شمارہ ٧│ ماورا ئے حادثات و دہشت

Oct 2014

Subscribe
Please click on the tip jar and donate!


You can sign up for a subscription at any level, and you will receive a downloadable version of the magazine. We will charge you monthly at that level.
For instance, if you sign up as an “ally,” we will automatically charge you, $2.00 every month on the credit card with which you signed up (or to your Paypal account if that’s how you signed up). (That’s the full magazine for a very low cost of $24.00 annually by the way.) If you wish to cancel at any time, simply email us: subscriptions@tanqeed.org.
None of the funds are used to pay our editorial team. All of it goes towards TQ: paying our writers, journalists, photographers and artists and building the print and web magazine.
Simple!

Join our mailing list!

* indicates required



Email Format


For subscriptions or donations: subscriptions@tanqeed.org

To submit a pitch, read this and then, email: editors@tanqeed.org

About us

Editors-in-Chief: 

M. Ahmad & M. Tahir

Editors: 

A. Hashim | A. Kamal S. Hussain | S. Hyder | K. Hamzah Saif

Contributing Editors: 

M. Kasana | R. Mehmood | I. Tipu Mehsud | H. Soofi

Urdu translators: 

S. Bhatti | S. Hussein Changezi | S. Hussein | P. Mushtaq | A. Naz

Social media:

M. Kasana & K. Hamzah Saif

Interns:

P. Mushtaq | A. Naz

Funders and contributors

TQ thanks those who have generously helped us with their time and money.

  • Jawad Ahmad, Esq.
  • Ahmer Arif
  • Nirajan Singh, Esq.
  • Aisha Ahmad
  • Brady Calestro
  • Mariam Chughtai
  • David Dencker
  • Marie-Christine Heinze
  • Fozia Irm
  • Zareen Jaffery
  • Beth Kasner
  • Adnan Malik
  • Meneejeh Moradian
  • Hira Nabi
  • Yoon Sang Nam
  • Farida Saiduddin
  • Declan Walsh
  • Anna Waltman

We thank you all!

حال ہی میں اہل دانش کے ایک حلقے نے پاکستان کی عمومی تصویر کشی اور ملک کے بارے میں علم و تحقیق کے معیار متعلق کچھ ایسی رائے کا اظہار کیا

روزانہ بم دھماکوں، “عزت کے نام پر قتل” اور ” بلوائیوں” کے تشدد میں گھرا ملک، پاکستان باقاعدگی سے بین الاقوامی میڈیا میں نظر آتا ہے۔ مقبول عام صحافتی نقطہ نظر یہ تاثر دیتے ہیں کہ یہ ملک بے عقلی، تشدد اور اسلامی بنیاد پرستی میں گھرا ہوا ہے۔ متبادل طور پر، لبرل پاکستانی، اگر وہ کہیں نظر آئیں تو ان کو ترقی کے داعی، بردباری کے ساتھ مذہبی انتہا پسندی سے نبردآزما، سرمایہ دارنہ ترقی اور پاکستانی فوج کی انتہاپسندوں کے خلاف کاروائی اور “وار آن ٹیرر” کے حمایتی دکھایا جاتا ہے۔ عمومی طور پر یہی وہ تاثر ہے جو پاکستان بارے دنیا کو دیا جاتا ہے۔

بدقسمتی سے یہ بیانیہ صحافت تک محدود نہیں رہا۔ پاکستان کے بارے میں حالیہ علمی کام بھی ملک اور اس میں بسنے والے لوگوں کا سطحی اور بہت ہی تنگ نظر تاثر دیتا ہے، یہ تجزیہ (اگر اسے تجزیہ کہا جا سکے) اصل علمی بحث کی بجائے امریکی خارجہ پالیسی کی ترویج کرتا نظر آتا ہے۔ مثال کے طو پر اناطول لیون کی کتاب پاکستان: ایک سخت ملک (2012) بیان کرتی ہے کہ پاکستان،” مختلف معاشروں کا ایک بہت ہی رجعت پسند، تنگ نظر اور حتی کہ بے جان اور خوابیدہ مجموعہ ہے۔” ایسے نقطہ نظر کے مستعمل ہوتے ہوئے یہ کوئی حیرانگی کی بات نہیں کہ مصنف، سٹیفن کوہن اپنی کتاب، “پاکستان کا تصور” (2006) میں اس قوم کو جگانے کیلئے امریکی مداخلت کی دعوت دیتا ہے۔ ایسے مستشرقی نظریے ملک کو “غصیلے ” بنیاد پرستوں / شدت پسند اسلامیوں سے بھرا دیکھتے ہیں اور سامراجی انتہا پسندی یا لبرل ازم کو حل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

اسی قسم کی سوچ تھی جس نے اس سال مئی میں نوجوان دانشوروں کی ایک نئی نسل اور ان کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سکالرز اور کارکنوں کو ایککانفرنسمیں اکٹھاکیا۔ تنقیداب یہ آوازیں آپ تک لارہا ہے۔ یہ نوجوان سکالر اور کارکن علم اور عمل دونوں میں نئی جہتیں لارہے ہیں- وہ دہشت اور خوف کے حاوی بیانیہ سے ہٹ کر ایسے سوال اٹھا رہے ہیں جن جن کا تعلق عام پاکستانیوں سے ہے – وہ سوالات جن کا نیم دل پالیسی سازحلقوں میں کہیں ذکر ہی نہیں ۔

کسی بھی اور دانشوارنہ کام کی طرح یہ بھی ضخیم، بھاری بھرکم مضامین ہیں جو قاری کو پرمغز بصیرت سے روشناس کریں گے۔ انہیں سکون اور اچھے طریقے سے پڑھیے گا۔

عمراعجازینے سیلاب اور امدادی کاموں میں رکاوٹ کے بارے میں لکھا ہے۔سونیاقادرسپریم کورٹ کے سٹیل مل کیس   میں دئیے فیصلے کو پڑھتی ہیں اور یہ اخذ کرتی ہیں کہ اگرچہ اس کے نتیجے میں فی الحال نج کاری روکی گئی ہےپھر بھی یہ فیصلہ نیولبرل منطق ظاہر کرتا ہے۔سارہ سہیلسندھ میں عورتوں کی جبری مشقت کو نسل پرستی کے تناظر میں دیکھتی ہیں۔ اگر ان سکالرز نے استبداد کے طریقوں پر بحث کی ہے تو باقیوں نے اس کے خلاف مزاحمت–اور مسائل جو مزاحمتی تحریکوں کو ختم کرنے میں حائل ہوتے ہیں کے بارے میں اپنی رائے پیش کی ہے۔ عائشہ عمرہزارہ کے دھرنوں کے دوران کئے گئے انٹرویواورنسلی جغرافیہ کی بنیاد پراپنا تجزیہ پیش کرتی ہیں، جبکہکاٹجامیلک کچی آبادیوں کے طویل احتجاجوں کی کہانی سناتی ہیں۔نادیہ حسننے ایک اور طرح کی تحریک کے بارے میں تحقیق کی ہے: پاکستانی امیر خواتین کی جانب سے الھدی جیسی مذہبی تنظیموں کا قیام۔ دو نوجوان سکالر پاکستانی سینما کے بارے ایک مطالعہ پیش کرتے ہیں:رابعہ مرتضیپاکستانی سینما میں یادداشت اور ماں کے بارے،اورحرانبیسینما بارے لوگوں کے تاثراورخوف پر بحث کرتی ہے۔ عاصم سجاداختر اپنے مضمون میں طاقت کی سیاست کا جائزہ لیتے ہیں۔

اس کے علاوہ ہم آپ کیلئے تنقید کے نصب العین کے مطابق دو تحقیقی مقالے بھی لائے ہیں۔ زہرہ ہاشمیاسلام آباد میں گاؤں کی زمین پر نیوی کی تجاوزات بارے تحقیق کررہی ہیں اوراسدہاشمبنوں کی صورتحال پر نظر ڈالتے ہیں، بنوں جو مسافروں، مہاجروں اور اب شمالی وزیرستان میں پاکستان فوج کی بمباری کی وجہ سے اندرونی طور پر بے دخل افراد کیلئے سرراہ ٹھکانہ ہے۔

اور مصورتزئین قیومہمارے اس ملٹی میڈیا شمارے میں اپنے موجودہ فن پاروں نئے منصوبوں پر بات کر رہی ہیں۔

ان مضامین کے اردوتراجم اس امید کے ساتھ پیش کے جارہے ہیں کہ یہ اردوصحافت اور سیاسی موضوعات پر تحقیق میں ایک نئی آواز کا اضافہ کر پائیں گے۔

ہم اس کاوش میں کس حد تک کامیاب رہے ؟ آپ کی رائے کا انتظار رہے گا۔

آخرمیں، ہم اپنے پہلے ڈیجیٹل میگزین کا اعلان بڑی خوشی سے کررہے ہیں! ہم اس کو ایسے وقت میں پیش کررہے ہیں جب ہم اپنی 1000 سبسکرائبر مہم کا آغاز کررہے ہیں -تنقید ایک مکمل طور پر رضاکارانہ کوشش ہے جس میں ان مضامین کو لکھنے اور اس ویب سائٹ کو چلانے میں ان گنت وقت صرف ہوا ہے۔ ہمارے پاس کوئی گرانٹ یا قرضہ نہیں ہے۔ ہمارے پاس صرف آپ قارئین ہیں۔ تنقید چلانے میں ہماری مدد کریں اور آج ہی سبسکرائب کریں۔

مطالعہ کا لطف اٹھائیے۔

سلمان حیدر + فہیم شیخ  + احسن کمال

تنقید اردو ٹیم

اور

م + م

مدیر ا ن اعلی

Tags: , , ,

13 Responses to

شمارہ ٧│ ماورا ئے حادثات و دہشت

  1. […]  7 شمارہ […]

  2. […] 7 شمارہ […]

  3. […]  7 شمارہ  […]

  4. Tanqeed on Oct 2014 at 8:37 AM

    […]  7 شمارہ  […]

  5. شاہراہ بنوں | Tanqeed on Oct 2014 at 9:14 AM

    […]  7 شمارہ  […]

  6. سنیما جانا | Tanqeed on Oct 2014 at 9:33 AM

    […]  7 شمارہ  […]

  7. […]  7 شمارہ  […]

  8. […]  7 شمارہ  […]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *