کوئلے کی طرح سیاہ

English

تحریر: احسان اللہ ٹیپو محسود | ترجمہ: انعم ناز


انتباہ: کمزور دل افراد نہ دیکھیں | فوٹوگرافر: احسان اللہ ٹیپو محسود | خیبر ٹیچنگ اسپتال پشاور خیبر پختونخوا

 

زوبینہ بی بی کا کہنا ہے کہ 9 جون کو آپریشن ضرب عضب کے آغاز سے چھ دن پہلے پاکستان فوج کی شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کے دوران ، لڑاکا طیاروں نے تحصیل میر علی کے گاؤں کیسور زر میں اس کے گھر کو تباہ کر دیا۔ زوبینہ کے مطابق وہ اس وقت اپنے شوہر کے لیے دوپہر کا کھانا تیار کر رہی تھی جب یہ دھماکہ ہوا جس کی وجہ سے کمرے میں آگ لگ گئی۔ اس نے کہا کہ بے ہوش ہونے سے پہلے وہ اپنے آپ کو بمشکل گھسیٹ کر ملبے سے باہر لائی۔ ہوش آنے پر اس کی ماں نے بتایا کی اب وہاں صرف راکھ ہی بچی ہے۔

“کاش میں اس دن مر جاتی۔ میں معزوری کی زندگی نہیں جینا چاہتی۔” پندرہ سالہ زوبینہ بی بی نے تنقید  سے بات کرتے ہوئے کہا۔

“میری بیٹی کا جسم فورا ہی کوئلے کی طرح سیاہ ہو گیا تھا”  زوبینہ کی ماں طوراں بی بی نے بتایا  ۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ دھماکے کی وجہ کیا تھی تو طوراں کا  کہناتھاکہ “ہوا میں گرجدار آواز پیدا کرتے ہوئے بڑے سے جہاز دیکھے، اچانک انہوں نے بم گرانا شروع کر دیے۔”

زوبینہ بی بی کے ڈاکٹر جو کہ میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نا ہونے کے باعث اپنا نام نہیں بتانا چاہتے تھے نے تنقید کو بتایا کہ زوبینہ اس وقت حاملہ ہے۔ زوبینہ بی بی کی ماں نے بتایا کہ اس کی آٹھ ماہ پہلے جس شخص سے شادی ہوئی تھی وہ اب “گمشدہ” ہے۔

“اسکا شناختی کارڈ نہیں ہے اور وہ بہت لاپرواہ ہے۔ اپنے گاؤں واپس جاتے ہی میں اسے اپنی بیٹی کو طلاق دینے کا کہوں گی۔ وہ بالکل بیکار ہے۔”

میر علی میں زوبینہ کے گھر پر پر حملہ کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پراس حملے کے اگلے دن ہوا جو شمالی وزیرستان میں دو ہفتہ پہلے  شروع ہونے والے بھرپور فوجی آپریشن کا جواز بنا۔

اگرچہ زوبینہ بی بی کے گھر پر حملہ موجودہ کاروائی کے باضابطہ شروع ہونے سے پہلے ہوا تھا مگر وہ شمالی وزیرستان میں فوجی مداخلت سے متاثر ہونے والے ہزاروں لوگوں میں شامل ہیں۔ 15 جون کو کاروائی کے آغاز کے بعد سے شمالی وزیرستان میں بڑے پیمانے پر فضائی اور آرٹلری حملے کیے گئے ہیں جس کی وجہ سے پانچ لاکھ سے زائد شہری صوبہ خیبر پختونخوا کی تحصیلوں میں محفوظ مقامات پر چلے گئے۔

دھماکے کے بعد سے زوبینہ کو تحصیل بنوں اور پشاور کے کئی ہسپتالوں میں لے جایا گیا ہے۔ سب سے پہلے اس کے گاؤں کیسور زر میں ایک غیر تربیت یافتہ ڈاکٹر نے اس کا علاج کیا۔ لیکن اس کی حالت خراب ہونے پر اسکی ماں طوراں نے پیسے ادھار لئے تاکہ زوبینہ کو بنوں میں ہسپتال لے جا سکے۔  چودہ سال پہلے اپنے شوہر عبدالرحمان کی وفات کے بعد سے طوراں بی بی کپڑوں کی سلائی کا کام کرتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کے وہ مشکل سے گزربسر کرتی ہے۔

انعام خان جو ایک سیاسی پارٹی جماعت اسلامی کا حصّہ ایک غیر سرکاری انسان دوست تنظیم الخدمت فاؤنڈیشن سے وابستہ ہیں نے زوبینہ اور اس کی ماں کو باکا خیل میں بنوں- میران شاہ روڑ پر دیکھا اور زوبینہ بی بی کو خلیفہ گل نواز اسپتال لے گئے جہاں اس کو ابتدائی طبی امداد ملنا شروع ہوئی۔  ایک ڈاکٹر کے مشورے پر زوبینہ کو مزید علاج کے لیے ایمبولینس کے ذریعے خیبر ٹیچنگ اسپتال لے جایا گیا۔

تنقید نے ان سے خیبر پختونخواہ کے صوبائی دارالحکومت میں واقع خیبر ٹیچنگ اسپتال کے سرجیکل وارڈ-سی میں ملاقات کی۔ اپنی ماں اور دو چھوٹے بھائیوں کے درمیان وہ مناسب علاج کا انتظار کر رہی تھی: اس کے جسم کا نچلا حصہ شدید جلا ہوا اور پٹیوں میں لپٹا ہوا تھا،  جس سے جلے ہوئے گوشت کی بو آ رہی تھی۔

طوراں بی بی نے کہا “میں گزشتہ تین دنوں سے ڈاکٹروں سے اس بو کے خاتمے کے لیے کچھ کرنے کی درخواست کر رہی ہوں، یہ میرے اور وارڈ میں باقی لوگوں کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔ ” اس کے فورا بعد ایک سفید ریش میل نرس ایک گرد آلود سٹریچر کے ساتھ آیا۔ زوبینہ کو آپریشن تھیٹر منتقل کرنا تھا جہاں اس کے زخم صاف ہونے تھے۔

زوبینہ کے ڈاکٹر نے کہا کہ: “میری تحقیقات کے مطابق اس کے جسم پر گولے کے ٹکڑوں کے زخم نہیں ہیں اور اس کے جسم کا تیس فیصد حصہ بری طرح جلا ہوا ہے اور اسے علاج کے لیے ایک مناسب برن سینٹر میں منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔ گو کہ ہمارے پاس اس اسپتال میں ایک برن سینٹر ہے، مگر یہ مکمل طور پر آپریشنل نہیں ہے”

فوج کا کہنا ہے کہ 9 جون کو انہوں نے 160 کلو میٹر شمال مشرق میں ضلع خیبر میں فضائی حملے کیے لیکن زوبینہ کے گھر کے اردگرد کوئی حملہ نہیں کیا  گیا۔  ماضی میں قبائلی علاقوں میں صحافیوں کی محدود رسائی اور آزادی کے باعث فوجی کاروائیوں کی کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔ ایسا ماحول جس میں شمالی وزیرستان کے رہائشیوں کو دہشت گردوں اور فوج دونوں کی جانب سے انتقامی حملوں کا خدشہ رہتا ہے اس میں عینی شاہدین اور متاثرین کو ریکارڈ پرآنے کے لیے قائل کرنا مشکل ہوتا ہے۔

شمالی وزیرستان میں تعینات ایک فوجی اہلکارجو میڈیا سے بات نہ  کرنے کی اجازت کی وجہ سے اپنا نام راز میں رکھنا چاہتا تھا، نے قطعی طور پر اس بات سے انکار کر دیا کہ 9 جون کو ایجنسی میں بمباری کی گئی۔  لیکن آئی ایس پی آر نے زوبینہ کے بارے میں بیان جاری کیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم باجوہ کے مطابق زوبینہ کو بدھ کی رات کو سی ایم ایچ کھاریاں منتقل کر دیا گیا۔

“زوبینہ بی بی کا سی ایم ایچ کھاریاں کے برن سینٹر میں قابل ڈاکٹروں کی نگرانی میں علاج کیا جا رہا ہے۔ پاکستان فوج کی ایمبولینس نے اسے اس کی ماں اور دو بھائیوں کے ہمراہ خیبر ٹیچنگ اسپتال پشاور سے سی ایم ایچ کھاریاں منتقل کر دیا”  میجر جنرل باجوہ نے تنقید سے بات کرتے ہوئے اس بیان کی تصدیق کی۔

احسان اللہ ٹیپو محسود ایک صحافی ہیں جنہوں نے پاکستان کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا٭ پر بڑے پیمانے پر ریپورٹنگ کی ہے۔  وہ اس وقت نیویارک ٹائمز کے ساتھ کام کر زہے ہیں۔

Tags: , , , , , ,

Leave a Reply

Your email address will not be published.