مکمل تیار کیمپس اور چھوٹے کمرہ جماعت ہیں جو دنیا میں بکھرے ہوئے ہیں۔ الہٰدی نے اپنے پرنٹ، ویب، آڈیو اور وڈیو مواد بھی تیار کیا ہے۔

———————————————————————————————————————————

پاکستان کی کہانی سنانے میں ہماری مدد کیجیے۔ پاکستان میں ایک آزاد میڈیا کی تشکیل میں ہماری مدد کیجیے۔

چندہ دیجیے

———————————————————————————————————————————

لبرل سوچ کی گونج میں، الہٰدی کی خواتین کا کہنا ہے کہ وہ ا اسلام کے ساتھ ا یک باضمیر اورمنطقی رشتہ رکھنے کی خواہش رکھتی ہیں اور یہ کہ دوسرے بہت سے غیر معقول بے وقوف اور پیروی کے طریقے اسلام کے “ثقافتی سامان” کو آلودہ کر رہے ہیں۔ تو “تقلید” اور “طالبِ علم” کی مخالفت ایک اور تضاد کی وضاحت کرتا ہے: ثقافت اور مذہب کے درمیان، جہاں مذہب کو ثقافت کے بوجھ سے آزاد مناسب مشق کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں، پیروی کی طاقت ور کشش، ثقافت کے اسلام کی ترقی پر نقصان دہ اثرات کی ایک مثال ہے۔ پاکستان میں اسلام کی حالت کے بارے میں جوشیلی گفتگو میں، عالیہ نے ‘غریب’ لوگوں کی محرومیوں کو ہدف بنایا:۔

اگر آپ کسی غریب سے پوچھیں۔۔۔ (وہ اسلام) نہیں جانتے لیکن یہی لوگ ہیں جن کو ایسا کرنے یا اسلام کے نام پر سڑکوں پر لایا جاتا ہے۔ وہ بھیڑ بکریوں جیسے ہیں، وہ کچھ نہیں جانتے۔ وہ ناواقف ہیں۔ وہ ان پڑھ ہیں۔ وہ نہیں جانتے کے وہ کیا کہ رہے ہیں،کیا کھا رہے ہیں یا کیا کر رہے ہیں۔ وہ اسلام کے مطلب کے علاوہ اس کے بارے میں اور کچھ نہیں جانتے۔

اگرچہ “غریب” اور ان کی خصوصیات پر عالیہ کے تبصرے انتہائی نو عیت کے ہیں اور الہٰدی میں خواتین کے عمومی خیالات کی عکاسی نہیں کرتے۔لیکن کئی دیگر خواتین عالیہ کے جذبات کی عکاسی اپنے بیان میں “بیوقوف ہجوم کی ذہنیت”، رسمی اور “جاہل” جیسے الفاظ کا استعمال کر کے کرتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مبہم طور پرجس طبقے کی مذہبی رسومات کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے وہ ان خواتین کے لحاظ سے مالی طور پر غریب سمجھے جاتے ہیں ۔ الہدیٰ کے نزدیک نچلے طبقے کے لوگوں کا اسلام رسوم و روایات ، نفس پرستی اور بےسرو پا تقلید تک محدود ہو کر رہ گیا ہے ۔جس کا معقولیت اور اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں —اسی وجہ سے “تقلیدی امت” کی اصطلاح بنی۔

بہت سی خواتین نے کتابی حوالہ جات کی مدد سے پاکستانی اکثریت کے مذہبی طریقوں کو مسترد کیا ۔ انہوں نے بدعت اور شرک جیسے اسلامی تصورات کا استعمال کرتے ہوئے مذہبی رسومات کی درجہ بندی کی ہے۔ بدعت ان کے نزدیک وہ مذہبی رسوم ہیں جن کا قرآن اور سنت میں کوئی حوالہ نہیں بس انسانی ذہن کی اخترا ع ہیں – اور شرک سے مراد کسی کو اللّہ کے مساوی کرنا ہے (اور اسکی وجہ سے خدا کی وحدانیت کو چیلنج) جدت ان کی لغت میں اصلاح نہیں ہے جو اسلام کی ترقی میں حصّہ ڈالے ، بلکہ اس سے ان کی مراد مقبول رسوم و روایات ہیں جو کہ اسلام کی آڑ میں اصل اسلامی ترقی کو روک رہے ہیں۔ نتیجتا، کسی چیز کی بدعت کے طور پر درجہ بندی کرنا بعض طریقوں کو ختم کرنے کا حصّہ ہے جو ان کے بقول “ثقافتی بوجھ ” ہیں۔ الہٰدی انٹرنیشنل کی خواتین بدعت اور شرک کے طریقوں کو “مستند” اسلام کی تحریک کے لئے نقصان دہ سمجھتی ہیں—اس کی جگہ وہ کتاب سے براہ راست رہنمائی اور اپنے تئیں منطقی تقوٰی کی تبلیغ کرتی ہیں ۔

بے دخلی کا پہلو ثقافتی بوجھ کے تصور کواجاگر کرنے میں اہم ہے۔ مثال کے طور پر، ایک عورت رضیہ، جس کا میں نے مسی ساگا میں انٹرویو لیا تھا، اس نے میرے پاکستان میں کام سے آنےپر ردِعمل یہ کہہ کرظاہر کیا کہ: “اگر تم اسلام کے بارے میں جاننا چاہتی ہو تو تمہیں یہاں (مسی ساگا) خواتین سے بات کرنی چاہئے۔ اس کے لئے اس کی وضاحت یہ تھی کہ:۔

پاکستان میں ہم ماضی میں رہ رہے ہیں کیونکہ ہم ماضی کے بہت قریب ہیں؛ بھارت ہمارے بالکل ساتھ ہے اس لئے ہمارے لئے اسے چھوڑ کر اسلام پر منتقل ہونا آسان نہیں۔

رضیہ وقت اور جگہ دونوں کوگویا ملیامیٹ کر کے رکھ دیا —بھارت (ہندواکثریتی ) جغرافیائی پڑوسی اور پاکستان کے ماضی کا آسیب بھی ہے۔۔۔ پاکستانی قوم میں ایک تذکرے کو وضع کیا گیا ہے جس میں اس کا ماضی اسے اسکی حقیقی اور ضروری شناخت ، اسلام کو پہچاننے سے روکتا ہے ۔الہدیٰ والے اسلام کو پاکستان کی بنیاد اور مستقبل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ لہٰذا، پاکستانی مسلمان ہونے کی وجہ سے ان میں ایک قومی ذمہ داری کا احساس رہتا ہے کہ مستعد انداز میں اسلام کی طرف پیش رفت کرنے کیلئے جغرافیہ(بھارت) سے دور ہونے کی ضرورت ہے۔ لہٰذا رضیہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ بیرونِ ملک ہی میں ایک شخص کو پرہیزگاری بڑھانےکا مناسب موقع مل سکتا ہے۔ ایک موقع جو پاکستان میں بھارت کے ساتھ قربت اور بدعت اور شرک کی موجودگی کے باعث ممکن نہیں۔ مثال کے طور پر نوٹ کریں کہ تنظیم “الہٰدی انٹرنیشنل” کے نام میں لاحقہ “بین الاقوامی” جان بوجھ کر شامل کرنا تاکہ وہ اپنی عالمی غیر جانبدار شکل کا جوازتراش سکیں۔

اچھے (خواندہ) مسلمان

الہٰدی کے ارکان کے لئےکتابی اورغیر کتابی اسلام میں فرق شرک اور بدت مٹانے کیلئے انتہائی اہم ہے ۔ ایک عورت نے کہا کہ الہٰدی انٹرنیشنل کی خواتین ان طریقوں کی مذمت کرتی ہیں جن کا مقدس کتاب میں ذکر ہی نہیں یا پھر سرے سے اجازت نہیں۔ تحریری متنکو سمجھنا اور اس میں مہارت حاصل کرنا الہدیٰ ممبران کیلئے اہم ہے۔ یہ ان کی تعلیم یافتہ خواتین ہونے کی شناخت کی تصدیق کرتا ہے۔ رابعہ نے مجھے بتایا:-

میں نے سوچا، میں ایک تعلیم یافتہ عورت ہوں، اور مجھے نوازا گیا ہے، میرا دماغ اور یاداشت کی طاقت بہت ہے۔ تو کیوں نہ قرآن پڑھا اور سمجھا جائے۔

بہت سی خواتین نے یہ بھی کہا کہ قرآن کو روزمرہ زندگی میں ایک قابلِ رسائی کتاب کی بجائے اسے ایک مقدس چیز کے طور پر سمجھنا بھی ناقص اور غیر ضروری ہے۔ الہٰدی کی پڑھی ہوئی رومانہ نے مزاروں پرہونے والی ایک عام روایت بتائی :۔

پیر پگارا کے قلعے میں، بہت سے کمرے ہیں اور ہر کمرے میں ایک جھولا ہے اور لوگ اس جھولے پر قرآن رکھتے ہیں جو کوئی بھی جھولا چلائے گا، اس کی دلی مراد پوری ہو جائے گی۔ یہ لوگوں کا لغو تصور ہے وہاں کوئی بھی کتاب رکھی اور جھلائی جا سکتی ہے۔ قرآن کو جھلانا کچھ نہیں کرتا۔ قرآن کو پڑھنے سے ہی کچھ ہو سکتا ہے۔ تو اسے وہاں جھلانے کی بجائے گھر لے کر جایئں، اسے کھولیں اور پڑھیں۔

اس طرح بہت سی خواتین نے قرآن کو شیلف پر رکھنے کی عادت پر تنقید کی۔ ایک عورت شمائلہ نے کہا: میرے خاندان میں، اسلام شیلف پر تھا۔ اس طرح تھا کہ رمضان میں ہم جا کر شیلف سے کتاب کو اتارتے تھے اور تیزی میں پڑھتے تھے اور 27 رمضان کو اسے مکمل پڑھ لیتے اور اس کے بعد اسے بھول جاتے۔ ہم مسلمان ہیں اور قرآن کو شیلف پر واپس رکھ دیتے (زینب)۔

لوگ صرف قرآن کو لپیٹ دیتے ہیں اور اس کے لئے بہت خوبصورت کور بناتے ہیں اور اسے شیلف کے اوپر رکھ دیتے ہیں اور پھر کسی شادی یا موت پر اسے لاتے ہیں اور اسے سر پر رکھتے ہیں یا دعائیں پڑھتے ہیں۔ لیکن وہ احساس نہیں کرتے کہ پوری زندگی، اور اسے کیسے گزارنا چاہئے یہ سب اس میں ہے۔

———————————————————————————————————————————

وقف نہیں۔ خیرات نہیں۔ باہری امداد نہیں۔ صرف آپکی مدد درکار ہے۔

چندہ دیجیے

———————————————————————————————————————————

مقبول عام اسلامی طریقوں کو مضحکہ خیز اور نا معقول بیان کرنے کے پیچھے یہ سوچ ہے کہ قرآن کے لئے ایک معقول نقطہ نظر اس کو پڑھنے سے ہی حاصل ہوتا ہے۔ پڑھنے اور معقولیت کے درمیان میں جو فرق ہے وہ ان پڑھ کو اچھے مسلمان تقسیم کرتا ہے۔ ۔ یوں تو الہٰدی بہت سے طریقوں سے پاکستان میں برابر کی اسلامی نمائیندگی کا پرچار کرتی دکھائی ہے جس کے تحت مرد و عورت سب کو تقٰوی تک رسائی کا حق ہے – یہ تنظیم مذہبی علم پر مرد علماء کی اجارہ داری کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے- پھر بھی اس کا بیانہ ایسا اسلامی معاشرتی سماج دیکھتا ہے جہاں اس خطے میں رائج مقبول اسلامی رواج اپنانے والوں اور قران سے براہ راست رہنمائی نا لینے والوں کا درجہ نیچا رکھ جاۓ گا ۔ دو ٹوک الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ الہدیٰ کے نزدیک ایک اچھا مسلمان تعلیم یافتہ ہوتا ہے جو (نسبتا) مالداربھی ہے۔ طبقے اور تقوٰی کا اختلاط سے لبریز وہ محروم طبقات اور غریب مسلمانوں کو اسلام اور دنیا دونوں کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں۔

ترقی پسند دعوت

” مجھے ایک اچھی عورت دو میں آپ کو ایک اچھی قوم دوں گا” بینش
“مجھے اچھی مائیں دو اور میں آپ کو اچھا معاشرہ دوں گا” غزالہ
“اچھے ممالک ماں کی گود میں جنم لیتے ہیں” رومانہ

ALI_Drinking tea

Related: اندھا یقین؟ لبرل احساس جرم | (نعمان جیم علی (فوٹوگرافر: اسداللہ طاہر

اچھی عورت اور اچھی قوم کے بابت یہ اقوال اس بات کی علامت ہیں کہ الہٰدی کی خواتین برادری میں اپنا کردار کس طرح سمجھتی ہیں۔ یہ وہ چیز ہے جسے “ترقی پسند دعوت” کہتے ہیں۔ دعوت، دوسروں کو اسلام کی دعوت دینے یا اسلام کی پریکٹس کو بہتر بنانے کی اسلامی ذمہ داری ہے۔ الہٰدی میں یہ ایک احسانات اور سمجھداری کی زبان اور تقوٰی اور قوم کی ترقی سے منسلک جنسی زمہ داری پر لے جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، کراچی کے بااثر ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں گھریلو کام کاج والی خواتین کے لئے ہونے والی “ماسی کلاس” لیں۔ یہ کلاسیں الہٰدی کے کچھ اساتذہ اور طلباء کے گھروں میں کام کرنے والے ملازمین کے لئے مرتب کی گئی ہیں۔ اس خیال سے کہ بالائی طبقے کی تعلیم یافتہ خواتین باقی عورتوں کو گیان دے سکتی ہیں ، الہدیٰ سنٹر سے وابستہ خواتین ہفتے میں تین گھنٹے اپنے گھریلو ملازمین کو خواندگی کی مہارت، اسلامی علم اور سب سے اہم اپنے موجودہ اسلامی طریقوں کو فراموش کرنے کے لئےسنٹر لے آتی ہیں ۔ کچھ گھریلو ملازمین جن سے میں نے کلاس میں بات کی انہوں نے اپنے خاندان اور برادری کے قرآن کو زبانی پڑھنے کے موجودہ طریقوں اور خاص موقعوں پر صوفیوں کے مزاروں پر جانے کو الہٰدی میں شرک ااور بدعت کے زمرے میں ڈالا۔ کئی طریقوں سے، یہ گھریلو ملازمین “تقلیدی امت” کی نمائیندگی کرتے ہیں۔ غیر معقول، غیر سمجھدار، ناواقف عوام—اور ان کے موجودہ اسلامی طریقوں کو غیر قانونی اوربےرحمانہ انداز میں نیچا سکھایا جاتا ہے ۔ مثال کے طور پر ، سبق کے ایک حصہ میں ان کارکنوں کو بغیرلگی لپٹی رکھے یہ کہا گیا کہ روائیتی طور پر پڑھی جانے والی نماز گناہ کے مترادف ہے، کیونکہ اس میں پڑھی جانے والی عربی آیات کا مطلب نمازیوں کو معلوم نہیں تھا لہٰذا وہ ‘قابل قبول ‘ نہیں ۔ الہٰدی کی خواتین نے فرض کر لیا کہ ملازمین کا اپنے اسلامی رواجوں سے جذباتی تعلق انکی نا خواندگی کی وجہ سے ہے۔ دوسرے الفاظ میں،جذبات بھی معقولیت کی لاٹھی سے ہانکے جاتے ہیں ۔ یہ جنسی ترقیاتی سرگرمیاں جسے الہٰدی کی خواتین “صدقاتی کام” کہتی ہیں کا مقصد ملازم طبقے کو متن سے براہ راست آتی پرہیز گاری کی طرف لے کر آنا ہے۔

بالائی /تعلیم یافتہ اور نچلے غیر/ خواندہ طبقات کے درمیان یہ تقسیم الہٰدی انٹرنیشنل کے سماجی کام کو منفرد نہیں بناتی لیکن یہ تفریق ایک نیک معاشرے کی تشکیل میں الہدیٰ کا کردار کو اجاگر کرنے میں ضرور مددگار ہے ۔ بنیادی بات یہ ہے کہ ہندوانہ رسومات کو رد کرنے اور ایک نیک مسلمان بننے کے لئے ضروری ہے کہ مقدس،مذہبی نصاب کو پڑھا اور سمجھایا جائے جن کا تعین اسلامی پیشوا کی حیثیت سے خواندہ طبقات کرتے ہیں۔دوسروں کو اپنے کی رنگ میں رنگنے کے ترقی پسند منصوبے ان سماجی ناہمواریوں کو بڑھانے اور برقراررکھنے کا موجب ہیں جن کا تحت عقل مند تعلیم یافتہ اور مالدار طبقہ کا پلہ ہمیشہ بھاری رہتا ہے ۔ لبرل ازم اسی وجہ سے الہٰدی کے لغوی اسلامی تشریح کا ایک بنیادی جزو ہے۔

نادیہ حسن یارک یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کی امیدوار ہیں۔ وہ یارک سنٹر برائے ایشیائی تحقیق کے ساتھ بھی وابستہ ہیں۔ ان کا مقالہ قومیت ، لبرل ازم اور اسلام کے موضوعات کو پاکستان اور کینیڈا میں موجود خواتین کے پرہیز گاری گروپوں کے تجزیہ میں پرکھنے کی کاوش ہے۔

 

Tags: , ,

One Response to

الہدٰی کی کشش

  1. […] میلک کچی آبادیوں کے طویل احتجاجوں کی کہانی سناتی ہیں ۔ نادیہ حسن نے ایک اور طرح کی تحریک کے بارے میں تحقیق کی ہے: […]

Leave a Reply

Your email address will not be published.