تم کہاں سے ہو؟ بٹوارے کے بعد وابستگی

۵ شمارہ

پریتی چوپڑا | ترجمہ: انعم ناز

مصور: عائشہ مالک | "واہگہ سرحد پر گارڈز کی بدلتی"

“فوٹوگرافر: عائشہ مالک | “واہگہ بارڈر پر گارڈز کی تبدیلی

لوگ جب مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میرا تعلق کہاں سے ہے تو سمجھ نہیں آتا کہ کیا جواب دوں۔ کوئی ایک جواب ہے ہی نہیں۔ ایک وقت آیا جب میں نے یہ جزوی جواب دینا شروع کر دیا کہ “میرے والدین پاکستانی پنجاب سے ہیں لیکن ہم بھارت ہجرت کر گئے اور میرے خاندان کے زیادہ تر لوگ دہلی میں آباد ہو گئے”۔ یقیناۤ یہ کہنا زیادہ آسان ہوتا کہ میں دہلی سے ہوں جسے 1947ء کے بعد پنجابی مہاجروں نے آباد کیا۔ یہ آسان مگر جانبدارانہ جواب نا دینا اس بات کا اشارہ ہے کہ میں جانتی تھی کہ یہ سب برِصغیر کی تقسیم کی وجہ سے ہوا اور میرے آباؤاجداد اب بھی سرحد پار رہتے ہیں۔ جو لوگ1947ء میں اپنا سب کچھ چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے بدقسمتی سے ان کے بارے میں میری معلومات بہت کم ہے۔ دونوں اطراف ہجرت کرنے والوں میں سے کم ہی لوگ اپنے رشتے داروں سے مل سکتے ہیں۔ وہ ہمیشہ کے لیے اپنا سب کچھ اس پار چھوڑ آئے تھے۔

پچھلے سال مارچ میں مجھے اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ آٹھ دن کے لئے لاہور جانے کا موقع ملا۔ شہر گھومنے کا یہ اچھا موقع تھا کیونکہ میرے دوست شہرِلاہور سے واقف تھےاوران کے دوست احباب سے ملنے کا یہ تجربہ اچھا رہا۔ انہوں نے بالکل گھر کا ماحول دیا۔ سرحد کی انتظامیہ کو یہ نہیں پتہ چلا کہ میں نے پاکستان میں اپنے ویزا کی مدت سے زیادہ قیام کیا۔ ایک ہفتے کی محدود مدت میں بہت کچھ دیکھنے اور کرنے کا موقع ملا۔

اوّلین تاثرات

ہم بذریعہ جہاز امرتسر پہنچے وہاں سے سرحد تک ٹیکسی لی اور پیدل سرحد پار کی۔ یہ علاقہ کافی گردآلودہ تھا اور راستے میں کئی چیک پوسٹیں بھی تھیں۔ میرے لئے سرحد پار جانا ایک معجزہ سے کم نہ تھا۔ ویزے سے لے کر این او سی تک تمام رکاوٹیں حل ہو تو گئیں مگر مجھے اس بات کا ادراک ضرور ہوا کہ سرحد پار کرنے والے پاکستانی اور انڈین شہریوں کو کس قدر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس دورے سے چند برس پہلے میں واہگہ بارڈر پر روزانہ ہونے والی پرچم کشائی کی تقریب دیکھنے گئی تھی۔ تقریب شروع ہونے سے پہلے انڈین لڑکیاں ہندی فلموں کے گانوں پر رقص کررہی تھیں اور پاکستانی عوام اللہُ اکبر کے نعرے لگا رہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے دونوں اطراف سے دوسروں کی آواز دبانے کے لئے شوروغل مچا ہوا تھا۔ پاکستانی تقریب دیکھنے کی کوشش کرتے میری گردن دُکھ گئی۔ بہت سے ناقدین کا کہنا ہے کہ ان تقریبات میں قوم پرست جزبات بڑھتے ہیں۔ انکی تنقید کچھ حد تک درست بھی ہے مگر مجھے یہ کافی فائدے مند بھی لگی کیونکہ دونوں اطراف کے لوگ دوسری طرف جانا چاہتے تھے۔ اور اب کُچھ سال بعد میں نہ صرف سرحد دیکھ رہی تھی بلکہ دوسری طرف جا بھی رہی تھی۔

سرحد پار کرنے کے فوراۤ بعد میرے ایک دوست کا قریبی دوست ہمیں لاہور کے ایکے خوبصورت نجی کلب میں لے گیا۔ یہ میرے لیے اس شہر اور ملک کا تعرُف تھا۔ اس بار میں شراب کی کھُلی پیشکش پر مجھے کافی حیرانی ہوئی۔ مینیو میں سوشی کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ ممبئی یا دہلی میں یہ جدید ترین پیشکش کہاں ہوتی ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ پاکستان میں شراب منع ہے، مجھے یقین تھا کہ یہ کلب میں نہ سہی مگر گھروں میں ضرور ملتی ہو گی لیکن یہ کہا جا سکتا ہے کہ نجی کلب ہم خیال ارکان کے گھروں کی توسع ہے۔ پُر تعیش ترتیب، ٹھنڈی بیئر اور ائرکنڈیشنر کی ٹھنڈک نے راستے کی ساری تھکن مٹا دی اور میں کافی پُر سکون محسوس کرنے لگی۔ پاکستانی اشرفیہ بھی مجھے بھارتی اشرفیہ جیسی ہی لگی۔

کُچھ گھنٹے اس شہری جنت میں گزارنے کے بعد ہم وہاں سے نکل آئے۔ باہر نکلتے ہی پاکستان کی روزمرہ کی تلخ حقیقتوں سے سےآگاہی ملی جیسے کہ بجلی کا گھنٹوں بند رہنا۔ کُچھ فاصلے سے دھواں نظر آرہا تھا، کُچھ لوگوں نے غصّے میں روڈ بلاک کیا ہوا تھا اور صحافی بھی وہاں موجود تھے۔ اپنے سفر کے باقی دنوں میں میں نے یہ بات محسوس کی کہ امیر لوگوں کے گھروں میں جنرئیٹر لگے ہوئے تھے، درمیانے طبقے کے لوگوں کے گھروں میں انورٹر اور باقیوں کے لیے کئی کئی گھنٹے گرمی اور اندھیرا۔ یہ سب کچھ بھارت میں بھی ہے۔ مئی، جون اور جولائی میں شدید گرمی سے بچنے کے لئے لوگ اپنے آپ کو ٹھنڈا رکھنے کے لئے مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں۔ پچھلے سال جولائی میں شمالی بھارت میں برقی گرڈ خراب ہو گیا تھا جو کہ تاریخ کا سب سے بڑا بجلی کا بحران سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کی تاریخ ایک جیسی نہیں ہے لیکن پھر بھی دونوں ممالک کی عوام بجلی سمیت اور بھی ضروری اشیاء نہ مہیّا کرنے میں حکومتی نا اہلی برداشت کر رہے ہیں۔

مشترک ومنسلک تاریخ
اگرچہ میں آجکل امریکہ میں رہتی ہوں مگر پاکستان کے تجربات کا موازنہ بھارت سے کرتی رہی۔ پاکستانی فوج کی بے پناہ طاقت اوردولت کا پہلے بھارتی فوج اور پھر ترکی اور مصّر کی افواج سے موازنہ کرتی رہی۔ ایچیسن کالج دیکھ کر مجھے مایو کالج اجمیر کا خیال آیا۔ داتا دربار کر دیکھ کر مجھے دہلی میں نظام الدین اولیا کی درگاہ میں گزاری ایک شام یاد آئی۔ لاہور کے گردونواح میں کھیتوں نے مجھے بھارت کے کھیتوں کی یاد دلائی۔ لاہور لکھنئو اور دہلی کے درمیانی علاقوں جیسا لگا۔ یہاں کی سڑکیں دہلی اور ممبئی کے مقابلے میں خاموش اور کچھ خالی لگیں۔ بھارتی شہروں کی غربت کو ذہن میں رکھتے ہوئے میں نے لاہور کی غربت پر غور کیا۔ میں دہلی یا لکھنئو کے بارے میں سوچتے ہوئے لاہور کو ذہن میں لا رہی تھی۔ دونوں ملکوں کا موازنہ واضح تھا۔

لکھنئو اور لاہور میرے ذہن میں ایک اور وجہ سے بھی جوڑے ہوئے ہیں کیونکہ پاکستان آنے سے پہلے میں ایک دوست کے ساتھ پہلی بار لکھنئو گئی۔ لکھنئو کے آصف الدین دولہ سے لکھنئو کے نواب باڑہ امام باڑہ (اس کی تعمیر 1784ء میں شروع ہوئی) کے ساتھ بھول بھولییوں سے لے کر کلاڈ مارٹن کے لا مارٹینرے کالج (جو کہ 1845ء میں تعمیر ہوا) اور مایاوتی کے وسیع پارک تک کا طرزِ تعمیر دیکھ کر میں بہت خوش ہوئی۔ یہ کہا جاتا ہے کہ باڑہ امام باڑہ کمپلیکس کا طرزِتعمیر لاہور کی بادشاہی مسجد جیسا ہے جو کہ اورنگزیب نے73-1671 میں تعمیر کروائی تھی۔ لونلی پلینٹ گائیڈ بک میں لکھنئو کے مختلف مشہور مقامات میں حضرت گنج میں موجود کتابوں کی دکان رام اڈوانی بک سینٹر کا ذکر بھی تھا بلکہ اس کے مالک کو ملنے کا مشورہ بھی۔ اس بات پر میری سوئی اٹک گئی اور لکھنئو کے تاریخی مقامات دیکھنے کے بعد میری فہرست میں یہ سب کام سے اوپر تھا۔

رام اڈوانی کی تیز دماغی دیکھ کریقین کرنا مشکل تھا کہ وہ نوے سال سےزیادہ عمر کے ہیں۔ لونلی پلینٹ کی وضاحت کے باوجود میں انکے ساتھ تقریباۤ ایک گھنٹہ گزارنے کے قابل نہیں تھی، وہ اس قدر حاضر جواب تھے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے بتایا کی وہ راولپنڈی میں پلے بڑھے اور اسی شہر میں وہ مانی خاندان کے پڑوسی تھے جو اڈوانی کی طرح ایک سندھی خاندان تھا اور جو 63 سال سے مشہور مانے بک سٹور کے مالک ہیں جو کہ پونے میں ہے- انہوں نے ہی مجھے مانے سٹور کے بند ہونے کی خبر سنائی۔ اڈوانی صاحب سے بات کرنے کے بعد میں ایک دوست سےملی جو مانی خاندان میں بیاہی گئی تھی اور اس سے اس خاندان کے راولپنڈی سے تعلق کے بارے میں پوچھا۔ تو معلوم پڑا کہ پونے کے سب سے بڑے کتاب گھر کی تاریخ 1928ء سے شروع ہوتی ہے جب میری دوست کے سسر نے راولپنڈی میں لندن بک کمپنی شروع کی تھی۔ 1939ء تک ان کی 11 شاخیں راولپنڈی سے پشاور تک کھل چکی تھیں۔ تقسیم کے بعد وہ دہلی یا ممبئی میں کتب خانے کے لئے پیسے جمع نہیں کر سکے اس لئے انہوں نے پُونے میں مانے کتب خانہ بنایا۔ میری دوست اور میں نے اڈوانی صاحب سے ان کے لکھنئو میں آباد ہونے کا پوچھا تو انہوں نے تقسیم کے بعد اپنے سفر کاقصہ بتایا۔ اپنے کتاب خانے کا بتایا جو ان کو لاہور چھوڑنے سے پہلے بہت کم قیمت میں بیچنا پڑا۔ اگرچہ وہ بہت کچھ پیچھے چھوڑ آئے تھے مگر اڈوانی صاحب لکھنئو میں اپنے اچھے وقتوں کا ذکر کرتےرہے۔ ان کے کتاب خانے میں اچھی کتابیں دستیاب تھیں تو میرا دل چاہا کہ انکے شہر میں کچھ دن مزید رک جاوں۔ اڈوانی صاحب سے ملاقات کی بدولت میں نہ صرف لکھنئو کے ماضی بلکہ اس کے حال کے بارے میں بھی متجسس ہوئی۔

لاہور میں زیادہ وقت بادشاہی مسجد، لاہوری قلعہ، جہانگیر اور نور جہاں کے مقبرے جیسی شاندار تاریخی جگہوں کو دیکھنے میں لگا۔ لاہور میوزیم میں گھومتے مجھے رڈیارڈ کپلنگ کا ناول کِم یاد آیا۔ تاریخی جگہیں دیکھنے کے علاوہ میں مال روڈ پر مشہور کتب خانہ فیروز سنز دیکھنا چاہتی تھی۔ اڈوانی صاحب اس سٹور کے مالک رہے تھے۔ یہ کتب خانہ کافی نمایاں جگہ پر تھا۔ یہاں پر صیح وقت پر جانے کے لیے مجھے کافی دن انتظار کرنا پڑا۔ جیسے مانے کتب خانہ پُونےکی ایک چھاؤنی میں مین اسٹریٹ پر واقع تھا، رام اڈوانی کی دکان لکھنؤ کے اہم شاپنگ کے علاقے حضرت گنج میں واقع تھی اسی طرح فیروز سنز بھی مال روڈ پر اہم جگہ پر واقع تھی۔ یہ تمام وہ علاقے ہیں جہاں ایک دور میں ہمارے سابق نو آبادیاتی حکمران رہتے تھے۔ شاید اسی لیے مجھے لکھنؤ کی اڈوانی اور لاہور کی فیروز سنز میں مشاہبت لگی۔ اڈوانی صاحب کے کتب خانے کی نسبت فیروز سنز اونچی چھتوں والی ایک بڑی عمارت تھی۔ ان کے لیے اپنی پرانی دکان چھوڑنا کافی مشکل رہا ہو گا۔

تقسیم میں مانی اور اڈوانی جیسے خاندانوں کو بہت نقصان اٹھانا پڑا۔ لیکن لکھنؤ سے لاہور تک کے سفر نے مجھے یہ احساس دلایا کہ یہ واحد داستان نہیں۔ تقسیم کے کچھ مثبت اثرات بھی تھے۔ رام اڈوانی اور مانی خاندان نے لکھنؤ اور پُونے کی ثقافت میں بہت کارگر تبدیلیاں پیدا کیں۔ پُونے کے لوگ مانے کتب خانے کے بند ہونے پر کافی اداس تھے۔ اس سفر سے مجھے یہ احساس ہوا کہ پاکستان اور بھارت میں ایسی کئی دکانیں اور ہوں گی اور تقسیم کے اور قصے بھی ہوں گے جن کو تاریخ یہاں سفر سے ملتی ہے۔ یہ تاریخ ہمیں جس غیر متوقع انداز ایک دوسرے سے جوڑتی ہے اور اسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

پنجابی سنگیت

لاہور میں ملنے والے بہت سے اہم لوگوں میں سے ایک آدمی ملا جو سالوں سے لوگوں کو اکٹھا کر کے ان کو پنجابی کی مختف تحریریں پڑھاتا ہے۔ لاہور کے رہنے والے بہت سے لوگ انہیں جانتے ہوں گے۔ میں یہاں غضب صاحب کہہ کر ان کا حوالہ دوں گی۔ میری یاداشت کے مطابق وہ ایک ستر سال کے ریٹائرڈ سول سرونٹ ہیں۔ مجھے ان سے بات کرنے کا موقع نہیں ملا میں انہیں بس میرے دوستوں سے باتیں کرتے ہوئے دیکھتی رہی۔ وہ انتہائی ذہین، نرم گو اور صاحبِ فکر انسان تھے۔ میں ان کو ایک استاد کی شکل میں دیکھ رہی تھی۔ ان کی محفل میں بیٹھنے سے مجھے ایک بہتر انسان بننے کی خواہش ہوئی۔ لوگ ان کی عزت کیوں کرتے تھے یہ سمجھنا بہت آسان تھا۔ مجھے وہاں وقت گزارنے سے زبان کے مطالعے کی اہمیت کا اندازہ ہوا۔

ایک دن غضب صاحب کے پنجابی گروپ میں شامل دو بہنیں نے ہمیں لاہور کے نواحی علاقے میں موجود گوردوارہ دکھانے کی پیشکش کی۔ لاہور میں سکھ بھی موجود ہیں اور ان کی اہم عبادت گاہیں بھی۔ لیکن ہندوؤں کی موجودگی نا ہونے کے برابر ہے ۔ لاہور قلعہ میں ہمارے گائیڈ نے ہمیں بتایا کہ 1992ء میں آیودھیا میں ہندو انتہا پسندوں کے بابری مسجد کو تباہ کرنے کے جواب میں پاکستان میں کئی مندر تباہ کئے گئے تھے۔

تاریخی طور پر ہندو میدانِ جنگ میں بھی دشمنی کے قابل نہیں لگتے۔ لاہور کی کئی تاریخی جگہوں کی سرکاری تاریخ میں سکھوں کی طرف سے تباہی کا ذکر دیکھ کر یہ سمجھ نہیں آتا کہ کس پر یقین کیا جائے۔ ہم نے مہارجہ رنجیت سنگھ (1839-1780) جس نے 1799ء میں لاہور پر قبضہ کر کے اسے سکھ سلطنت بنایا اور گردوارے کے گورو ارجن دیوّ( 1606- 1563)، گیارہ سکھ گوروں میں سے پانچویں کی سمادھی بھی دیکھی۔ اندر داخلے پر مجھ سے میرے ہندو ہونے کا ثبوت مانگا تو میں نے اپنا پاسپورٹ دکھایا لیکن یہ میرے لیے کافی حیران کن تھا کی مسلمانوں کو سمادھی کی بے ادبی کی وجہ سے یہاں آنے کی اجازت نہیں تھی۔ مجھے جان کر افسوس ہوا کہ پاکستانیوں کی مذہبی شناخت ان کے شناختی کارڈ پردرج تھی۔ میں نے ٹکٹ آفس کو اپنے نام سے اپنے ہندو ہونے کا یقین دلایا۔

بھارت میں گوردوارہ ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے مگر پاکستان میں میرے لیے یہ تجربہ انوکھا تھا ۔ پہلے یہ جان کر افسوس ہوا کہ یہاں پر سکھوں رہتے نہیں۔ ایک خاندان سال کے مخصوص اوقات میں یہاں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ ہم گوردوارے کے ہال میں بیٹھ گئے۔ میں گاؤں کی زندگی کا سوچ رہی تھی۔ گفتگو کے دوران ایک بہن ہارمونیم کے پاس گئی اور بجانے کے لئے اجازت مانگی۔ وہ ایک مسلمان لڑکی تھی مگر اس نے سکھ گورونانک کے پنجابی گانے گائے۔ اس آواز نے پورے ماحول کو سحرزدہ کر دیا۔ یہ تمام غضب صاحب کی محنت کا نتیجہ تھا جو پنجابی میں لکھی گئی دوسرے مذاہب کی تحریریں بھی پڑھتے اور سمجھتے رہے۔ ان گانوں سے ملنے والے سحرزدہ، اخلاقی اور ناقابلِ بیان تحفے کو میں اپنے ساتھ بھارت لے آئی۔ امرتسر واپس پہنچنے پر ہمارے گروپ کے ارکان جو کہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے تھے، سب گولڈن ٹیمپل گئے اور لاہور میں گزارے جانے والے یادگار لمحات کے لئے شکریہ ادا کیا۔

محبت اور غم زدگی:

واپس آنے کے بعد میں مشہور آرٹسٹ، مجسمہ ساز اور ماہر فنِ معماری ستیش گجرال سے ملی جو میرے اس سفر کا سن کر بہت خوش ہوئے۔ وہ تقسیم کے موضوع پر بنائی جانے والی تصاویر کے لیے مشہور ہیں۔ لاہور دیکھتے ہوئے وہ مجھے یاد رہے کیونکہ انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ 1980ء میں جب وہ لاہور آئے تھے تو انہیں دل کا دورہ پڑا تھا۔ ان کے لئے یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا یہ دورہ کمزور صحت کی وجہ سے تھا یا لاہور سے اپنی محبت کی وجہ سے۔ ستیش انکل کو لاہور اور پنجاب سے بہت محبت تھی۔ میرے انکل کی میرے لئے ویزے کی کوشش، میرے والدین کی مجھے پاکستان بھیجنے کی چاہ ان کی اپنی زمین سے محبت کا اظہار ہے۔

میرے دادا اور دیگر رشتہ دار دہلی میں مہاجر کے طور پر رہے۔ سب پنجابی میں اپنی کھوئی ہوئی زمین کی بات کرنے تھے جس پر اس وقت میں نے کبھی توجہ نہیں دی تھی۔ کونونٹ میں پڑھی اور جنوبی دہلی مجھے گھر جیسا لگنے کے باوجود مجھے معلوم تھا کہ بہت لوگوں نے تقسیم میں اپنا سب کچھ کھو دیا۔ لیکن پھر بھی ہمارے بڑوں نے اپنا دکھ اور محرومی ہم میں منتقل نہیں کی، اور ہمارے لئے یہ سوچنا آسان تھا کہ وہ غم زدہ نہیں ہیں۔ میرے دادا اور چاچا دونوں فوت ہو چکے ہیں اور ان کے ساتھ ہی گھر میں کبھی کبھار نظر آنے والی اردو اخبار بھی آنا بند ہو گئی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میرے والد اردو رسم الخط میں ہاتھ سے لکھی ہوئی شاعری پڑھتے تھے۔ سرحد کے دونوں اطرف رہنے والی پرانی نسلیں جیسے جیسے ختم ہو رہی ہیں، میں امید کرتی ہوں کہ ہم اپنے آباؤاجداد کی اصل جڑوں کو نا بھولیں کہ وہ پنجاب، سندھ یا آج کے پاکستان کے کسی اور علاقے سے تھے۔ یا پھر آج کے بھارت کے اترپردیش، پنجاب یا کسی اور علاقے سے تھے۔ میری ایک دوست کی ساس جو کہ کنئیرڈ کالج لاہور سے پڑھی تھیں اپنی بیٹی اور نواسی کو پاکستان لے کر گئیں تاکہ ان کی آئیندہ نسلوں کو پتہ ہو کہ ان کی پرانی نسلیں کہاں سے ہیں۔ وہ لوگ جو سرحد پار نہیں جا سکتے انہیں چاہئیے کہ وہ اپنی سوچ میں اس سفر کو رکھیں اور اس کو محسوس کریں اور اس کے بارے میں لکھیں۔

پریتی چوپڑا وسکونسن یونیورسٹی، میڈیسن میں فنِ تعمیر، شہری تاریخ اور بصری مطالعہ کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ ان کی تحقیق کا مرکز جنوبی ایشیاء کے فنِ تعمیر، شہروں اور مغربی و شمالی بھارت کے نوآبادیاتی نظام کے دوران اور بعد کا نو آبادیاتی دور ہے۔ وہ اے جوائینٹ انٹرپرائز: انڈین ایلیٹ اینڈ دی میکنگ آگ برٹش بومبئے(2011) کی مصنفہ ہیں۔

انعم ناز نے قائدِاعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے ایم اے سیاسیات کیا ہے۔ انہیں بلوچستان میں بغاوت، پاک ایران گیس پائپ لائن، اور پاکستان میں قومیتی تضادات پر تحقیق کرنے میں دلچسپی ہے۔

 

Tags: , , , , , , ,

2 Responses to

تم کہاں سے ہو؟ بٹوارے کے بعد وابستگی

  1. […] کرفضاومکان کو تقسیم کر کے طے کیا جاتا ہے کہ ہمارا “گھر” کہاں […]

  2. […] اردو | Issue V […]

Leave a Reply

Your email address will not be published.