The Line Between Good and Evil | Daanish Mustafa

Apr 2013

پچھلے ہفتے جب میں قائد اعظم یونیورسٹی گیا تو مجھے پاکستان انسٹیٹوئٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس میں ایک دوست کو ملنے کا خیال آیا۔ ادارے کی عمارت اونچی دیواروں کے پیچھے ھے جو کہ ایک تعلیمی ادراے کے لئے مجھے کچھ عجیب سا لگا۔ لیکن جس چیز نے مجھے زیادہ پریشان کیا، وہ عمارت کے داخلے پر تلاشی تھی اور یہ کی پی-آئی-ڈی-ای کی قابل ِ تکریم عمارت میں داخل ہو نے کے لئے اپنی شناختی کارڑ کی حوالگی کرنی پڑی۔ الجھنے کی بری عادت تھوڑی سی مجھ میں بھی ھے سو میں بھی پیچھے پڑ گیا۔ میں نے پوچھا کہ آخر ایک تعلیمی ادراے کے لئے جی-ایچ-کیو طرز کے حفاطتی لوازمات کیوں؟ جواب آیا کہ ملک بھر میں خودکش حملوں کے تناظر میں انتظامیہ ادارے کا تحفظ چاہتی ھے ۔ میں نے محتاط مشاہدہ کر لیا کہ دہشت گرد بازی جیت چکے ہیں۔ اگر ان کا مقصد سیکھنے سکھانے کے مراکز کو رازداری کے کفن میں سِی دینا اور عوام کی پہنچ سے دور کرنا ھے تو طالبان اور ان کے ھمقدم بہت کامیاب ہو چکے ہیں۔

اپنے پچھلے بلاگ میں میں نے سیاست کے گہرے مفاہیم پہ بات کی تھی جو کہ شعبدہ بازی اور انتخابی سیاست سے پرے کارکردگی اور دنیا میں  شناخت سے متعلق ہیں۔ میں نے کہا تھا کی در حقیقت ایسی سیاست ایسے عوامی حلقوں کی معمار ہوتی ھے جہاں انسان دوسروں کو اپنی پہچان کرواتے ہیں اور باقی انسانیت کے تنوّع میں اپنی انسانیت کو خود اپنے عمل سے پہچان لیتے ہیں-  غیربناؤٹی سیاست جسے حینّا آرینٹ ‘جہاں دار سیاست’ کہتی ھے ، ایک طرف توتہواروں ، کھیل اور گلیوں میں منعقد ہو نیوالے تماشوں جیسےعام ترین اور سادہ ترین انسانی سرگرمیوں کو سیاسی قوّت فراہم کرتی ہے تو دوسری طرف چونکہ ایسی سیاست سیاسی اور تقافتی آزادی کی عکّاسی کرتی ھے، لہٰذا طالبان اور ان کے ھم خیال آمراور تنگ نظر دہشت پسندوں کا اصلی حدف قرار پاتی ھے۔

یہاں دہشت یا دہشت گردی جیسی اصطلاح کے استعمال پر ترقی پسند فکر کے حامل دوستوں کوشاید عجیب محسوس ہوں۔  آخرکار تہزیب کے دفاع اور قومی سلامتی کے نام پر دنیا کے سیاسی اور عسکری اشرافیہ یہی لیبل حرّیت پسند غریبوں اور مظلوموں کی جنگجوئی کو غلط قرار دینے کے لئے استعمال نہیں کرتےکیا؟ اس تنقید میں وزن ھے لیکن چاہے اچھا یا برا، بلکہ اکثر برا، دہشت گردی کی یہ اصطلاح اب ھمارے ساتھ ہیں اور ہمیں اس کے مالکانہ حقوق کے لئے دنیا کی اشرافیہ سے بہرحال لڑنا ھے تاکہ اس کی ایک جائز اور غیر جانبدار تعریف حاصل کی جائے جو کی انسانی جانوں کا تحفظ تو کرے ہی، ساتھ ھی قومی ریاستوں اوردنیا کے طاقتوروں کو دوسروں کو بدنام کرنے اور قابل ِ نفرت بنانے کی استثنائی حیثیت سے بھی باز رکھ سکے۔ اس باب میں میں دہشت گردی کی اصطلاح کی یہ تعریف پیش کرتا ہوں؛

تشدّد کا ایک ایسا عمل جو تشدّد کےدوسرے عوامل مثلا” جینوسائڈ، جنگ، جبگی جرائم، سیاسی قتل وغیرہ سے مندرجہ زیل لحاط سے مختلف ہوں؛

١-  براہ ِراست متاثرین کے بجائےسامعین کی نسبتا بڑی تعداد کو متوجہ کرنا
٢- جس کا مقصد ایک جگہ کی تباہی و بربادی ہو اور/یا
٣-  ایک علاقے کی دیگر سےعلیحدگی (اجنبیّت)
(مصطفٰی، 2005، صفحہ 79)

قابل ِغورنکتہ یہ ھے کہ آپ اس لئے دہشت گردی کا شکار نہیں کہ آپ کون ہیں یا آپ نے کیا کیا ھے، بلکہ یہ  کہ آپ کہاں رہتے ہیں؟ اھم بات یہ ھے کہ دہشت گردی کا گہرا تعلق جگہ سے ھے۔ یہاں ‘جگہ’ کا مطلب ‘محل ِوقوع’ سے مختلف ھے۔  کوئی محل ِوقوعہ اُس وقت (کسی کی) ‘جگہ’ بن جاتی ھے جب انسانی جذبات، یادداشت اور تجربات جغرافیائی حدود سے باھم نتھی ہو جاتے ہیں۔ یہ ایسے ھی ھے جیسے ایک مکان گھر بن جاتا ھے، ایک ملک ،مادر ِ وطن اور کوئی قبر ایک مزار۔

طالبان یا کوئی اور متشدّد تحریک کی دہشت کا مقصد یا تو اپنے مخاطبین کے لئےثقافتی، روحانی، جذباتی اور سیاسی ‘جگہوں’ کی بربادی ھے یا پھر لوگوں کو مخصوص جگہوں سے خوفزدہ کرکے شہری زندگی کو محدود کرنا ھے۔

سوات میں طالبان نے جگہوں کوبرباد کرنے اور انھیں سنسان اورویران کرنے کا اچھا خاصہ مظاہرہ کیا۔ شاید حکومت کی طرح وہ بھی جان چکے ہیں کہ عوامی حلقے نہ صرف شہری زندگی کے ترجمان ہوتے ہیں بلکہ ان میں ھی وہ جگہیں ہیں جہاں زندگی نمو پاتی ھے، یہی تو حلقہ ءِ زیست ہیں۔ زندگی، بالخصوص انسانی نسوانی زندگی کا کنٹرول اسی حصار بندی سے شروع ھو تا ھے اور بالآخر حلقہ ءِ زیست پر مکمل قابض ہوجا تا ھے۔ سوات پر قبضے کے دنوں میں طالبان معمول کے طور پر مینگورہ اور دیگر شہروں میں عام چوراہوں کو بوچڑخانوں (عقوبت خانوں) کے طور پر استعمال کرتے تھے جہاں جاسوس سمجھے جانیوالوں اور دیگر مخالفین کو جانوروں کی طرح ذبح کیا جاتا تھا اور ان کی مسخ شدہ لاشوں کو بجلی کے کھمبوں سے کئی کئی دنوں تک لٹکا دیا جاتا تھا۔ اس بربریت کا مقصد مجرموں کوسزا دینا نہیں تھا جو کہ سرمیں ایک گولی مار کے زیادہ آسانی سے دیا جا سکتا تھا بلکہ سوات کے عمومی باسیوں کو ان کے عوامی جگہوں اور زندگی کے حلقوں پر طالبان کے قبضے سے متعلق خبردار کرنا تھا۔

طالبان عوامی حلقوں کو غصب کرنے کی ایک نہایت مثال تھے جیسا کہ عظیم روسی مصنّف الیکزنڈر سولژینٹسن یاد دلاتا ھے؛

کاش یہ اتنا سادہ ھوتا ! کاش ایسا ھوتا کہ کچھ بُرے لوگ کہیں پرچپکے سے بُرے کام کر رھے ھوتے، اور ضرورت صرف      اس امر کی ھوتی کہ انھیں ھم سب سے علیحدہ کرکے تباہ کیا جائے۔ لیکن اچھے اور برے کو تقسیم کرنے والی لائن ھر ایک انسان کے دل سے ھو کر گزرتی ھے۔ اب کون اپنے ہی دل کے ٹکڑے کو تباہ کرنے پر تیار ہوں؟

پاکستانی ریاستی ڈھانچہ اور ھمارا پدرسری نظام کا حامل معاشرہ لوگوں کے حلقہ ءِ زیست کو محدود کرنے میں کوئی خجالت محسوس نہیں کرتا بالخصوص ان انسانوں کا جن کو کامل پاکستانی، مسلمان، مومن (یا جو بھی  فی زمانہ حسب ِ ذائقہ ھو) ھونے کا اہل نہیں سمجھا جاتا۔ اھل ِ تشیع اور عورتیں طالبان کے لئے ایسے ھی نامکمل اور ناقابل ِ تکمیل وجود تھے، اور پاکستانی ریاست کیلئے بلوچ قوم پرست یا فوجیوں سے نفرت کرنیوالے آزاد خیال۔ جنگ ِسوات کے بعد، ریاست نے سیکیورٹی کے نام پر کرفیو، حفاظتی چیک پوسٹس اور سرچ آپریشنز کے ذریعے لوگوں کی زندگی محدود کر دی ھے۔ دوسری طرف سوات کے پدرسری معاشرے نے ، طالبان سے نسبتا” کم، پھر بھی ھمیشہ عورتوں کیلئے زندگی کا دائرہ تنگ کر دیاھے شاید عورتوں کےفرضی بےقابو جنسی کشش سے متعلق مردوں کے مریضانہ خوف کے سبب۔ لیکن میں موضوع سے دورجا رھا ہوں۔

حاصلِ بحث یہ ھے کہ طالبان جیسی آمریت پسند تحریکوں کی دراندازی کے مقابل  لوگوں کے جہاں دارحلقہ ءِ زیست کا تحفظ اور اس دائرے کی وسعت بہترین دفاعی فصیل ہیں۔ اسی جہاں داری کے ذریعے ہم اپنے دلوں سے گذرنے والی لائن کا تعین کرتے ہیں۔  اس جہاں داری کی عدم موجودگی میں ھم اپنے خوف اور خود پسندی  کے خالی مقبروں میں قید ہو جاتے ہیں۔ پاکستانی معاشرے کے اسی کھوکھلے مقبرے میں پی-آئی-ڈی-ای کے اسقبالئیے پر اس شخص نے یہ اعتراف کر لیا کہ “ہاں، وہ جیت چکے ہیں اور ھم ہار چکے ہیں۔”

دانش مصطفیٰ کنگزکالج لندن کی جغرافیہ کے ڈیپارٹمنٹ میں پڑھاتے ہیں۔  وہ ہمہ وقت قاری کی مصنف پر دھونس کے خلاف سینہ سپر رہتے ہیں۔ 

سجاد حسین چنگیزی پیشہ سے انجنیئر ہیں اور پیس اینڈ کانفلکٹ سٹڈیز کے طالبِ علم بھی۔ ان کا تعلق عالمدار روڈ کوئٹہ سے ہے۔

Pages: 1 2 3

Tags: , , , , , ,

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *