Woman Rising Up

Apr 2013

English | اردو

قبائلی علاقوں کی تایخ میں پہلی دفعہ ایک خاتون امیدوار کا انتخابات میں حصہ لینے اور کاغذات نامزدگی جمع کرانے اور باقاعدہ انتخابی مہم شروع کرنے کے بعد قبائلی خواتین میں خوشی اور امید کی ایک نئی کرن ابھر رہی ہے اور انہوں باجوڑ ایجنسی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے44سے واحدآزاد خاتون امیدوار بادام زری کی ہمت،جذبے اورطاقت کی تعریف کرتے ہوئے اس کو خواتین کی ترقی اور ان کے حقوق کی جنگ کے لئے ہوا کا ایک تازہ جھونکا قرار دیا ہے۔
خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والی جامعہ پشاور کی ایک طالبہ مدیحہ آفریدی جو فاٹا یوتھ اسمبلی میں ایک اہم عہدیدار بھی ہے ،بادام زری کی سیاست میں داخل ہونے کو بہت خوش آئند سمجھتی ہے ۔مدیحہ آفریدی نے یہ بھی کہا کہ آج کل فاٹا کے خراب حالات میں ایک خاتون امیدوار کا انتخابات میں حصہ لینا اور مہم شروع کرنا بہت بات ہے اور اس کی وجہ سے غریب اور بے بس قبائلی خواتین کو ایک نیا حوصلہ اور جذبہ پیدا ہوگا۔مدیحہ آفریدی نے یہ بھی بتایا کہ عام قبائلی خواتین کی تعلیم و صحت کے مسائل ایک خاتون سے بہتر اور کوئی نہیں سمجھ سکتا اور بادام زری الیکشن میں کامیابی حاصل کرکے تمام قبائلی خواتین کی تمام بنیادی مسائل کے حل کے لئے عملی اقدامات اٹھائے گی جس کی وجہ سے قبائلی خواتین بھی صحیح معنوں میں قومی دھارے میں شامل ہوجائینگے اور وہ ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوکر ملک و قوم کی ترقی کے لئے ایک اہم کردار ادا کرینگے۔
خواتین کی حقوق کے لئے کام کرنے والی ایک سرگرم خاتون ثناء اعجاز نے قبائلی خاتون بادام زری کو سیاست میں خوش آمدید کہتے ہوئے اپنے تاثرات میں کہا کہ ان کے اس فیصلے اور جرت سے تمام قبائلی خواتین کو ایک نیا حوصلہ ملا ہے اور ان کو اپنے مسائل کے حل کے لئے امید اور روشنی کی ایک کرن نظر آئی ہے۔ثناء اعجاز نے یہ بھی بتایا کہ قبائلی خواتین میں بے پناہ صلاحتیں موجود ہے اور اگر ان کو عوامی خدمت کرنے کا موقع ملا تو وہ کسی کو بھی مایوس نہیں کریگی اور قبائلی علاقوں کی ترقی اور خوشحالی کے لئے انقلابی پالیسیاں بنائی گی جس کے سبب فاٹا میں دیر پا امن اور خوشحالی قائم ہوسکے گی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے باجوڑ ایجنسی سے واحد قبائلی خاتون امیدوار بادام زری نے کہا ہے کہ قبائلی خواتین کو اپنے حقوق دلانا اور ان کو درپیش مسائل حل کرنا ان کی اولین ترجیح ہے۔اور اس کے علاوہ علاقے میں تعلیم کے فروغ،پینے کے پانی کا مسئلہ حل کرنا،عوام کو صحت کے بنیادی سہولیات فراہم کرنااور خاص کر لڑکیوں کی تعلیم کو عام کرنا ان کے منشور میں شامل ہے۔
یاد رہے کہ بادام زری نے صرف مڈل تک تعلیم حاصل کی ہے اور اس کا شوہر ایک مقامی سکول میں استاد ہے اور وہ ایک گھریلو خاتون ہے۔
بادام زری کے سیاست میں آنے کو بعض ناقدین قبائلی روایات کے خلاف سمجھ رہے ہیں جبکہ قبائلی علاقوں کی اکثریت لوگوں نے بادام زری کے اس فیصلے پر خوشی اور ان کے ساتھ تعاون کرنے کا اظہار کیاہے۔
یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ باجوڑ ایجنسی کے حلقہ این اے 44سے پہلی قبائلی خاتون امیدوار بادام زری کا اصلی مقابلہ سابق ایم این اے اخونزادہ چٹان سے ہوگا جو کہ پہلے ہی بادام زری کی سیاست میں داخلے کو قبائلی روایات کے خلاف قرار دے چکے ہے ۔جبکہ بعض ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ چونکہ بادام زری کو قومی،ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بہت پزیرائی مل رہی ہے اس لئے اخونزادہ چٹان ان سے خوفزدہ ہے اور اس لئے وہ ان کے خلاف پیشگی بیانات داغ رہے ہیں تاکہ ان کی شہرت اور ووٹ بینک کو کم کیا جا سکے۔

Pages: 1 2

Tags: , , ,

One Response to Woman Rising Up

  1. Faiz Khalil on Apr 2013 at 2:44 AM

    Very good article…Rahat Shinwari has described the election of Ms. Zari in an eloquent manner. Ms. Zari ‘s entry into politics in this traditionally very conservative area is a sign of how women are now increasingly feel that their due rights have been neglected for so long and now it is time to initiate struggle for such due rights…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *