Urbanization and Political Change in Pakistan | Daanish Mustafa

May 2013

سمندر پار مسافر ت کے دوران، پرانے دوستوں اوروہاں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے ملنے پر ان کی پاکستان سے متعلق تشویش اور دلچسپی دیکھنے کو ملتی ہے۔ بدامنی اور بڑھے گی؟ کیا عمران خان پاکستان بچا پائیگا؟ اگلے انتخابات کون جیتے گا؟کیا کوئی امید ہے؟یہ سب سمندر پار مقیم فکرمند پاکستانیوں کی طرف سے کچھ ایسے سوالات ہیں جن کی بمباری کی جاتی ہے۔ میں عقلِ کُل تو نہیں لیکن ایسے سوالات کے پو چھے جانے پر ایک نا قابلِ برداشت عالم بن جاتا ہوں۔ ہر چیز کا موازنہ کرنا ، ملک کیلئے قیامت کی نشانیاں گنوانا اور پھر ایک مزید پیچیدہ سازشی نظریہ گھڑنا تاکہ ان پیش گوئیوں کی وضاحت کی جا سکے، میں گپ شپ پر مبنی اس قومی تفریح کا مداح نہیں ہوں۔ جب ملک کی بات آئے تو ڈرائینگ روم پاکستانی بڑے زبردست قسم کے نا امید افراد ہیں ، خیر انھیں الزام بھی نہیں دیا جا سکتا۔ ناامید ہونے کی کافی وجوہات ہیں لیکن مکمل نا امید ہونے کا مطلب ہے کہ پاکستان ایک عجوبہ ہے اور یہ معاشرہ تاریخ سے باہر جی رہا ہے، ناقابلِ تبدیل، ناقابلِ اصلاح، اور ہمیشہ تباہی کے دہانے پر کھڑا۔

یہ کوئی انوکھی بات تو نہیں کہ پاکستان تاریخ کے اندر جی رہا ہے اور یہ معاشرہ ان گہری تبدیلیوں سے گزر رہا ہے جو شایدہمارے سہل انگار ، شور شرابے کے عادی اور میڈیا سے متاثر ضمیر کو محسوس نہیں ہوتیں ۔میںاس مضمون میں پاکستان میں شہری آبادی کے اضافے کے نتیجے میں آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں بات کرنا چاہونگا، اور یہ کہ موجودہ اور آنیوالے دو تین انتخابات پر اس کے کیا اثرات ہونگے۔

جنوبی ایشیاء کے اندر پاکستان میں ہی شہری آبادکاری کی رفتار سب سے زیادہ ہے۔ اس میں دیہی علاقوں سے شہری علاقوں کی طرف نقل مکانی کے علاوہ ، پاکستان کے نیم دیہی نیم شہری علاقوں میں نیم شہری نیم دیہی طرز زندگی کی نمو کا بھی عمل دخل ہے۔ اس مظہر کیلئے ایک اصطلاح ، “ڈیساکوٹا” کا استعما ل کیا جاتا ہے جو ایک انڈونیشیائی اصطلاح ہے جس کا لغوی مطلب ‘ شہر اور دیہات’ ہے ۔پاکستان میں ان علاقوں کو باضابطہ طور پردیہات شمار کیا جاتا ہے جہاں کے گھرانوں میں ایسے افراد موجود ہیں جو دیہاتوں سے باہر کا م کرتے ہیں تاکہ دیہات سے ہونے والی آمدنی میں اضافہ کر سکے ۔ مثلابلوچستان کے دور افتادہ علاقوں میں بھی ایسے خاندان ہونگے جن میں ایک بھائی زمینوں پر کام کرتا ہے ، دو سرا ٹرک چلاتا ہے تو تیسرا کراچی میں چا ؁ ؁ئے کی کوئی دوکان چلاتا ہے، اور شاید چوتھا دوبئی میں مزدوری کرتا ہو۔ تکنیکی لحاظ سے اب یہ گھرانہ دیہی شمار ہوگا لیکن شہری اور کثیرالقومی روزگار کے حسا ب سے اسکو دیہی اور شہری کہنا مناسب ہوگا اس مظہر کا سماجی نتیجہ مال کے بدلے مال کے روایتی نظام کی بجائے کرنسی کا رواج اور ایسی دیہی معیشت ہے جس کی بنیاد مفاد باہمی پر منحصر ہے. شہری اور بین الاقوامی اقدار کی در آمد کی وجہ سے لوگوں میں مصرفی نظام اور مختلف امور کے لیے ریاست سے توقعات بڑھ جاتی ہیں۔

روایتی طور پر 1970کے علاوہ انتخابی سیاست مقامی حلقوں کی بنیاد پر ہوتی تھیں، جہاں سرکردوں کا ٹولہ جو پریشر گروپ ہوتے تھے انھیں ووٹ دلواتے تھے جو بھی انھیں بہتر طور پر استعمال کر پاتا۔اربنا ئیزیشن اور ڈیسا کوٹائیزیشن کے فروغ کی وجہ سے ان سرکردہ ٹولوں کی جگہ مزدور فراہم کرنے والے ٹھیکیداروں جیسے ٹولوں نے لے لی ۔پاکستا ن جیسے صنعت پذیر معاشرے میں ٹھیکیدار چھوٹے اور درمیانے سائز کے کاروبار میں مزدوروں کو عارضی طور پر کا م لیتے ہیں، اور یہ کاروباری ڈھانچہ خود عمودی طرز کے سر کردہ گروہوں پر مشتمل ہوتا ہے (مثلا انجمن تاجران) جو ریاست پر تحفظ اور دیگر امور کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں ، انہی سر کردہ گروہوں کو مڈل کلاس شہری پارٹیاں انتخابات کے وقت ووٹ کے لیے استعمال کرتے ہیں جیسا کہ پی ایم ایل نواز۔
اس اہم بات کا ادراک بہت کم کیا گیا ہے کہ لوگوں کی شہروں کی جانب منتقلی کا واحد سبب روزگار کی تلاش نہیں بلکہ بہتر سہولیات مثلا صحت، تعلیم (خصوصا بچیوں کی تعلیم)، رسل و رسائل اور ثقافتی سہولیات کی خواہش بھی ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں.پاکستان کی نوجوان تعلیم یافتہ نسل اس مقامی سرپرستی کے تانے بانے میں الجھی ہوئی ضرور ہے مگر یہ یقینی ہے کہ وہ اس کی مستقل اسیر نہیں رہے گی. ریاست کے ساتھ لوگوں کے عمرانی معاہدے پر ہر لمحے، لاکھوں شہری بحث و تمحیص کر رہے ہیں اور ان کی، ریا ستی ڈھانچے سے جڑی امنگیں بھی روز افزوں ہیں.

ایم ۔کیو۔ایم جیسی شہر ی پا ر ٹی کرا چی کے ز یا دہ تر حصوں پر مطلق ، مافیا جیسے کنٹرول کے باوجو د اس حقیقت کا خیا ل رکھتی ہے۔اسی لیے ایم۔کیو۔ایم سندھ میں مقا می حکومتی نظام کو دوبارہ قائم کر نے کے لیے پر جوش ہے تا کہ اس سے ملنے والے اختیا رات سے اپنے نچلے اور درمیانے شہری طبقے کے ووٹر کو خدمات بہم پہنچا سکے روایتی طور پر اپنے ووٹوں کے لیے حمایتی نیٹ ورک پر بھرو سہ کرنے والی پیپلز پارٹی اور پی۔ایم۔ایل (ن) مقامی حکومت کے نفاذ سے خائف ہیں چونکہ اس سے ان کے ووٹ حاصل کرنے کے مجرب طریقوں پر زد پڑتی ہے

آج تک “قومی مفاد” کے نعرے کی آڑ میں “عوامی مفاد” کو پس پشت ڈالنے کا عمل ہوتا رہا ہے جس کی وجہ سے نیم شہری نیم دیہاتی نوجوانوں کی سیاسی حرکیت کو مہمیز مل رہی ہے. عمران خان اسی طبقے کے سماجی سطح پر ترقی پذیر مگر سیاسی معاملات میں قدامت پرست رجحانات پر تکیہ کے ہوۓ ہے. پاکستان کا درمیا نہ طبقہ روایتی طور پر پیپلز پارٹی اور اس کی “بائیں بازو” کی سیا ست کو حقا رت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور پی۔ایم۔ایل(ن) اپنی جیت کو حاصل کر نے کے لیے اپنی وسیع آ بادی پ بھروسا کرتی ہے ہے جبکہ دوسری طرف پیپلز پارٹی اپنے ووٹ بینک کو بر قرار رکھنے کے لیے مسلسل سرپرستانہ سیاست میں لگی ہوئی ہے۔

اس میں شک نہیں کہ پاکستانی انتخابی سیاست کی حرکیات تبدیل ہو رہی ہیں. یہ کہنا اس وقت مشکل ہے کہ یہ تبدیلی کس حد تک ڈرامائی ہو گی. اس وقت کسی بھی سیاسی جماعت کے پاس کوئی ایسا نظریہ یا نعرہ نہیں ہے جس سے وہ ان پچانوے فی صد پاکستانیوں کے دل پر دستک دے سکے جو بمشکل میٹرک پاس ہیں. ستر کی دہائی میں بھٹو صاحب کے پاس ایسا ایک نعرہ تھا اور اس کا صلاح لوگوں نے، اپنے روایتی سماجی تانے بانے کو توڑتے ہوۓ انھیں ریکارڈ ووٹوں کی شکل میں دیا. کوئی ایسی سیاسی تحریک جو پچانوے دی صد پاکستانیوں کے لئے ایک سماجی انصاف اور اقتصادی ترقی پر مبنی نظام کی نشاندہی کر پاے پھر سے ویسا ہی سیاسی معجزہ دیکھا سکتی ہے جو سن سڑسٹھ اور پچھتر کے درمیان دکھائی دیا تھا. اس وقت پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ، عمران یا روایتی بائیں بازو کی پارٹیوں تک کسی کے پاس یہ ترکیب نہیں ہے. سو، جب تک کہ ایسا کوئی مظہر ابھرے، ہمیں اس پہلی مئی کو صرف بیٹھنا ہی نہیں بلکہ اس نیے نظریے پر غور و فکر بھی کرنا ہے. یہ ہم پر پاکستانی محنت کشوں کا قرض ہے.

دانش مصطفیٰ کنگزکالج لندن کی جغرافیہ کے ڈیپارٹمنٹ میں پڑھاتے ہیں۔  وہ ہمہ وقت قاری کی مصنف پر دھونس کے خلاف سینہ سپر رہتے ہیں۔ 

سجاد حسین چنگیزی پیشہ سے انجنیئر ہیں اور پیس اینڈ کانفلکٹ سٹڈیز کے طالبِ علم بھی۔ ان کا تعلق عالمدار روڈ کوئٹہ سے ہے۔

Pages: 1 2 3

Tags:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *