How Hazards Become Disasters

Dec 2012

قدرتی آفات سے ڈیزاسٹر تک | احسن کمال

English | اردو

ڈویلپمنٹ-انڈسٹریل کامپلکس ساختیاتی غیر مساوت کو نظر انداز کرتا ہے۔ اس طرح قدرتی آفات ڈیزاسٹربن جاتی ہیں۔

ریاست اور عالمی حکمراں اداروں کے نزدیک ڈیزاسٹرایک تکنیکی مسئلہ ہے۔ اس کو سمجھنے کے لئے یہ کچھ مخصوص الفاظ استعمال کرتے ہیں جیسے کہ ولنرابلٹی(لاچارگی)، رسک رڈکشن(خطرے کو کم کرنا)، اورپریپئرڈنس (تیاری کرنا)۔ ان لفظوں کے ڈانڈے ایسے نظریۂ سے جڑے ہیں جو ساختیاتی عدم مساوت کو فروغ دیتا ہے اوراس نا انصافی کے خلاف سیاسی مزاحمت کرنے سے روکتا ہے ۔ اس طرح لوگوں کی لاچارگی (ولنرابلٹی) مزید بڑھ جاتی  ہے۔

عام تاثریہ ہے کہ  تباہی کی بعد فوری اور تیزی سے کام کرنا ضروری ہے۔ یقینا لوگوں کی جانیں بچانا اور مدد پہنچانے کا کام فوراََ شروع ہو جانا چاہیے۔ مگر یہ سب تھوڑی مدت کے لیے ہوتا ہے۔ جب کہ تعمیرِنو کے لئےتو کئی سال درکار ہیں۔

تباہی کے بعد فوری کام کرنے کی خواہش ایک حد تک تو درست ہے۔ مگرجلد بازی کی ضرورت نہیں اور طویل مدتی کاموں کے بارے میں بھیتبا سوچنا چاہیے۔ افسوس یہ ہے کہ  پالیسی مرتب کرنےوالے ایک تنگ نظری کا شکار ہیں ۔

تباہی سے نمٹنے والے ماہرین کی تکنیکی زبان میں ولنرابلٹی یعنی لاچارگی پرزورہوتا ہے۔ جس سے مراد ہے کہ لوگ تباہی کے مضر اثرات سہنے کی کتنی سکت رکھتے ہیں۔ لیکن ان ماہرین کی پالیسیاں اس ساختیاتی عدم مساوت کے بارے میں بالکل خاموش ہیں جس کی وجہ سے بیشتر لوگ ولنرابل یا لاچار ہیں۔ اگر دنیا سے ساختیاتی عدم مساوت اور غربت کا خاتمہ ہو جائے تو شاید قدرتی آفات کبھی تباہی میں تبدیل نہ ہوں۔

جیسے کہ۲۰۱۲ کے سیلاب ہیں جن کے نتیجے میں ۵۰۰ لوگ ہلاک اور کڑوڑوں در بدر ہوئے۔ اب ولنرابل یا لاچار تو غریب اور پسہ ہوا طبقہ ہے جو ایسے علاقوں میں رہنے پر مجبور ہے جہاں سیلاب کا  خطرہ زیادہ ہے۔ اسی طرح کوہِ سلیمان کی پہاڑیوں میں بارشی ریلوں کو بڑا سیلاب بنا دینے میں ان ترقیاتی منصوبوں کا ہاتھ ہے جس کا فائدہ زمیندارطبقہ اور امراء کو ہوتا ہے۔

   ڈویلپمنٹ۔ ڈیزاسٹر کا صنعتی کامپلکس
تباہی سے نمٹنے والی پالیسیاں مرتب کرنے والے عالمی مالیاتی اداروں اور تنظیموں نےترقیاتی کاموں اور غربت کے خاتمہ کا بیڑا بھی اٹھا رکھا ہے۔ اس ڈویلپمنٹ۔ ڈیزاسٹر کامپلکس میں عالمی مالیاتی ادارے، اقوامِ متحدہ کی تنظیمیں، اور ایسی این جی اوز شامل ہیں جن کا سالانہ بجٹ کئی ممالک کے بجٹ سے زیادہ ہے۔ ماضی میں یہ کام زیادہ تررضاکارانہ اور فلاحی تنظیمیں کرتی تھیں۔ اب تو یہاں منافع خور نجی کارپوریشنز کی بھرمار ہے۔

یہ عالمی ادارے دولت اور طاقت کے نظام سے باہر نہیں۔ اور یہ ساختیاتی غیر مساوت پر بات بھی نہیں کرتے، کیونکہ اس مسئلہ کےحل کے  لئے ہمیں دولت اور سیاسی قوت کو تقسیم کرنا پڑے گا۔

حکومتی اداروں کو اس سارے نظام میں صرف کوآرڈینیشن کا کردار ملتا ہے۔ حکومت تو عوام کے سامنے جوابدہ ہوتی ہے۔ مگر یہ ڈویلپمنٹ۔ ڈیزاسٹر کامپلکس  ڈونرز کو جواب دیتا ہے اور  منافع کے بارے میں سوچتا ہے۔ مقامی این جی اوز اور سول سوسائٹی اس سارے عمل میں شامل ہو کر نام نہاد مقامی شرکت کا ایسا تڑکہ لگاتے ہیں کہ باہر سے مسلط ہوا یہ نظام کچھ قابلِ ہضم لگتا ہے۔

ان پالیسیوں کے نتیجے میں سماج کے سب سے نچلے طبقہ کو ضروریات زندگی کی فراہمی اب نجی منافع خور کرتے ہے۔ اس کاروبار کو چلانے کے لئے ضروری ہے کہ غریبوں کے ہاتھ میں پیسہ ہو۔ یہ پیسہ آتا ہے تباہی کے بعد نقد رقوم کی تقسیم یا چھوٹے قرضہ کی سکیموں سے۔

بلاشبہ غریبوں کو اس پیسہ کی بہت ضرورت ہے۔ اوریہ حقیقت ہے کہ رقوم دینے کا یہ طریقہ تباہی کے بعد لوگوں کی فوری ضروریات کو پوراکرنے میں مدد دیتا ہے۔ مگر غربت کے خاتمے کے لئے یہ سکیمیں بالکل ناکارہ ہیں۔

یہ کامپلکس سماج کے سب سے نچلے طبقے سے پیسہ بناتا ہے جو کہ منافع خوروں کے لئے تو اچھا ہے پر غریبوں کے لئے ایک عذاب۔ غریب طبقہ پہلے کی نسبت زیادہ پیسہ خرچ کر رہا ہے۔ نجی اور منافع خور کارپوریشنیں کاروبار چمکا رہی ہیں۔ اور ساختیاتی عدم مساوت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

اوراس سارے کاروبار کے لئے ہمارے ٹیکسوں سے سبسڈی بھی دی جاتی ہےجس سے ہمارے ملک کا قرض  بڑھ رہا ہے۔

اگر ہم صرف ۲۰۰۵ کے زلزلہ اور ۲۰۱۰ کے سیلاب کی بات کریں تو عالمی اداروں کی سکیموں سے ہمارے قومی قرضہ میں قریباََ سات ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ اور پھر وہ قرضہ اپنی جگہ جو اقتصادی ترقی کے نام پر آبپاشی اور انہاری نظام کی تعمیرِنومیں خرچ ہو رہا ہے۔ عالمی بینک کی اپنی دستاویزات کے مطابق اس پیسہ کا غربت کے خاتمے سے کوئی تعلق نہیں۔

عام طور پر ایک جمہوری نظام میں لوگوں کو خود فیصلہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اور اس نظام کو چلانے کے لئے ہم ٹیکس دیتے ہیں۔

اب ہم ٹیکس تو دیتے ہیں، پر ریاست کافلاحی کردار کم ہو رہا ہے اورتکنیکی ماہرین، کنسلٹنٹ، این جی او ورکرز، اور سرمایہ داروں کی جوابدہی کا کوئی طریقہ نہیں۔ یہ سب ان آفات اور تباہیوں کی مرہونِ منت پہلےکی نسبت پہتر زندگی بسر کر رہے ہیں۔

اب اس جلد بازی کو ختم کرکے ان سیلابوں کے بارے میں تحمل مزاجی اور گہرائی سے سوچنا پڑے گا۔ خاص طور پر اس نکتہ پر کہ ریاست کااپنی غریب رعایا سے تعلق کس نوعیت کاہے۔

احسن کمال قائدِاعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں سیاست اور تاریخ پڑھاتے ہیں۔ انہوں نے ۲۰۰۵ کے زلزلہ اور ۲۰۱۰ کے سیلاب پر تحقیقی کام بھی کیا ہے۔

Pages: 1 2

Tags: , , , , , ,

2 Responses to How Hazards Become Disasters

  1. Divya on May 2015 at 4:16 AM

    Thank you so much. This is very usefull

  2. james franklin on Jun 2017 at 6:06 AM

    answer is not to the point it is totally different from the question

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *