Drowned by Design

Dec 2012

Pages: 1 2 | اردو

This trans-Indus frontier region in Punjab, Sindh and Balochistan lies west of the Indus River and east of the Suleiman and Khirthar Range—i.e. in between the river and the mountains. The floodplains are formed from sediments flowing from the Indus River and the mighty hill-torrents of the degraded western hills.Except for small riverine tracts, most of these plains receive water from hill torrents flowing from the mountains and terminating in the Indus River. Since time immemorial, local communities have evolved indigenous engineering technologies for the diversion and channelization of floodwater, to reduce the risk of flash floods and use the water for irrigation and cultivation purposes.

However, modern perennial canals have destroyed local flood management and irrigation systems, and disintegrated natural drainage in the whole regionexacerbating the risk of flash floods. The canalstaking off from the barrages on the Indus, stand diametrically opposite flood flows from hill torrents, and require higher protection embankments and cross-drainage structures. Both of which have compounded flash floods.

First, protection embankments become irrelevant after some time because of sedimentation. Floodwater from hill torrents carry large loads of silt which, without proper cross-drainage, are deposited on the west side of canals—the side facing the mountainsbecause of to ponding. They raise the ground level, the canal protection embankment is breached, and another flooding becomes regular, and dangerous.

Secondly, the structures that can help drain water from these areas are almost non-existent. This is a particularly large problem with the Dera Ghazi Khan Canal in Southwest Punjab, and the Pat Feeder Canal in eastern Balochistan. Whenever the canal is breached, floodwater is free to take its own course and devastate large irrigated tracts and human settlements.

Chashma Right Bank Canal is the only project where some structures (what you call siphons and super-passages) have been built. However, most of these cross-drainage structures, as they are called, are built off-site or are placed at a higher level than hill torrents—meaning they do not drain out water effectively. Even if authorities provided adequate cross-drainage structures for major hill torrents—it would be technically impossible to control incoming floodwater. It is not possible to fix channels for hill torrents, since they are used to changing their course.

The beliefs and drive of modern engineering scienceto have total control over natureled to the construction of a modern canal irrigation network on the west bank of the Indus River. But no serious consideration was given to the region’s complex physical geographies, natural drainage systems and indigenous flood control technologies. The result: an area that is now regularly prone to flood disasters, and where the majority of locals have to suffer high social and economic costs.

Mushtaaq Gaadi is a water rights activist, and a Lecturer at the National Institute of Pakistan Studies (NIPS) at Quaid-e-Azam University. He was born and raised in Taunsa Sharif, one of the areas hit by the 2012 floods.

Pages: 1 2 3 4

Tags: , , ,

One Response to Drowned by Design

  1. Usman Qazi on Dec 2012 at 7:04 AM

    چشمہ رایٹ بینک کینال اور لیفٹ بینک آوٹ فعال ڈرینیج قسم کے منصوبوں کے واضح منفی اثرات پر بحث کو اکثر اس نوع کے بلند بانگ بر خود غلط بھاشن سے نمٹانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ قوموں کے مجموعی فائدے کے لئے کچھ لوگوں کو قربانی دینا ہی پڑتی ہے. اس قسم کے جواب کا اخلاقی دیوالیہ پن اسی سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلا تخصیص قربانی دینے والے اور لوگ ہوتے ہیں اور فایدہ اٹھانے والے اور.. اگر اس ملک میں سماجی پالیسی بنانے اور اس پر عمل درامد کرنے کا عمل اتنا مؤثر ہوتا کہ اس طرز کے منصوبوں سے حاصل ہونے والے فواید کا کچھ حصہ ان سے متاثر ہونے لوگوں کی تکالیف کے مداوا میں استعمال ہوتا، تب بھی منصوبہ سازوں کو شک کا کچھ فائدہ دیا جا سکتا تھا مگر یہ سمجھ نہیں آتی کہ یہ منطق صرف کنکریٹ سے بننے والے عظیم الشان منصوبوں پر ہی کیوں لاگو کی جاتی ہے. مثلا پہاڑی ندیاں یا “رود کوہی” جن کی جانب محترم گاڈی صاحب نے اشارہ کیا ہے، صدیوں سے مقامی آبادی کے لئے زرعی روزگار کا اہم ذریعہ ہیں. سرکاری عدم توجہی کے سبب ان کی پیداوار اسی مقام پر کھڑی ہے جہاں صدیوں قبل تھی. بلکہ کئی مقامات پر کم یا ناپید ہو چکی ہے. ان رود کوہی نظام ہاے آبپاشی کو بہت کم خرچ سے بہتر بنایا جاسکتا ہے . اس سے نہ صرف لوگوں کو روزگار اور غذائی تحفظ ملے گا بلکہ دامان کے علاقے میں سیلابی خطرے کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی. مگر ان کا کم خرچ ہونا اور ان میں کنکریٹ کا استعمال نہ ہونا ہی شاید ان کا قصور ہے. اس جانب سرکاری عدم توجہی کی تین بڑی وجوہات ذہن میں آتی ہیں اور تینوں ہی ترقی کے عمل کی “سیاست اقتصادیات” یا پولیٹیکل اکانومی میں پیوست ہیں. پہلے تو یہ کہ ان رود کوہیوں پر انحصار کرنے والے کسان اکثر غریب اور سماجی طور پر کمزور لوگ ہیں. ان کی شنوائی لاہور اور اسلام آباد میں بیٹھے پالیسی سازوں تک نہیں ہے. دوسرے یہ کہ رود کوہی نظام کی بحالی اور ترقی کم خرچ ہے لہٰذا اس پر دیے جانے والے ترقیاتی ٹھیکے بھی کم مالیت کے ہوں گے. ان کم مالیت کے ٹھیکوں سے محکمانہ اہل کاروں کو بہت کم کمیشن ملنے کی امید ہو گی. چنانچہ ان پر وقت کیوں ضایع کیا جاے. تیسرے یہ کہ ہمارے تمام تر تعلیمی ادارے، خصوصا انجینیرنگ پڑھانے والے ادارے اپنے نصاب میں نام نہاد “جدید” یا “ماڈرن” ٹیکنالوجی کو ہی شامل کرتے ہیں. بیچلرز کی سطح کا تمام تر نصاب غیر ملکی ماہرین کی کتب سے ماخوذ ہے. اگر آب پاشی یا اریگیشن کا مضمون ہے تو تمام تر بڑے نہری نظام سے متعلق . مٹی کے بنے ہوۓ بندات، یا دیگر روایتی اور مقامی ٹیکنالوجی مثلا “کاریز” وغیرہ کا سرے سے ذکر ہی نہیں ہے. سیلاب کو بطور ایک آفت پڑھایا جاتا ہے جب کہ یہ رود کوہی پر انحصار کرنے والے لاکھوں لوگوں کے لئے ایک رحمت ہے.
    اب اگر اس نظام سے فارغ التحصیل انجینیر کو کہا جاے کہ وہ ہائی وے یا نہر کے ڈیزاین میں اس کا خیال رکھے کہ رود کوہی نظام آبپاشی اس سے متاثر نہ ہو، تو وہ اسے ایک فرسودہ چیز سے رومانوی وابستگی کا اظہار سمجھ کر رد کر دے گا. اس تجزیے سے اندازہ ہوتا ہے کہ پانی کا انتظام اور آبی وسایل کی ترقی کوئی سراسر تکنیکی مسلہ نہیں ہے بلکہ اس پر سیاسی و سماجی عوامل اور ان کے نتیجے میں وجود میں آنے والی “مساوات قوت” یا “پاور بیلنس” کا گہرا اثر ہوتا ہے. لازم ہے کہ اس ترقیاتی عمل کی نام نہاد پر اسراریت کو ہٹا کر اسے عوامی بحث مباحثے کا موضوع بنانے کے لئے رسمی اور با قاعدہ قوانین بناے جائیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *