Why Class Matters

Dec 2012

صفحات: ١  ٢ | English

دریا کے پانی کو نقصان پہنچانے سے روکنے کیلئے اس کے کناروں پر پشتے بنائے جاتے ہیں۔ دریائےسندھ کے بیلے میں پانی کے چوڑے حصّوں کو بلند پُشتوں کے بیچ میں سے گزارا گیا ھے۔ یہ بلند و بالاپشتیں خاص طور پہ آبپاشی کی بڑی تنصیبات کے اردگرد دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ جب سیلابی بہاو اس خاص حد سے اوپر ہو جاتا ہے جس کےلئے یہ پشتیں بنائے گئے تھے تو کچّے کے علاقے میں آنیوالے سیلاب نوّے فیصد (٪٩٠) ان پشتوں کے ارادتاَ  توڑنے کے سبب آتے ہیں۔ سیلابی پانی کو نکالنے کے لئے مختص کئے گئے زمینوں کا تما م نہری منتظمیں اور وہاں رہنے والے لوگوں کو پتہ ہوتا  ہے- ان علاقوں میں رہنے والے اکثر چھوٹے درجے کے کاشتکار ہیں جنھیں یہ زمینیں نوآبادیاتی دور میں یا اس کے بعد ملیں اور جن کے پاس انھی زمینوں سے وابستہ رہنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔

 سیلاب میں ڈوبنے سے اموات نسبتاَ کم ھوتی ہیں جبکہ زیادہ نقصان املاک کو پہنچتا ھے۔ اس کے علاوہ کھڑے پانی سے وبائی امراض بھی لوگوں کی صحت کو نقصان پہنچاتا ھے۔ دیہی غریب مزدوروں کیلئے بیماری کے سبب کام نہ کر پانا ، خود کسی آفت سے کم نہیں اور اس پر قیامت ان کے مال مویشیوں کا نقصان ہے جو ان کا واحد سرمایہ ہیں۔

دیہی علاقوں میں زمیںوں کی طبقاتی تقسیم ایسے ہی ہے جیسے شہروں کے غریب طبقات لینڈ مافیا سے شہری ندّی نالوں کے قریب کی سستی زمین خریدتے ہیں مثلاّ راولپنڈی / اسلام آباد میں لیئ، کراچی میں ملیر اور لاہور میں راوی۔

صاحب حیثیت طبقات اپنی جمع پونجی اور اثاثوں کی وجہ سے سیلابی اثرات سے بہ آسانی نمٹ لیتےہیں جبکہ غریب ایسا نہیں کر سکتے۔ غربت کی جغرافیائی حدبندی، سماجی کم مائیگی اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے سامنے بے بسی ایسے انسانوں کی زندگیاں برباد کر دیتی ہیں۔  کون کہتا ہے کہ سیلاب کی آنکھیں نہیں ہوتیں؟ تاریخ اور سماج کے گٹھ جورہ نے سیلاب کو وہ پر حواس آنکیں دی ہیں جو ہمیشہ کمزور اور مظلوم کے ہی جانومال پی رہتی ہیں۔ وہ جو یس کے آزمائشوں کے سب سے کم متحمل ہیں۔

دانش مصطفیٰ کنگز کالج لنڈن کے جغرافیہ ڈیپارٹمنٹ میں سیاسیات اور ماحولیات پڑھاتے ہیں. وہ مصنف کے پیغام  پرقاری کی ظالمانہ حاکمیت کے خلاف لڑائی میں سرگرم ہیں.

Pages: 1 2 3 4

Tags: , , , ,

3 Responses to Why Class Matters

  1. Usman Qazi on Dec 2012 at 2:10 AM

    نفس مضمون اور ترجمے، دونوں کا معیار اعلی ہے. دانش مصطفی سے زیادہ داد کے مستحق سجاد چنگیزی ہیں جنہوں نے اصل مضمون کی روح کو ترجمے میں بھی برقرار رکھا.

    • Sajjad on Dec 2012 at 4:31 PM

      Thanks for such admiration. I liked the Mohtaram Danish sahb’s piece myself…

  2. Ali Raza on Dec 2012 at 12:37 PM

    بہت اعلی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *