Disaster Relief & Propaganda

Dec 2012

English | صفحات: ١  ٢

اس سے پہلے میڈیامیں ۲۰۱۰ اور ۲۰۱۱ کے سیلاب کے بعد کی امدادی کاروائیوں میں بدعنوانی کے حوالے سے کئی خبریں شائع ہوچکی تھیں۔ لگتاہے کہ متاثرین کی امداد تک رسائی میں ضروریات کی بجائے سیاسی وابستگیاں زیادہ اہم ہیں۔ پنجاب اور سندھ میں بیشترایسے اضلاع کو بھی (سیاسی بنیادوں پر) امداد فراہم کی گئی جہاں سیلاب کا دور دور تک نام ونشان نہ تھا۔ کچھ حلقوں نے یہ دعوہ بھی کیے کہ بھکّر کے ایک ماڈل گاؤں میں بہت سے لوگوں کو سیاسی وابستگییوں کی بنیاد پر نوازا گیاحالانکہ وہ امداد کے مستحق نہ تھے۔ وزیر اعلی سندھ کے مشیر حلیم علی شیخ جنوری ۲۰۱۲ میں اپنے ایک بیان میں پہلے ہی یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ صوبے میں امدادی کاروائیاں سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر کی گئیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں غیرتسلی بخش کاروائیوں ا ور سیاسی عمل دخل کی وجہ سے ہم نے امداد کے لئے عطیات مہیا کرنے والے بین الاقوامی ادارں اور متاثرہ علاقوں میں کام کرنے والی این جی اوز کا اعتماد کھودیا ہے۔ جس کے باعث’ بین الاقوامی امداد میں ۲۰۱۰ کے مقابلے میں لگ بھگ ساٹھ فیصد کی کمی آئی ہے‘۔

سیاسی جماعتوں پر تنقید کرنا نسبتا آسان ہے۔ مگر آفت زدہ علا قوں میں اپنی امدادی کاروائیوں کی تشہیرکرنے میں افواج پاکستان بھی کسی سے کم نہیں۔ ۲۰۱۰ اور ۲۰۱۱ کے سیلاب کے بعد یہ تاثر پھیلانے کی کوشش کی گئی کہ صرف فوج کی کاروائیاں ہی موثر تھیں ۔ سویلین حکومت پرمکمل ناکامی کا الزام بھی عائدکیا گیا۔ افواج سے متعلق یہ تاثر شاید کچھ حلقوں میں مقبول ہو مگر امدادی کاروائیوں کا سیاسی فائدہ اٹھانا قابل مزمت ہے۔

بحر حال امدادی کاروائیوں کے سہارے ذاتی تشہیر کے حوالے سے جتنا فائدہ مذہبی اور جہادی جماعتوں نے اٹھایا ہے اتنا نہ تو فوج نے اور نہ ہی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے۔ جماعت اسلامی اور جماعت الدعوہ اس معاملے میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے میں کافی حد تک کامیاب رہی ہیں۔ ۲۰۰۷ کے سائکلون یملن کے بعدسندھ کے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاروائیوں کے پیش نظر جماعت الدعوہ کا وہاں کی ہندو آبادی میں مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے ممبئی حملوں کے بعدجماعت سے بھرپور یکجہتی کا اظہارکیا۔ یہ واقعہ شاید امدادی عمل کے تشہیری اثر کی سب سے بڑی مثال ہے۔

 عون ساہی صحافی ہے۔ عون دا نیوز آن سنڈے اور دا ٹائمز آف لنڈن کے لیا لکھتا ہے۔ وہ باقاعدگی  سے پاکستان میں تباہی اور امداد کے مسائل کو کور کرتا ہے۔

Pages: 1 2 3 4

Tags: , , , , , , ,

One Response to Disaster Relief & Propaganda

  1. Macmac on Jan 2013 at 3:02 AM

    Thanks for taking time to join the faebcook campaign. This is a first step in addressing the deeper challenge of America’s Islamophobia. We must be a voice for peace, and this voice must be followed with action. We hope to plan multiple trips to the flood areas. We are developing a partnership with the Multan’s Women Hospital, near the most affected area that is in Southern Punjab, where we can provide ongoing community health work. We are also trying to see Water For All engaged there so we can see a water-well movement spread. Please join on faebcook with thoughts and ideas. I’ll be glad to help you plug in, and get the info and opportunities you want. Everett Miller with IMLI’s Community First Responder is coming to Texas and Tennessee in October and can connect with folks in person.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *