بلوچ کیوں پاکستانی انتخابات کا حصہ نہیں بنیں گے؟ | آواز | ڈاکٹر اللہ نزر بلوچ

4 شمارہ | English 

Artist: Zahra Malkani | Dadu 1960 series

انگریز کی وضع کردہ قوانین کے تحت نو آ بادیاتی ہندوستان میں انڈین نیشنل کانگریس نے انتخابات میں حصہ لیا۔کانگریس کے صدرابوالکلام آزاد کے بقول تمام کانگریسی وزراء ہندوستان کے بجائے انگریزی گورنروں کے زیر اثر رہے اور انہی کی پالیسیوں کو اپنایا۔کیا یہ حقیقت نہیں کہ جہاں کہیں بھی نو آبادیاتی قوتوں نے قوانین بنائے انہوں نے اس نو آبادیات پر اپنے قبضے کو دوام دینے اور اسکے وسائل کے بے دریغ لوٹ کھسوٹ کو قانونی لبادہ پہنایا؟۔ یہی کچھ 1948ء سے لیکر اب تک ہمارے بلوچ وطن میں ہو رہا ہے۔ایک چھوٹے سے گروہ کو شرکت اقتدار (اقتدارِاعلی نہیں)دیکر پوری قوم کو یرغمال بنایاگیا اور اسی مراعات یافتہ گروہ(اشرافیہ)کو قائم و دائم رکھنے کیلئے مقبوضہ بلوچستان میں حالیہ انتخابات بزورِ طاقت کرائے جارہے ہیں ۔مارچ1948ء میں بلوچ قوم کی رضا و منشاء کے برخلاف عالمی قوانین و جغرافیائی سرحدوں کی خلاف وررزی کرتے ہوئے پاکستان نے بزورِقوت بلوچ وطن پر جبری قبضہ کیا اور جبری قبضہ سے لیکر 1973ء تک پاکستان کی آئین ساز پارلیمنٹ نے کئی قوانین بنائے ،جس میں بلوچ وطن کی جغرافیائی حیثیت کو ختم کرکے اسے مغربی پاکستان یعنی پنجاب میں ضم کیا گیا۔اور انہی قوانین و آئین ساز اداروں کو بنیاد بنا کر بلوچ فرزندوں کو انہی عدالتوں میں سزائے موت دیکر تختہء دار پر لٹکایا گیا۔ بابو نوروز سے لیکر شہید حمید بلوچ انہی ریاستی اسمبلیوں کے قوانین کی بھینٹ چڑھے،انہی اسمبلیو ں کی قانو ن سازی کے ذریعے بلوچ قوم پر قومی زبانوں کی جگہ غیر زبانوں کو مسلط کرکے بلوچ قوم کی ثقافت کو مسخ کرکے غیر فطری ملک پاکستان کے ساتھ جذب کرنے کی حتی الوسع کوشش کی گئی اور یہ کوشش ہنوز جاری ہے۔ ان تمام قانون ساز اداروں نے قوانین بنا کر انہیں اپنی عدالتوں میں بلوچ قوم کیخلاف ننگی تلوار کے طور پر استعمال کیا اور دہشتگرد پاکستانی فوج انہی اسمبلیوں کی وضع کردہ قوانین کے تحت بلوچ وطن پر خون کی ہولی کھیل رہی ہے۔ پاکستانی فوج کی انسانیت سوز جنگی جرائم کو اسکی عدالتیں انہی قوانین کے تحت جائز قرار دے رہے ہیں۔

بلوچ قومی آزادی کی جنگ عالمی قوانین کے تحت اپنی قومی ریاست کی بحالی کیلئے لڑی جا رہی ہے جو تمام انسانی اقدار کا پاس رکھتے ہوئے اپنی جنگ آزادی کیلئے تمام ذرائع استعمال کر رہی ہے،جس میں دشمن کی مسلح و درندہ صفت فوج اور ان کے ڈیتھ اسکواڈکا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ بلوچ قوم نے عوامی و جمہوری سوچ کے ذریعے اپنی تحریر و تقریر سے دنیا کو باور کرایا ہے کہ بلوچ ایک آزاد و خود مختار ریاست کے حصول کی جدو جہد میں عالمی قوانین کے تحت انسانی حقوق و اقدار کا پاس رکھتے ہوئے اپنے مقصد کیلئے لڑ رہی ہے۔ بلوچ قوم سیکولر اور انصاف پر مبنی ایک ایسی ریاست کی تشکیل کیلئے جد و جہد کر رہی ہے جو پوری انسانیت کی بقاء و سا لمیت کی خاطر ہوگی، اور جو مذہبی انتہا پسندی،قومی توسیع پسندی ،حوسِ قبضہ گیری،خطے میں دہشتگردی جیسے انسان دشمن سوچ کیخلاف ایک بفر اسٹیٹ ثابت ہوگا۔ بلوچ کی آزادی کے ثمرات سے نہ صرف یہ خطّہ بلکہ پوری دنیا بہرہ مند ہوگی۔ بلوچ اپنی آزادی کے بعد اپنے قومی وسائل کو بلوچ قوم کی فلاح کیلئے استعمال کرتے ہوئے پوری دنیا کے امن پسند قوموں کے ساتھ مل کر ایٹمی، کیمیائی اور بائیولوجیکل جیسے انسان کُش ہتھیاروں کے خاتمے کیلئے اقوام عالم کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی۔

پاکستانی میڈیا اور بلوچستان میں نام نہاد وفاق پرست یہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ پاکستانی قوانین، اسمبلی و پارلیمنٹ کیخلاف بلوچ آزادی پسندوں کی مخالفت در اصل جمہوریت کی مخالفت ہے۔ ان وفاق پرست قوتوں اور نام نہاد جمہوریت پسندوں کو سمجھنا چاہیے کہ آزادی پسند قوتیں و مزاحمتی تنظیمیں کیونکر ان نام نہاد انتخابات کی مخالفت کر رہے ہیں؛

۔ پاکستانی خفیہ ادارے انتخابات کے ذریعے چند لوگوں کو منتخب کرواکر دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کریں گے کہ بلوچ پاکستان کے آئینی اداروں کو مانتے ہیں۔ لہٰذا بلوچستان پر قبضہ بلوچوں کی خواہش پر ہوا ہے اور بین الاقوامی اداروں بالخصوص اقوام متحدہ کے سامنے یہ جواز پیش کریں گے کہ بلوچستان پر قبضہ جائز ہے۔

۔ نو آبادیاتی پارلیمان صرف ایسے قوانین بناتے ہیں جس میں مقبوضہ قوم کی جغرافیائی خطے کا بٹوارہ ہو۔ جیسے جیکب آباد (خان گڑھ)، راجن پور، ڈی جی خان کو پنجاب و سندھ میں شامل کرکے بلوچوں کو اُن کی قومی سرزمین سے محروم کرنے کے ساتھ ساتھ اُن کی قومی زبان و ثقافت کو بھی زنگ آلود کر دیا۔ نو آبادیاتی طرز قوانین کے تحت فوج اور خفیہ اداروں کو مقبوضہ بلوچستان کے وسائل دے کر انہیں بلوچ قوم کی قومی آزادی کو سلب کرنے کیلئے استعمال کرنا (جیسے رئیسانی و مگسی حکومت بلوچ وسائل کو فوج ، ایف سی و رینجرز کو دے کر بلوچ قوم کی نسل کُشی کر رہے ہیں) اور آئندہ اسمبلی بھی وفاق کے پابند ویسے ہی قوانین بنائیگی جس طرح 1948 سے لے کر2008 کی اسمبلیاں بناتے آرہے ہیں۔

 ۔ ان انتخابات کا مقصد ایک ایسے مراعات یافتہ گروہ کی تشکیل کرنا ہے جو بلوچ جنگ آزادی کیخلاف دشمن کے ایک کالم کے حیثیت سے کام کرے جس طرح سابقہ اسمبلیوں میں اراکین اسمبلی نے اسمبلی کے فلور پر کہا کہ ہم نے ایف سی اور فوج کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ بلوچ قوم کے خلاف فوجی آپریشن کرے۔ ہزاروں بلوچوں کا پابند سلاسل ہونا اور ہزاروں بلوچوں کی مسخ شدہ لاشیں گرنا انہی نام نہاد اسمبلی ممبران کی کارستانی ہے۔

۔ بلوچ جہد آزادی کیخلاف قوانین بنا کر زیر زمین موجود بلوچ قومی وسائل کو قبضہ گیر کے حوالے کرنے کا ایک قانونی جواز ڈھونڈنا ہے اور دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ بلوچوں نے اسمبلی کے ذریعے یہ معاہدے کیے ہیں۔ سیندک پروجیکٹ،ریکوڈک معاہدہ،گوادر پورٹ،سوئی گیس فیلڈ،یہ تمام اسکی واضح مثالیں ہیں۔ یہ اسمبلی جمہوریت کے نام پر ایسے قوانین بنائے گی جو قابض ریاست کی بلوچ وسائل کے لوٹ مار کو آئینی جواز فراہم کریں گی۔

۔قابض ریاست انہی کٹھ پتلی اسمبلی ممبران کو اقوام عالم کے سامنے بلوچ قوم کا نمائندہ پیش کرکے قومی وسائل کی لوٹ مار کو جائز قرار دینے کی کوشش کرے گی۔
لہٰذا مندرجہ بالا نقاط کے پیش نظر آزادی پسند بلوچ قوم نے اس بات کا ادراک کرلیا ہے کہ ہم ان پاکستانی اداروں کا حصہ نہیں بنیں گے اور دنیا کو یہ باور کرائیں گے کہ یہ بلوچ قوم کے نمائندے نہیں ہیں ۔آج بھی بلوچستان کے پچانوے فیصد علاقوں میں ان نام نہاد پارلیمان پسندوں کو بلوچ قوم کی شدید مخالفت کا سامنا ہے اور پوری قوم نے ان نام نہاد پارلیمان پسندوں کو مسترد کیا ہے۔ ایماندار اور غیرجانبدار ذرائع ابلاغ، مہذب و انسان دوست اقوام، عالمی ادارے بشمول اقوام متحدہ ، بلوچ کی قومی آزادی کو اپنے ایجنڈے میں شامل کریں اور بلوچستان کو ایک جنگ زدہ خطہ (conflict zone)

ڈیکلیئر کریں۔

ڈاکٹر اللہ نزر بلوچ بلوچستان لیبریشن فرنٹ کے کمانڈر ہیں

Tags: , , , , ,

4 Responses to

بلوچ کیوں پاکستانی انتخابات کا حصہ نہیں بنیں گے؟ | آواز | ڈاکٹر اللہ نزر بلوچ

  1. [...] Issue IV | اردو [...]

  2. [...] کو دی جا رہی ہے، تنقید یہ جامع سوال اٹھاتا ہے کہ: بلوچستان کا کیا درجہ کیا حثییت ہے؟ ابھی بھی حمائتی سیاست ہے یا [...]

  3. monthly sangar on May 2013 at 12:00 AM

    A great revolutionary leader who lead from front and today lead the baloch movement for every single baloch . A man with great love for a nation, a common man and leader of every common baloch

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


Current ye@r *



Help Tanqeed survive!

Help us expand Tanqeed. Consider donating just $2. Your donations will all go towards funding reporters for in-depth, long-form journalism. Thanks! -Tanqeed editors

Archives