شہری حدود: عسکری تمدن بغداد سے بروکلین تک

۵ شمارہ 

تحریر: جیکب ستائینر | ترجمہ: اسد فاطمی

Artist: Ayesha Malik | "Across from James the tailor"

“فوٹوگرافر: عائشہ ملک “جیمز درزی کے سامنے”

حالیہ برسوں میں مغربی ممالک نے عالمی جنوب میں ہونے والی شہری خانہ جنگی کے موضوع پرمیڈیا کوریج اور عالمانہ تجزیوں پر مشتمل ایک خطیر پیمانے پر مواد تیار کیا ہے۔ کراچی کے تناظر میں خارجہ پالیسی کے موضوع پر ہر سال بہت سے مقالات لکھے جاتے ہیں؛ الیپو ایک نیا گروزنی بن چکا ہے، اور بغداد یا موگادیشو کے اندر ہونے والی لڑائیوں کے مناظر پہلے سے کئی بارزیادہ سینما تک لائے جا چکے ہیں۔ مغربی تمثیلات اور پاپولر کلچر میں شہری خانہ جنگی کا بیان کچھ یوں ہے کہ یہ خون ریز لڑائیاں ہیں جو دور دراز ممالک میں لڑی جاتی ہیں۔ مگر مغربی ممالک میں بڑھتی ہوئی سیکیورٹی کے نظام سے جڑا ان خانہ جنگیوں کے تعلق پر کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی۔ جب مغربی ممالک کے شہر، جیسے نیویارک، لندن، مدرید اور باسٹن پرتشدد حملوں کی زد میں آتے ہیں توعام ذکروفہم میں ان سانحات کو بیرونی مداخلت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

سرحدیں صرف قومی ریاستوں کے بیرونی جغرافیے تک محدود نہیں ۔ یہ شہروں کا اندرونی معاملہ ہے۔ مثال کے طور پر امیگریشن نے داخلی اور خارجی کے تصور، اندر اور باہر کے فرق کو بڑی حد تک رد کر دیا ہے۔ تارکین وطن نوآبادیوں سرحدوں کو، جو امریکہ کے تناظر میں میکسیکو یا افغانستان ہو سکتا ہے، کھینچ کر مرکز کے درمیان لے آتےہیں۔ سکری نظریہ دان امیگریشن کو مداخلت، بلکہ حملہ قرار دے کر اسے جنگ کی ایک شکل قرار دینے لگے ہیں۔

اس نئی عسکریتی شہری وضع کا ذکرسٹیفن گراہم نے اپنی کتاب سٹیز انڈر سیج: دی نیو ملٹری اربن ازم (ورسو بکس، 2010) میں کیا ہے۔ نیوکاسل یونیورسٹی میں ‘شہر اور معاشرے’ کے پروفیسر گراہم نے اس امر پر تحقیق کی ہے کہ عسکری تمدنیت نے کس طرح ریاست کے شہری آبادیوں کی تشکیل کا تصور وضع کیا ہے: جنگ کا ایک ایسا میدان جس کی سرحدوں کو ہر وقت تارکین وطن، مقامی لوگوں اور جرائم پیشہ افراد سے محفوظ رکھنے کے لئے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔  دوسرے ممالک کی جنگوں میں مداخلت، چاہے یہ مداخلت شہروں پر بمباری کی شکل میں ہو یا طویل عرصے تک قبضے کی شکل میں، نے اپنی زمین پر عدم تحفظ کا احساس مزید بڑھا دیا ہے۔ اس طرح ریاستوں نے اپنی جنگی حکمت عملی واپس اپنے ہی ملک میں لاگو کرنا شروع کردی ہیں۔

شہری علاقوں کا عسکریتی تصور مغربی شہروں کے بڑے کاسموپولیٹن ہمسایوں کی طرف “بغداد اور غزہ جیسی بیرونی جگہوں سے انہی مستشرق معنوں میں عالمی جنوب کے غیر محفوظ شہروں کی طرف” پلٹ کر آ رہا ہے (ص 16)

سرحدیں داخلی ہوتی ہیں۔

اور شہری علاقوں کی نئے سرے سے عسکری اصطلاحوں میں پڑتال کرنے سے پتہ لگتا ہے کہ اس عسکریتی تمدنیت نے وطن کے کچھ حصوں کو داخلی سرحدوں سے باہر دکھیل کر میدانِ جنگ بنا دیا ہے، جس کی مثالیں ہیں پولیس کی بربریت، تفریق و علحدگی کی پالیسیاں اور منشیات کی جنگ۔ تفریق وعلیحدگی کی پرانی مثالوں میں آپارتھیڈ جنوبی افریقہ اور سنّی شیعہ بغداد قابل ذکر ہیں۔ گراہم کے مطابق تفریق و علیحدگی کی یہ مثالیں یورپ اور امریکہ میں بننے والی محصور رہائش گاہوں کےنوآبادیاتی سوابق ہیں۔ دیگر مثالوں میں موٹروے ٹول پلازوں کی فاسٹ لینز ہیں جہاں امیر اور مراعات یافتہ لوگ تیزی سے گزر جات ہیں یا جیسا کہ امریکہ کو سفر کرتے ہوئے مسافروں کی روانگی سے پہلے تلاشی جو دوسرے ممالک کے ائیرپورٹوں پر لی جاتی ہے۔

سرحدیں ہر جگہ موجود ہیں۔

٭٭٭

گراہم کے اس کام کی فکری بنیاد میں فرانسیسی فلسفی میشئل فُوکو کا پیش کردہ”بومارینگ اثر” کا تصور ہے۔ فوکو نے اس اثر کی وضاحت یوں کی کہ نظم و ضبط اور کنٹرول کے وہ ٓضابطے جو نوآبادیات میں استعمال ہوتے ہیں وہ پلٹ کر نوآبادکار ملک میں اس طرح استعمال کئے جاتے ہیں کہ “مغرب نوآبادیاتی نظام سے ملتا جلتا نظام، یا ایک داخلی نوآبادیاتی نظام خود پر نافذ کر سکے”۔1

گراہم کو کتاب لکھنے کی تحریک اسرائیل میں ہونے والی شہریاتی علوم کی کانفرنس میں ملی جہاں اس نے جدید شہری عسکریت کی جیتی جاگتی لیبارٹری یعنی ٓمقبوضہ غزہ کی پٹی کا دورہ کیا۔ مابعد انخلاء گراہم غزہ پٹی کے بارے میں لکھتا ہے کہ یہ ” اسرائیلی ملٹری کے قبضہ کئے بغیر شہری انضباط کی تکنیکوں، قیام امن اور انسداد شورش کے لیے ایک طرح کی نئی لیبارٹری ہے” (صفحہ 240)۔ اس لیبارٹری سے حاصل ہونے والے نتائج امریکہ کے لیے بہت قدر کے حامل ہیں۔ امریکہ کو “شہروں کی بندش” سکھانے والا ملک اسرائیل تھا۔ اس طریقے سے کسی بھی شہری علاقے کے روزمرہ زندگی رواں رکھنے کے انفراسٹرکچرسے محروم کر دیا جاتا ہے۔ امریکہ نےبغداد میں یہ طریقہ بخوبی استعمال کیا۔ بغداد میں امریکی گولہ باری کے کئی عرصہ بعد ٓبیماریوں سے کئی اموات ہوئیں مگر میڈیا نے اس پر کوئی خاص توجہ نہ دی۔

اس کتاب کا مقصد عمومی طور پر دو ممتاز مباحثوں کو ایک ساتھ شروع کرنا تھا: ایک طرف سلامتی کے علوم پر بات اور دوسری جانب شہریاتی علوم، جغرافیہ، تعمیرات، انسانیات اور ثقافتی علوم کو ایک مربوط انداز میں تنقیدی طور پر دیکھنا ۔ پاپولر میڈیا سے لی گئی مثالوں کی بنیاد پرگراہم نے جامع نتائج اخذ کیے ہیں۔ مثال کے طور پر ان کی یہ دلیل کہ شہروں کے خلاف نفرت کا رویہ دونوں طرف نظر آتا ہے۔ ایک طرف دہشت گردوں نیویارک کی ان فلک بوس عمارتوں پر حملہ کرتے ہیں جو ٓتمدن کی ایک بڑی علامت تھیں۔ دوسری طرف ٹام ڈی لے نے ریپبلکن کنونشن 2005 کی میزبانی نئے تمدنی نیویارک سے دور ایک کروز بیڑے میں کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ “شاید حیران کن انداز میں، امریکی عیسائی بنیاد پرست اور نورجعتی پسند لوگ امریکہ کے اہم شہروں کو القاعدہ کے زیر انتظام شہر سمجھتے ہیں” گراہم لکھتے ہیں۔ “گہری جڑیں رکھنے والا ضدِ تمدن امریکہ کی سیاسی اور ٹیکنالوجیکل ثقافت میں اب ایک طرح کا تمدنی آسیب بن گیا ہے”۔ (صفحہ 42)۔

شہروں کی اس آسیب زدگی نے ایک نئے انداز کی خانہ جنگی کے گھوڑے کو چابک رسد کیا ہے جو کہ ٹیکنالوجیکل نوعیت کا ہے اور بڑے پیمانے پر حراستی تکنیکوں پر محیط چھوٹے ڈرونز اور بکتر بند گاڑیوں پر مشتمل ہے۔ ریاستوں نے مغربی شہری زندگی کا حصہ بنانے کے لیے جنگی ٹیکنالوجی کو کئی طریقوں سے قابلِ استعمال رنگ میں رنگا ہے۔ دوسرے ممالک میں آزمائی گئی ٹیکنالوجی، جیسے عراق میں ہموی گاڑی، یمن اور پاکستان میں ڈرون اور فلسطین میں سرحدی حفاظتی باڑ، اب مغربی شہری زندگی میں تیزی سے اپنی جگہ بنا رہی ہے۔

گراہم نے حالیہ برسوں کے غالباَ سب سے مقبول موضوع ڈرون کے استعمال اور “روبو جنگ کے خواب” کی بخوبی وضاحت کی ہے۔ اس موضوع کےعام طور پر زیر بحث پہلو یعنی کارکردگی، فعالی اور ممیتی خصوصیات کا تجزیہ کرنے کی بجائے، گراہم نے اس نکتہ پر بات مرکوز کی ہے کہ ان آلات اور ہتھیاروں کا بڑھتا ہوا استعمال اور ان پر اعتماد نے زمینی حقائق کو کس حد تک متاثر کیا ہے۔ کسی بھی سیٹلائیٹ یا ڈرون کی آنکھ سے دیکھا ہوا منظر کبھی بھی زمین کی غیر مبہم تصویر یا نام نہاد زمینی حقائق نہیں دکھا سکتا۔ ایسی منظر نگاری حقائق کا بیان نہیں دیتی بلکہ کبھی کبھار محض وضاحت کرنے کی دعوت دیتی ہے ۔ دانشور لارا کورگان نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ ڈرون کی آنکھ سے دیکھے گئے منظر کو “منہ بولتا سچ” کہنے کا چلن محض پروپیگنڈا ہے۔2 مورخ منان احمد نے تحریر کیا ہے کہ اگرچہ سیٹلائیٹ کیمروں اور ڈرون کی توسط سے بہت بڑے بڑے دعوے کیے گئے ہیں، “لیکن اس تمام مواد کی تاویل کون کر سکتا ہے؟” عام طور پر یہ سرکردہ لوگوں کے مفاد میں نہیں ہوتا کہ اس مواد کی تاویل کی جائے، بلکہ ان کو تو اس بات میں دلچسپی ہوتی ہے کہ ایک کثیر جہتی شہر اور اس کی آبادی کو ایک سادہ سے نقشے کے روپ میں دیکھا جائے، کیونکہ حملہ کرنے والے کے لیے ایک گنجان آباد بازار کی بجائے ایک خاص نقطے کا نشانہ لے کر حملہ کو قابلِ قبول بنانا قدرے آسان ہے۔ کن علاقوں کا کیا نقشہ کھینچا جاتے ہے یہ نہایت اہم بات ہے۔ در حقیقت، گراہم کی دلیل یہ ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے عرب اغیار پر بم گرانے کے پیچھے “شہری خانہ جنگی کے طاقت ور ترین ہتھیار: تشدد اور عسکریت کے لیے جغرافیے اور عداوت کی تخیّلاتی تاویل” کا ایندھن کارفرما ہے (صفحہ 234)۔ اس طرح کے عسکریتی ماڈل تمدنی شہریت اور شہری زندگی کو ایک دم غائب کر کے رکھ دیتے ہیں۔

شاید، سٹیز انڈر سیج کا سب سے زیادہ قابلِ توجہ پہلو یہ ہے کہ 2010 میں اس کی اشاعت کے بعد بڑے شہروں میں جو کچھ ہوا وہ اس تجزیے سے بہت حد تک مطابقت رکھتا ہے۔ یورپ میں امیگریشن کے مسئلہ پر کشیدگی سے لے کر 2011 میں تحریر چوک کے مظاہروں پر امریکی ساختہ آنسو گیس کے استعمال تک کے واقعات نے تمدنی عسکریت پر گراہم کے فکری احاطے کی کئی ایک مثالیں فراہم کی ہیں۔ آکوپائی وال سٹریٹ تحریک اور امریکی یونیورسٹیوں میں تصادم وغیرہ کو بومارینگ اثر کے پلٹ کر وار کرنے کی مثال کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ بوسٹن میں جوخارسارنایئف کی بڑے پیمانے پر عسکریاتی اور سوشل میڈیائی پر تلاش کو گراہم کی ہرجاہ موجود سرحدوں کے تصور کی وضاحت کے طور پر پڑھا جا سکتا ہے۔ یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ پرانی طرز پر ہونے والی شہری جھڑپیں اب بھی بن غازی جیسی جگہوں پر جاری ہیں البتہ ان میں اب ڈرون بھی استعمال لائے جا رہے ہیں۔

٭٭٭

ایک ناگزیر سوال یہ ہے کہ آخر تمدنی عسکریت کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ کیا ایسا ممکن بھی ہے؟ جی ہاں، لیکن صرف اس صورت میں کہ ہم حقائق دیکھ سکتے ہوں۔ گراہم کے مطابق عمومی تصورات مسئلے کا ایک حصہ ہے: ہتھیاروں کو صرف “برے لوگوں” کو نقصان پہنچانے کے لیے جامع انداز میں ایک نقطے کا “صفایا” کرنے کی شے سمجھا جاتا ہے؛ کوئی بھی حقیقت کو نہیں دیکھتا، نشانہ بننے والے شہروں کے باسی انسان اور تارکین وطن صرف اعداد و شمار کی حد تک وجود رکھتے ہیں۔

اس سب سے بچنے کے لیے ہمیں اندیکھے مقامات کے جغرافیے سے پردہ ہٹانا ہو گا۔ “جب ایک بار پوشیدہ کو آشکار کر دیا جائے، تو اس کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور بجا طور پر اس سب کو الٹے پاؤں موڑا بھی جا سکتا ہے” (صفحہ۔ 351)۔ پردہ کشائی کے ایسے انقلابی اقدامات کو اس نے “ضد جغرافیہ” کا نام دیا ہے۔ گراہم نے بہتر انجام کی خاطر پروپیگنڈا مواد کو قصدا مسخ کیے جانے کی مثالیں، نقشہ جات، آن لائن مآخذ اور تصاویر بھی فراہم کی ہیں۔ ایسی مثالوں اکثر متنازعہ فن پاروں کے طور پر دیکھی جاتی ہیں۔ جیسا کہ بہت سی حالیہ مثالوں سے پتہ چلتا ہے، کہ یہ دور افتاد علاقوں کی جبری یک رخی تصویر پیش کیے جانے کا مقابلہ کرنے میں یہ مثالیں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ اس سے بھی فوری یہ کہ، اس سے ہمارے اپنے شہروں کو سادہ سے خاکوں میں بدلے جانے سے روکا جا سکتا ہے۔ بڑھتی ہوئی عسکریت اور حفاظتی بندوبست کے قاعدے آگے چل کر شہری زندگیوں کے لیے خطرناک، بلکہ بعض حالات میں مہلک بھی ہو سکتے ہیں۔

جیکب ستائینر سوئیٹزرلینڈ، ای ٹی ایچ میں ماحولیاتی انجنیئرنگ کے گریڈ سٹوڈنٹ ہیں۔ وہ آسٹریلیا سے پاکستان تک مختلف ‘مابعد نوآبادیاتی’ ماحول میں رہ اور کام کر چکے ہیں۔ وہ اپنے آبائی وطن آسٹریا سے کلاسیکی موسیقی میں ڈگری یافتہ ہیں اور مستقبل میں طبلہ نوازی کی مہارتوں کو نکھارنے کا عزم رکھتے ہیں۔ وہ www.rugpundits.com پر بلاگ لکھتے ہیں۔



[1] میشئل فوکو، “سوسائٹی مسٹ بی ڈفینڈڈ”، لیکچرز ایٹ کالج دی فرانس، 1975-1976؛ری پرنٹ: پکادور، 2003

[2] لارا کورگان، کلوز اپ ایٹ آ ڈسٹنس-مئیپنگ، ٹکنالیجی اینڈ پالیٹکس؛ زون بکس، 2013

 

Tags: , , , ,

One Response to

شہری حدود: عسکری تمدن بغداد سے بروکلین تک

  1. […] کے درمیان تفریق وتقسیم قائم رکھنے کے لئے فضاومکان کو عسکریتی ساخت میں ڈھالنے کی انتہا ہو گئی ہے۔ حصار بند ہاوسنگ […]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *