نادیدہ حاشیوں کے پار

۵ شمارہ

فضّہ سجاد |مترجم: تنقید

Artist: Ayesha Malik | "Kid on bricks."
“فوٹوگرافر: عائشہ ملک | “اینٹوں پر کھڑا بچہ

’’پروین رحمان کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔‘‘

میں کلاس میں بیٹھی لیکچر سن رہی تھی کہ مجھے ایس ایم ایس کے ذریعے یہ خبر ملی۔ میرے ہاتھ پیر کانپنے لگے اور دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ میں نے فوراَ کمپیوٹر پر نیوز ویب سائیٹیں چھاننا شروع کر دیں کہ شاید یہ افواہ ہو لیکن جلد ہی اس شہ سرخی پر نظر پڑی:

” تیرہ مارچ کی شب اورنگی پائیلٹ پراجیکٹ کی ڈائریکٹر پروین رحمان کو کراچی میں ان کے دفتر سے صرف آدھا کلومیٹر کے فاصلے پر، منگھوپیر روڈ کے قریب گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔”

آجکل کسی کے مرنے کی خبرملنا کوئی انوکھی بات نہیں لیکن اس موت کا سن کر دل کو جو دھچکا لگا وہ مختلف نوعیت کا تھا۔

***

ٹیکسی کراچی کی کشادہ سڑکوں پردوڑتی ہوئی اپنی منزل کی جانب گامزن ہے۔ باہر کا منظر اتنی ہی تیزی سے تبدیل ہورہا ہے۔ ڈیزائنر کپڑوں کی دکانیں، فینسی ریسٹورانٹ، اور بڑے بڑے اشتہاری بورڈ کم ہوتے جارہے ہیں اور ان کی جگہ تنگ گلیوں، بوسیدہ پلازوں، اور بھیڑبھرے بازاروں نے لے لی ہے۔

میری منزل اورنگی ٹاؤن ہے جو کراچی کے شمال مغرب میں واقع محنت کش طبقات کا رہائشی علاقہ ہے۔ یہاں بے شمار رجسٹرڈ کچی بستیاں موجود ہیں جن میں مہاجر، پختون، بلوچ، سندھی، اور دیگر کئی قومیتوں سے تعلق رکھنے والے قریباَ پندرہ لاکھ پاکستانی بستے ہیں ۔ کراچی کے دوسرے علاقوں کے لوگ اورنگی ٹاؤن کو ’’ریڈ زون‘‘ قرار دیتے ہیں۔ یہاں کے مکینوں کو قومیتی و نسلی تفریق اور قبضہ گروپوں اوربھتہ خوروں کے راج کی وجہ سے روز تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور آئے دن کوئی نہ کوئی لاش ملتی رہتی ہے۔

کراچی کے محفوظ علاقوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اورنگی ٹاؤن کے قریب پہنچی تو ساتھیوں اور دوستوں کی آوازیں ذہن میں گونجنے لگیں۔ سب کہتے تھے کہ ان علاقوں میں اجنبیوں کا جانا خطرناک ہے، خاص طور پراکیلی خواتین کے لئے خطرہ اور بھی زیادہ ہے۔ ان کی تنبیہوں اور نصیحتوں کی وجہ تو سمجھ آتی ہے۔ مگران محنت کش خواتین کا کیا جو ہرروز پبلک ٹرانسپورٹ پر یہاں سے آتی جاتی ہیں، باوجود اسکے کہ انہیں ہراساں کیا جاتا ہے اور تشدد کا خوف بھی لگارہتا ہے۔

شاندار محلات سے نادارگلیوں تک کا سفر، شہر کے مکینوں کی تقسیم جو بدلتے ہوئے جغرافیے میں نمایاں ہے، اس سے مجھے ماہرِسیاسیات مورے اڈلمین کی بات یاد آگئی۔ اڈلمین کہتے ہیں کہ کسی بھی رہائشی علاقے کی شکل و ہیبت وہاں کے مکینوں اور غیر مکینوں کو مستقل اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ ریاست اور دوسرے شہریوں کی نزدیک ان کی قدروحیثیت کیا ہے۔ قدرو حیثیت کے احساس کی اہمیت سے میں بخوبی واقف ہوں کیونکہ میں لاہور کے پسماندہ تصور کیے جانے والے علاقے میں پلی بڑھی ہوں۔ اپنی قدر یا ذلت کا احساس تب ہوتا ہے جب آپ ان علاقوں کے مکین ہوں جہاں میونسپل سرویس مہیا نہیں اور جہاں سے بالادست طبقات کوگزرنا تک گوارا نہیں۔ کراچی کے بوسیدہ رہائشی پلازے دیکھ کر تو لگتا ہے کہ شہر کے کچھ حصوں کو تیزی سے جنٹریفائی کیا جا رہا ہے اورمحنت کش طبقات کو رفتہ رفتہ شہر کے مضافات کی طرف دکھیلا جا رہا ہے۔

کراچی کے مکین، بلکہ ہم سب اپنے شہروں کو اپنے طبقے اور جنس کی عینک لگا کر دیکھتے اور جانچتے ہیں۔ رہائش کی جگہ، آنے جانے کی ٹرانسپورٹ، سکول اور کالج، اور وہ نادیدہ سرحدیں جو ہمیں تقسیم کیے ہوئی ہیں، ان سب چیزوں کا طبقے اور جنس سے براہِ راست تعلق ہے۔ کراچی کی حقیقی اور تصوّراتی تقسیم نوآبادیاتی دور کی دین ہے۔ اس وقت کے مکینوں نے اپنی سماجی حیثیت کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں بسیرا کیا۔ تاجر اور ہنرمند طبقات پرانے مرکزی شہر میں بس گئے، مزدور اور غریب طبقے شہر کے مغربی حصے کے پسماندہ علاقوں میں ، اور انگریزوں نے اپنے لئے مشرقی حصہ میں صاف اور کشادہ جگہیں منتخب کیں، وہاں  درختوں کی قطاریں لگا ئی گئیں اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے ایک فعال نظام بھی مرتب کیا گیا۔

بٹوارے کے بعد جب 1947 میں برطانوی راج ختم ہوا تو انگریزوں کی رہائشگاہوں پر پاکستانی اشرافیہ نے قبضہ جما لیا۔ بٹوارے کے بعد بھارت کے علاقوں سے مسلمانوں کی بڑی تعداد نے پاکستان ہجرت کی۔ کراچی میں صنعت اور ملازمت کے مواقع زیادہ تھے اس لئے پورے ملک سے لوگوں نے یہاں نقل مکانی کی۔ بٹوارے کے وقت ۵ لاکھ کا کراچی آج آبادی میں اسیاتی اضافے کے باعث دو کروڑ نفوس کا شہر بن چکا ہے۔ اس وجہ سے رہائش کا مسئلہ شدت سے ابھرا۔ طلبِ رہائش کو پورا کرنے کے لئے کچی آبادیاں اور گنجان آباد علاقوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ امیر طبقات اور اشرافیہ نے باہم شہر کے ترقی یافتہ اور شاندار علاقوں میں جمع ہونا شروع کردیا۔ اس سے شہر کی شاندار اور نادار میں تقسیم مزید بڑھ گئی، البتہ امیروں کے محلات کے درمیان چھپی غریبوں کی جھونپڑیاں کبھی کبھار نظر آجاتی ہیں۔

جب ستّر کی دہائی میں مساکینِ شہر کو مضافات کی طرف دکھیلنے کی ناکام کوشش کی گئی تو اس کے بعد حکومت نے کچی آبادیوں کو قانونی درجہ دینے اور انہیں بہتر بنانے کی پالیسی اختیار کی ۔ وقت کے ساتھ کئی کچی آبادیوں کو قانونی قرار دیا گیا مگر ان میں سے بیشترکی بہتری کے لئے کوئی کام نہ ہوا۔ اس کے برعکس حکومت نے امراء کے رہائشی علاقوں کی بہتری کے لئے بہت پیسہ خرچ کیا۔ اس طرح شہر میں موجود تقسیمی اور نادیدہ سرحدیں اور بھی پختہ ہو گئیں۔

کراچی کی تاریخ یہاں پر ہونے والے قومیتی اور فرقہ وارانہ تشدد سے جڑی ہے اور ساتھ ہی افغان جنگ کے نتیجے میں ہونے والی منشیات کی خرید وفروخت سے بھی۔ سمگلنگ، بھتہ خوری، اور گینگ وار نے شہر کی اشرافیہ کو مزید بہانے فراہم کیے کہ وہ عام آدمی سے اپنی دوری بڑھائیں۔ معروف دانشور اور سیاسی کارکن عارف حسن نے کراچی کے بارے میں تحقیق کرکے یہ بیان دیا کہ پاکستان کے دوسرے فوجی آمر جنرل ضیاء کے دورِ حکومت میں شہر کی مادی تقسیم اور تفریق بہت بڑھ گئی۔ اسلام کے نام پر ضیاء نے جو پالیسیاں اور قوانین مرتب کیے اس کی وجہ سے شہر کی اشرافیہ نے حواس باختہ ہو کر اپنے بچوں کو پبلک سکولوں سے نکال لیا اور خود کو پبلک زندگی سے دور کر لیا۔

***

زیارتِ کراچی کے تمام مراحل مکمل نہ ہونے کے باوجود اب تک اس شہر نے مجھ پر گہرا تاثر چھوڑا ہے۔ اس جدید اور وسیع میٹروپولیٹن شہر کی رونقوں میں ارتعاش و خوف کی بو رچی ہوئی ہے۔ بچپن میں اکثر میں اپنے گھر والوں کے ساتھ کراچی آتی جاتی تھی اور یہاں خوب وقت گزرتا تھا۔ لیکن اس وقت میں شہر کے خوشحال علاقوں جیسے کہ کلفٹن اور ڈیفنس تک محدود تھی۔ یہ اشرافیہ کی رہائش کے علاقےہیں جہاں سے باہر قدم رکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی تھی کیونکہ ہر شے یہاں ملتی تھی اور ما سوائے چند رشتہ داروں کے ہر جاننے والا بھی انہیں علاقوں میں رہائش پذیر تھا۔

جب میں اورنگی ٹاؤن میں داخل ہوئی تو ایسا لگا کہ کسی دوسرے شہر میں پہنچ گئی ہوں۔ تنگ کوارٹر، کوڑے کے ڈھیر، چند ہی خواتین کا نظر آنا، رش بھری سڑکیں، اور نادار چہرے جن کو اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا ہو۔ یہ سب کراچی کے پوش کمرشل اور رہائشی علاقوں سے بہت مختلف نظر آیا ۔ یوں لگا کہ اورنگی ٹاؤن کی عمارتوں اور جسموں پر نقش عدم مساوت ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے تمام شہرِ میں منادی کر رہی ہے لیکن کوئی سننے والا نہیں۔

میں اورنگی پائیلٹ پراجیکٹ (او پی پی )ادارہ برائے تحقیق و تدریس کی ڈائریکٹر پروین رحمان سے ملنے جا رہی ہوں۔ او پی پی ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے جو اورنگی ٹاؤن کے پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کے لئے کام کرتی ہے۔ اس کی بنیاد 1980 میں اختر حمید خان نے رکھی۔ او پی پی مقامی لوگوں کے تعاون سے کم قیمت کی رہائش ،گندے پانی کی نکاسی، صحت اور تعلیم کی سہولیات، اور چھوٹے کاروبار کے لئے قرضوں کی فراہمی کا کام کرتی ہے۔ او پی پی کی ٹیم تکنیکی مدد اور سماجی رہنمائی کرتی ہے، کمیونٹی کے نوجوانوں کو تربیت دیتی  ہے اور ریاست پر دباؤ ڈالتی ہے کہ وہ کچی آبادیوں کو رجسٹر کرنے اور بہتر بنانے کی پالیسیوں پر عمل کرے۔ او پی پی نے اورنگی میں اپنی مدد آپ کے تحت  سات ہزار نالیوں پر مشتمل نکاسی کا نظام ترتیب دیا ہے۔ اس پراجیکٹ کا خاصہ یہ ہےکہ نکاسی کےنظام سے فائدہ اٹھانے والے لوگ اس کی تعمیر کے تمام مراحل میں شامل تھے۔ او پی پی کے انہی اصولوں کو پنجاب اور سندھ کے دیگر علاقوں کے علاوہ پوری دنیا میں اپنایا گیا ہے۔

پروین رحمان کا نام میں نے پہلی مرتبہ لاہور کے قریب کالاشاہ کاکو میں کم آمدن رہائشی منصوبے، خدا کی بستی4، میں سنا۔ ایک مقامی این جی او نے پروین رحمان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے ان کے نام کا ایک باغ بنایا۔ میرے ساتھ کام کرنے والوں میں سے بھی ایک ان کا پرستار نکلا جو بضد تھا کہ میں کراچی کے اس دورے پر پروین رحمان سے ضرور ملوں۔

جب میں اوپی پی کے دفتر میں داخل ہوئی تو وہ بڑی خوش دلی سے مجھ سے ملیں اور آنے کی وجہ دریافت کی۔ میں نے بتایا کہ میں معقول قیمت کے رہائشی منصوبوں میں کمیونٹی کی شرکت کے بارے میں سیکھنے آئی ہوں۔ وہ بڑے انہماک سے میری بات سنتی رہیں اور کاغذ کے ٹکڑے پر میرے جواب لکھتی رہیں۔ ہم نے دیر تک کمیونٹی کی شرکت اور تنظیم سازی کے طریقہ کے بارے میں بات کی۔

’’سب سے ضروری یہ ہے کہ ہمیں اس بات کا احساس ہو کہ ہم لوگوں سے زیادہ نہیں جانتے،‘‘انہوں نے زور دے کر کہا، ’’بلکہ ان سے بہت کچھ سیکھنا پڑتا ہے۔‘‘

میں نے پوچھا کہ وہ اپنے کام کو کس طرح سے لے کر چلتی ہیں تو ان کے جواب نے مجھے پشیمان کر دیا:

’’ہم چیزوں کو غیر رسمی طور پر لے کر چلتے ہیں اور تمہیں بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔ او پی پی میں ہمارا کام عمل سے جڑا ہوا ہے۔ کوئی طے شدہ فارمولہ نہیں۔ لوگوں کی اپنی رفتار ،اپنی تال ہوتی ہے۔ ان کی سوچ اور ان کے خوابوں کو کسی فارمولے کے تحت زبردستی نہیں ڈھالا جا سکتا۔‘‘

طالبِ علمی کے دور میں پروین رحمان کو یونیورسٹی میں پڑھائے جانے والے اصولِ نظریات کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نظر نہیں آیا۔ ڈان اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایک معروف معمارسازی تنظیم میں ایک مہینہ کام کرنے کے بعد و ہ وہاں سے فرار ہو گئیں کیونکہ وہ امراء اور اشرافیہ کے لئے کام نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ تلاشِ منزل کی جستجوانہیں بالاخر او پی پی لے آئی اور وہ یہاں پچھلے تیس برسوں سے کام کر رہی ہیں۔

وہ مجھے اپنے دفتر کے دوسرے کمروں میں لے گئیں جہاں دیواروں پر مختلف قسم و حجم کے نقشے چسپاں تھے۔ کراچی کے نقشے، گندگی کی نکاسی کے نقشے، نکاسیء آب کے نقشے، پینے کے پانی کی سپلائی کے نقشے۔ انہی نقشوں نے حکومت کو مجبورکر دیا تھا کہ وہ اوپی پی کے کام کی اہمیت کا اعتراف کرے، اورنگی کے مکینوں کو گندگی کی نکاسی کا بنیادی ڈھانچہ بنا کر دے اوریہ جان کر کہ کراچی کے مختلف علاقوں میں بنیادی انفراسٹرکچر پہلے سے موجود ہے اسے بنانے کے لئے فالتوبیرونی قرضے لینے کا ارادہ ترک کر دے۔ گذشتہ کچھ برسوں میں پروین رحمان کی راہنمائی میں اوپی پی نے کراچی کے مضافاتی دیہی علاقوں میں موجود ان بستیوں کی نقشہ سازی کی جو تیزی سے شہری رنگ میں ڈھل رہی ہیں۔ اس دوران انہوں نے نوجوانوں کو اس کام کی ٹریننگ بھی دی۔ ان مضافاتی دیہی علاقوں کی نقشہ سازی کے نتیجے میں حکومت نے کراچی شہر کی بیرونی سرحدوں کو دوبارہ سے ترتیب دیا ۔ یہ پتہ چلا کہ حکومتی دعووں کے مطابق ان بستیوں کی تعدادچار سو نہیں بلکہ اس سے پانچ گنا زیادہ ہے۔ حکومت کو ان میں سے پچاس فیصد سے زائد بستیوں کو مالکانہ حقوق دینے پڑے۔

پروین رحمان کے ذاتی فلسفہء حیات اور علاقے کے لوگوں کے ساتھ کام کرنے کے طریقے نے مجھے بہت متاثر کیا۔ ان کا انداز بنیادی سطح پر اُن این جی او کارکنان سے بہت مختلف ہے جو کچی آبادیوں اور کم آمدن رہائشی علاقوں میں قدم تو رکھتے ہیں مگر طبقے اور جنس کی بنیادوں پر تشکیل کردہ دیدہ و نادیدہ حاشیوں اور سرحدوں کو پار نہیں کر پاتے۔ پروین رحمان کا لباس سادہ ہے اور وہ مجھے بتلاتی ہیں کہ او پی پی کے دیگر ملازمین اور وہ خود سمجھتی ہیں کہ ان کی ذاتی ضروریات محدود ہیں اور وہ کم تنخواہ میں گزارا کرنے پر مطمئن ہیں۔ پروین کا سلیقہ اور اندازِ بیان ان کی انکساری، پیشہ وارانہ سنجیدگی، اور عزائم کی عکاسی کرتا ہے۔ کام کے حوالے سے ان کی نصیحتیں  انہیں ذاتی صفات سے جڑی ہوئی ہیں:  نگاہ با احترام، مشاہدہ با دانش، طلب باانکسار، خواندن با حیاء اور تدریس با نمرتا۔

پروین رحمان کی ذات او پی پی کے اس فلسفہ کی جیتی جاگتی مثال ہے جس میں کام کرنے کے طریقے اور ذاتی رہن سہن کو کمیونٹی سے مطابقت دی جانی چاہیے تاکہ مکینوں کے ساتھ ایک لمبے عرصے کے لیے کام کیا جا سکے۔ لوگوں کو خیرات دینے والا ادارہ بننے کے بجائے ان کی کمیونٹی کا حصہ بن کر اور برابر کا شریک بن کر کام کیا جائے تاکہ ایک ایسی کھلی فضا تشکیل دی جا سکے جس میں ہر قومیت، طبقہ اور رنگ کے لوگ حصہ لے سکیں۔

***

پروین رحمان سے ملاقات نے میرے اس مشاہدے کی توثیق کی کہ ہم تقسیم شدہ زندگیاں گزارتے ہیں اور ان سرحدوں کو پار کرنا بہت ضروری ہے۔ پروین رحمان کے طبقہ سے تعلق رکھنے والی عورت ہونے کے ناطے میں یہ دیکھ سکتی ہوں کہ پروین ان نادیدہ حاشیوں کو پار کرنے میں کامیاب رہیں۔ اس منافقت بھرے سماج میں پروین قول و فعل میں مطابقت رکھنے والی ایک مثال ہیں۔

اس ملاقات کے تین سال بعد ان کے قتل کا سن کر یوں لگا جیسے کسی نے عزم، ایمان، اور حوصلے کو کچل دیا ہو۔ اگر ان جیسے لوگوں کے ساتھ یہ ہوتا ہے تو کیا ہمیں ان جیسا کام کرنے کی کوشش بھی کرنی چاہیے؟ لیکن مجھے ان کا حوصلہ یاد آیا، وہ بار بار کہتی تھیں کہ خوف میں زندگی بسر کرنا ممکن نہیں۔ مختلف گروہوں سے ملنے والی دھمکیوں کے بارے میں پروین کہتی تھیں:

’’ اگرآپ ان دھمکیوں سے ڈر گئے تو قصہ تمام۔ ہم لوگ تو کئی سالوں سے یہ کام کرتے آئے ہیں۔ دھمکی دینے والوں کو کہتے ہیں کہ تم زیادہ سے زیادہ ہماری جان لے سکتے ہو، اس کے علاوہ اور کیا کر سکتے ہو؟ مارنا ہے تو مار دو۔ ہم ڈرنے والے نہیں۔‘‘

ان کے قتل کے دو مہینے بعد ان کے ساتھی اور برائٹ ایجوکیشنل سوسائٹی کے سربراہ عبدالوحید،  جو لڑکے لڑکیوں کا ایک سکول چلاتے تھے اور پروین رحمان کے قتل کے خلاف مزاحمتی آواز بھی بلند کیے ہوئے تھے، کو بھی گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

ہمیں چاہیے تھا کہ ان دونوں اور ان کی طرح کے دوسرے لوگوں کو تحفظ دیتے، ان کے کام میں معاونت کرتے، اور ان کے قتل کی تفتیش کرتے۔ ان کی جدوجہد کو دیکھتے ہوئے ہمیں ایک فیصلہ کرنا ہے: کیا ہم اپنی حصار بند کالونیوں میں چھپ کر بیٹھ جائیں گے، گھروں کی دیورایں مزید اونچی کر لیں گے، پرائیویٹ گارڈز کی تعداد میں اضافہ کر لیں گے اور خود کو شہر کے چند علاقوں میں محسور کر لیں گے۔ یا کہ ہم اپنے سماج میں موجود تقسیم اور بٹوارے کے بارے میں سوچیں گے، سوال اٹھائیں گے اور اپنے ارد گرد کے فضا و مکان کو دیکھتے ہوئے اس کو بدلنے کی نیت سے اپنا کردار ادا کریں گے۔

عین ممکن ہے کہ پروین رحمان کے قاتل وہ لوگ ہوں جو ریاستی اہلکاروں اور پولیس کی سرپرستی میں زمین پر غیر قانونی قبضہ کر تے ہیں۔ اس منافع بخش کام میں سب کا حصہ ہے۔ ہمیں ان تمام باتوں کا اعتراف کرنا پڑے گا اور ان کی پیچیدگی کو سمجھنا پڑے گا۔ زمین سے متعلق سیاست، اس ڈرامے کے تمام کردار، رہائشی ضروریات، زمین کی خریدو فروخت کا نظام، اور اس سب کا تشدد اور جرائم سے تعلق،  ان سوالوں پر اب سوچنا پڑے گا۔

جیسا کہ پروین رحمان کے ایک ساتھی نے ایک انٹرویو میں کہا، کہ ہمیں اب پروین رحمان کا مشن جاری رکھنے کے لئے دگنا کام کرنا پڑے گا، تاکہ نہ صرف ہم اپنے اردگرد کی سرحدوں اور حاشیوں کو تبدیل کر سکیں بلکہ اپنی ذات کا بھی ایک نیا نقشہ کھینچیں۔

فضّہ سجاد ماسوچوسٹ انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے شعبہ علوم شہرسازی میں گریجیوٹ طالبِ علم ہیں.

Tags:

One Response to

نادیدہ حاشیوں کے پار

  1. […] تارکینِ وطن اپنا بیڑا ڈالتے ہیں۔ مختصراَ یہ کہ کل کے نوآبادیاتی شہر کوآج کے سرمایہ دارانہ نظام کی تقسیمِ فضاومکان نے دوام […]

Leave a Reply

Your email address will not be published.