On Not Speaking of Palestine

Feb 2013

English | اردو

فلسطین کی بات نہ کرنا

تحریر : سنینا مائرہ

ترجمہ: شیبا بھٹی

دکھ تو اس بات کاہوا جس کا میں نے سوچا بھی نا تھا، یعنی مخفی اور ظاہری طور پر فلسطین یکجہتی کی مخالفت اور صیہونیت پراپوگینڈا سے ہمدردی۔ 

۲۰۰۹ء میں ایک سال کے لئے میں لاہور شفٹ ہوئی۔ پاکستان کا یہ میرا پہلا دورہ تھا۔ اور وہ بھی اس شہر کاجہاں میرے والد پیدا ہوئے تھے اور جہاں سے میرے والدین کے خاندان کا تعلق ۱۹۴۷ میں ٹوٹا تھا۔ بھارت میں بچپن اس احساس کے ساتھ گزرا کہ اصل میں ہمارا تعلق ایک دور دراز شہر لاہور سے ہے جو ہر لحاظ سے شاندارجگہ ہے۔ مہاجر ہونے کا احساس اس سے بھی مدہم تھا۔

۱۹۷۰ اور ۱۹۸۰ کی دہائیوں میں بچپن سے جوانی کا سفر طے کرتے ہوئے اس بات کی سمجھ کم تھی کہ مغربی ایشیا میں انتشاروانقلاب برپا تھا یا ۱۹۴۸میں اسرائیل کے قیام کے بعد اور النکبہ(سانحہ)کی وجہ سے فلسطینیوں کو اجتماعی طور پر جلا وطن کیا جا رہا ہے۔ البتہ مجھے یاسر عرفات اور اندرا گاندھی کی وہ مشہورتصویر یاد ہے جس میں وہ بغلگیر تھے۔ اس وقت مجھے احساس ہوا تھا  کہ پی ایل او کایہ لیڈرنوآبادیاتی نظام کے خلاف قومی جدوجہد اور تیسری دنیا کی یکجہتی کیعلامت تھا۔ اس لحاظ سے وہ میری اپنی تاریخ کابھی ایک حصہ تھا۔

ستمبر۰۰۰ ۲ء میں انتفاضہ الاقصٰی شروع ہو۱۔ اس وقت میں امریکہ میں رہائش پذیر تھی اور تدریس کے شعبے سے منسلک تھی۔ جب مقبوضہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فوج کی ظالمانہ جارحیت کی خبریں پھیلنا شروع ہوئیں توامریکہ کی شہ پر اسرائیلی ریاست کی اس لاخوف بے حسی پر مجھے شدید غصہ تھا۔ ساتھ ہی امریکی میڈیا کی سنسر شپ سے سخت مایوسی ہوئی۔میں پہلی بار فلسطین۲۰۰۴ میں گئی۔

مغربی کنارے کے ساتھ ساتھ سفر کرتے ہوئے میں نے فلسطین کی زندگی کو بہت قریب سے دیکھا۔ کتابوں اور دستاویزی فلموں نے مجھے ذہنی طور پراتنا تیارتو کر دیا تھا کہ میں سامنا کر سکوں دیوارِآپارتائیڈ کے جیل جیسے ڈھانچے کا ، ملٹری چیک پوسٹوں کا، غیر یہودیوں کے لئے مخصوص سڑکوں سے گزر کر سکول اور دفاتر جانے کی کوشش کرتے ہوئے لوگ کا ، بھیڑ مار مہاجر کیمپوں کا اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر قائم یہودی بستیوں کی چمکتی ہوئی قطاریں کا ۔ یہ سب دیکھ کرمجھے ایک ذہنی جھٹکا تو لگا اور میرا دل بھی بھر آیا مگر میں مقبوضہ علاقے کے اس نوآبادیاتی انداز تعمیر سے واقف تھی۔ البتہ فلسطینیوں سے مل کر وابستگی کا جو احساس ہوا، اس کے لئے میں ہر گز تیار نہ تھی۔

میں نے فلسطین کے  بارے میں زیادہ تر فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے کام کرنے والے سفید فام امریکی کارکنان سےہی سنا تھا۔ چنانچہ میرے لئے یہ ایک انکشاف تھا کہ دنیا کے ثقافتی نقشے پر فلسطین نامی جگہ دراصل جنوبی ایشیا کے بہت قریب ہے۔ روز مرہ مہمان نوازی اور سماجی گرم جوشی کا انداز ایک سا تھا۔ پر اس سے بھی بڑھ کر  نوآبادیاتی نظام اور نسل پرستی کی مخالفت کی سیاست ایک سی تھی۔ بڑھتی ہوئی غربت، سماجی استحصال، اور نسل پرستی کی بنیاد پر قائم نوآبادیاتی نظام کی ذلت اور بے بسی بھی وہاں نمایاں تھی۔

۲۰۰۸ او۲۰۰۹ء میں جب اسرائیل غزہ میں قتل عام کر رہا تھا، توچند امریکی دانشوروں نے فلسطینی عوام کی کال پر اسرائیل کے علمی اور ثقافتی بائیکاٹ کی مہم میں حصہ لیا اور پہلی بار امریکہ میں اس مہم کی بنیاد ڈالی، تاکہ امریکی اکیڈمی میں فلسطینیوں کے حقوق پر بات نہ کرنے کی رسم توڑی جائے۔ میں بھی کیلی فورنیا میں کیمپس کے اندر اور باہر چلنے والی اظہار یکجہتی کی اس انتہائی متنوع تحریک کا حصہ بنی جس میں بہت سے پاکستانی نژاد امریکی اور جنوبی ایشیاکے ایکٹوسٹ شامل تھے۔ جنوبی ایشیا کے بہت سارے مسلمان نوجوانوں کو ستمبر۲۰۱۱ (۱۱۔۹)کے بعد امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اوراس فلسطینی تحریک میں شمولیت کے بعد ان کی چھان بین اور نگرانی مزید بڑھ گئی۔

تو اس طرح پاکستان آنے سے پہلے میرا فلسطین اور فلسطینی تحریکِ اظہار یکجہتی یہ تعارف تھا۔ میں اپنےفلسطینی دانشور شوہر  کے ساتھ لاہور پہنچی اور بائیں بازو کے ان کارکنوں سے ملی جو پاکستان میں فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کی تحریک شروع کرنے پر رضامند تھے۔ ہم نے ’’فلسطین کے لئے پاکستانی ‘‘ کے نام سے ایک تحریک کی بنیاد ڈالی۔ اپنے پلیٹ فارم سے ہم پاکستانیوں کو دعوت دیتے تھے کہ وہ اس عالمی یکجہتی اور بائیکاٹ تحریک کا حصہ بنیں اور پاکستان میں ریاست اور سول سوسائٹی کی سطح پر اسرائیل کی قبولیت کی مخالفت کریں۔

پاکستان میں بائیں بازو کی نیشل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے  نوجوان بہت مخلصی سے فلسطین سی اظہار یکجہتی کی تحریک  میں شامل ہوئے اوراپنے نیوز لیٹر میں باقاعدگی سے فلسطینی طلباء کی لکھی ہوئی رپورٹیں شائع کرتے تھے۔ لاہور میں اس وقت ‘کیفے بول’ نیا نیا کھلا تھا.  وہاں فلسطین پر لکچرمیں بائیں بازو کے بہت سے نوجوان کارکنان نے شرکت کی۔ ان نوجوانوں میں فلسطینیوں سے یکجہتی کا جزبہ کوٹ کوٹ کر بھرا تھا ۔

اس کے علاوہ بھی ہم نے کئی تقریبات میں شرکت کی ، جیسا کہ اوکاڑہ میں منعقد کسانوں کی ایک ریلی جہاں لوگ اپنے درمیان ایک فلسطینی کو پا کر بیحد خوش تھے۔لیکن اس تحریک کے دوران مجھے سب سے زیادہ صدمہ اس  بات سے لگا جو میرے وہم وگمان میں نا تھی ، شاید اسلئے کہ میں پاکستانی سیاست سے ناواقف تھی۔

<<اگلہ صفحہ

Pages: 1 2 3 4

Tags: , , , , , , ,

7 Responses to On Not Speaking of Palestine

  1. […] our conversation series, we discuss the relevance of Palestine to the Pakistani left. Sunaina Maira discusses the Pakistan liberal antipathy to Palestine. Magid Shihade draws comparisons between his home, […]

  2. Sarah Schulman on Feb 2013 at 9:16 AM

    Thank you for this informative piece.

  3. […] […] I have come to realize that the issue of Palestine has a much broader significance for left politics in Pakistan, and more generally, for anti-imperial politics, globally. Palestine often becomes a convenient rhetorical tool in Pakistan, as elsewhere in Muslim societies and the Arab world, to unify disaffected masses by those voices—religious as well as secular–who do not always themselves engage in real struggle for the rights of people in Swat, Sindh, or Balochistan, or in anti-imperial politics more generally. The absence of a radical, left anti-imperial critique in the current moment makes it even more difficult to speak of Palestine in a society in which this critique has been marginalized and stamped out so that distinguished left Pakistani activists can openly support U.S. imperialism’s bloody yet “smart” wars. The racialized specter of the “Muslim terrorist” haunts us in every corner, from Gaza to Rawalpindi, and those who wish to distance themselves from it run so far in the opposite direction they fall off the cliff of Orientalism, succumbing to stereotypes of their own culture as inherently barbaric and in need of the West’s “humanitarian” wars. (Sunaina Maira) More here. […]

  4. karachikhatmal on Mar 2013 at 7:11 AM

    I’m sorry but this was quite an insulting piece, primarily because the main thrust of your argument – articles and comments by intellectuals – have not been provided anywhere as evidence of your rather preposterous claim.

    I’m going to leave aside arguing for the legitimacy of the debate over whether the Palestine issue is relevant or not. What I would say is that for the past six months, every time I go to work to teach at a government university there is a flag of Israel painted on the road there which I drive over. Such flags are present in many university campuses in Pakistan, meant to be walked over. While not condoning this act, its a pretty good barometer of how anti-Israeli sentiment is widespread, if not very well articulated or intellectually expressed.

    Moreover, for the past five/six years most of the political class as well as a sizeable part of the population have refused to acknowledge what has been a civil war in our country being carried out by many of our own citizens because they claim its all being carried out by Zionists/Mossad etc. Just one example of how an Israeli obsession has allowed many important issues to be sidelined.

    Really don’t understand what your experience has been like, but am staggered to hear of it.

  5. amna on Jul 2014 at 2:02 PM

    Hostility towards the Palestinian movement is a recent phenomenon in the Pakistani landscape.
    Two reasons :
    One apathy of our people, so some don’t want to open their eyes! They are simply not interested to investigate, so when they find others speaking out for a just cause and find themselves under moral obligation to take a stand they are quick to admonish the victims themself! for eg i have heard things as strange as “the palestinians called it upon themselves”…like they are not good people…… I countered them my reminding them what if their neighbors had committed such war crimes would we be bad people too then!

    The second reason of a recent change in dogma, is the Pakistan Army apologists. They need to justify the deaths being caused by offensives carries out with the consent of pakistan army and on american dictates within the region. I once had a talk with a then serving high ranking army official with whom my extended family was having dinner, with the intention ofcourse to creating awareness about the Palestinian issue in my extended family, his line astonishingly was that Israel is only defending itself…. I didn’t know much back then but now I know how else could they have justified all the dead civilians in drone strikes, f16 strikes and ground offensives within Pakistan. Pakistan army needs a change in leadership one that wouldn’t take dollars to kill.

    • amna on Jul 2014 at 2:26 PM

      Although I would like to add that many people now are acquiring awareness….. Now many people apart from Pakistan Army apologists have a genuine feel of the Palestinian pain…. Better than the pro Israeli high ranking Pakistan Army official I previously mentioned…
      BTW that army official has a son who when I was advocating for the Palestinian cause quite dumbly interrupted and said you talk like you care about the Palestinians a lot, what have you done ever for them, he sneered and sarcastically added I once added a vigil, and instructed me to shut up! He also added that why don’t you do anything about our people here, back then there was not much known about drones and state military oppression. Strangely when issues relating to Pakistan came in full vision that army officials son was still as apathetic about his fellow citizens.

      The lesson to learn here is that after attending a protest or a vigil remember the important thing yet remains, which is to create awareness, raise your voice, if u are unable to do that please kindly quit acting like a hypocrite in the vigil.

  6. […] solidarity with the Palestinians. These protests are especially welcome given the dismaying hesitation among some quarters of the Pakistani urban classes to support the Palestinian […]

Leave a Reply

Your email address will not be published.