Displaced from Tirah

Mar 2013

English | Urdu

TTP clashes with Ansar-ul-Islam have left thousands displaced from here in Tirah Valley.

تحریکِ طالبان پاکستان اور انصارالاسلام کے مابین جھڑپوں سے ہزاروں وادئ تیراہ سے نکل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔

تیراہ میں حالیہ جنگوں اور شورش کی وجہ سے ایک لاکھ مقامی افراد متاثراور بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ درجنوں افراد جاں بحق اور زخمی ہو گئے ہیں ،اطلاعات کے مطابق تحریک طالبان نے تیراہ میدان کے نوے فیصد حصوں پر قبضہ کر لیا ہے ، بے گھر ہونے والے افراد کا مطالبہ ہے کہ ان کے لئے قبائلی علاقوں کے اندر پر امن مقام پر کیمپ بنایا جائیں اور تمام آئی ڈی پیز کی رجسٹریشن کی جائیں

خیبر ایجنسی کے وادی تیراہ میدان میں تحریک طالبان پاکستان اور حکومتی حمایت یافتہ تنظیم انصارالاسلام کے مابین حالیہ جھڑپوں کے نتیجے میں ایک لاکھ کے قریب مقامی افراد بے گھر ہوچکے ہیں جبکہ درجنوں جاں بحق ہو گئے ہیں۔ خیبر ایجنسی کی پولیٹیکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پچاس ہزار افرادیعنی سات ہزار خاندانوں نے علاقے سے نقل مقانی کی ہے جبکہ غیر سرکاری اداروں کے مطابق علاقے کے ایک لاکھ افراد نے گھر بار چھوڑ کر تیراہ سے نکل مقانی کی ہے۔تیراہ کے علاقہ میدان سے نقل مقانی کرنے والے ایک شخص زاکر شاہ آفریدی نے اپنی مشکلات بتاتے ہوئے کہا کہ ان کے گھر کے قریب اتنے بڑے بڑے گولے گر رہے تھے جس کی وجہ سے کھیتوں اور پہاڑوں میں بھی آگ لگ گئی اور ان کے گھربھی اس کی لپیٹ میں آگئے اور اس طرح انہوں نے وہاں سب کچھ چھوڑ کر اپنے خاندانوں سمیت وہاں سے جنگ اور شدید بارش کے دوران گھنٹوں میلوں کا سفر پیدل طے کر کے صدہ کرم ایجنسی کے راستے وہاں سے نقل مکانی کی ہے اور وہ اب پشاور میں اپنے رشتہ داروں کے گھر مقیم ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ نقل مقانی  کرنے والے تمام لوگ جس میں بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں شدید مشکلات سے دو چار ہے اور ان کے لئے کیمپ اور رجسٹریشن کا عمل نہ ہونے سے سب آئی ڈی پیز اورکزئی ایجنسی،کرم ایجنسی اور پشاور میں اپنے رشتہ داروں کے گھروں میں ٹہرے ہوئے ہیں۔ان کا مطالبہ تھا کہ تیراہ سے نقل مقانی کرنے والے تمام متاثرہ لوگوں کے لئے فوری طور قبائلی علاقوں کے اندر پر امن مقام پر ایک  کیمپ بنیا جائیں اور تمام آئی ڈی پیز کی فوری طور پر رجسٹریشن کی جائے تاکہ ان کی مشکلات میں کمی ہوسکے۔دوسری طرف ایف ڈی ایم اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر فرمان علی کے مطابق وہ بہت جلد تمام متاثرین کی رجسٹریشن کا عمل شروع کر کے ان کو راشن،کپڑوں اور دوائی سمیت تمام سہولیات فر اہم کریں گے۔یاد رہے کہ خیبر ایجنسی کے وادی تیراہ میں پچھلے دو مہینوں سے تحریک طالبان پاکستان اور مقامی حکومت یافتہ تنظیم انصارالاسلام کے مابین وقفے وقفے سے جھڑپیں ہو رہی ہے ۔اطلاعات کے مطابق تحریک طالبان نے تیراہ میدان کے نوے فی صد حصوں پر قبضہ کر لیا ہے اور اب تک اس جنگ میں طالبان کے16افراد جاں بحق ہوگئے ہیں اور20 زخمی ہو چکے ہیں جبکہ انصار الاسلام کے30افراد جاں بحق ہو چکے ہیں اور درجن سے زائد زخمی بھی ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ بیشتر گھروں اور مورچوں کو بھی نظر آتش کیا گیا ہے۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ تیراہ میدان میں ملک دین خیل،قمبر خیل،ذخہ خیل اور شلوبر قومیں آباد ہیں۔

یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ تیراہ سے نقل مقانی کرنے لوگوں میں سے کوئی بھی جلوزئی کیمپ نہیں گیا ہے اور وہ کرم ایجنسی اور پشاور میں اپنے رشتہ داروں کے ہاں مقیم ہے اور رجسٹریشن کے عمل کا انتظار کر رہے ہیں اور ان میں سے بیشتر کے گھر بھی تباہ ہو چکے ہیں۔تحریک طالبان کے زرائع کا کہنا ہے کہ جو لوگ غیر جانبدار رہنا چاہتے ہیں وہ واپس اپنے گھروں کو آسکتے ہے اور ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائیگا۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انصارالاسلام نے اورکزئی اور کرم ایجنسی تک جانے میں ان کی راہ میں رکاوٹ ڈالی تھی اور ان کے مجاہدکو بھی مارا تھا اس لئے ان کے خلاف جنگ کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

Pages: 1 2

Tags: , , , , , , ,

One Response to Displaced from Tirah

  1. […] Displaced from Tirah […]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *