A New Humanism

Pages: 2 | English

۱۹۵۸ میں الجزائر کے انقلابی فرانز فانون نے خوب کہا تھا کہ نوآبادیاتی نظام کے خلاف کامیابی اسی صورت میں ہو سکتی ہے جب ہم ’’ان خونی بھیڑیوں کو کسی بھی اکیلے دنبہ پر حملہ نہ کرنے دیں‘‘۔ اس اصول کی بنیاد پر ریاستی و غیر ریاستی سطحوں پر کام نظر آتا ہے۔ ریاستی سطح پر غیرجانبدار تحریک (نان آلائنمنٹ موومنٹ) جس کا تصور بانڈنگ میں اور تشکیل ۱۹۶۱ میں بلگریڈ میں ہوئی تھی۔ تاکہ نوآبادیاتی نظام سے آزاد نئی ریاستوں کو عالمی سطح پر ایک پلیٹ فارم میسر ہو جہا ں وہ اپنے پرانے آقاؤں کے مدمقابل کھڑی ہو سکیں۔ اسی طرح ہمیں لوگوں کی سطح پر اور مختلف تحریکوں کی سطح پر بھی آپس میں جڑت نظر آتی ہے۔

اسی جڑت اور یگانگی کی حکمتِ عملی کے ساتھ ایک ’’ نئی انسانیت ‘‘ کا تصور جڑا ہوا ہے۔ آزادی کی جدوجہداور مزاحمت کا درس ہی اس انسانیت کی بنیادیں ہیں۔ ۱۹۶۷ میں چی گیوارا نے اس انسانیت کے ایک پہلو کی نشاندہی کرتے ہوئے عالمی یکجہتی کا درس دیا۔ چے نے کہا ’’ خون کی ہر وہ بوند جو کسی دوسرے ملک میں گرے، ایک ایسا مشترکہ تجربہ بن جاتی ہے جو بعد میں تمہارے اپنے ملک کی آزادی کی جنگ کا حصہ بنتی ہے۔ اور ہر قوم کی آزادی ہماری اپنی آزادی کی جنگ میں ایک فتح ہے۔ ‘‘

تو تیسری دنیا کی عالمی یکجہتی محض ایک سیاسی نعرہ ہی نہیں، بلکہ ایک نئی انسانیت کی بنیاد ہے۔ فیض احمد فیض پر بھی یہ حقیقت عیاں تھی۔ جب وہ بیروت میں مقیم تھے تو انھوں نے فلسطین کی حمایت میں چار نظمیں تحریر کیں۔’’فلسطینی شہداجوپردیس میں کام آئے‘‘ ایک جذبات انگیزنظم ہے جس میں فیض نے فلسطینی جدوجہد میں عالمیت کے ابھرتے ہوئے احساس کو اجاگر کیا:

دور پردیس کی بے مہر گذرگاہوں میں
اجنبی شہر کی بے نام و نشاں راہوں میں
جس زمیں پر بھی کھُلا میرے لہو کا پرچم
لہلہاتا ہے وہاں ارضِ فلسطین کا عَلم
تیرے اعدا نے کیا ایک فلسطیں برباد
میرے زخموں نے کیے کتنے فلسطیں آباد

تیسری دنیا میں خواہشِ اتحاد کا سبب ہے ایک ہی ظالم کے ہاتھوں ظلم و ستم کی مشترکہ تاریخ ۔ امریکہ سے انڈیا اور جنوبی افریقہ سے فلسطین تک زمین کے خزانے لوٹے گئے اور مختلف رنگ و نسل کے لوگ بے گھر بھی ہوئے اور قتل بھی۔  یکجہتی نہ صرف قدرتی ردِعمل ہے بلکہ واحد حکمتِ عملی بھی۔ یاد رہے کے استحصالی قوتیں ہمیشہ متحد ہوتی ہیں۔

اور اب اس تنقید پر دھیان دیں کہ ہمیں فلسطینیوں کی فکر چھوڑ کر بلوچوں کا سوچنا چاہیے جو افواجِ پاکستان کے ظلم کا شکار ہیں۔ یہی بات اکثر صیہوانی حلقوں سے بھی سننے کو ملتی ہے کہ ’تم لوگ اپنے گھر کے مسائل پر توجہ دو، فلسطین کے معاملے میں مداخلت کیوں کرتے ہو‘۔

لیکن کیا یہ ضروری ہے کے ہم فلسطین اور بلوچستان سے صرف ایک ہی چنیں؟ ایسی سوچ تو بلکل غیر منطقی ہے۔ اس کے برعکس اس قسم کی تحریکیں ایک دوسرے کے تجربات سے بہتر سبق سیکھ سکتی ہیں چونکہ دونوں مسائل کی جڑ میں نوآبادیاتی نظام ہے۔

میرے موقف کی بنیا د تیسری دنیا کی سیکولیرعالمیت کا نظریہ ہے جو عالمیت کی دوسری اقسام سے بہت مختلف ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ امتِ مسلمہ کے اس اسلامی نظریہ پر دھیان دیں جس کا استعمال پچھلے پچاس سالوں میں پاکستانی ریاست اور دائیں بازو تحریکوں نے بے جا کیا، تو آپ دیکھ لیں گے کہ اس نظریہ کو فروغ دینے کے لئے جدوجہدِ آزادی فلسطین کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔ کہانی کچھ یوں گھڑی جاتی ہے کہ چونکہ فلسطینی مسلمان ہیں اس لئے وہ یہودیوں اور عیسائیوں کے عتاب کا شکار ہیں۔ اس من گھڑت داستان کا استعمال کر کے پاکستانی فوج نے جہادی قوتوں کو پال پوس کر بڑھا کیا اور پھر انہیں پاکستان کے اندر (بلوچستان) اور پاکستان سے باہر کشمیر، بھارت، اور افغانستان میں استعمال کیا۔

نہ تو ملا اور نہ ہی فوج مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے کوئی مناسب لائے عمل دے سکے۔ انہوں نے تو بس اس مسئلے کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کیا۔ حبیب جالب نے اپنی نظم ’’ مولانہ ‘‘ میں کیا خوب کہا۔

سنا ہے جمی کارٹر ہے آپ کا پیر، مولانا
زمینیں ہوں وڈیروں کی، مشینیں ہوں لٹیروں کی
خدا نے لکھ کے دی ہے یہ تحریر، مولانا
کڑوڑوں کیوں نہیں مل کر فلسطین کے لیے لڑتے
دعا ہی سے فقت کٹتی نہیں زنجیر، مولانا

فلسطین کی حمایت حق کی حمایت ہے۔  دنیا بھر کے مظلوموں کے ساتھ شانہ بشانہ چلںا ہمارا اخلاقی فریضہ ہے۔  کہ ہم مل کر ایک نئی انسانیت کی بنیاد رکھیں۔ یہ ہمارا فرض ہے۔ جیسا کہ فانون نے یاد دہانی کروائی تھی:

’’ مستقبل ان مردوں اور عورتوں کو ہرگز معاف نہیں کرے گا جوظالم کے منہ پر سچ بولنے کی سکت تو رکھتے تھے، پروہ رہےچپ اورعملََ کچھ نہ کیا۔ بلکہ شریکِ جرم بھی بنے۔ ‘‘

(مصنف اس مضمون کے لکھنے میں زہرہ ملکانی کی مدد کا مشکور ہے۔ )

قلندر بخش میمن نیکڈ پنچ کے مدیر ہیں اور حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ڈسپیچز فرام پاکستان کے شریک مدیر بھی ہیں۔

دیگر مضامین>>

Help Tanqeed continue to bring you strong analysis and great journalism. Donate, so we can carry on the conversation.

Pages: 1 2 3 4

Tags: , , , , , ,

One Response to A New Humanism

  1. […] his home, Palestine, and the conditions in Pakistan where he has spent time. Qalandar Bux Memon provides a historical view and connects to the Pakistani […]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *