A New Humanism

English | اردو

ایک نئی انسانیت

قلندر بخش میمن

تیسری دنیا میں خواہشِ اتحاد کا سبب ہے ایک ہی ظالم کے ہاتھوں ظلم و ستم کی مشترکہ تاریخ

۲۰۰۹ میں لاہور کے کچھ دانشوروں نے بائیں بازو کے چند سرگرم کارکنان کے ساتھ مل کر پاکستانیز فار پیلسٹائن (فلسطین کے لئے پاکستانی) گروپ بنایاجس کا مقصد خود مختار ریاست کی جدوجہد میں فلسطینیوں کی حمایت کرنا تھا۔ ناقدین اس بات پر حیران تھے کہ بھلا پاکستان کے اپنے مسائل چھوڑ کر ہم فلسطین کی جدوجہد کا ڈھنڈورا کیوں پیٹ رہے ہیں۔ میں اس تنقید کا جواب دینا چاہتا ہوں۔ پر اس سے پہلے فلسطین پر قبضے اور اسرائیلی ریاست کے حوالے سے کچھ حقائق پر نظر ڈالناپڑے گی، کیونکہ ایسا کئے بغیر اس ہمبستگی اور یکجہتی کی نوعیت کو سمجھنا ممکن نہیں۔
ا
اسرائیل ایک آبادکار کالونیل ریاست ہے۔ ایڈورڈ سعید نے سامراجیت اور آبادکار کالونیل ازم کے بہت مناسب تعریف دی ہے ۔ اپنی کتاب ثقافت اور سامراجیت (کلچر اینڈ ایمپیریئل ازم) میں وہ لکھتے ہیں:
’’ سامراجیت سے مراد ہے وہ عمل، نظریہ، اور رویہ جوکسی غالب میٹراپولیٹن مرکزکی دور افتادہ علاقہ پر حکمرانی سے جڑاہے۔ کالونیل ازم تقریباََ ہمیشہ سامراجیت کی پیداور ہوتا ہے اور اس سے مراد ہے ان دور افتادہ علاقوں میں آبادیوں کا قیام۔ ‘‘
اس طرح آبادکار کالونیل نظام رائج کرنے کے لئے ایک بڑی آبادی کو نوآبادی میں منتقل کیا جاتا ہے۔ اسرائیل کو محض تاریخی اعتبار سے ایک نوآبادیاتی ریاست قرار دیا جا سکتا ہے۔ مگر اس اصطلاح کے استعمال سے فلسطینیوں کے بارے میں اسرائیل کی سیاسی سوچ کی بھی سمجھ آتی ہے۔ تاریخی اعتبار سے نوآبادیاتی نظام کے قیام کا ساراچکر ہمیں مختلف دستاویزات کے مطالعے سے سمجھ آ جاتا ہے۔ میں پھر بھی یہاں مختصراََ اس کا ذکر کئے دیتا ہوں۔

اگست ۱۸۹۷ء میں صیہونی تنظیم نے بیزل میں اپنے پہلے اجتماعی اجلاس میں فلسطین پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنایا ۔ اس منصوبہ کو اکثر بیزل پراگرام بھی کہا جاتا ہے۔ یہودیوں کو منظم طریقے سے فلسطین منتقل کرنے کا پلان بنایا گیا۔ ۱۹۱۴ء تک فلسطین کی قریباََ آٹھ فیصد آبادی یہودی تھی مزید دس فیصد عیسائی تھے اور باقی سارے مسلمان۔ (۱۸۸۲ سے ۱۹۱۴ کے دوران کم و بیش ساٹھ ہزار یہودیوں نے فلسطین ہجرت کی )۔ ۱۹۱۴ میں کل زمیں کا دو فیصد سے بھی کم رقبہ یہودیوں کی ملکیت تھا۔ لیکن آبادکار کالونیل ازم کی حکمتِ عملی پر عمل شروع ہو چکا تھا۔ ( زمین کا حصول اس حکمتِ عملی کی بنیاد ہے۔) سامراجی قوتوں کی حمایت و ہمدردی حاصل کرنی کی صیہوانی حکمتِ عملی بھی کامیاب رہی۔ ۱۹۱۷ میں برطانیہ نے اعلانِ بالفورمیں ’’ فلسطین میں یہودی قوم کے وطن کے قیام ‘‘ کی حامی بھری۔۱۹۴۸ فلسطینی نکبہ (فساد) کا سال تھا جو فلسطینیوں اور صیہوانی منصوبے کے لئے نقطۂ تحول ثابت ہوا۔ صیہوانی دہشت گردی شروع ہوئی جس میں دیرِ یاسین اور دیگر موقعوں پر مرد، عورتوں، اور بچوں کا قتل عام ہوا۔ فلسطینی اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ کم و بیش ساتھ لاکھ پچاس ہزار فلسطینیوں کو در بدر کیا گیا ۔ اس طرح چودہ مئی ۱۹۴۸ کو ۷۸ فیصد فلسطینی زمین پرمشتمل اسرائیل وجود میں آیا۔آج بھی آبادکار کالونیل ازم کی پالیسیاں جاری ہیں ۔اسرائیلی پارلیمنٹ نے حقِ واپسی کا قانون بنا کریہودیوں کو دنیا کے کسی بھی خطے سے’’واپس‘‘ فلسطین آنے کا حق دیا ہوا ہے۔ فلسطینی زمین پر نئی بستیاں بنانے کا سلسلہ اب بھی زوروشور سے جاری ہے جس کی وجہ سے ۱۹۴۸ کے بعد کا فلسطین اب رنگبھید (آپارتھئیڈ) بانتوستان بن گیا ہے۔

ب

تو پھر فلسطینیوں کے حقوق کے لئے پاکستان میں تحریک چلانے کی کیا ضرورت؟ اول تو پاکستانی بائیں بازو کے لئے ضروری ہے کہ وہ تیسری دنیا کے عالمی کردار کی اس تاریخ سے جڑے جس کے اچھے دن ۱۹۵۵ کی بانڈنگ کانفرنس کے بعد تھے۔ آج بھی مختلف شکلوں میں یہ عالمی اتحاد موجود ہے۔ دوم یہ کہ سامراجیت (اور سفید فاموں کی برتری) ایک عالمی نظام ہے جس سے لڑنے کے لئے اس نظام میں پسے ہوئے تمام متاثرین کا اتحاد ضروری ہے۔ اور آخر یہ کہ پاکستان میں تو دائیں بازو اور فوجی اسٹیبلشمنٹ نے گفتار کے غازی ہونے کی حد تک سامراج مخالفی کا بیڑااٹھا رکھا ہے پر انکی نیت میں فطور ہے۔ اب ان تینوں نکات پر بات کرتے ہیں۔

<<اگلہ صفحہ

Pages: 1 2 3 4

Tags: , , , , , ,

One Response to A New Humanism

  1. […] his home, Palestine, and the conditions in Pakistan where he has spent time. Qalandar Bux Memon provides a historical view and connects to the Pakistani […]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *