تین پہیوں پر گھومتی انتہا پسندی | صوفی کا بلاگ

دل کا علاج کرانا ہو ، دیسی گھی میں بنی مٹھائیاں کھانی ہوں ، مکان خریدنا ہو،   میلاد کانفرنس میں شرکت کرنا ہو ، دیمک سے نجات پانی ہو ، قربانی کی کھال کا صحیح مصرف ڈھونڈنا ہو ،مردانہ کمزوری سے نجات پانا ہو، زنانہ حسن میں اضافہ درکار ہو ، بجلی کی کمی پوری کرنے کے لئے یو پی ایس یا جنریٹر چاہیے ہو ….اب آپ اپنی پسند مفت سڑک پر چلتے پھرتے منتخب کر سکتے ہیں۔ لاہور شہر اور اسکے گرد و نواح کی حد تک آٹو رکشہ اشتہار بازی کا سب سے سستا اور مؤثر ذریعہ ہیں ۔ مصنوعات اور خدمات کی مشہوری ، اہل اقتدار کے نام کھلے خطوط   اور عوامی فلاح عامہ بارے مفت مشوروں کے لئے بھی تین پہیوں والی موٹر کا انتخاب کیا جاتا ہے ۔

مصیبت یہ ہے کہ و عظ و تبلیغ کرنے والے اس موبائل مارکیٹٹنگ کا استعمال کرنا خوب جانتے ہیں ۔ پہلے تو دیواروں پر لوگوں کو مسلمان اور کافروں میں تقسیم کیا جاتا تھا ، جہاد ی بھرتی کی پکار بھی دیواروں سے سنائی دیتی تھی تو ان سے فرار کچھ ممکن تھا ، لیکن اب…آپ جہاں بھی جائیں یہ اشتہارت پیچھا نہیں چھوڑتے ۔ یوں لگتا ہے کہ (چاچا غالب سے معذرت)۔

سڑکوں پر دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل

جو تبلیغ ہی نا کرے عام  وہ آٹو کیا ہے ؟

کے مصادق رکشے سواریاں ڈھونے والی آٹو نہ ہوۓ ، نظریاتی لڑائی کے ٹینک ہو گئے!۔

خالص اسلامی احیا کی تنظیمیں عذاب الہی کا خوف راسخ کرنے کی تگ و دو میں لگی دکھائی دیتی ہیں۔ ان کے مشتہر رکشے عوام کو برائی سے بچنے کی ترغیب دینے میں پیش پیش ہیں ۔

rikshaw_ad_1

یہ اور بات ہے کہ اسلام کے نام پر قتل و غارت گری اور غریبوں کے استحصال پر کوئی احادیث ان تنظیموں کی طرف سے آویزاں نہیں کی جاتی ۔

ہمارے کچھ ہمدرد خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں پر نظر رکھتے ہیں ۔ ان کی کاوشوں سے عام آدمی پیچیدہ بینالاقوامی معاملات کو آسانی سے سمجھ لیتا ہے ۔

rikshaw_ad_2

اب یہ نہ پوچھیے گا کہ 50 کی دہائی سے آج تک کون کون سے سانپ نے نظریاتی محافظوں کی سرپرستی کی ہے ۔

عوامی آگاہی مہم کی ایک اور گھومتی پھرتی مثال ہمارے عظیم ہیرو کو سلام پیش کرتی ہے ۔

rikshaw_ad_3

مبادا کہ لوگ سرکاری اسلحہ سے دوران ڈیوٹی ایک سیاسی لیڈر کو قتل کرنے والے سزا یافتہ مجرم کو بھول نہ جائیں!۔

اہل دانش اس اشتہار بازی کے پس پردہ کارفرما عوامل اور اسکے اثرات بارے جو بھی تجزیہ کریں ۔ اس حقیقت سے نظریں چرانا مشکل ہے کہ موبائل نظریاتی نعرے  ننھے ذہنوں اور طالب علموں پر گہرے اثرات چھوڑ سکتیں ہیں ۔

تو کیا نفرت ، جھوٹ اور تشدد آمیز تبلیغ کا توڑ محبت ، سچائی اور امن کی تشہیر کر سکتی ہے ؟ آج کل کے ماحول میں یقین سے کچھ کہنا تو شاید مشکل ہو۔لیکن کچھ دوست اپنی سی کوشش ضرور کر رہے ہیں ۔ اس سلسلے کی ایک کڑی لاہور کے رکشوں پر ، باہمی رواداری ، امن و احترام اور علم  دوستی پر مبنی پیغامات آویزاں کرنا ہے ۔

مزید تفصیلات کے لئے یہ لنک ملاحظہ کیجئے ۔ مالی تعاون کے علاوہ آپ پیغامات بھی تجویز کر سکتے ہیں ۔

یہی شمعیں جلیں گی تو چراغاں ہو گا۔

9 Responses to

تین پہیوں پر گھومتی انتہا پسندی | صوفی کا بلاگ

  1. riazjazib on Oct 2014 at 9:46 PM

    تین پہیوں پر گھومتی انتہا پسندی
    اس طرح کے مضامین کا لکھا جانا اور پڑھنا ضروری ہے۔ تاکہ لوگوں کو حقیقت سے پتہ چل سکے۔۔۔ گڈ

  2. Abdul Hayyee on Dec 2014 at 7:14 AM

    Dil Kush keta yara tada jwab nei

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *