The Show Will Go on! | Daanish Mustafa

Mar 2013

English | اردو

بلاگ |تماشہ لگا رہے گا | دانش مصطفیٰ

ترجمہ: انعم ناز اور پلوشہ مشتاق

قو می اور صو با ئی اسمبلیوں نے بالآخراتوار کے روز اپنی مدت مکمل کر ہی لی۔ پانچ سال کی اس ہنگامہ خیز اور مضطرب زندگی کے خاتمے پر ان کی آخرت کی بابت صرف دعا ہی کی جا سکتی ہے۔ جس طرح کسی کے مرگ پر مرثیہ گو قصیدے پڑھتے ہیں اسی طرح سیاسی تجز یہ نگاربھی اس حکومت کی نغمہ سرائی کریں گے۔ مجھے تو اسمبلیوں کی مدت پوری ہونا کسی سپورٹس سیریز کے انجام کی طرح لگتا ہے۔ کیونکہ کرکٹ ایک مذہب ہے اور سیاست ہمارے ملک کا کھیل۔ میرا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ سیاست کو کھیل کہہ کراس کی تذلیل کروں بلکے میرا مقصد کھیل کے سیاسی پہلوؤں کو اجاگر کرنا ہے۔

 آپ کہہ سکتے ہیں کے سیاست اپنے روایتی رنگ میں یعنی کے الیکشن کی سیاست لوگوں کی حقیقی زندگیوں پر اثر ڈالتی ہے جبکہ کھیل نہیں۔ اب یہ بات اپنے کرکٹ کے شوقین دوستوں کے گوش گزار کریے اور دیکھیے ہوتا کیا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ الیکشنوں کی سیاست ،چکنی مونچھوں والے لوگ، ٹاک شوز، کرپشن، اسٹیبلشمنٹ، نظریہ پاکستان،غریب عوام وغیرہ واقعی آم لوگوں کی زندگیوں  کیلئے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتی۔ البتہ پاکستان کسی سیاستدان، بیورو کریٹ یا مهمجو جرنیل تک محدود نہیں۔ ضیاء الحق یا طالبان نے جو کچھ بھی کیا لوگ تو پھر بھی اپنی بیٹیوں کو تعلیم دلوانا چاہتے ہیں۔ لوگوں کہتے ہیں کہ طالبان نے فاٹا اور سوات میں لڑکیوں کے سینکڑوں سکول تباہ کر دیئے۔ اور میں کہتا ہوں کہ ذرا اس پہلو پر بھی سوچیے کہ یہ کتنی اچھی بات ہے کہ اورکزئی میں لڑکیوں کے کئی سوسکول موجود تو تھے جن کو تباہ کرنا پڑا۔ بیس سال پہلے طالبان اگر اورکزئی جاتے تو انہیں لڑکیوں کے سکول تباہ کرنے کو نہیں ملتے۔ سیاستدان کچھ کریں یاں نا کریں پاکستانی ورکرز، طالب علم، استاد، کسان،فنکار، اور سِول سوسائٹی سماجی انقلاب لانے کی کوششوں میں جٹے ہوئے ہیں۔ لوگوں کو روزگار،معاشرت پذیری،لوازماتِ زندگی، اور سب سے بڑھ کر اچھے مستقبل کی امید کی ضرورت ہے۔ ان کے حصول کے لیے وہ سیاستدانوں، بیوروکریٹس یا جرنیلوں سے آس لگائے نہیں بیٹھے۔ وہ یہ سب کچھ حاصل کرنے کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں۔

بد قسمتی سے اشرافیہ کے نزدیک سیاست محض اسمبلیاں آباد کرنے  اور طاقت تک رسائی کا ذریعہ ہے۔ اس لحاظ سے سیاست یقیناً کسی کھیل کی طرح ہے اور حقیقتاََ زرداری صاحب اور میاں برادران اس کھیل کے ما ہرکھلاڑی ہیں۔

اس کے برعکس ایک اور تصورِسیاست یہ بھی ہے کہ سیاست آپس کے اختلافات کو باہم مشاورت سے حل کرنے اور ہر رنگ و روپ کے انسانوں کی مشترکہ انسانیت کو ابھارنے کا نام ہے۔ یہی سیاست ہے جو ہماری سماجی انجمن کی رگوں میں دوڑ رہی ہے۔ اس لحاظ سے سیاست کھیل نہیں ہے بلکہ کھیل ہے جو سیاست بن گیا ہے۔اس طرح اس کھیل میں مجھے پاکستان کے لئے امید نظر آ تی ہےاس لحاظ سے سیاست کھیل نہیں بلکے کھیل سیاست کا اوتار بن گیا ہے. اور اس اوتار کے طفیل میں پاکستان کے متعلق پر امید ہوں۔

جرمن نژاد امریکی فلسفی ہانا آرینڈ کی تصنیفوں سے میں سیاست کی اس گہرائی سے واقف ھوا ہوں۔ آرینڈ کا کہنا ہے کہ : “سیاست ایک ساتھ کام کرنے اورکام کرنے اور دنیا میں آنے . . . خود کو قول و فعل سے دنیا میں شمار کرنے کا نام ہے۔” اس نظریہ میں مقامی سطح کی سیاست اور باہم انسانی یکجہتی سے پیدا ہونے والی صلاحیتوں کے ذریعہ سیاسی بننے پر زور ہے۔ افراد اپنے عمل وتعامل کے ذریعے سماجی شناخت بناتے ہیں اور تعلقات بڑھاتے ہیں۔ آرینڈ جسے جهاںداری کہتی ہے. جهاںداری سے مراد فرسودہ دنیاداری نہیں جس میں روحانیت، سوچ، اور سماجی ذمداری کا کوئی خاص عنصر نمایاں نہیں ہوتا، بلکے جهاںداری جس میں انسان دوسرے انسانوں کی معاشرت میں اپنی اور دوسروں کی  انسانیت کو پہچانتا ہے. اس جهاںداری کی بابت انسان ایک ایسا سماجی ماحول اور اس ماحول کے پنپنے کے لئے ایسی جگہیں ظہور میں لاتا ہے جہاں انسان آزادی سے عمل و تامل کر سکے اور اس عمل و تامل کے ضریح اپنی انسانیت کی سماجی روح کی نمائش اور ترویج کر سکے. اس لحاظ سے سیاست مقاصد کے حصول کا نام نہیں لیکن مجموعیت اور ذات کی تشکیل اور اعمال کو دوام بخشنے کا نام بھی ہے۔آرینڈ کہتی ہیں کہ ایسی شاندار مجموعیت ہی آمر یت اور جابرانہ حکو مت کا منہ توڑ جواب ہے۔ کیونکہ آ مر یت کی بنیاد میں بے عیب انسا نیت کا نظریہ ہے چاہے وو مذھبی لحاظ سے بے عیب انسان بنانے کی تحریک ہو یا کسی سیکولر کسوٹی پر انسان کو سرخرو کرنے کی دھن۔ لیکن انسانیت تو ہوتی ہی ہے ادھوری اور خطاکار! اور جهاںداری کی گہما گہمی اور اپنے خوبصورت ادھورپن اور ختاکاری کے جشن کی بابت ہی انسانیت نت نے رنگوں میں جلوہ افروز ہوتی ہے. انسان اپنی پہچان نے لفظوں اور نے پیرایوں میں کرواتا ہے، اور ساتھ ہی ساتھ کی نی حقیقتوں اور انسانی کائناتوں کو جنم دیتا ہے. آمریتی حقومتوں اور نظریوں کا بنیادی مقصد انہی وجوہات کی بنا پے جهاںداری کا خاتمہ ہے۔

پتنگ بازی کا پر مسرت کھیل، مثال کے طور پے، اسی پسمنظر میں ایک سیاسی روپ دھارتا ہے۔ قدامت پسندوں کا شدّت بھرا دُنیاوی نظریہ ہے کہ پتنگ بازی ایک خطرناک غیر اِسلامی سرگرمی ہے،جہاں لوگ (دوہائی ہے!) اور عورتیں (دوہائی  ہے! دوہائی ہے!) ایک سماجی سرگرمی میں مشغول ہیں جو کہ مللاوں کے سخگیر تصووراتی معاشرے کی تصویر کی ضد ہے. وہ معاشرہ جس میں داڑھی والے بہادر مرد ہوں اور غیر سیاسی نجی چادر اور چار دیواری پی مشتمل زندانوں میں محصور عورتیں. اس سوچ کی ایک مثال ہمیں طالبان کی سوچ میں ملتی ہے. اجتمائی بے ساختہ کارکردگی اِنسانی ملنساری اور اِنفرادی تنوع کو بڑھاتی ہے جبکے ان کی آمرانہ سوچ ایک ایسا معاشرہ چاہتی ہے کے جس میں ہر ایک انسان ان کے تخیل کے مومن مرد کے نمونے کی مثال ہو. ایسے معاشرے میں فقری یا ذاتی انفرادیت کی کوئی گنجائش نہیں ہو سکتی۔

پاکستان میں عوام کے لیے سماجی اور پبلک جگہوں اور اجتماعی مقامات میں روز بروز کمی آ رہی ہے۔  سعودی جابر ماڈل سے جزوی طور پر سیاسی؍مذہبی اشرفیہ کلاس کی وابستگی کی وجہ سے سنیما، سرکس، تھیٹر، سٹریٹ پرفارمنس اور اب پتنگ بازی سے بھی اس مُلک کی عوام کو محروم کیا جا رہا ہے۔ اگر کسی کو اِس وابستگی کے بارے میں کوئی شکوک ہیں تو راولپنڈی میں پشاور موڑ پر کھمبوں پر لگے خُدا کے خوبصورت ناموں والی نیون پلیٹوں کی طرف دیکھیں جو صرف سعودی عرب میں ہیں اور کہیں نہیں۔ جہاں ٹریفک کے اِشارے بہت کم ہیں اور ٹریفک لائٹیں کام نہیں کرتیں وہاں راولپنڈی کینٹ بورڈ ہمیں وکٹوریہ چوک پر عابدانہ طور پر مطلع کرتا ہے کہ حجازی کا مطلب ہے حجاز میں رہنے والا۔

ٓٓروایتی سیاست معیارِ زندگی کو بڑھانے اور سماجی اِنصاف کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ لیکن سیاست اپنے گہرے مفہوم میں کھیل اور جشن کے روپ میں زیادہ اہم ہے۔ یہ دوستوں میں ایک بار پوچھے جانے والا غیر سنجیدہ اور غیر حقیقی سوال نہیں بلکہ اِنتہائی آزادانہ پوزیشن ہے۔ سیاسی تشخص کی ہماوقت ترویج کھیل، جشن اور جهاںداری کی مرحونےمنت ہے۔ تو پاکستان کے باسیو قومی اسمبلی کے اِحتتام کے موقع پر اِنقلاب پسند بنو۔۔ جاؤ پتنگ اڑھاؤ. یہ دنیا اور اس سے زیادہ ہمارے خود کے لئے ایک پیغام اور اقرار ہو گا کے ہم زندہ ہیں، ہم یہاں ہیں، اور انسانیت اور زندگی کا تماشا جاری رہے گا۔

دانش مصطفیٰ کنگزکالج لندن کی جغرافیہ کے ڈیپارٹمنٹ میں پڑھاتے ہیں۔  وہ ہمہ وقت قاری کی مصنف پر دھونس کے خلاف سینہ سپر رہتے ہیں۔

انعم ناز اور پلوشہ مشتاق نے حال ہی میں قائدِ اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے سیاست میں ایم اے مکمل کیا ہے۔

Pages: 1 2 3

Tags: , , , ,

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *