Why Class Matters

Dec 2012

 سیلاب آنکھیں رکھتا ھے | دانش مصطفیٰ

ترجمہ: سجاد حسین چنگیزی

اردو | English

معاشی اورسماجی حیثیت اس بات کاتعین کرتی ھےکہ سیلاب سےکسکو کتنا نقصان پہنچتا ھے۔

کچھ بہت سال پہلے جب میں اپنی پی- ایچ- ڈی ریسرچ کے سلسلے میں وسطی پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریوں پر فیلڈ ورککر رہا تھا تو مجھے یہ جان کر بہت حیرت ہوئی کہ کس طرح اعلٰے عہدوں پہ فائز تعلیم یافتہ سرکاری افسران سیلاب کو  ‘خدا کا قہر’  بلکہ اس سے بھی زیادہ  ‘انڈیا کی سازش’  گردانتے تھے جبکہ دوسری طرف سیلاب سے متاثرہ غریب خاندان اسی سیلاب کو  ‘سماجی عفریت’  کے طور پر دیکھتے تھے جو انھیں ان کی معاشی تنگدستی اور سماجی کمزوری کی وجہ سے متاثر کر رہی تھی۔

ایک گاوں میں ایک لڑکے نے مجھ سے پوچھا کہ میں کیا کر رہا تھا۔ میں نے بتایا کہ میں یہ معلوم کرنا چاہتا تھا کہ کس طرح سماجی حیثیت اس بات کا فیصلہ کر سکتی ہے کہ سیلاب سے کون کتنا متاثر ہوگا۔ لڑکے نے حیرت اور معصومیت سے بے ساختہ کہا، “تو بس اس کے لیے آپ کو پی – ایچ – ڈی کی ڈگری دے دیں گے؟  یہ تو گاوں کا چھلّا بھی بتا سکتا ہے کہ سیلاب سے پہنچنے والے نقصان کا انحصار آپ کی معاشی حالت اورسماجی اثر و رسوخ پر ہے۔”

مایوس کن بات یہ ہے کہ جو بات پاکستان کے کسی گاوں کا  ‘جھلؔا’  بھی جانتا بے ، عام طور پر پاکستان کے امیر، تعلیم یافتہ اورصاحب ِحیثیت طبقوں کےلیئے ‘ سر بستہ راز’  ہے۔ ڈیڑھ صدی قبل جب برطانوی راج نہری آبادیاں بنا رہے تھے تو ان کے  ‘نیک ارادے ‘  فقط سایئنسی انجینئرنگ تک ہی محدود نہ تھے بلکہ  سماجی انجنئیرنگ بھی اس کا حصّہ تھی۔ کس آبادکار کو کونسی جگہ کتنی زمین ملے گی ، اس کا تعلق اس کے نسل ، ذات پات، قوم قبیلہ اور راج کے لئے اس کی محنت اور وفاداری جیسی باتوں سے تھا۔

بلاشبہ پہلے سے موجود طبقاتی تفریق کو مزید گہرا کرنے کے علاوہ انھوں نے نئے طبقے بھی بنائے مثلا مذہبی طور پر ممتازو معروف، کئی سیّد خاندانوں کو وافر زمینیں الاٹ کی گیئں جس نے انھیں مذھبی پیشوا سے سیاسی اور معاشی اشرافیہ بنا دیا جبکہ غریب غرباء  کو وہ چھوٹی زمینیں دی گیئں جہاں نہری پانی سب سے آخر میں پہنچتا ہے۔ کشش ِثقل کے اصول کے مطابق ان زمینوں تک پانی پہنچنے کے لئے ان کا نشیب میں ہونا ضروری ھے لہٰذا جب سیلاب آتا ھے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان انھی کو پہنچتا ھے۔

صفحات: ١  ٢

Pages: 1 2 3 4

Tags: , , , ,

3 Responses to Why Class Matters

  1. Usman Qazi on Dec 2012 at 2:10 AM

    نفس مضمون اور ترجمے، دونوں کا معیار اعلی ہے. دانش مصطفی سے زیادہ داد کے مستحق سجاد چنگیزی ہیں جنہوں نے اصل مضمون کی روح کو ترجمے میں بھی برقرار رکھا.

    • Sajjad on Dec 2012 at 4:31 PM

      Thanks for such admiration. I liked the Mohtaram Danish sahb’s piece myself…

  2. Ali Raza on Dec 2012 at 12:37 PM

    بہت اعلی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *